بلوچستان میں لورالائی کے عطا الرحمان لونی جنھوں نے سیلابی ریلے میں پھنسی گاڑی کے مسافروں کو بچایا

لورالائی

،تصویر کا ذریعہMujeeb Loni

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

’پانی گاڑی کے شیشوں تک پہنچ چکا تھا (اور) روڈ پر بہت لوگ کھڑے تھے۔ ہم لوگ خوفزدہ ہوچکے تھے۔ اللہ کو یاد کر کے کسی مدد کے منتظر تھے۔۔۔‘

23 جولائی کو بلوچستان کے ضلع لورالائی میں کوئٹہ روڈ پر ڈیم کے قریب ایک سیلابی ریلے میں وہاں کئی لوگوں کی طرح محمد اکبر کاکڑ اور ان کے چار ساتھی بُری طرح پھنس چکے تھے۔

پیشے کے لحاظ سے باغات کے ٹھیکیدار محمد اکبر خود یہ گاڑی چلا رہے تھے جو پانی کے تیز بہاؤں میں بےقابو ہوگئی تھی۔ گاڑی میں موجود افراد اندر محفوظ تھے نہ باہر۔

اکبر یاد کرتے ہیں کہ جب وہ اپنی چھوٹی سفید کار لے کر پانی میں داخل ہوئے تو ’پانی اتنا زیادہ نہیں تھا۔ مگر اس میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔‘ انھیں ایسا لگا جیسے ’پانی گاڑی کو اپنے رُخ پر چلانے کی کوشش کر رہا تھا۔‘

’شاید ہم درمیان میں پہنچے تو گاڑی جواب دے گئی اور پانی بڑھتے بڑھتے ہمارے شیشوں تک پہنچ گیا۔ ہم ایک خطرناک صورتحال میں پھنس چکے تھے۔‘

اس واقعے کی ویڈیو گذشتہ دنوں انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی ہے۔ اس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جب ان کے بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی ہوتی تو اچانک سیلابی ریلے میں ان کی مدد کے لیے ایک کالے رنگ کی بڑی ٹویوٹا فورچونر کار پہنچ جاتی ہے اور پانی میں پھنسے لوگوں کو شیشے نیچے کر کے اس میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔

واقعے کے عینی شاہد نجیب اللہ کا کہنا تھا کہ ’جب گاڑی پانی میں جارہی تھی تو ہم لوگوں نے ان کو آواز دے کر روکنے کی کوشش کی مگر شاید ان تک آواز نہ پہنچی۔‘

اکبر کاکڑ

،تصویر کا ذریعہAkbar Kakar

’گاڑی دیکھتے دیکھتے پانی میں پھنس گئی‘

محمد اکبر کہتے ہیں کہ ’کچھ فاصلے پر ہمارے مزدور انتظار کر رہے تھے۔

’ان کو کام پر پہنچانا تھا۔ سیلابی ریلا شروع ہوا تو سوچا کہ یہ تو اب بڑھتا جائے گا۔ تھوڑی دیر بعد شاید اس میں سے گزرنا بالکل ہی ممکن نہ ہو۔ ابھی پانی کم ہے۔ یہی سوچ کر گاڑی کو پانی میں ڈال دیا تھا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’شاید یہی ہماری غلطی تھی کہ ایک تو پانی کم نہیں تھا، دوسرا وہ سیکنڈوں کے حساب سے بڑھتا جا رہا تھا۔‘

نجیب اللہ کہتے ہیں کہ ’ہم لوگ واپس آنے والے حاجیوں کے استقبال کے لیے جا رہے تھے۔ جب سیلابی ریلا دیکھا تو دوستوں نے مشورہ کیا کہ کچھ دیر رُک جاتے ہیں اور کچھ کھانا پینا کرلیتے ہیں۔

