پنجاب میں ضمنی انتخابات: اپ سیٹ کی وجہ کسی کے نزدیک مہنگائی تو کسی کی نظر میں عمران خان کا بیانیہ

پاکستان میں پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخابات اتوار کو ہوئے جن میں اب تک کے غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف نے 15 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) نے چار اور آزاد امیدوار نے ایک نشست حاصل کی۔
انتخابات چاہے جس بھی ملک میں ہوں، کسی نہ کسی صورت میں دھاندلی کا شور اٹھتا ہی ہے اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اکثر اپنے ملک کے انتخابات کے حوالے سے یہ الزام عائد کرتے رہے۔
پاکستان کا معاملہ تھوڑا زیادہ پیچیدہ ہے اور یہاں انتخابات کے نتائج ہی تسلیم نہ کرنا اور ان پر قانونی کارروائی اور سڑکوں پر احتجاج کا راستہ اختیار کرنا عام ہے۔
مگر اتوار کے روز ہونے والے انتخابات پاکستانی انتخابی تاریخ میں اس حوالے سے منفرد رہے ہیں کہ متعدد بار قومی اور صوبائی حکومت بنانے والی پارٹی پاکستان مسلم لیگ (ن) نے انتخابات میں برتری حاصل نہ کرنے کے باوجود فوری طور پر ان نتائج کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔
پارٹی کی نائب صدر مریم نواز شریف نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’مسلم لیگ (ن) کو کھلے دل سے نتائج تسلیم کرنا چاہییں۔ عوام کے فیصلے کے سامنے سر جھکانا چاہیے۔ سیاست میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ دل بڑا کرنا چاہیے۔ جہاں جہاں کمزوریاں ہیں، ان کی نشاندہی کر کے انھیں دور کرنے کے لیے محنت کرنی چاہیے۔ انشاءاللّہ خیر ہو گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
اسی طرح رات گئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور وفاقی وزیرِ ہوابازی خواجہ سعد رفیق نے بھی ان ہی خیالات کا اعادہ کیا اور کہا کہ اُن کی جماعت بھی سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی طرح دھاندلی کا الزام لگا سکتی ہے مگر وہ ایسا نہیں کریں گے۔
واضح رہے کہ پنجاب اور مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے اور اتوار کی شام تک عمران خان ٹوئٹر پر انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کر چکے تھے۔ اُنھوں نے اس کا الزام سرکاری مشینری کو دیا اور عدالتوں سے بھی کھلنے اور کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
پارٹی کی واضح پوزیشن سامنے آنے کے بعد عمران خان سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات سے دھاندلی کا عنصر غائب ہوتا گیا تاہم پھر بھی وہ اپنے کارکنان کو پولنگ سٹیشنز پر موجود رہنے کا کہتے رہے تاکہ کہیں مبینہ طور پر انتخابی نتائج تبدیل نہ کر دیے جائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسکراہٹ اور مصافحہ
معاملہ چاہے جو بھی ہو، پاکستانی تناظر میں یہ ایک منفرد بات ہے کہ کسی بھی جماعت نے اپنی حریف کی بھاری کامیابی کو سرِ شام ہی تسلیم کر لیا ہو اور پی ٹی آئی کی سب سے بڑی حریف جماعت مسلم لیگ (ن) نے اپنے گڑھ پنجاب بالخصوص لاہور میں شکست کو تسلیم کیا ہے۔
اس کے علاوہ ٹوئٹر پر پی ٹی آئی کے امیدوار زین قریشی اور مسلم لیگ (ن) کے شکست کھانے والے امیدوار سلمان نعیم کی ایک مسکراتے ہوئے مصافحہ کرنے کی تصویر بھی وائرل ہوئی۔
صحافی سید ثمر عباس نے یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان کو ایسے ہی سیاست دانوں کی ضرورت ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
بلال راؤ نامی صارف نے اس تصویر کے حوالے سے تبصرہ کیا کہ حریف جماعت کی فتح قبول کرنی چاہیے، یہ روایت قائم کرنی پڑے گی۔
اسی طرح حسن محمود نامی صارف نے لکھا کہ سیاست سے بڑی چیز انسانیت ہے۔ ہمیں ہمیشہ سیاست کو بیچ میں نہیں لانا چاہیے اور لوگوں سے بغیر کسی نفرت اور گلے کے یوں ہی ملنا چاہیے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے بھی پی ٹی آئی کو کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور ساتھ ہی اپنی جماعت کو ’شفاف‘ انتخابات منعقد کروانے پر کریڈٹ بھی دے دیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
مشکلات کا آغاز؟
سیاست میں خوش مزاجی کے یہ رویے تو اپنی جگہ قابلِ تحسین ہیں مگر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت کے سامنے مرکز اور پنجاب میں اب بظاہر مشکل وقت ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے لیے نیا انتخاب 22 جولائی کو ہونا ہے اور اب پی ٹی آئی کی بھاری مارجن سے فتح کے بعد بظاہر حمزہ شہباز شریف وزیرِ اعلیٰ پنجاب نہیں رہ سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
لیکن مرکز میں اُن کے والد میاں شہباز شریف کی حکومت ہے اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سمیت کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کو اب مستعفی ہو جانا چاہیے۔
