مون سون بارشوں سے پاکستان بھر میں ہلاکتیں، نقصان: ’ہم نے اپنے ہاتھوں خود تباہی کی بنیاد رکھی‘

لسبیلہ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Govt of Balochistan

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

’لسبیلہ میں گاؤں اور دیہات زیر آب آ چکے ہیں۔ لوگ مدد کے منتظر ہیں مگر سڑکوں کا نام و نشان مٹ چکا ہے اور سیلابی پانی میں گھرے کئی لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔‘

یہ کہنا ہے کہ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے رہائشی قیصر رونجھا کا۔ جو غیر سرکاری تنظیم وانگ بلوچستان کے سربراہ بھی ہیں۔

قیصر رونجھا کہتے ہیں کہ ’مسلسل بارشوں نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔ لسبیلہ کے تقریباً تمام شہروں اور علاقوں کا کوئٹہ اور کراچی سے رابطہ کٹ چکا ہے۔ لوگ متاثرہ گاؤں اور علاقے چھوڑنا چاہتے ہیں مگر چھوڑ نہیں پا رہے۔ تقریباً پورے لسبیلہ میں موبائل اور لینڈ لائن فون کام نہیں کر رہے ہیں۔ رابطے کے ذریعے منطقع ہیں۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ڈی سی لسیبلہ کے دفتر کے اردگرد کی سٹرکیں بھی پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ لسبیلہ میں فوری طور پر ایک بڑا امدادی آپریشن شروع کرنا ناگزیر ہے کیونکہ حالات بہت ہی سنگین دکھائی دے رہے ہیں۔‘

حالیہ بارشوں کے بعد اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑے شہر کراچی کے بعد بلوچستان کا ضلع لسبیلہ انتہائی متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔ اس سے قبل طوفانی بارشوں نے کوئٹہ میں تباہی مچائی تھی۔

مون سون بارشوں کے باعث صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں متعدد شہر متاثر ہوئے ہیں۔

پشاور کے نواحی علاقے کے رہائشی قمر خان پیشے کے لحاظ سے سرکاری ملازم ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’گذشتہ روز دریائے کابل کا پانی ہمارے گھروں میں داخل ہوا۔ رات کے اندھیرے میں بیوی بچوں کے ساتھ گھر چھوڑنا پڑا۔ گھر کا سارا سامان تباہ ہو چکا ہے۔‘

راولپنڈی اُردو بازار کے تاجر مستنصر حسین کہتے ہیں کہ دکان میں موجود آدھا مال اور گودام میں موجود سارا مال پانی اپنے ساتھ بہا کر لے گیا ہے۔

جبکہ چترال کے گل نصیب کا کہنا ہے کہ ’میرا پورا گھر تباہ ہو چکا ہے۔ صرف میرا ہی نہیں کئی لوگوں کے گھروں کو جزوی اور مکمل نقصان پہنچا ہے۔ کئی لوگ کھانے پینے اور بنیادی ضرورت کی اشیا کے محتاج ہو چکے ہیں۔‘

ملک بھر میں اس تباہی کا سبب حالیہ مون سون کی بارشوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔

جولائی میں اوسط سے زائد بارشیں

سیلاب

محکمہ موسمیات کے مطابق رواں ماہ کی 26 تاریخ تک پاکستان میں مجموعی طور پر اوسط سے 192 فیصد زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔ پاکستان میں جولائی میں اوسط بارشیں 51.5 ملی میٹر ہوتی ہیں تاہم اس سال یہ 150.1 ملی میٹر رہی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سب سے زیادہ اوسط بارش بلوچستان میں ہوئی جہاں پر جولائی میں اوسط بارشیں 24.4 ملی میٹر ہوتی ہیں جبکہ اس سال جولائی میں اب تک 132.4ملی میٹر بارش ہو چکی ہے جو کہ 443 فیصد زیادہ ہے۔

گلگت بلتستان میں اوسط بارش گیارہ ملی میٹر ہوتی ہے جبکہ اس سال اب تک تیرہ ملی میٹر بارش ہو چکی ہے جو کہ 17 فیصد زائد ہے۔ خیبر پختونخوا میں اوسط بارش 84.4 ملی میٹر کے بجائے 107.3ملی میٹر ہوئی ہے۔