’ہم سب لوگ گاڑی سے نیچے اتر آئے تھے۔ اس موقع پر کافی گاڑیاں کھڑی ہوچکی تھیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اتنے میں ہم نے دیکھا کہ ایک سفید رنگ کی گاڑی پانی میں اتر رہی ہے۔ ہم سمیت مختلف لوگوں نے اس کو آوازیں دے کر روکنے کی کوشش کی مگر شاید ان تک آواز نہیں پہنچی۔ وہ شروع میں تو پانی میں ٹھیک جا رہے تھے مگر پانی بڑھتا جا رہا تھا۔‘

’ہم نے واضح طور پر دیکھا کہ گاڑی ڈرائیور کے کنٹرول میں نہیں رہی۔ پانی اس کو اپنے زور پر بہا کر لے جا رہا تھا۔ پھر گاڑی ایک مقام پر رک گئی۔ پانی تیز اور اوپر ہی ہوتا جا رہا تھا۔‘

اتنے میں ان کی مدد کو عطا الرحمان لونی اپنی کار کو لے کر وہاں پہنچ گئے۔ اکبر کے مطابق وہ ’رحمت کا فرشتہ بن کر پہنچے تھےجنھوں نے نہ صرف ہمارا حوصلہ بڑھایا بلکہ ہماری زندگیاں بچا کر انسانیت کا ثبوت بھی دیا۔‘

عینی شاہد نجیب اللہ کہتے ہیں کہ اس موقع پر عطا الرحمان لونی کے ساتھ موجود دوستوں نے ان سے کہا کہ ’ہم بھی ساتھ چلتے ہیں۔‘ تو انھوں نے جواب دیا کہ ’نہیں! یہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ میں تنہا ہی جاتا ہوں۔ آپ لوگ رسیوں وغیرہ کا انتظام کریں۔‘

یہ بھی پڑھیے

لورالائی

،تصویر کا ذریعہMujeeb Loni

’اللہ کا نام لے کر اپنی گاڑی کو پانی میں اتار دیا‘

ٹھیکیدار عطا الرحمان ایک کاروباری شخصیت ہونے کے علاوہ فلاحی کارکن اور ایک مقامی تنظیم ’انجمن نوجواں فلاح‘ کے صدر بھی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’جب ان لوگوں کی گاڑی پانی میں پھنسی تو گاڑی میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی زندگیاں خطرے کا شکار ہوگئیں تھیں۔

’میں نے لمحوں میں فیصلہ کیا کہ میرے پاس بڑی، طاقتور انجن کی جدید گاڑی ہے جس میں فور وہیل ڈرائیو کی سہولت بھی ہے تو مجھے ان کی مدد کرنی چاہیے۔‘

انھیں ان کے دوستوں نے بتایا کہ ’پانی کا ریلا تیز اور اونچا ہو رہا ہے۔ گاڑی لے کر پانی میں مت جائیں، خطرہ ہوگا۔ مگر میں نے جواب دیا کہ اب تو انسانی زندگیوں کا سوال ہے، مجھے جانا ہی ہوگا۔‘

اور اسی خیال کو ذہن میں رکھتے ہوئے انھوں نے اپنی یہ نئی کار سیلابی ریلے میں اتارنے کا فیصلہ کیا جو انھوں نے بہت شوق سے لی تھی اور اس کا بہت خیال بھی رکھتے تھے۔ دوستوں کی تنبیہ کے باوجود کہ ’پانی میں گاڑی خراب ہوجائے گی‘، انھوں نے ’اللہ کا نام لے کر گاڑی کو پانی میں ڈال دیا۔‘

وہ یاد کرتے ہیں کہ ’پانی میں چند سیکنڈ چلنے کے بعد میری گاڑی کو جھٹکے لگنا شروع ہوگئے اور مجھے چکر آنے لگے۔ پھنسی ہوئی گاڑی کو دیکھا، اپنی آنکھیں بند کیں، گاڑی کو فور وہیل پر لگایا اور آگے بڑھ گیا۔‘

مگر آگے جاتے جاتے انھیں احساس ہوا کہ پانی کسی ندی کی طرح گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ وہ کسی نہ کسی طریقے سے پھنسی ہوئی گاڑی کے قریب پہنچ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اب صورتحال یہ تھی کہ پانی (کے دباؤ) کی وجہ سے دونوں گاڑیوں کے دروازے نہیں کھل سکتے تھے۔‘

