حمزہ شہباز کی بطور وزیر اعلیٰ کارکردگی کیسی رہی اور اب انھیں کن چیلنجز کا سامنا ہے؟

،تصویر کا ذریعہPMLN
- مصنف, ماجد نظامی
- عہدہ, صحافی، لاہور
سنیچر کی صبح سویرے ابھی گھڑی پر ساڑھے آٹھ بھی نہیں بجے تھے کہ حمزہ شہباز کالے رنگ کی اچکن پہنے ٹی وی سکرینز پر دوسری بار وزیراعلیٰ کا حلف لیتے دکھائی دیے۔ پُراعتماد انداز میں روانی سے بغیر ہکلاہٹ کے حمزہ شہباز نے حلف کے جملے ادا کیے۔ انھیں پہلا حلف لیے ابھی نوے دن بھی مکمل نہیں ہوئے تھے۔
جمعے کو پنجاب اسمبلی میں وزارت اعلیٰ کے ووٹ کے موقع پر ان کی عددی اکثریت نہ ہونے کے باوجود غیر معمولی کامیابی تھی جو دراصل انھیں ڈپٹی سپیکر کی ایک متنازع رولنگ کی وجہ سے ملی۔
ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری نے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے دوران سپریم کورٹ کے فیصلے اور ق لیگ کے صدر چوہدری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے مسلم لیگ ق کے 10 ووٹ مسترد قرار دے کر حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ پنجاب برقرار رکھنے کی رولنگ جاری کی تھی۔
جس پر پاکستان تحریک انصاف نے ان کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کا دوازہ کھکھٹایا ہے اور اس پر سماعت جاری ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کیا فیصلہ دے گی، حمزہ شہباز کا اپنے عہدے پر رہنا یا نہ رہنا اسی سے جڑا ہے۔
لیکن حمزہ شہباز کی وزرات اعلیٰ کے تقریباً 90 روز میں ان کی کارکردگی کیسی رہی اور انھیں اب کن چیلنجز کا سامنا ہے؟
جب قسمت کی دیوی حمزہ پر مہربان ہوئی

،تصویر کا ذریعہ@MaryamNSharif
الیکشن 2018 کے بعد ملک کے سیاسی منظر نامے میں پس پردہ چلے جانے والے حمزہ شہباز شریف پر قسمت کی دیوی اس وقت مہربان ہوئی جب لگ بھگ تین ماہ قبل چوہدری پرویز الٰہی نے اچانک حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد کی جانب سے وزارت اعلیٰ کا امیدوار بننے کی بجائے عمران خان کی حمایت کا فیصلہ کیا۔
پرویز الٰہی کے اس غیر متوقع اعلان کے بعد ہنگامی بنیادوں پر (اس وقت کے) اپوزیشن اتحاد نے حمزہ شہباز شریف کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا امیدوار نامزد کر دیا۔
ایسے ماحول میں جب سیاسی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا تھا کہ مریم نواز نے مسلم لیگ پر ’ٹیک اوور‘ کر لیا ہے، حمزہ شہباز کے ’کم بیک‘ نے پنجاب اور مسلم لیگ ن دونوں کے سیاسی منظر نامے میں ہلچل مچا دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر اچانک رونما ہوتی ان سیاسی تبدیلیوں کے دوران کیا حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ بننے کے لیے ذہنی طور پر تیار تھے یہ سوال اب بھی سیاسی بحثوں کا حصہ ہے لیکن پنجاب کے 20 حلقوں میں صمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی بڑی کامیابی نے حمزہ شہباز کے لیے ایک بار پھر مشکل پیدا کر دی۔
مگر وہ ایسے پہلے سیاستدان نہیں تھے جن پر اچانک سے کسی بڑے سیاسی عہدے کی ذمہ داری آن پڑی تھی، ماضی میں جنرل مشرف کے دور حکومت میں مسلم لیگ (ق) کے چوہدری شجاعت حسین 50 سے زائد دن کے لیے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔ پنجاب میں 2008 میں دوست محمد کھوسہ تقریباً دو ماہ کے لیے مسلم لیگ ن کے وزیر اعلیٰ پنجاب رہے۔
اس سے پہلے نوے کی دہائی میں وزیر اعلٰی پنجاب غلام حیدر وائیں کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہونے پر میاں منظور وٹو کی پہلی وزارت اعلیٰ بھی نوے دن کے لگ بھگ رہی۔
حالیہ سیاسی صورتحال میں تحریک انصاف کے عمر سرفراز چیمہ بھی دو ماہ سے کم مدت کے لیے گورنر پنجاب رہے۔
حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کا سفر: ’اِک آگ کا دریا اور ڈوب کے جانا ہے‘
وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز شریف تقریباً ایک ماہ صوبائی کابینہ کے بغیر ہی کام کرتے رہے کیونکہ پنجاب اسمبلی میں اُن کے حریف چوہدری پرویز الٰہی نے بحیثیت سپیکر اسمبلی اور پی ٹی آئی کے گورنر عمر چیمہ نے اُن کی کابینہ کے اراکین کی حلف برداری کی تقریب کو قانونی بنیادوں پر روکے رکھا۔
