’ٹرسٹی وزیر اعلیٰ‘ کیا ہوتا ہے؟ حمزہ شہباز کے اختیارات کتنے محدود ہیں؟

،تصویر کا ذریعہPMLN
- مصنف, منزہ انوار
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
وزیر اعلیٰ پنجاب کے متنازع الیکشن کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے حکم دیا ہے کہ حمزہ شہباز 25 جولائی تک بطور ‘ٹرسٹی وزیر اعلیٰ‘ فرائض ادا کریں گے۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے اختیارات محدود ہوں گے، وہ انتظامی اقدامات، تقرر اور پولیس کارروائی کے ذریعے اپنی جماعت اور حامیوں کو کسی طرح سیاسی فائدہ نہیں دے سکتے اور اگر میرٹ کے برعکس تقرریاں ہوئیں تو وہ کالعدم کر دی جائیں گی۔
پنجاب کے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی جانب سے عرفان قادر ایڈووکیٹ کے دلائل سننے کے بعد تین رکنی بنچ نے ریمارکس دیے کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ بادی النظر میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے برعکس ہے۔
تین رکنی بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل تھے۔
عدالت نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف دائر درخواست پر کارروائی 25 جولائی تک ملتوی کر دی ہے اور اب پیر کو اسلام آباد میں سماعت ہو گی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے حمزہ شہباز کو بطور ٹرسٹی وزیر اعلیٰ کام کرنے کے احکامات کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سے ماہرین سے لے کر عام لوگوں تک سبھی یہ سوال کر رہے ہیں کہ ‘یہ ٹرسٹی وزیراعلیٰ کیا ہوتا ہے؟ کیا آئین میں اس حوالے سے کچھ درج ہے؟‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
‘ایک عدالت کی جانب سے اس طرح کی اصطلاح استعمال کیے جانے کی آئینی یا قانونی بنیاد ہونی چاہیے‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پارلیمانی اُمور کے ماہر احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ انھوں نے پہلی مرتبہ عدالت کی جانب سے یہ ‘ٹرسٹی شپ‘ کی اصطلاح استعمال ہوتے دیکھی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ عام آدمی تو اس طرح کی کئی اصطلاحات استعمال کرتے رہتے ہیں لیکن ‘ایک عدالت کی جانب سے جب اس طرح کی کوئی اصطلاح استعمال کی جائے تو اس کی کوئی آئینی یا قانونی بنیاد ہونی چاہیے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ چونکہ ہمارے آئین میں کبھی بھی ٹرسٹی وزیر اعلیٰ کی اصطلاح استعمال نہیں ہوئی، نگران وزیر اعلیٰ اور نگران وزیر اعظم ہوتا ہے اور یہ اصطلاحات آئین میں بھی موجود ہیں ‘لیکن یہ تو بڑی عجیب سی چیز تھی اسی لیے مجھے لگا کہ جیسے یہ ایک جدت یا نئی ایجاد ہے، جیسے آئین کے اندر ایک نئی چیز لکھی جا رہی ہے اور ہم کم از کم عدالتِ عظمیٰ سے اس کی توقع نہیں کرتے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
‘پیر تک حمزہ شہباز کی حالت بس ایسے ہی ہے جیسے نمائشی وزیر اعلیٰ‘
اس حوالے سے ماہرِ قانون سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ ‘آئین میں تو ‘ٹرسٹی وزیر اعلیٰ‘ جیسی کوئی چیز موجود نہیں ہے، اس کا آئین کے ساتھ کوئی تعلق بھی نہیں۔۔ حمزہ شہباز حلف لے کر وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں اور جب تک عدالت انھیں ہٹاتی نہیں ہے وہ بطورِ وزیر اعلیٰ کام کر سکتے ہیں اور کیونکہ ابھی مقدمہ چل رہا ہے لہذا آج عدالت انھیں ہٹا نہیں سکتی تھی لہذا انھیں وزیر اعلیٰ رہنے دیا ہے مگر خبردار بھی کیا ہے کہ کوئی کام نہیں کرنا۔‘
بی بی سی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ چونکہ ان کے وکیل نے پیر تک کا وقت مانگا تھا لہذا عدالت نے وقت تو دیا ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ ‘تب تک حمزہ شہباز خود کو مکمل وزیر اعلیٰ نہ سمجھیں‘ اور پیر تک ان کی حالت بس ایسے ہی ہے جیسے نمائشی وزیر اعلیٰ ہوں اور وہ روٹین سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کر سکتے۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ عدالت کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا ‘اگر عدالت انھیں ہٹا دیتی اور صوبے میں کوئی وزیر اعلیٰ نہ ہوتا تو ایک نیا بحران بن جاتا لہذا عدالت نے کہا ہے کہ ‘پیر تک سیٹ پر بیٹھے ہیں مگر آپ نے کرنا کچھ نہیں ہے۔‘
بطور ٹرسٹی وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کے اختیارات کتنے محدود ہیں؟

،تصویر کا ذریعہPMLN
سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ ایک وزیرِ اعلیٰ کے پاس جتنے اختیارت ہوتے ہیں، حمزہ شہباز کے پاس اب وہ اختیارات نہیں رہے اور وہ پیر تک کوئی حکم نہیں دے سکتے ‘ان کے اختیارات مکمل طور پر محدود ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ عدالت نے ایک طرح نے حمزہ شہباز کو اشارہ دے دیا ہے کہ پیر کے بعد شاید وہ وزیر اعلیٰ نہ رہیں لہٰذا ایسا کوئی کام نہ کریں جسے ایک عام وزیر اعلیٰ مکمل طاقت کے ساتھ کر سکتا ہو۔
تاہم اس حوالے سے احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ ‘ایک شخص یا تو وزیر اعلیٰ ہوتا یا نہیں ہوتا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اگر حمزہ شہباز نگران وزیر اعلیٰ ہوتے تو اس صورت میں ان کے اختیارات محدود ہوتے، لیکن حمزہ شہباز نگران وزیر اعلیٰ نہیں ہیں بلکہ باقاعدہ منتخب ہو کر وزیر اعلیٰ بنے ہیں لہٰذا میری رائے میں ‘جب تک حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ ہیں ان کے پاس وہی اختیارات ہیں جو کسی بھی وزیر اعلیٰ کے پاس ہوتے ہیں اور آئین کے مطابق انھیں محدود نہیں کیا جا سکتا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
سپریم کورٹ کے اس حکم کے ‘حمزہ شہباز کابینہ بنا سکتے ہیں مگر وہ جتنی چھوٹی ہو سکتی ہے ہونی چاہیے‘ کے متعلق احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ ‘میرے خیال میں یہ آئین سے تھوڑا سا تجاوز ہے کیونکہ وفاقی ہو یا صوبائی، آئین میں کابینہ کا سائز بہت واضح ہدایت کے ساتھ مقرر کیا گیا ہے اور اس مقررہ سائز کے اندر رہتے ہوئے انھیں کابینہ بنانے کا اختیار ہونا چاہیے اور اس حوالے سے ان کا اختیار محدود کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘
احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ ٹرسٹی وزیر اعلیٰ بنانا، کابینہ کا سائز کم سے کم کرنا اور اختیارات محدود کرنے والی چیزیں ‘آئین کو دوبارہ لکھنے کے مترادف‘ سمجھی جائیں گی کیونکہ آئین میں یہ چیزیں پہلے سے موجود نہیں ہیں۔‘













