آئین کہاں نیوٹرل رہنے اور کہاں معاونت کا حکم دیتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہPTI
- مصنف, عمر فاروق
- عہدہ, دفاعی تجزیہ کار
سابق وزیراعظم عمران خان 25 اور 26 مئی کی درمیانی شب پشاور سے لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچے، جمعرات کی صبح اسلام آباد کی جناح ایونیو پر خطاب میں حکومت کو چھ روز کا الٹیمیٹم دیا جس کے بعد وہاں سے مظاہرین منتشر ہوگئے۔
مگر اس سے قبل منگل کی صبح اعلان ہوا تھا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی آمد پر اتحادی حکومت نے اسلام آباد کے انتہائی حساس علاقے ’ریڈ زون‘ کو فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم گذشتہ روز شام کے وقت وزارت داخلہ کے ترجمان نے نیوز چینلز کی ان رپورٹس کی تردید کر دی جن میں پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران ریڈ زون کو فوجی دستوں کے حوالے کرنے کا عندیہ دیا گیا تھا۔
حکام صحافیوں کو بتا رہے تھے کہ آرمی دستوں اور پی ٹی آئی ورکروں کے درمیان اسلام آباد میں آمنا سامنا ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ اتحادی حکومت نے لانگ مارچ کے شرکا کو صوبہ پنجاب اور خیرپختونخوا کی سرحد پر روکنے کا فیصلہ کیا تھا جہاں رکاوٹیں کھڑی کر کے راستہ بند اور نیم فوجی دستے تعینات کردیے گئے۔
آرمی قیادت آئین کے تحت پابند ہے کہ امن و امان کے قیام میں وفاقی حکومت کی معاونت اور مدد کے لیے طلب کیے جانے پر فوجی دستے مہیا کرے۔ مگر زیادہ تر قانونی اور سیاسی ماہرین کا نکتہ نظر یہ ہے کہ سول حکومت کی مدد کے لیے آرمی دستے بھجوانے سے فوج کی غیرجانبداری (نیوٹریلیٹی) کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہے۔
ممتاز قانون دان اور سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے بی بی سی کو بتایا کہ آئین کی شق 245 میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ ’امن و امان کے قیام میں سول حکومت کی مدد کے لیے فوج بھیجی جائے گی، اس صورتحال کے تعین کا فیصلہ فوج نہیں بلکہ وفاقی حکومت کرے گی جبکہ فوج وفاقی حکومت کی مدد سے انکار نہیں کرسکتی۔‘
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مارچ 2014 میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے موقعے پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے آرمی دستوں کو طلب کیا تھا لیکن فوجی دستوں نے پی ٹی آئی کارکنوں سے تصادم نہیں کیا تھا۔
اُس دور میں پی ٹی آئی کارکنان بڑی آسانی سے ریڈ زون کے اندر داخل ہوگئے تھے۔ اس وقت ایک سینئر پولیس افسر نے کہا تھا کہ ’ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ مظاہرین کو ریڈ زون تک نہ پہنچنے دیا جائے۔‘
آرمی کے بارے میں عمران خان کے دعوے کہ ’اگر آپ (آرمی) نیوٹرل ہیں تو اب آپ کو نیوٹرل ہی رہنا چاہیے‘، اس کو اسلام آباد کے اندر اور اس کے اردگرد کی ہونے والی اُس صورتحال سے متعلق نہیں دیکھا جا رہا جو پچیس مئی کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے شرکا کے آنے کے اعلان کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔
اسلام آباد میں مقیم سول ملٹری تعلقات کے ماہر سعید شفقت کے مطابق ’یہ بیان اسلام آباد کے اندر اور ارد گرد پیدا شدہ بے چینی اور فوج کی جانب سے اس پر قابو پانے میں کردار کے بارے میں نہیں ہے، اس کا تعلق پاکستان آرمی کی ادارہ جاتی ساکھ سے متعلق ہے۔‘
عمران خان اپنے پہلے موقف پر قائم نہیں رہے۔ ایک روز قبل ہی اپنی پریس کانفرنس میں فوج کو نیوٹرل رہنے کی نصیحت کرنے کے بعد اگلے روز ہی اُن کا بیان اس کے برعکس تھا۔ عمران خان نے کہا کہ یہ اُن کے لیے امتحان کا مرحلہ ہے جو خود کو نیوٹرل کہتے ہیں۔ یہ فوج کی اعلیٰ قیادت کی طرف واضح اشارہ تھا۔
اُس صوبے کے دارالحکومت پشاور میں جہاں اُن کی حکومت قائم ہے، پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ یہ آپ کا فرض ہے کہ آپ ملک کی سکیورٹی کی ذمہ داری ادا کریں۔ سعید شفقت نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں عمران خان فوج کی غیرجانبداری پر سوال اس حد تک اٹھا رہے ہیں کہ اُن (عمران خان) کے خیال میں انھوں (فوج) نے اسلام آباد میں حکومت قائم کروائی ہے۔ ’لیکن شہباز شریف یہ کہہ رہے ہیں کہ انھیں آرمی کی مطلوبہ مدد نہیں مل رہی۔ یہ صورتحال عمران خان کے لیے پسندیدہ ہے۔‘
سعید شفقت نے کہا کہ عمران خان کا یہ دعویٰ نسبتاً زیادہ خطرناک ہے جس میں انھوں نے ’جہاد‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ دراصل جہاد ہے۔ ’یہ پہلو بہت ہی باعث تشویش ہے۔‘
دو دن پہلے وزیراعظم شہباز شریف نے یہ کہا کہ ’اگر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو 30 فیصد بھی وہ حمایت مل جاتی جو وزیراعظم عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ملی تھی تو ملک راکٹ کی طرح اوپر جاتا۔‘ پاکستان کی سیاسی بولی میں ’اسٹیبلشمنٹ‘ سے عمومی طور فوج کی اعلیٰ قیادت مراد ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سادہ الفاظ میں آرمی جرنیلوں کا وہ گروہ جو بری فوج کی کمان کرتا ہے جبکہ خاص مطلب لیا جائے تو یہ بری فوج کے سربراہ اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی ہوتے ہیں۔ گذشتہ پانچ برس میں پاکستان کے بری فوج کے سربراہ کا دفتر ایک ہی شخص کے پاس ہے جبکہ دوسرے شخص ڈی جی آئی ایس آئی ہیں۔ میڈیا بہت سارے جرنیلوں کے بارے میں رپورٹنگ کرتے ہوئے بہت محتاط ہوتا ہے۔
فوجی حکومت کے سربراہ جنرل پرویز مشرف کا دور وہ آخری دور تھا جس میں میڈیا نے ریٹائر اور حاضر سروس آرمی جرنیلوں کے بارے میں کھل کر اظہار خیال کیا تھا تاہم ملک میں پارلیمانی جمہوریت کی بحالی کے بعد سے دو جرنیل ہی اسٹیبلشمنٹ کا چہرہ بن گئے ہیں۔ میڈیا ایک مخصوص پیرائے میں ان کے بارے میں ذکر کرتا ہے اور طرز تخاطب یہ ہی ہوتا ہے کہ اُن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
سعید شفقت کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں عمران خان اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان جیسے کو تیسا کے انداز کے بیانات آرمی کے اثر کو اپنے اپنے سیاسی اکھاڑے میں استعمال کرنے کی کوشش ہے تاکہ ہر کوئی اس طاقت کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے بروئے کار لائے۔
سیاسی مبصرین نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی صورتحال میں تشدد کی پیش گوئی کی تھی۔ پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری نے ایک بار پھر اپنے موقف کا اعادہ کیا کہ پی ٹی آئی عسکریت پسند جماعت نہیں ہے اور ایک خالص سیاسی سرگرمی سے کسی تشدد کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔
کیا آرمی سے موجودہ صورتحال میں نیوٹرل رہنے کا مطالبہ کر کے عمران خان یہ اشارہ کر رہے ہیں کہ وہ اسلام آباد میں سیاسی تشدد کا امکان دیکھ رہے ہیں؟
واٹس ایپ پر بی بی سی کے سوالات کے جواب میں فواد چوہدری نے نشاندہی کی کہ حکومت پرامن تحریک کو سول وار میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سوالات کے جواب میں انھوں نے تحریر کیا کہ ’پی ٹی آئی عسکری جماعت نہیں، ہمارے تمام احتجاج ہمیشہ پرامن رہے ہیں، حکومت ایک پرامن تحریک کو سِول وار میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘
سابق وزیراعظم عمران خان نے پشاور میں اپنی پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ وہ قانون کا احترام کرنے والے شہری ہیں اور ان کا ٹریک ریکارڈ واضح ہے کہ انھوں نے یا ان کی جماعت نے کبھی قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لیا۔
زیادہ تر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آرمی کی تعیناتی آرمی کی غیرجانبداری جانچنے کا پیمانہ نہیں ہوسکتا۔ سیاسی تجزیہ کار ضیغم خان نے کہا کہ ’آرمی پولیٹیکل ججمنٹ (سیاسی فیصلہ) نہیں کرسکتی اور اسے امن وامان کے نفاذ کے لئے سیاسی حکومت کی مدد کے لئے آنا پڑتا ہے۔‘
ضیغم خان نے کہا کہ یہ عمران خان کی غلطیاں ہیں جن کی وجہ سے وہ اقتدار سے محروم ہوئے ہیں۔ ضیغم خان کا موقف ہے کہ ’یہ آرمی سے متعلق پالیسی نہیں جو تبدیل ہوئی ہے۔۔ وہ تبدیل شدہ حالات میں آرمی کی مدد کا تقاضا کر رہے تھے اور اب دوبارہ آرمی کی مدد مانگ رہے ہیں۔‘
دوسری جانب شہباز شریف توقع کر رہے ہیں کہ ان کی حکومت بچانے میں آرمی غیرجانبدار رہے گی۔ اگر آرمی اِس حد تک غیرجانبدار رہتی ہے کہ وہ اتحادی حکومت کو حکومت چھوڑنے کے لیئے نہیں کہتے تو یہ ہی شہبازشریف حکومت کے لیئے کافی ہے۔
ضیغم خان نے کہا کہ ’اتحادی حکومت میں تین عناصر ایسے ہیں جو ایک ٹیلی فون کال پر حکومت چھوڑ دیں گے۔ ان میں ایم کیوایم، باپ اور چوہدری ہیں۔ ایسی صورتحال میں اتحادی حکومت دھڑام سے گر جائے گی۔ اگر آرمی بہت زیادہ دباﺅ اتحادی حکومت پر ڈالتی ہے تو پھر یہ انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہوجائے گی۔‘
ضیغم خان نے کہا کہ عمران خان نے کامیابی سے اپنے کارکنوں کو متحرک کیا جو گذشتہ چار سال کے دوران اُن کی حکومت کی کارکردگی کی وجہ سے فعال نہیں رہے تھے۔ اور وہ فوج اور عدلیہ کو دباؤ میں لائے۔
ضیغم خان کہتے ہیں کہ عمران خان بنیادی طور پر آرمی سے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اتحادیوں پر دباؤ ڈالے کہ وہ حکومت کا ساتھ چھوڑ دیں تاکہ وہ اپنے فاتح ہونے کا اعلان کرسکیں اور یہ کہہ سکیں کہ انھیں رسوا کرکے حکومت سے نکالا گیا اور یہ اتحادی ہیں جنہیں اب رسوا کر کے اقتدار سے نکالا گیا ہے۔ اُن (عمران خان)کی پالیسی وہی ہے، تبدیلی صرف ان کی غلطی میں آئی ہے۔











