پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ پنجاب بنتے بنتے کیسے رہ گئے اور اب آگے کیا ہو سکتا ہے؟

حمزہ شہباز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, احمد اعجاز
    • عہدہ, صحافی، مصنف

جمعہ کے روز پنجاب میں وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب ہوا جس میں حکمران اتحاد کے اُمیدوار برائے وزارتِ اعلیٰ حمزہ شہباز تھے جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف اور اُن کے اتحادیوں کی جانب سے چوہدری پرویز الٰہی اُمیدوار تھے۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس تین گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔ سپریم کورٹ کے آرڈر کے مطابق اس اجلاس کو چار بجے شروع ہونا تھا مگر اجلاس کی کارروائی کا آغاز لگ بھگ سات بجے کے قریب ممکن ہو پایا۔

ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے اجلاس کی صدارت کی اور ان کی جانب سے دی گئی رولنگ کے نتیجے میں حمزہ شہباز کامیاب قرار پائے۔ ڈپٹی سپیکر نے اپنی رولنگ میں چوہدری شجاعت کے خط کا حوالہ بھی دیا، جو بظاہر گیم چینجر ثابت ہوا۔

چوہدری شجاعت کے خط نے صورتحال کو کیسے تبدیل کیا؟

شجاعت

،تصویر کا ذریعہSocial Media/ Twitter

پنجاب اسمبلی میں ووٹنگ کا عمل شروع ہوا چاہتا تھا کہ میڈیا پر چوہدری شجاعت کے خط کی گونج نے میڈیا میں جیسے طوفان برپا کر دیا۔ ابتدائی اطلاعات یہ موصول ہوئیں کہ مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت نے ایک خط کے ذریعے اپنے ممبران کو پیغام دیا کہ وہ تحریکِ انصاف کے اُمیدوار کو ووٹ مت دیں۔

اس کے ساتھ ہی مختلف سیاسی و سماجی حلقوں میں یہ بحث بھی شروع ہوگئی کہ پارٹی کے سربراہ کا فیصلہ مستند ہوگا یا پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کا فیصلہ قابلِ قبول ہو گا؟

اس ضمن میں سابق وفاقی سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا تھا 'چونکہ چوہدری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کے اُمیدوار ہیں، یوں وہ پارلیمانی لیڈر نہیں ہیں اور اسی لیے چوہدری شجاعت کا فیصلہ ہی مستند ہوگا۔'

ابھی یہ بحث جاری تھی کہ چوہدری پرویز الٰہی کا ٹویٹ بھی سامنے آ گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ 'آرٹیکل 63 بالکل واضح ہے، چوہدری شجاعت کی کوئی اہمیت نہیں، ہدایات صرف پارلیمنٹ میں موجود پارلیمانی لیڈر ہی دے سکتا ہے، جو اس وقت چودھری پرویز الٰہی ہیں۔ بے شک عدالت جانا پڑے، لیکن آخری فیصلہ آئینی ہوگا۔'

پنجاب اسمبلی میں ووٹنگ کے بعد ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے چوہدری شجاعت کا خط پڑھ کر سُنایا۔ خط کے مندرجات کے مطابق چوہدری شجاعت نے ارکان کو ہدایات جاری کیں کہ وہ حمزہ شہباز کو ووٹ دیں۔ اس خط اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر نے ق لیگ کے دس ووٹ مسترد کیے تو راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق پارٹی کا صدر یہ سب کرنے کا مجاز ہی نہیں۔

ووٹنگ سے پہلے پارٹی پوزیشن اور دوطرفہ دعوے

سپیکر

پنجاب میں ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد دونوں جماعتوں کی جانب سے پارٹی پوزیشن کچھ یوں تھی۔ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے 167 ارکان، پیپلز پارٹی کے 7، آزاد اُمیدوار 5 جبکہ راہِ حق پارٹی کے ایک رُکن کو ملا کرمسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے ارکان کی تعداد 180 تھی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے 178 ارکان اور پی ٹی آئی اور اتحادی جماعت کے ارکان کی تعداد 188 تھی۔ جہاں تحریکِ انصاف اور اُن کے اتحادی جماعت ق لیگ کا دعویٰ تھا کہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے اُن کے اُمیدوارکو 186 ارکان کی حمایت حاصل ہے اور اُن کی گنتی پوری ہے۔