محکمہ موسمیات سندھ کے چیف میٹرالوجسٹ ڈاکٹر سردار سرفراز کے مطابق ’کراچی میں تین مقامات پر بارش ریکارڈ کی جاتی ہے۔ یہ سٹیشن ساٹھ کی دہائی میں نصب ہوئے تھے۔ جس میں ایک سٹیشن پر بارش کا اس وقت سے سارا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے جبکہ دو سٹیشنز پر ریکارڈ کے قریب ترین بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ بدین اور نوشہرہ فیروز میں بھی جولائی کے ماہ کے بارشوں کے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔

اس صورتحال کے شکار صرف یہ چند لوگ ہی نہیں بلکہ قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق پورے ملک میں جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

،ویڈیو کیپشنکوئٹہ: سیلاب میں منڈی کے مویشی بہہ گئے

جانی و مالی نقصان

این ڈی ایم اے کے مطابق 14جون سے لے کر 26 جولائی کے دوران پورے ملک میں سیلابی ریلوں اور پانی کی وجہ سے پیش آنے والے حادثات میں مجموعی طور پر 312 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس میں 121 بچے، 136 خواتین اور 56 مرد شامل ہیں۔ مجموعی طور پر لگ بھگ 298 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیے

اب تک مون سون بارشوں سے بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے، جہاں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 102 ہے جبکہ سندھ میں 71، پنجاب میں 68، خیبر پختونخوا میں 63، گلگت بلتستان میں آٹھ اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پانچ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے مطابق مجموعی طور ملک بھر میں 615 کلومیٹر روڈ اور 49 چھوٹے بڑے پلوں کو سیلابی ریلوں سے نقصان پہنچا ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں مکمل طور پر تباہ ہونے والے گھروں کی تعداد 3248 جبکہ 5131 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

سب سے زیادہ مکمل گھر بلوچستان میں تباہ ہوئے جن کی تعداد 2536 ہے جبکہ 1417 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

اس صورتحال سے انسانوں کے علاوہ مویشی بھی بڑی تعداد میں متاثر ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ محکمہ موسمیات نے رواں ہفتے پاکستان بھر میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔

کہاں کہاں بارشیں متوقع ہیں؟

بارش

،تصویر کا ذریعہ@Sindh Citizens

محکمہ موسمیات کے مطابق 27 جولائی سے مون سون ہوائیں زیادہ شدت کے ساتھ ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہوں گی جبکہ صوبہ سندھ میں 28 جولائی سے آئندہ چند روز کے لیے مون سون بارشوں میں کمی ہو گی۔

اس دوران کراچی میں بارشوں کا امکان کم ظاہر کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 27 سے31 جولائی کے دوران کشمیر، گلگت بلتستان اور دارالحکومت اسلام آباد میں گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔

صوبہ پنجاب کے راولپنڈی، مری، اٹک، چکوال، جہلم، سیالکوٹ، نارووال، لاہور، گوجرانوالہ،گجرات، شیخوپورہ، فیصل آباد، جھنگ، میانوالی، خوشاب،سرگودھا، حافظ آباد، منڈی بہاوالدین،ساہیوال، اوکاڑہ، بھکر، لیہ، ملتان، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان اورخانپور میں بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات، مانسہرہ، کوہستان، ایبٹ آباد، ہری پور، پشاور،مردان، صوابی،نوشہرہ، کرم،وزیرستان،کوہاٹ، بنوں، لکی مروت اورڈی آ ئی خان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش اور کہیں کہیں وقفے سے موسلا دھار بارش کا بھی امکان ہے۔

صوبہ بلوچستان میں 27 سے 31 جولائی کے دوران کوئٹہ، چمن، ہرنائی، ژوب، زیارت، بارکھان، لورالائی، بولان،کوہلو، قلات، خضدار،لسبیلہ، نصیر آباد، جعفر آباد،سبی، دادو،سکھر، لاڑکانہ اور جیکب آباد میں تیز بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 27 سے31 جولائی کے دوران موسلادھار بارش کے باعث راولپنڈی/ اسلام آباد، پشاور، نوشہرہ، مردان، فیصل آباد،لاہور اور گوجرانوالہ میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خطر ہے۔

