عبدالعلیم خان کون ہیں اور جہانگیر ترین کے ساتھ مل کر پی ٹی آئی حکومت کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہو سکتے ہیں؟

ٹوئٹر

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@aleemkhan_pti

،تصویر کا کیپشنعلیم خان نے بھی حال ہی میں جہانگیر ترین گروپ کے ساتھ جا کھڑے ہونے کا باضابطہ اعلان کر دیا
    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو لاہور

پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت ان دنوں مرکز اور صوبہ پنجاب میں سیاسی مشکلات میں گھری ہے۔

مرکز میں وزیرِاعظم عمران خان کو حزبِ اختلاف کی جانب سے پارلیمان میں پیش کی گئی تحریکِ عدم اعتماد کا سامنا ہے۔

اور صوبہ پنجاب میں اسے اپنی ہی جماعت کے اندر بننے والے گروپس کا سامنا ہے جو 'ناراض ممبران' پر مشتمل ہیں۔ حکومتی جماعت کے 'ناراض' رہنما جہانگیر ترین ایک گروپ بنا چکے تھے جس میں صوبائی اور قومی اسمبلی کے کئی ممبران ان کی حمایت میں ساتھ کھڑے تھے۔

ان کا دعوٰی ہے کہ لگ بھگ چالیس ایسے ممبران ہیں جو ان کے ساتھ ہیں اور ان کے فیصلوں پر عملدرآمد کرنے کو تیار ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب پنجاب میں کابینہ کے سابق سینیئر ممبر علیم خان نے بھی حال ہی میں جہانگیر ترین گروپ کے ساتھ جا کھڑے ہونے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔

جہانگیر ترین ہی کی طرح علیم خان کو بھی ابتدا میں وزیرِ اعظم عمران خان کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا اور پنجاب میں حکومت سازی کے وقت مبصرین انھیں وزیرِ اعلٰی کی کرسی کا مضبوط امیدوار تصور کر رہے تھے۔

تاہم ایسا ہوا نہیں۔ عثمان بزدار کو وزیراعلٰی بنا دیا گیا۔ تاہم جلد ہی پی ٹی آئی کے اندر اور باہر سے عثمان بزدار کے طرزِ حکومت پر سوالات اٹھائے جانے لگے۔ لیکن علیم خان کی طرف سے ان کے خلاف براہ راست کوئی تنقید یا بیان کبھی سامنے نہیں آیا۔

عمران، بزدار

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشن2018 میں پنجاب میں حکومت سازی کے وقت علیم خان کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ تصور کیا جاتا تھا لیکن عمران خان عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیر اعلی بنا دیا

علیم خان کے جہانگیر ترین گروپ کے ساتھ ملنے کے بعد پی ٹی آئی کے 'ناراض ممبران' نے حال ہی میں یہ اعلان کیا ہے کہ وہ پنجاب میں عثمان بزدار کو وزیرِ اعلٰی نہیں دیکھنا چاہتے۔ 'جب تک عثمان بزدار کو ہٹایا نہیں جاتا وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کو بھی تیار نہیں۔'

علیم خان پنجاب اور خصوصاً لاہور کی سیاست میں ایک اہم شخصیت تصور کیے جاتے ہیں اور انھوں نے دعوٰی کیا ہے کہ انھیں بھی پی ٹی آئی کے کئی ممبران کی حمایت حاصل ہے۔

علیم خان کون ہیں اور کیا واقعتاً وہ اتنا اثر و رسوخ رکھتے ہیں کہ جہانگیر ترین کے ساتھ مل کر پنجاب میں حکومت کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔

عبدالعلیم خان کون ہیں؟

عبدالعلیم خان
،تصویر کا کیپشنعبدالعلیم خان پنجاب کابینہ میں سینیئر وزیر کے عہدے پر فائز ہیں

