حمزہ شہباز بمقابلہ پرویز الٰہی: پنجاب میں وزیر اعلیٰ کی کرسی کے لیے دلچسپ مقابلہ، جیت کس کی ہو گی؟

چوہدری پرویز الٰہی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان میں سیاسی غیر یقینی کے دوران جہاں سب کی نظریں اتوار کے قومی اسمبلی کے اجلاس پر ہیں، وہیں انتہائی دلچسپ اور اہم کشمکش پنجاب میں طول پکڑتی دکھائی دے رہی ہے۔

گذشتہ چند روز کی طرح سنیچر کو بھی پنجاب کی سیاست میں خاصی ہل چل رہی۔ جمعے کی رات جب پنجاب اسمبلی کا شیڈول جاری کیا گیا تو اس کے ایجنڈے میں سنیچر کو نئے وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کروائی جانی تھی۔

تاہم علی الصبح ہی سیکریٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی نے اعلان کیا کہ نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے آج محض شیڈول جاری کیا جائے گا اور ووٹنگ نہیں ہو گی۔

وفاق کی طرح پچھلے کچھ دنوں سے آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے حوالے سے بھی یہی سوالات پوچھے جا رہے تھے کہ ’نمبر گیم‘ میں کون آگے ہے کیونکہ دونوں جانب سے ہی ’واضح سبقت‘ کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔

تاہم جہاں وفاق میں اس وقت اپوزیشن اتحاد کو واضح برتری حاصل ہے، پنجاب میں اب بھی کانٹے کا مقابلہ ہے۔ اس کی ایک وجہ پنجاب میں کئی گروپس کا ابھرنا ہے جنھوں نے باضابطہ طور پر کسی کی حمایت کا اعلان نہیں کیا تھا۔

اس بنیاد پر آغاز میں چوہدری پرویز الہی کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ الیکشن میں ’نمبر گیم‘ پوری کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہو سکتے ہیں۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پرویز الٰہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بننے میں کامیاب ہوں گے یا پھر وفاق کی طرح انھیں بھی اپنے حق میں ووٹوں کے نمبر پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو گا؟

حمزہ

،تصویر کا ذریعہFacebook/Hamza Shehbaz

علیم خان اور جہانگیر ترین گروپ کا حمزہ شہباز کی حمایت کا اعلان

اس وقت اگر پنجاب اسمبلی پر نظر دوڑائیں تو پاکستان تحریک انصاف کے پاس 183، مسلم لیگ ن کے پاس 165، ق لیگ کے پاس 10، پیپلز پارٹی کے پاس 7، پاکستان راہ حق پارٹی کے پاس ایک سیٹ اور 5 اراکیں آزاد حیثیت میں موجود ہیں جبکہ پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بننے کے لیے 186 ووٹ درکار ہوں گے۔ خیال رہے کہ آزاد رکن صوبائی اسمبلی جگنو محسن نے رواں ہفتے ہی ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی اور حمزہ شہباز کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہو گا اور فی الحال کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔

پرویز الٰہی کی فتح کے امکانات میں کمی کی ایک وجہ گذشتہ روز لندن میں موجود جہانگیر ترین اور اسحاق ڈار کے درمیان ملاقات کو بھی سمجھا جا رہا ہے۔

جہانگیر ترین کو اب بھی پنجاب کی سیاست میں انتہائی اہم کردار سمجھا جاتا ہے اور ان کی اسحاق ڈار سے ملاقات کے بعد آج جہانگیر ترین گروپ نے حمزہ شہباز کی حمایت کا باضبطہ اعلان بھی کر دیا ہے۔

علیم خان

،تصویر کا ذریعہCourtesy Aleem Khan

حکومت کی جانب سے اس سے قبل ان کے گروپ کو منانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں لیکن انھیں خاطر خواہ کامیابی نہیں ہو سکی۔

اس وقت جہانگیر ترن گروپ کے پاس 16 اراکین صوبائی اسمبلی ہیں۔ جن میں نعمان لنگڑیال، اجمل چیمہ، عبدالحئی دستی، امیر خان، رفاقت گیلانی، فیصل جبوانا، سعید اکبر نیوانی، طاہر رندھاوا، اسلم بھروانا، غلام رسول سنگھا، زوار وڑائچ، بلال وڑائچ، قاسم خان لانگھا، ناظر خان بلوچ، امین چوہدری اور سلمان نعیم شامل ہیں۔

