راولپنڈی اور اسلام آباد میں بارش: کنٹونمٹ بورڈ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں، نالہ لئی کی صورتحال ’خطرے کی حد تک نہیں پہنچی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
’نہ صرف میرے (گھر میں) بلکہ ہمارے تمام علاقے میں پانی داخل ہوا ہے۔ اس سے ہمیں کافی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ کئی لوگوں کا قیمتی گھریلو سامان تباہ و برباد ہو کر رہ گیا ہے۔‘
یہ کہنا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ایچ 13 کے رہائشی ملک امین کا۔ اسی طرح راولپنڈی کے علاقے صادق آباد کے رہائشی گلفام تنولی کا کہنا ہے کہ ’بارشوں نے تو تباہی مچا دی ہے۔‘
جڑواں شہروں میں بدھ کی صبح ہونے والی موسلادھار بارش سے کئی علاقے زیر آب آئے اور شہریوں کی جانب سے شیئر کر گئی کچھ ویڈیوز اور تصاویر سے ایسا لگا جیسے وہ کسی رہائشی علاقے میں نہیں بلکہ ’کسی ڈیم، ندی یا دریا‘ میں موجود ہیں۔
تاہم بارش تھمنے اور دھوپ نکلنے کے ساتھ ساتھ حکام نے کئی علاقوں سے پانی کی نکاسی کے لیے اقدامات کیے جس کے بعد اب صورتحال کچھ حد تک قابو میں نظر آ رہی ہے۔
گلفام تنولی نے بتایا کہ بارش کے دوران صادق آباد، ڈھوک کالا خان، شکریال اور گرجا روڈ سمیت راولپنڈی کے کئی علاقوں میں پانی کھڑا ہوا۔ ’ہمارے رشتہ دار ان علاقوں میں رہتے ہیں۔ وہ بتا رہے ہیں کہ ان علاقوں میں بارشوں کا پانی گھروں میں داخل ہوا اور روڈ پر کھڑا ہے۔‘
ایسی ہی اطلاعات راولپنڈی اور اسلام آباد کے نشیبی علاقوں سے موصول ہوئیں۔ مری روڈ سمیت کئی علاقوں میں ٹریفک میں خلل، دیواریں ٹوٹنے اور لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات آئیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ کے مطابق فی الحال نقصانات کے اندازے لگائے جا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@Zw35
ریسکیو 1122 کے مطابق بدھ کے روز غازی آباد کے علاقے میں ایک دیوار گرنے سے ایک کم عمر بچہ پانی میں گرنے سے ہلاک ہوا۔
پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے کمشنر راولپنڈی ڈویژن سے رابطہ کر کے شہر میں نکاسی آب کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے اور چوکس رہنے کی ہدایات جاری کیںگ
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں آنے والے علاقے سکیم تھری، ڈھوک جمعہ، کمالا آباد اور ان سے ملحق آبادیوں میں پانی کھڑا رہا اور وہاں کے رہائشی مشکلات کا شکار ہوئے۔
'ایسا لگا جیسے یہ راولپنڈی کینٹ کا علاقہ نہیں بلکہ کوئی ندی ہے'
راولپنڈی میں چکلالہ کنٹونمٹ بورڈ کے علاقے سکیم تھری کے رہائشی کلیم اختر کا کہنا تھا کہ ’ٹیکسوں پر ٹیکس دینے کے بعد بھی صورتحال یہ ہے کہ ہمارا علاقہ پوری طرح پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔‘
’گھروں میں پانی داخل ہوچکا ہے۔ ہمیں ایسے لگتا ہے کہ سارے حکام سوئے ہیں۔ کوئی بھی ہمارے حال پر رحم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ہمیں سمجھ میں نہیں آتا کہ کنٹونمنٹ بورڈ والے ہم سے کس بات کے ٹیکس وصول کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہZafar Jamal
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تمام گلیوں میں پانی کھڑا ہے۔ ’نہ تو کوئی اندر جاسکتا ہے اور نہ ہی باہر آسکتا ہے۔ ہمیں ایسے لگتا ہے کہ جیسے (کینٹ میں) سکیم تھری کا علاقہ رہائشی نہیں کوئی ڈیم، ندی اور دریا ہو۔ کئی گھروں میں پانی اندر داخل ہوا ہے۔ لوگوں کا بہت نقصان ہوا ہے۔‘
اس پر کنٹونمنٹ بورڈ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے امدادی کارکنان مختلف علاقوں میں مصروف ہیں اور پانی کو نکالا جا رہا ہے۔‘
چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کے مطابق سکیم تھری میں بارش سے ایک دیوار گرنے کی وجہ سے پانی رُکا اور علاقے میں اکٹھا ہوا مگر بعد میں اس دیوار کو ہٹا دیا گیا۔ زیادہ متاثرہ علاقہ لائن سکس اور سیون ہیں۔ ان کے مطابق ’ہمارے کارکنان کام کر رہے ہیں۔ مغرب تک علاقے سے پانی نکال دیا جائے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کے مطابق سکیم تھری میں اکثر لوگوں نے گھروں میں بیسمنٹ بنائے ہوئے ہیں اور یہ بیسمنٹ نالہ لئی کی سطح سے بھی نیچے ہیں جس کی وجہ سے ان میں بارش کا پانی داخل ہوتا ہے۔ ‘