لاہور کے صحافی گوہر بٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ علیم خان نے تعلیم گورنمنٹ کالج لاہور سے حاصل کی اور زمانہ طالبِ علمی میں سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز ان کے کلاس فیلو اور بے تکلف دوست بھی رہے ہیں۔ کالج ہی میں ان کی دوستی حمزہ شہباز شریف سے بھی رہی۔

گورنمنٹ کالج کے زمانے کے ان کے ایک دوست ناصر گجر نے صحافی گوہر بٹ کو بتایا علیم خان ایک سرخ رنگ کی شیراڈ گاڑی پر کالج آیا کرتے تھے۔ انہی دنوں وہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہوئے اور علاج کے لیے کینیڈا چلے گئے تھے۔

گوہر بٹ کے مطابق عبدالعلیم خان کے والد ایک بینکار تھے جبکہ ان کی شادی لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس راجہ صابر کی بیٹی سے انجام پائی تھی۔ 'علیم خان کے والد نے بینک سے گولڈن ہینڈ شیک سے ملنے والی رقم سے کچھ زمینیں خریدیں اور یوں علیم خان پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک ہوئے۔'

یہ بھی پڑھیئے

پراپرٹی کے کاروبار سے سیاست میں انٹری

سنہ 2002 میں پہلی مرتبہ علیم خان نے لاہور کے ٹاؤن شپ کے علاقے سے عام انتخابات میں حصہ لیا تاہم انھیں علامہ طاہرالقادری کے ہاتھوں شکست ہوئی۔

بہرحال وہ ضمنی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر منتخب ہو کر نہ صرف صوبائی اسمبلی کے رکن بنے بلکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر بھی رہے۔

اس کے بعد علیم خان نے تقریباً ہر الیکشن میں حصہ لیا لیکن کامیاب نہیں ہو پائے۔ سنہ 2008 میں وہ ق لیگ کے ٹکٹ پر انتخاب لڑے تھے اور ہار گئے تھے۔

لیکن 30 اکتوبر سنہ 2011 کو عمران خان کے لاہور میں ایک جلسے کے بعد علیم خان نے عمران خان کی جماعت تحریکِ انصاف میں شمولیت حاصل کر لی تھی۔

بعد ازاں انھوں نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے سنہ 2013 کے عام انتخابات، سنہ 2015 کے ضمنی انتخابات اور پھر سنہ 2018 میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی تشستوں پر عام انتخابات میں حصہ لیا تاہم کامیابی انھیں صرف سنہ 2018 کے اتنخابات میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر ملی۔

پی ٹی آئی کے بڑے فنانسیئر؟

جہانگیر ترین

،تصویر کا ذریعہ@JAHANGIRKTAREEN

،تصویر کا کیپشنجہانگیر خان ترین کو تحریک انصاف کی حکومت کے دوران مقدمات کا سامنا کرنا پڑا ہے

علیم خان کے بارے میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کی زیادہ تر سرگرمیوں کو وہ مالی طور پر سپورٹ کرتے تھے۔ ‎سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار سلیم بخاری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'اس بات میں کوئی شک نہیں کہ علیم خان پی ٹی آئی کے فنانسیئر رہے ہیں۔ پارٹی کی کوئی بھی سرگرمی ہو یا خود عمران خان کا کوئی جلسہ جلوس یا تقریب ہو، وہ علیم خان فنانس کیا کرتے تھے۔'

سلیم بخاری کا کہنا تھا علیم خان ابتدا ہی سے جہانگیر ترین کے ساتھ تھے اور ان کے خیالات سے مطابقت رکھتے تھے۔

وزیراعظم کے ساتھ قربت سے دوری تک

عمران خان، عبد العلیم خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

علیم خان کو وزیرِاعظم عمران خان کے کافی قریب سمجھا جاتا تھا تاہم سینیئر وزیر ہوتے ہوئے ہی علیم خان کو نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو نے مبینہ طور پر 'ذرائع سے زیادہ آمدن' کے الزامات میں گرفتار کر لیا تھا۔