صحافی نصرت جاوید نے لکھا کہ اُنھیں امید ہے کہ شہباز شریف اپنی دستبرداری کی تقریر تیار کر رہے ہوں گے اور فوری طور پر اس کا اعلان کر دیں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
صحافی سیرل المیڈا نے لکھا کہ اب جبکہ نواز شریف خاموشی سے لندن میں بیٹھے ہیں تو پہلے عمران خان اُن کا بیانیہ لے گئے اور اب بظاہر پنجاب کے ووٹر بھی لے گئے ہیں۔
صحافی ابصا کومل نے لکھا کہ پی ٹی آئی نے منحرف ارکان اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اپنے بیانیے سے بھاری تعداد میں ووٹ حاصل کیے ہیں۔ اُنھوں نے لکھا کہ یہ واضح ہے کہ عمران خان کو وفاق سے ہٹانے پر پنجاب بھی اُن کے ہاتھ سے چلا گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 6
ماہرِ سیاست اور تجزیہ کار مدیحہ افضل نے لکھا کہ شہباز شریف کے لیے مشکل یہ ہے کہ اگر انتخابات جلد کروا دیے گئے تو مسلم لیگ (ن) بہت سخت صورتحال میں ہو گی مگر پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ (مرکز میں) حکومت بھی مشکل ہو گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 7
شکست کی وجہ مہنگائی؟
رواں سال نو اپریل کو عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں اتحادی حکومت نے وفاق سنبھالا تو ملکی معیشت کے سامنے کئی چیلنجز موجود تھے۔
خود مسلم لیگ (ن) بار بار کہتی رہی کہ اُنھیں علم ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشکل فیصلے اُن کی سیاست کے لیے نقصاندہ ثابت ہو سکتے ہیں مگر وہ یہ فیصلے پھر بھی کریں گے۔
چنانچہ کئی حلقوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے کافی حد تک ان فیصلوں کی قیمت چکائی ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے بھی رات گئے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ اُن کا مقابلہ بڑھی ہوئی تیل کی قیمتوں اور مہنگائی کے ساتھ تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ ’اس مخلوط حکومت کے سامنے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے بجائے بھاگنے کا راستہ موجود تھا مگر اس حکومت نے مشکل فیصلے کیے کیونکہ پاکستان کا مفاد سب سے اوپر ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 8
تجزیہ کار مائیکل کوگلمین نے لکھا کہ یہ انتخابات نئی حکومت کی کارکردگی اور اقتدار سے بے دخلی کے متعلق عمران خان کے بیانیے پر ریفرینڈم تھا۔
اُنھوں نے لکھا کہ عمران خان کی جیت اُن کے نقادوں کے لیے سخت پیغام ہے کہ نکالے جانے کے بعد اُن کی عوام کو متحرک کرنے کی طاقت صرف بڑے مجمعوں تک نہیں بلکہ انتخابی کامیابی کی بنیاد بھی فراہم کر سکتی ہے۔
اُنھوں نے مزید لکھا کہ اگر مشکلات کی شکار نئی حکومت اپنے مینڈیٹ کے لیے سہارا چاہ رہی تھی تو واضح ہے کہ یہ اسے نہیں مل پایا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 9
معیشت کا کیا ہو گا؟
صحافی ابصار عالم سمیت کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ کیا ان انتخابی نتائج سے پاکستان کا آئی ایم ایف پروگرام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
اسی حوالے سے امریکہ میں مقیم ماہرِ معیشت عزیر یونس نے لکھا کہ وہ آج کے نتائج سے پاکستانی معیشت کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی نہیں دیکھ رہے۔
اُنھوں نے لکھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف کی سطح پر معاہدہ ہو چکا ہے اور نگراں حکومتیں عام طور پر ایسے معاہدوں سے پیچھے نہیں ہٹتیں بلکہ وہ آئی ایم ایف کے ضروری قرار دیے گئے اقدامات کو مزید جارحانہ انداز میں عملی جامہ پہنا سکتی ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 10
انتخابی نتائج آنے سے قبل ماہرِ معیشت یوسف نذر نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ کچھ بھی ہو، پاکستان کے اقتصادی بحران کے متعلق معاملات ان نتائج سے زیادہ تبدیل نہیں ہوں گے۔
اُنھوں نے لکھا کہ چاہے اقتدار میں جو بھی ہو، یہ ماننا غلطی ہو گی کہ (مشکل حالات) جلد ختم ہو جائیں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 11
تاریخی ٹرن آؤٹ
یہ انتخابات اس حوالے سے بھی منفرد رہے کہ ان میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ تقریباً 50 فیصد رہا ہے جبکہ عام طور پر ضمنی انتخابات میں اتنا ٹرن آؤٹ دیکھنے میں نہیں آتا۔
صحافی جیسمین منظور نے لکھا کہ ضمنی انتخابات میں بے نظیر ٹرن آؤٹ۔ عوام نے فیصلہ سنا دیا ہے، پی ٹی آئی کو برتری حاصل ہے اور مسلم لیگ (ن) تحریکِ عدم اعتماد اور ریکارڈ مہنگائی کی قیمت ادا کر رہی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 12
صارف ثمرہ طارق نے لکھا کہ سیاست ایک طرف، جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ٹرن آؤٹ اور پنجاب کے لوگوں کا جوش ہے۔ اُنھوں نے لکھا کہ ہمیں کم ہی ضمنی انتخابات میں ایسا جوش نظر آتا ہے۔ عمر رسیدہ افراد سے لے کر بیماروں اور معذوروں تک سب لوگ ووٹ دینے کے لیے باہر نکلے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 13













