ازخود نوٹس پر پارلیمانی بل قانون بن گیا، عمل درآمد میں عدالتی حکم حائل
پاکستان کی قومی اسمبلی کے مطابق سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل، جس کے تحت عدالت عظمی میں ازخود نوٹس لینے اور بینچ کی تشکیل کا اختیار چیف جسٹس کے بجائے ایک کمیٹی کے حوالے کیا جانا ہے، قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ اس قانون کے خلاف عبوری حکم کے تحت عمل درآمد سے روک چکی ہے۔
عدالتی اصلاحات کے تحت بنائے جانے والے اس قانون پر صدر مملکت عارف علوی نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد معینہ مدت پوری ہونے پر یہ بل آئین کے تحت قانون کی شکل اختیار کر گیا اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے پرنٹنگ کارپوریشن کو گزٹ نوٹیفکیشن کا حکم دیا۔
پاکستان کی قومی اسمبلی کے بعد پارلیمان کے ایوان بالا (سینیٹ) نے عدالتی اصلاحات سے متعلقہ 'سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023' تیس مارچ کو منظور کر لیا تھا تاہم 13 اپریل کو سپریم کورٹ نے اس کے خلاف عبوری حکم جاری کیا جس میں اس پر عملدرآمد تاحکم ثانی روک دیا گیا۔
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر نامی قانون کے تحت از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کا فیصلہ ایک کمیٹی کو سونپا گیا، جس میں چیف جسٹس اور دو سینیئر ترین جج شامل ہوں گے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے اس بل کی منظوری کی ٹائمنگ پر سوالات اٹھائے گئے تاہم حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس بل کا مقصد چیف جسٹس کے اختیارات کو محدود کرنا نہیں بلکہ اس حوالے سے مراحل کا تعین کرنا ہے۔