ملک امین کا کہنا ہے کہ بارش کے دوران اور اس کے بعد کچھ دیر تک ان کے علاقے میں بجلی اور پانی کی فراہمی معطل رہی جبکہ موبائل فون سے رابطوں میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ’کئی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت گھروں میں سے پانی نکال رہے ہیں اور کچھ نے نکال لیا ہے۔ لوگوں کو پانی اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا رہا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ موبائل فون بھی کام نہیں کر رہے جس کی وجہ سے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
گلفام تنولی کا کہنا تھا کہ صبح سے نہ بجلی ہے نہ پانی۔ ’ایک طرف گھروں اور روڈ پر پانی اکٹھا ہے (اور) دوسری طرف بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں۔ اس وقت گیس بھی نہیں آ رہی۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہTwitter/@DCRawalpindi
جڑواں شہروں میں کتنی بارش ہوئی؟
راولپنڈی اور اسلام آباد کے کئی علاقوں میں پانی کھڑا ہونے اور گھروں میں داخل ہونے کی اطلاعات موجود ہیں اور اب امید ہے کہ دھوپ نکلنے کے بعد نکاسی آب کا کام تیز ہوسکے گا۔
یہ صورتحال مون سون کی حالیہ شدید بارشوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ کے علاقے میں 140، سید پور 71، بوکرہ 59، گولڑہ 44 اور زیرو پوائنٹ میں 41 ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔
راولپنڈی میں چکلالہ کے علاقے میں 87 اور شمس آباد میں 53 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا یہ سلسلہ بدھ کے روز صبح چار بجے شروع ہوا تھا جو آٹھ بجے تک جڑواں شہروں میں جاری رہا جبکہ اس کے بعد بھی وقفے وقفے سے بارش ہوتی رہی تاہم دوپہر سے کچھ پہلے بارشوں کا سلسلہ رُک چکا ہے۔ پوٹھوہار کے علاقے میں مزید بارش کا امکان موجود ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بدھ کے روز خیبرپختونخوا، پنجاب، کشمیر، گلگت بلتستان، مشرقی بلوچستان اور زیریں سندھ میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے۔ جبکہ بالائی خیبر پختونخوا، شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر میں موسلادھار بارش کی توقع ہے۔
جمعرات کے روز خیبر پختونخوا، پنجاب، کشمیر، گلگت بلتستان، مشرقی بلوچستان اور سندھ میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان۔ جبکہ زیریں سندھ، بالائی خیبر پختونخوا، شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر میں موسلادھار بارش کی توقع ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@AmbreenS_Ahmad
نالہ لئی کی صورتحال
محکمہ موسمیات کے مطابق صبح کے وقت کے اعداد و شمار کے مطابق نالہ لئی میں اوسط پانی بارہ فٹ تک رہا۔ نالہ لئی میں بیس فٹ تک پانی پہچنے پر اسے انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے اقدامات کیے جا رہے ہیں مگر شہری ان سے مطمئن نہیں۔
ترجمان واسا کے مطابق نالہ لئی میں بارشوں کے دوران اور صبح کے وقت پانی بڑھ رہا تھا مگر صورتحال ’کسی بھی وقت انتہائی خطرے (کی حد) تک نہیں پہنچی۔۔۔ مقامی آبادیوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایات نہیں دی گئی۔ اب بارشوں میں وقفے کے بعد پانی کم ہو رہا ہے۔‘
ترجمان واسا کے مطابق راولپنڈی، اسلام آباد میں اوسط بارش 85 ملی میٹر بارش ہوئی۔ ’عملے نے مختلف مقامات پر مشینری کے ہمراہ نشیبی علاقوں جن میں مریڈ چوک، لیاقت باغ، کمیٹی چوک انڈر پاس، بے نظیر ہسپتال، ڈھوک کھبہ، جاوید کالونی، صادق آباد، شمس آباد، سید پور، جامع مسجد روڈ، پرانا ایئر پورٹ اور دیگر مقامات پر پانی نکالنے کا کام شروع کیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بارش رکنے کے ابتدائی دو، تین گھنٹوں کے اندر ان علاقوں میں سے پانی نکال دیا گیا تھا۔ ’اب دوپہر کے وقت ایسی کوئی اطلاعات دستیاب نہیں جس سے پتا چلے کہ راولپنڈی کے کسی علاقے میں پانی کھڑا ہے یا شہری مشکل میں ہیں۔‘
’شہری کسی بھی وقت ہمارے ٹول فری نمبر 1334 پر کال کر کے شکایت درج کروا سکتے ہیں۔‘












