پی ٹی آئی کا لانگ مارچ: کیا دھواں واقعی آنسو گیس کے اثرات کا توڑ ہے؟

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ آج صبح اسلام آباد پہنچا، عمران خان نے حکومت کو چھ روز میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کے لیے ڈیڈ لائن دی اور مظاہرین کو پرامن انداز میں منتشر ہونے کے لیے کہا۔ مگر یہاں تک کے سفر کے دوران مظاہرین پر پولیس اور رینجرز کی جانب سے شیلنگ اور آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا اور سوشل میڈیا پر دیکھا گیا کہ متعدد مقامات پر درختوں کو آگ لگائی گئی۔

چند وائرل ہو جانے والی ویڈیوز میں پی ٹی آئی کے حامی آنسو گیس سے بچنے کے لیے قریبی درختوں کو آگ لگانے کا مشورہ دیتے اور یہ جواز پیش کرتے نظر آ رہے ہیں کہ 'آنسو گیس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ہم نے آگ لگائی ہے۔'

یاد رہے گذشتہ روز سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی جانب سے ایک درخواست کی سماعت کے دوران تحریک انصاف کو سیکٹر ایچ نائن میں احتجاج کی اجازت دی تھی مگر پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان ڈی چوک پہنچنے پر مصر رہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد پولیس کی بھاری نفری بلیو ایریا سے ہٹ گئی اور مظاہرین بلیو ایریا پہنچ گئے۔

پی ٹی آئی کے بلیو ایریا پنچنے والے کارکنان نے گرین بیلٹ پر موجود درختوں اور پودوں کو آگ لگا دی جس سے اس علاقے میں ہر جانب دھواں پھیلا نظر آیا۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق پی ٹی آئی کے مظاہرین نے پہلے بلیو ایریا اور پھر ایکسپریس چوک میں درختوں کو آگ لگائی۔

سوشل میڈیا صارفین سپریم کورٹ کی جانب سے بظاہر ’پی ٹی آئی کو فری ہینڈ دینے‘ پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔ صحافی رؤف کلاسرہ نے آگ لگنے کی ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے تبصرہ کیا ’سپریم کورٹ کی ہدایات بعد پولیس ہٹا لی گئی ہے اور اسلام آباد میں ڈی چوک پر قبضہ کے بعد ہر طرف آگ لگا دی گئی ہے۔ اب یہ شہر بچے یا جلے اس کے شہریوں کی اپنی قسمت۔ کہتے ہیں روم ہزار سال میں تعمیر ہوا تھا لیکن جل ایک رات میں گیا تھا‘۔

وہ پوچھتے ہیں کہ ’ان خوفناک مناظر کے بعد فورا سپریم کورٹ ابھی کھول کر حکومت کو ہدایات نہیں دینی چاہیے کہ جلاؤ گھیراو اور آگ لگانے والوں کے خلاف پولیس کاروائی کرے اور شہر کو جلنے اور انارکی سے بچایا جائے؟پولیس کہیں نہیں۔ پورا شہر اس وقت وہ منظر پیش کررہا ہے جیسے سیزر کے قتل بعد جلتا ہوا روم کررہا تھا۔‘

صحافی اسد طور نے لکھا ’میرا شہر جل رہا ہے اور نیرو چین کی بانسری بجا رہا ہوگا۔ سُپریم کورٹ کے حُکمنامہ کے بعد پولیس اور انتظامیہ کے ہاتھ بندھ گئے ہیں وہ اگرایکشن لیں تو لاشیں گرنے کا خدشہ اورمعزز جج صاحبان کا خوف لیکن اگر ایکشن نہ لیں توکل پھر بھی تین رُکنی بینچ سرزنش کرے گا۔‘

اس کے ساتھ ساتھ اس اقدام (درختوں کو آگ لگانے) پر پی ٹی آئی پر بھی سخت تنقید کی جا رہی ہے کہ ’عمران خان نے بلین ٹری منصوبہ بنایا اور آج ان کے چاہنے والوں نے اسلام آباد کے درختوں کو آگ لگا کر منصوبہ خاک میں ملا دیا۔‘