لاہور میں پی ٹی آئی کے معاملات کو کور کرنے والے صحافی قذافی بٹ کے مطابق 'اس کے فوری بعد علیم خان نے وزیرِاعظم عمران خان سے بات کرنے کی کوشش کی تھی مگر انھیں کوئی جواب نہیں ملا تھا اور جیل سے رہا ہونے کے بھی متعدد بار انھوں نے وزیرِاعظم سے رابطے کی کوشش کی مگر وزیر اعظم نے ان سے بات نہیں کی تھی۔'

قذافی بٹ کے مطابق 'جہانگیر ترین ہی کی طرح علیم خان کو بھی اس بات کا دکھ تھا کہ وزیرِاعظم نے ان کے مشکل وقت میں انھیں تنہا چھوڑ دیا تھا۔

علیم خان جماعت کے ممبران پر کتنا اثرورسوخ رکھتے ہیں؟

صحافی گوہر بٹ نے بتایا کہ سنہ2018 کے عام انتخابات میں عبدالعلیم خان پی ٹی آئی کے وسطی پنجاب کے صدر رہے ہیں اور اس انتخاب میں امیدواروں کو ٹکٹیں ان کی سفارش پر دی گئی تھیں۔ 'اس لیے عثمان بزدار سے زیادہ علیم خان کے ممبران کے اچھے تعلقات ہیں۔'

یہی وجہ ہے کہ علیم خان نے دعوٰی کیا ہے کہ انھیں کم از کم صوبائی اسمبلی کے چالیس کے قریب ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

صحافی قذافی بٹ کے مطابق علیم خان پی ٹی آئی کے لاہور کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ اس طرح مقامی سطح پر بھی ان کا اثر و رسوخ موجود ہے۔ 'اس لیے بہت سے اراکین صوبائی اسمبلی کی انھیں حمایت حاصل ہے تاہم پنجاب کی کابینہ کے اندر انھیں زیادہ حمایت حاصل نہیں ہے۔'

صحافی قذافی بٹ کے مطابق 'اگر اب علیم خان کو وزیرِاعلیٰ بنایا جاتا ہے تو فوری طور پر کم از کم تین ایسے وزرا ہیں جو ان کے ماتحت کام کرنے سے انکار کر دیں گے۔ یہ وزرا ان دنوں وزیرِاعظم عمران خان کے انتہائی قریب بھی ہیں۔'

علیم خان جہانگیر ترین کے گروپ ہی میں شامل کیوں ہوئے؟

سنیئر صحافی اور تجزیہ نگار سلیم بخاری سمجھتے ہیں کہ علیم خان کا جہانگیر ترین کے ساتھ جا کر کھڑا ہونا ایک قدرتی عمل تھا کیونکہ وہ ابتدا ہی سے ایک دوسرے کے قریب تھے۔

'اور علیم خان اثر و رسوخ ضرور رکھتے ہیں لیکن ان کو جتنے ممبران کی حمایت حاصل ہے ان کی تعداد اتنی نہیں کہ اس سے وہ خود کوئی تبدیلی لا سکتے ہیں یا حکومت کے خلاف انفرادی طور پر کوئی بہت بڑا خطرہ ہو سکتے ہیں۔'

تاہم سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ علیم خان کے جہانگیر ترین گروپ میں شامل ہونے سے ترین گروپ بہت زیادہ مضبوط ہوا ہے اور وہ دونوں مل کر پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت کے لیے بہت زیادہ مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔'

تاہم سلیم بخاری سمجھتے ہیں علیم خان از خود جہانگیر ترین کی ہدایات کے بغیر کوئی کام نہیں کریں گے۔ 'ان کے لندن جانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ جہانگیر ترین سے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے ہدایات لیں گے۔'

صحافی قذافی بٹ کے مطابق علیم خان نے علیحدہ گروپ بنانے کے حوالے سے چند افراد کے ساتھ بات چیت بھی کی تھی اور اس کے لیے گزشتہ کچھ عرصے سے متحرک بھی تھے۔