حمزہ شہباز شریف کی کابینہ کا حلف بھی نئے گورنر پنجاب بلیغ الرحمن کی تعیناتی کے کچھ ہی گھنٹوں بعد ہی ممکن ہو پایا تھا۔ بعد ازاں حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ کابینہ کی توسیع دوسرے مرحلے میں کی جائے گی لیکن اس دوسرے مرحلے کی نوبت نہیں آ سکی۔
پنجاب کابینہ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے اشعار کا سہارا لیتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد کا سیاسی سفر ’اِک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے‘ کی طرح کا ہو گا۔
حمزہ شہباز کی بطور وزیر اعلیٰ کارکردگی
سیاسی تنازعات کے شکار حمزہ شہباز نے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اپنے والد کی پیروی کرتے ہوئے اضلاع میں ہنگامی دوروں کے سٹائل کو ہی اپنایا۔ تحصیل و ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں ادویات کی مفت فراہمی کا اعلان کیا۔
اس کے ساتھ ہی تین مہینے میں سستے آٹے کی فراہمی کے لیے 200 ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان ہوا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے روشن گھر پروگرام کے تحت 100یونٹ مفت بجلی کی فراہمی کا بھی اعلان کیا مگر اس اقدام کو ضمنی انتخابات تک معطل کر دیا گیا۔ جبکہ بجٹ میں خواتین کے لیے 12 ہزار سکوٹیز اور طالب علموں کے لیے لیپ ٹاپ سکیم کی بحالی جیسے اعلانات بھی ہوئے۔
احمد بلال محبوب کے مطابق ’غریب گھرانوں کے لیے سو یونٹ تک مفت بجلی یقیناً ایک ’ماسٹر سڑوک‘ تھا جس کی داد دینی چاہیے۔ اگرچہ اس اعلان کا فوری فائدہ تو نہیں ہوا لیکن یہ ایک غیر معمولی قدم ہے۔‘
تجزیہ کار سلمان غنی نے بھی اس سکیم کو عوام دوست منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی کے حالیہ طوفان کے بعد اس سکیم کو عام آدمی کی فلاح و بہبود کے لیے اہم قدم سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کار احمد بلال محبوب اس سکیم کے دور رس نتائج بھی دیکھتے ہیں، ان کے مطابق ’اب یہ بہت مشکل ہو گا کہ اس طرح کی سکیم پر دوسرے صوبے بھی عمل نہ کریں۔ ہمسایہ ملک انڈیا کے بھی کئی صوبوں میں مفت بجلی فراہم کرنے کی حکومتی سکیمیں موجود ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہFacebook/Hamza Shehbaz
’حمزہ کے لیے بڑا چیلنج عدالت کا فیصلہ ہی ہے‘
پارلیمانی امور کے ماہر احمد بلال صوفی کہتے ہیں کہ ڈپٹی سپیکر نے تو فیصلہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی روشنی میں کیا ہے اب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے ہے جو فیصلہ کرے گی کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کتنی درست تھی۔ حمزہ شہباز کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج ان کا رہنا یا نہ رہنا ہو گا اس وقت سپریم کورٹ اس معاملے کو دیکھ رہی ہے کیا وہ انھیں قانونی طور پر منتخب وزیراعلیٰ تسلیم کرے گی یا نہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ دو پارٹیوں کے ووٹ تقریباً برابر ہیں اور ضمنی انتخابات کے بعد کارکنان بہت متحرک ہیں ایسے میں حمزہ کے لیے لا اینڈ آڈر کو برقرار رکھنا بھی بڑا چیلنج ہو گا لیکن پہلی بات وہی کہ دیکھیے عدالت ان کے عہدے کو قانونی تسلیم کرتی بھی ہے یا نہیں۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ وفاق کا راستہ لاہور سے ہو کر جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے سیاسی لحاظ سے پنجاب کی بڑی اہمیت ہے، بڑا چیلنج تو خود وزیراعلیٰ کے لیے ہے۔‘
سلمان غنی کہتے ہیں کہ اگر تخت لاہور پر مسلم لیگ ن کے مخالف حکومت بیٹھ گئی تو پھر پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ لاہور سے لانگ مارچ ہوا کرتا ہے۔
’حمزہ شہباز کے آنے سے تبادلوں کا سلسلہ رک گیا‘
سلمان غنی کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز شریف کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد صوبے میں خاصی تبدیلیاں آئیں۔