’پرویز الٰہی وزیرِ اعلیٰ بنتے بنتے رہ گئے‘

پرویز الٰہی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے قبل لاہور میں سیاسی سرگرمیاں اور ملاقاتیں عروج پر رہی تھیں۔آصف علی زرداری نے لاہور میں پڑاؤ ڈال رکھا تھا تو عمران خان بھی لاہور میں موجود رہے۔

آصف علی زرداری نے چوہدری شجاعت حسین سے متعدد ملاقاتیں کیں۔ ایک موقع پر جب دونوں سیاسی رہنماؤں کے مابین ملاقات جاری تھی تو عمران خان پنجاب اسمبلی ارکان کے ہمراہ لاہور کے ہوٹل میں موجود تھے۔

آصف علی زرداری چوہدری شجاعت سے ملاقات کے بعد وکٹری کا نشان بنا کر اپنی گاڑی میں بیٹھتے پائے گئے تو اُس وقت سے یہ قیاس آرائیاں جنم لینے لگی تھیں کہ پرویز الٰہی شاید وزیرِ اعلیٰ نہ بن سکیں۔

یہ بھی پڑھیے

پھر جب اسمبلی اجلاس کے لیے دونوں طرف کے اراکین پنجاب اسمبلی پہنچ گئے تو میڈیا میں خبریں چلنا شروع ہوگئیں کہ آصف علی زرداری بلاول ہاؤس سے چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ بعد میں چوہدری شجاعت کے خط کی خبریں میڈیا میں گردش کرنے لگیں تو منظر نامہ تبدیل ہوتا چلا گیا۔

آگے کیا ہو گا؟

یوں تو پاکستانی سیاست میں انھونی کچھ بھی نہیں، لیکن جو کچھ پنجاب اسمبلی میں ہوا اس کو انھونی کہنا بنتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے اس معاملے پر ناصرف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے بلکہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے عوام کو جمعرات کی ہی رات سٹرکوں پر نکلنے اور احتجاج کرنے کی کال دی ہے۔

اب سوال یہ ہے چودھری شجاعت حسین کے خط کے کیا سیاسی اور قانونی نتائج نکل سکتے ہیں؟

اس پر سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ اپنا تجزیہ دیتے ہوئے کہتے ہیں ’چوہدری شجاعت نے خط لکھ تو دیا ہے لیکن اس کو مثبت نہیں بلکہ منفی انداز میں لیا جائے گا۔ مینڈیٹ کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بننا چاہیے تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس اقدام کے بعد چوہدری شجاعت کی سیاست کو نقصان پہنچے گا اور ق لیگ کی سیاست کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔‘

تحزیہ کار حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ ’سیاست انا اور اقتدار کی خواہش بن کر رہی گئی ہے۔ سیاسی تلخی بڑھے گی اور معاشی صورتحال مزید دِگر گوں ہوگی۔ اس نئی صورتحال کے دو اہم کردار آصف علی زرداری اور چوہدری شجاعت پر اس کا تو اثر نہ پڑے، مگر اِن دونوں نے جو فیصلہ کیا ہے اس فیصلے کا عوامی ردعمل ضرور سامنے آئے گا۔‘

سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر سید جعفر احمد کہتے ہیں کہ ’انھونی کو ہونی کرنے میں آصف علی زرداری کا کردار کلیدی ہے۔گذشتہ ایک دو دِن میں زرداری نے چوہدری شجاعت سے ملاقاتیں کیں اور شاید اس طرح کی ڈیل کی بھی کوشش کی کہ پرویز الٰہی حکومت اور اتحادی جماعتوں کے مشترکہ اُمیدوار بھی ہو سکتے ہیں۔‘

اس صورتحال کے بعد عمران خان کی حکمتِ عملی کیا ہوگی اور اگلا منظر نامہ کیسا ہوسکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں سینیئر تجزیہ کار اور صحافی اویس توحید کا کہنا تھا ’اس نئی صورتحال کے بعد عمران خان کا احتجاج سخت ہوگا۔ یاد رکھیں کہ عمران جیت اور ہار کو تحریک میں تبدیل کر دیتے ہیں۔‘

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار نذیر لغاری کے مطابق ’اس نئی صورتحال کے بعد پولرائزیشن میں اضافہ ہوگا اور سیاسی عدم استحکام زیادہ شدت اختیار کر جائے گا۔‘