اس کے علاوہ علیم خان گروپ نے بھی سنیچر کی شام اپوزیشن کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس نمبر گیم اب پہلے سے بہتر ہے۔

تاہم مسلم لیگ ن کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے مخالف جماعتوں کے صوبائی اراکین کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر آپ ووٹ نہیں دینا چاہتے تو آپ الیکشن والے دن سیشن سے غیر حاضر رہیں۔

یاد رہے کہ وزیرِ اعلٰی منتخب ہونے کے لیے انھیں 186 ووٹ درکار ہوں گے اور اگر ایسا نہیں ہوتا اور دونوں امیدواروں کے ووٹ کم ہوتے ہیں تو اس کے بعد ’رن آف الیکشن‘ کیا جائے گا اور اس میں جس کے ووٹ زیادہ ہوں گے وہ وزیر اعلی منتخب ہو جائے گا۔

اسمبلی کی جانب سے جاری کردہ نئے شیڈول کے مطابق کل گیارہ بجے نئے وزیرِ اعلیٰ کے لیے ووٹنگ کی جائے گی۔

شاید یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اس موقع پر یہ ٹویٹ کی گئی ہے کہ تمام پارٹی ممبران کل سیشن میں موجود ہوں اور پرویز الٰہی کو ووٹ دیں۔

انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’اگر کسی نے ان کے خلاف ووٹ دیا یا پھر غیر حاضر رہا تو اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔‘

اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز رات گئے مختلف صوبائی اراکین سے ملاقاتیں بھی کرتے رہے۔

عمران خان، عثمان بزدار

،تصویر کا ذریعہPTI

عثمان بزدار: وسیم اکرم پلس سے استعفے تک

وسیم اكرم پلس، بہترین وزیر اعلیٰ، سادہ اور معصوم انسان وہ القابات ہیں جن سے وزیر اعظم عمران خان، پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو پکارا کرتے تھے۔ گذشتہ ساڑھے تین سال کے دور حکومت میں وزیر اعظم عمران خان کے اس انتخاب پر زیادہ تر حلقوں کی جانب سے ان پر تنقید کی جاتی رہی، جس میں ان کی اپنی پارٹی کے لوگ شامل تھے لیکن عمران خان اپنے فیصلے اور انتخاب پر ڈٹے رہے اور یہ بات صاف طور پر واضح کر دی کہ عثمان بزدار کی تبدیلی انھیں کسی صورت بھی قبول نہیں۔

تاہم گذشتہ سیاسی معاملات اور حالات دونوں ہی ایسے تھے کہ وزیر اعظم عمران خان کو اپنی حکومت بچانے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے سر سے ہاتھ اٹھانا پڑا۔

گذشتہ ہفتے وفاقی وزیر اطلاعات فرخ حبیب کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے وزیر اعظم کو استعفیٰ جمع کروا دیا گیا ہے اور حکومت کی جانب سے اگلے نامزد وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی ہوں گے جو اس وقت پنجاب اسمبلی کے سپیکر بھی ہیں۔

یاد رہے کہ اس اعلان سے قبل مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی اپوزیشن کا ساتھ دینے کی یقین دہانی اس شرط پر کروا چکے تھے انھیں پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنایا جائے گا تاہم انھوں نے باضابطہ طور پر اس کا اعلان نہیں کیا تھا لیکن اگلے ہی روز انھوں نے اپنی حمایت حکومت کے لیے ظاہر کر دی، جس کے نتیجے میں حکومت کی طرف سے انھیں وزات اعلیٰ کی کرسی آفر کی گئی جو انھوں نے قبول کر لی۔

عمران خان، چوہدری برادر

،تصویر کا ذریعہTWITTER/CHAUDHRYPARVEZ

’رات کو ہمیں مبارکباد دینے آتے ہیں اور صبح کہیں اور چلے جاتے ہیں‘

چوہدری پرویز الٰہی کے اس سیاسی اقدام پر کئی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی جاتی رہی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ق لیگ والے ہمارے ساتھ آ گئے تھے لیکن پتا نہیں انھیں کیا سوچ آئی۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ ’رات کو وہ مجھے مبارکباد دے کر صبح کہیں اور چلے گئے۔‘