@asif_hamaiyon

،تصویر کا ذریعہ@asif_hamaiyon

چوہدری آصف ہمایوں نے ٹویٹ کیا ’آنسو گیس کا اثر ختم کرنے کے لیے خشک لکڑی یا سبز گھاس یا درختوں کے سبز پتوں کو آگ لگا کر دھواں کیا جائے تو آنسو گیس کا دھواں بے اثر ہو جاتا ہے اس لیے ایسا کریں جہاں جہاں آنسو گیس کا ہوا میں اثر ہے۔‘

عامر سعید عباسی نے ڈی چوک پہنچنے والے پی ٹی آئی کارکنان کی ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ کہتے سنے جا سکتے ہیں کہ ’ہم پی ٹی آئی والوں نے یہاں آنسو گیس کی شدت کو کم کرنے کے لیے بلیو ایریا اسلام آباد میں درختوں کو آگ لگائی ہوئی ہے۔‘

اس کے بعد وہ اپنے علی نامی ساتھی کا حال چال پوچھتے ہیں اور ساتھ ہی کہتے ہیں ’کوئی چاہے کچھ بھی کر لے ہمیں نہیں روک سکتا۔‘

یہ بھی پڑھیے

اینکر اور یوٹیوبر عمران ریاض خان نے ٹویٹ کیا ’بطور رپورٹر آپکو بتا دوں کہ دھواں آنسو گیس کا توڑ ہے۔ جان بچانے کے لیے کر رہے ہیں۔‘

ریٹائرڈ فوجی عادل راجہ نے بھی ٹویٹ کیا کہ 'آگ کا دھواں آنسو گیس کا اثر کم کر دیتا ہے۔'

@ImranRiazKhan

،تصویر کا ذریعہ@ImranRiazKhan

کیا واقعی ’آگ کا دھواں‘ آنسو گیس کا اثر کم کرتا ہے ؟

اگرچہ آنسو گیس کو ایک غیر مہلک کیمیائی ہتھیار سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے فوری اثرات نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

آنسو گیس کا شکار ہونے والوں کو جلد اور چہرے پر جلن محسوس ہوتی ہے، وہ سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں اور گیس کے باعث دیکھنے میں دقت محسوس کر سکتے ہیں۔

اگر آپ آنسو گیس کو بے اثر کرنے کا طریقہ گوگل کریں تو آپ کو دودھ اور بیکنگ سوڈا کے استعمال جیسے ہر طرح کے ان گنت مشورے ملیں گے مگر یقین مانیے ان سب میں آگ کا دور دور تک کوئی ذکر نہیں ہو گا۔

آنسو گیس کے اثرات کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ماہرین کے مطابق ماسک یا منہ کو کسی طریقے سے ڈھانپنے کے علاوہ کوئی چیز آپ کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔

اگر آپ آنسو گیس شیلنگ کی زد میں ہیں تو ان تدابیر پر عمل کریں:

  • اگر آپ ایسے مظاہرے میں شرکت کرنے جا رہے ہیں جہاں آنسو گیس کے استعمال کا خدشہ ہو تو اس صورت میں دھوپ کے چشمے پہنیں اور سن سکرین لگائیں اور کوٹیکٹ لینس ہرگز نہ پہنیں۔
  • اگر آپ شیلنگ کی زد میں ہیں تو جتنی جلدی ہو سکے گیس والے علاقے سے نکلنے کی کوشش کریں۔
  • ہوادار جگہ پر رکیں۔ تازہ ہوا آپ کے جسم سے اضافی آنسو گیس کے پاؤڈر کو اڑانے میں مدد کرے گی اور اسے آپ کے منہ یا آنکھوں میں واپس آنے سے روکے گی۔
  • ٹھنڈے پانی سے آنکھیں دھو لیں۔ آنکھوں کو اندرونی سے بیرونی کونے تک دھوتے وقت آلودہ پانی کو اپنی جلد یا کپڑوں پر گرنے نہ دیں
  • اپنے کپڑوں اور جسم کو ٹھنڈے پانی سے دھو لیں۔ گرم پانی کا استعمال نہ کریں۔ گرم پانی کا استعمال آپ کی جلد کے سوراخوں کو کھول دے گا اور کیمیکلز کو مزید اندر جانے کی اجازت دے گا، جس کے نتیجے میں جلد میں مزید جلن پیدا ہو گی۔ نہانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اس صورت میں آپ خود کو کیمیکلز میں بھگولیں گے۔