’وہ اتنے خوفزدہ ہوچکے تھے کہ ان سے اپنی گاڑی کا شیشہ بھی نہیں کھل رہا تھا۔ میں نے انھیں کچھ حوصلہ دیا۔ شیشہ کھل گیا مگر گاڑی ہچکولے لے رہی تھی۔‘

اب دونوں کے ذہن میں یہی سوال تھا کہ ایک کار سے دوسری میں انھیں منتقل کیسے کیا جاسکتا ہے۔ ’تاہم ان میں سے ایک بندے نے ہمت کی تو باقی بھی ہمت کرنے لگے۔‘

عطا الرحمان

،تصویر کا ذریعہAtta ur Rehman

،تصویر کا کیپشناکبر کا کہنا ہے کہ عطا الرحمان نے اپنی زندگی میں خطرے میں ڈال کر ان کی اور ان کے دوستوں کی جان بچائی

محمد اکبر کہتے ہیں کہ ’میں خود ڈرائیونگ سیٹ پر موجود تھا۔ ہمیں خطرناک پانی میں پھنسے ہوئے کافی وقت گزر چکا تھا۔ کچھ ہمت جواب دے رہی تھی۔ کچھ بھی کرنے کے لیے ہمت کی ضرورت تھی۔ ہمیں ٹھیکدار صاحب بار بار کہہ رہے تھے کہ ہمت کریں اور منتقل ہو جائیں۔‘

’میں نے سوچا کہ مجھے ہی ہمت کرنا ہوگی۔ ایک لمبی سانس بھری اور پھر اپنی گاڑی کے شیشے سے نکل کر ٹھیکدار صاحب کی گاڑی کے شیشے میں سے اس میں منتقل ہوگیا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ باقیوں نے بھی ان کی پیروی کی اور وہ تمام لوگ خطرے سے کچھ حد تک باہر نکل آئے۔

نجیب اللہ کہتے ہیں کہ یہ واقعہ مرکزی شاہراہ پر پیش آیا تھا۔ وہاں پر بہت سی گاڑیاں کھڑی تھیں۔ ’جب ٹھیکدار عطا الرحمان لونی گاڑی لے کر پانی میں اتر گئے تو وہاں پر موجود لوگوں نے رسیوں کو باندھنا شروع کردیا اور پھر دو سے تین لوگوں کو رسیوں سے باندھ کر پانی میں اتارا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ان لوگوں نے اس رسی کو ٹھیکدار عطا الرحمان لونی کی گاڑی سے باندھا اور پھر پھنسی ہوئی گاڑی میں سے اترنے والے پہلے شخص کو رسی سے باندھا گیا اور ہم سب لوگوں نے اس کو کھینچ کر محفوظ مقام تک پہنچایا۔‘

نجیب اللہ بتاتے ہیں کہ اسی طرح دوسرے بندے کو بھی کنارے پر پہنچایا گیا جبکہ باقی تینوں کو ٹھیکدار صاحب نے اپنی گاڑی میں بٹھا کر کنارے پر پہنچا دیا۔

لونی کہتے ہیں کہ ’اس وقت مجھے کچھ یاد نہیں تھا، بس ایک ہی بات ذہن میں تھی کہ میرے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ میں ان لوگوں کو بچانے کی کوشش کرسکوں تو مجھے ضرور کرنا چاہیے۔ اس بات کی بے انتہا خوشی ہے کہ میں انسانی جانیں بچانے کا سبب بنا۔‘

’مگر ایسا صرف میں نے ہی نہیں کیا بلکہ موقع پر موجود کئی لوگوں نے مدد کی۔ کسی نے رسی فراہم کی تو کسی نے رسیوں کی مدد سے ان کو باہر لانے میں کردار ادا کیا۔ ہر ایک شخص نے اپنا اپنا کردار ادا کیا۔‘