27 سے 31 جولائی کے دوران موسلا دھار بارش کے باعث راولپنڈی/ اسلام آباد، شکر گڑھ، سیالکوٹ، نارووال، ایبٹ آباد،مانسہرہ، دیر،کرک،بنوں، لکی مروت، کشمیر، لورالائی،بارکھان،کوہلو، موسی خیل، شیرانی، سبی، بولان اور ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔

موسلا دھار بارش کے باعث دریائے راوی، جہلم اور چناب کے مقامی اور برساتی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کی توقع ہے۔

اس دوران کشمیر،گلیات، مری،چلاس، دیامیر، گلگت،ہنزہ، استور اور سکردومیں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ماہرین موسمیات اور ماحولیات کے مطابق پاکستان اس وقت بدترین موسمی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔

’موسمی تبدیلی حقیقت بن کر کھڑی ہے‘

کراچی

،تصویر کا ذریعہTwitter

ڈاکٹر سردار سرفراز کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں اس وقت اگر بارشوں کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں تو دنیا کے کچھ حصوں یورپ، مڈل ایسٹ، سنٹرل ایشیا میں گرمی کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں۔ موسمی تبدیلی حقیقت بن کر سامنے کھڑی ہے۔ یہ کہنا کہ یہ حالات آئندہ سال درپیش ہوں گے درست نہیں ہے۔ مستقبل میں بھی ایسے حالات پیش آ سکتے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’2020 میں کراچی کے اندر شدید بارشیں ہوئیں اور اب تقریباً دو سال بعد ویسے ہی بارشیں ہو رہی ہیں۔ عالمی ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا کا درجہ حرارت ایک فیصد سے کچھ زیادہ بڑھ چکا ہے۔ جس کے انتہائی منفی اثرات ہم دیکھ رہے ہیں۔ اگر یہ دو تک بڑھ گیا تو کیا ہوگا کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر سردار سرفراز کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں کبھی بارشوں کی توقع نہیں کرتے تھے اب وہاں پر بھی اوسط سے زائد بارشیں ہو رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال انتہائی گھمبیر ہے۔

’اپنے ہاتوں خود تباہی کی بنیاد رکھی‘

نعمان رشید کہتے ہیں کہ ’اس وقت پورے ملک میں کوئی ایک ایسا شہر اور علاقہ نہیں ہے جہاں پر نکاسی آب کے راستوں اور نالوں پر قبضہ نہ کیا گیا ہو۔ ہر شہر اور علاقے میں بے ہنگم تعمیرات قائم نہ کی گئی ہوں۔ جہاں پر انسانوں اور گاڑیوں کے گزرنے کے راستوں کا خیال نہیں رکھا گیا ہے وہاں پر پانی کے راستوں کا خیال کون رکھتا؟‘

نعمان رشید کا کہنا تھا کہ موجودہ بارشیں تو اوسط سے زیادہ ہیں مگر یقین کریں کہ اگر ملک میں اوسط بارشیں بھی ہو جائیں تو پھر بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہو گئی، جس سے ہونے والے نقصانات ان بے ہنگم تعمیرات سے کئی گنا زیادہ ہیں جو انسانی جانوں کے لیے نقصان دہ تو ضرور ہیں مگر معاشی طور پر بھی ہمیں تباہ کر دیں گے۔

مرکزی تنظیم انجمن تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری کہتے ہیں کہ اس ساری صورتحال سے سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ کاروباری طبقہ، تاجر اور دکاندار ہیں۔ جن کی مارکیٹوں اور دکانوں میں پانی داخل ہو کر پورے ملک میں تاجروں کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

عتیق میر چیئرمین آف کرا چی تاجر اتحاد کہتے ہیں کہ کراچی کا اولڈ سٹی ایریا بہت متاثر ہوا ہے۔ یہ ہی وہ علاقہ ہے جہاں پر چھوٹی، بڑی پرچون، ہول سیل کی مارکیٹیں ہیں۔ جہاں پر پانی گوداموں میں داخل ہوا اور تاجروں کو تباہ و برباد کر گیا۔