سلمان غنی کہتے ہیں کہ ’آئینی و سیاسی بحران کے بعد پنجاب میں حکومت کا تصور بحال ہوا۔ بزدار دور حکومت میں افسران کی تقرریوں اور تبادلوں میں مبینہ خرید و فروخت کا جو تصور موجود تھا اس کا خاتمہ ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب کی بیورو کریسی پر چیک اینڈ بیلنس میں اضافہ ہوا اور ان کے شتر بے مہار ہونے کے تاثر میں کمی آنا شروع ہوئی۔‘
یہ بھی پڑھیے
حمزہ شہباز حکومت کی غلطیاں اور خامیاں
حمزہ شہباز شریف کو وزارت اعلیٰ کے الیکشن میں ووٹ دینے پر تحریک انصاف کے 25 منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کر دیا گیا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کے مطابق ضمنی انتخابات کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب دوبارہ ہونا طے پایا۔ سپریم کورٹ کے اعلان نے ضمنی انتخابات کی اہمیت میں اضافہ کیا اور اس فیصلے نے سیاسی منظر نامہ بدل کر رکھ دیا۔
تجزیہ کار احمد بلال محبوب کے مطابق ’وزیر اعلٰی پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر سپریم کورٹ میں حمزہ شہباز شریف نے ضمنی انتخابات کے بعد الیکشن کروانے کے حوالے سے جو موقف اختیار کیا تھا وہ جرات مندانہ تھا۔ مگر اسے بڑی سیاسی غلطی بھی کہا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت ایک یا دو دن بعد الیکشن ہو جاتا تو حالات مختلف ہوتے اور وہ باآسانی الیکشن جیت جاتے۔
’میرے خیال میں مناسب یہی تھا کہ ایوان مکمل ہونے کے بعد ہی وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہوتا۔ شاید وہ ضمنی انتخابات کے نتائج کے حوالے سے پُر امید تھے۔ ذاتی طور پر میں اسے جرات مندانہ قدم سمجھتا ہوں اگرچہ ضمنی انتخابات میں حمزہ شہباز کو اس کا نقصان اٹھانا پڑا۔‘
حمزہ شہباز کی حکومت کی خامیوں کے بارے میں سلمان غنی کہتے ہیں کہ ’تین ماہ میں بے یقینی کی کیفیت برقرار رہی اور اس کی وجوہات سب کے سامنے ہیں۔ حکومت کے ’ٹیک آف‘ کا تاثر ہی پیدا نہیں ہوا۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر میں اشیائے ضروریہ اور اس طرح کے امور پر ہی زیادہ اجلاس چلتے رہے۔ ان ایشوز پر بھی کامیابی ہوئی یا نہیں اس پر بھی دو آرا ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
’حمزہ شہباز سے جتنی توقع تھی وہ اتنا ڈلیور نہیں کر سکے‘
سلمان غنی حمزہ شہباز کی کارکردگی اور خامیوں کو سیاسی نکتہ نظر سے بھی پرکھتے ہیں اور ان کے مطابق ’حمزہ شہباز شریف گذشتہ 28 سال سے سیاست میں ہیں اور تین مرتبہ ایم این اے منتخب ہوئے۔ والد کے دور میں وزیر اعلیٰ آفس کے معاملات کو قریب سے دیکھتے رہے اس لیے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد حمزہ شہباز سے جتنی توقع کی جا رہی تھی وہ اتنا ڈلیور نہیں کر سکے۔‘
’اگرچہ ملکی حالات اور سیاسی عدم استحکام بھی بڑی وجہ ہے لیکن ان کے ماضی اور تجربے کی وجہ سے انھیں زیادہ ڈلیور کرنا چاہیے تھا۔‘
اب آگے کیا ہو گا؟
ملک کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ مخالفت میں آنے والا فیصلہ دونوں جانب سے کوئی بھی قبول نہیں کرے گا اور یہ سلسلہ ایسا ہی چلتا چلا جائے گا۔
’سیاست میں تو ایسا نہیں ہوتا ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہیں گفتگو کرتے ہیں اگر آپ ایک دوسرے کو برباد کرنے کی کوششیں کرتے رہیں گے تو معاملہ آگے نہیں جائے گا۔‘
سلمان غنی کہتے ہیں کہ ’بدقسمتی یہ ہے کہ اب ایوان کے فیصلے بھی عدالتوں میں ہو رہے ہیں، اگر فیصلے ایوانوں میں ہوتے تو سپریم کورٹ کو یہ ضرورت پیش نہ آتی، تاریخ خود کو دوہرا رہی ہے پہلے وفاق میں بھی یہی ہوا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ بحران ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے اور پچھلے پانچ چھ سال سے ایسا ہو رہا ہے، اگر جمہوری عمل چلنا ہے تو یہ انتخابات پر جا کر ختم ہونا ہے، پہلے اتحادی جماعتیں قبل ازوقت انتخابات چاہتی تھی تو عمران حان نہیں چاہتے تھے آج موجودہ حکومت کہتی ہے کہ پہلے ہم مدت پوری کریں گے۔‘
سلمان غنی کہتے ہیں کہ امید ہے کہ عدالت کا فیصلہ ملک میں مزید بحران کا سبب نہیں بنے گا۔ ’پاکستان کی عدالتوں پر سب کو اعتماد ہے اور پاکستان کی عدالتیں کوئی ایسا فیصلہ نہیں دیں گی جس سے بحران میں اضافہ ہو۔‘