انھوں نے مزيد کہا کہ ’پنجاب میں ہم تبدیلی لائیں گیں اور اپنی مرضی کی تبدیلی لائیں گے۔ جسے ہم وزير اعلیٰ نامزد کریں گے وہی وزیر اعلیٰ بنے گا۔‘

مسلم لیگ نون کے رہنما رانا ثنا اللہ نے چوہدری پرویز الٰہی کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف پرویز الٰہی کے کہنے پر تحریک عدم اعتماد جمع کروائی اور اب وہ پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

انھوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’چوہدری صاحب پی ٹی آئی آپ کو وزیر اعلیٰ نہیں بنا سکتی۔ پی ٹی آئی پنجاب میں بکھر چکی اور ان کے پاس ووٹ ہی پورے نہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’طارق بشیر چیمہ سمیت ہمیں ق لیگ کے تین ووٹ ملیں گے جبکہ پانچ اراکین ایسے ہیں جو آزاد منتخب ہو کر آئے اور پی ٹی آئی میں شامل ہوئے، ان پر تو ڈیفیکشن کلاز بھی نہیں لگتی۔‘

یہ بھی پڑھیے

پرویز الہی، چوہدری شجاعت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چوہدری پرویز الٰہی نے حکومت کی حمایت کا فیصلہ کیوں کیا؟

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی نے نجی چینل جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ نون سے جن کی حمایت درکار تھی شہبازشریف ان کو نہیں منا سکے، ان کا اپنا درجہ ہے لیکن وہ اپنے بھائی کے ویٹو کا رخ نہیں موڑ سکے۔

’جن کو آن بورڈ ہونا چاہیے تھا وہ شہبازشریف سے آن بورڈ نہیں تھے، مثال کے طور پر مریم نواز کو پسند نہیں تھا، وہ گروپ محسوس کرتا تھا کہ ہم سات دس سیٹوں والوں کو کیوں سارا کچھ ہی دے دیں؟‘

چوہدری پرویز الٰہی کا مزید کہنا تھا کہ ’ان کے ساتھ ہماری ایک پوری تاریخ ہے۔ تین دفعہ ہمارے ساتھ یہ ہو چکا ہے، ہم ان کے ساتھ بڑے ہی محتاط طریقے سے چلتے ہیں۔ نون لیگ والے ہمیں بھی مطمئن کر رہے تھے اور آصف زرداری کو بھی۔‘

اس معاملے پر بات کرتے ہوئے تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ میاں نواز شریف اس بات کے لیے پہلے تیار نہیں تھے کہ وہ چوہدریوں کے ساتھ اتحاد کریں لیکن پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری کی طرف سے ان کے حق میں گارنٹی دی گئی تھی جس کے بعد مسلم لیگ نون کے قائد میاں محمد نواز شریف نے حامی بھری اور اپوزیشن نے انھیں وزیر اعلیٰ بنانے کی پیشکش کی۔

اس معاملے پر مزید بات کرتے ہوئے سلمان غنی کا کہنا تھا چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ نامزد کر کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ناکامی کا اعتراف کیا۔

’آپ یہ دیکھیں کہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پر ایسے شخص کو وزیر اعلیٰ لگایا گیا جو وزیر اعلیٰ بننے سے کچھ عرصہ پہلے پارٹی میں آیا۔ جس سے عمران خان کے اپنے لوگوں میں احساس محرومی پیدا ہوا اور اب اپنی حکومت بچانے کے لیے وہ دوبارہ ایسے شخص کا انتخاب کر رہے ہیں جو ان کی پارٹی سے نہیں۔‘

’میرے خیال میں تو پرویز الٰہی نہ تو حکومت اور نہ ہی اپوزیشن کے امیدوار ہیں بلکہ وہ پاکستان کے مخصوص طاقتور حلقوں کے امیدوار ہیں اس لیے کسی کو ان پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔‘