وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب: ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کالعدم، سپریم کورٹ کا پرویز الٰہی سے آج رات ہی حلف لینے کا حکم
پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حمزہ شہباز کے وزارت اعلیٰ کے نوٹیفیکیشن کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے اور گورنر پنجاب کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزارت اعلیٰ کا حلف لیں۔
لائیو کوریج
عدالتی فیصلے میں کوئی قانونی توجیہ موجود نہیں: ریما عمر
ماہرِ قانون ریما عمر نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے مختصر حکم میں کوئی قانونی توجیہ موجود نہیں اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی وضاحت کی گئی ہے کہ تریسٹھ اے کے تحت پارلیمانی پارٹی کی ہدایت کا مطلب کیا ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ہمیں ججوں کی تقرری کے طریقہِ کار پر نظرِ ثانی کرنی ہو گی: فرحت اللہ بابر

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ’ارکانِ پارلیمان (پی ڈی ایم) اگر آپ واقعی طاقت کے توازن کو بحال کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ آرٹیکل 191 پڑھیں اور فیصلہ کن اقدام کریں، یا شکایت کرنا بند کریں۔‘
سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر سلسلہ وار ٹویٹس میں فرحت اللہ بابر نے آئین کے آرٹیکل 191 بھی شیئر کیا ہے جو کہتا ہے کہ ’آئین اور قانون کی حد میں رہتے ہوئے، سپریم کورٹ عدلیہ کے کام اور طریقہ کار کے ضوابط وضع کر سکتی ہے۔‘
فرحت اللہ بابر کی اس ابتدائی ٹویٹ کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی ری ٹویٹ کیا ہے۔
اس کے بعد کی جانے والی ٹویٹس میں فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ ’موجودہ مایوس کُن صورت حال سے ایک سبق یہ ملتا ہے کہ نفاق اور آپس میں لڑائی کی بیماری اب ہمارے معزز ایوانوں میں داخل ہو چکی ہے اور یہ صرف پارلیمان اور سیاستدانوں تک محدود نہیں ہے۔ سماج اور ادارے بھی ایسی ہی تقسیم کا شکار ہو رہے ہیں۔ بدقسمتی سے بھی زیادہ یہ ایک خطرناک بات ہے۔‘
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
انھوں نے مزید لکھا کہ’پارلیمان نے اُس وقت غلطی کی تھی جب اس نے اٹھارویں ترمیم کے وقت ججوں کی تقرری کے بارے میں اپنے موقف پر اصرار نہیں کیا، اور یہ اُنیسویں ترمیم منظور کر کے اپنے موقف سے دستبردار ہوگئی، اور (پارلیمان) کی یہ حیثیت بھی ججوں کی نگرانی کی کی وجہ سے مزید کمزور ہوگئی۔‘
’اگر گزشتہ 12 برس کا تجربہ ہماری رہنمائی کرتا ہے تو ہمیں ججوں کی تقرری کے طریقہِ کار پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔‘
سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک میں مزید تقسیم اور انتشار کا باعث بنے گا: مریم اورنگزیب

،تصویر کا ذریعہPID
وفاقی وزیر برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان ہی یہ فیصلہ دینے والے تین رکنی بینچ پر مختلف معاملات میں عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔
’اور ہمارے وکلا کی ٹیم نے بھی اسی عدم اعتماد کا اظہار اس کیس اور اس بینچ کا بائیکاٹ کر کے کیا تھا کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ آج جو بھی فیصلہ آئے گا وہ نہ عوام کو قابل قبول ہو گا اور نہ فریقین کو۔‘
’یہ مسئلہ آئینی اور پارلیمانی ہے اور دو خطوط کا ہے۔ عمران خان کے خط کی بنیاد پر حمزہ شہباز کو ملنے والے 25 ووٹ کو مسترد قرار دیا گیا اور ان اراکین کو ڈی سیٹ کر دیا گیا جبکہ دوسرا خط چوہدری شجاعت کا ہے جس کی بنیاد پر ڈپٹی سپیکر اسی سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹوں کو شمار نہ کرنے کا اعلان کرتے ہیں، مگر سپریم کورٹ اس عمل کو غیرقانونی قرار دے دیتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستانی عوام بخوبی جانتی ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے سپریم کورٹ ہی کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے رولنگ دی تھی۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’جب سے یہ بینچ بنایا گیا تھا اس وقت سے انصاف ہوتا نظر نہیں آ رہا تھا اسی لیے سیاسی قائدین نے فل کورٹ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ملک میں مزید تقسیم اور انتشار پیدا کرے گا۔
’کیا اسمبلی کی حیثیت ایک ربر سٹیمپ کی رہ گئی ہے؟‘
سپریم کورٹ کے حکم پر پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ سے ہاتھ دھونے والے حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایک متنازعہ فیصلے کے ذریعے عوام کے ووٹوں سے منتخب حکومت کو گھر بھیجا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کیا اسمبلی کی حیثیت ایک ربر سٹیمپ کی رہ گئی ہے؟
حمزہ شہباز نے کہا کہ گذشتہ چار ماہ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں تماشہ لگا ہوا ہے اور عوام دیکھ رہی ہے کہ تحریک انصاف کو آئین سے کھلواڑ کی کھلی چھٹی دی گئی ہے جبکہ ایک آئینی اور قانونی طریقہ کار کو ردی کی ٹوکریوں میں پھینک دیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر آئینی اقدامات کے ذریعے پہلے دن سے انھیں جائز حق حکمرانی سے محروم رکھنے کی کوشش کی گئی اور یہ کہ ان کی سیاست عہدوں کے لیے نہیں عوام کی خدمت کے لیے ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
عمران خان کا بدھ کی شام جشن منانے کا اعلان
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ن لیگ نرم رویہ نہ رکھتی تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا: طلال چوہدری

مسلم لیگ نواز کے رہنما طلال چوہدری نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے جو اداروں کی ناانصافیاں جھیلتی آئی ہے اور اگر ان کی جماعت ان معاملات پر نرم رویہ نہ رکھتی تو دن نہ دیکھنا پڑتا۔
’کیا اب اس ملک میں یہ اصول چلے گا کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے والا تاحیات نااہل قرار پائے گا مگر آٹھ سال سے الیکشن کمیشن میں پڑے فارن فنڈنگ کیس کا کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کیا اب یہ قانون چلے گا کہ عمران خان کا خط تو درست ہو گا مگر اسی جیسے معاملے پر چوہدری شجاعت کا لکھا گیا خط غلط قرار دیا جائے گا۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’یہ عدلیہ تسلسل سے ن لیگ مخالف اور غیر آئینی فیصلے دے رہی ہے۔ ہم عوامی حمایت سے قانون کی حکمرانی یقینی بنائیں گے اور اس لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔‘
عمران خان کی سپریم کورٹ کے ججوں کی تعریف
پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ دھمکیوں کے سامنے آئین اور قانون کے ساتھ کھڑے رہنے ہرسپریم کورٹ کے ججوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں اپنے وکلا کی ٹیم اور پنجاب کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, عدالتی فیصلے پر نواز شریف کا ردعمل
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, ’پرویز الٰہی سیاست میں دشمنیاں پالنے کے قائل نہیں‘

،تصویر کا ذریعہtwitter/@chparvezelahi
چوہدری پرویز الٰہی یوں تو صرف دو مرتبہ وزارتِ اعلیٰ حاصل کرنے میں کامیاب ہو پائے ہیں تاہم ان کی اس وزارت کو حاصل کرنے کی خواہش لگ بھگ اتنی ہی پرانی ہے جتنی اُن کی صوبائی یا قومی سیاست میں آمد پرانی ہے۔
بند کمروں میں ہونے والی سازش کے ذریعے مینڈیٹ چھیننے کی کوشش کی گئی جو ناکام ہوئی: اسد عمر
پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا کہ مینڈیٹ کسی ایک جماعت کے پاس تھا لیکن بند کمروں کی سیاست اور سازش کے ذریعے اسے چھیننے کی کوشش کی گئی تھی۔
انھوں نے کہا مگر عوام نے اس سازش کو مسترد کیا اور عدلیہ نے قانون کے مطابق فیصلہ دیا۔
اس فیصلے کے بعد پاکستان کی سیاست ایک نیا رُخ اختیار کرے گی: شاہ محمود قریشی

،تصویر کا ذریعہTolo News
پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستانی عدلیہ آزاد ہے اور آئین کا دفاع کرنے کا ان میں پختہ عزم ہے۔
فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود کا مزید کہنا تھا کہ ’میں تحریک انصاف کے کارکنوں، عوام اور جمہوری قدروں سے منسلک تمام لوگوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘
انھوں نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد پاکستان کی سیاست ایک نیا رُخ اختیار کرے گی اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بہت جلد عوام سے رجوع کریں گے اور ہمیں امید ہے کہ پاکستان کی عوام اس ملک کو دلدل سے نکالنے کے لیے تحریک انصاف کا ساتھ دیں گے۔
حمزہ شہباز اور کابینہ کے ارکان فوری طور پر اپنا آفس چھوڑ دیں: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا اس لیے حمزہ شہباز اور ان کی کابینہ اور معاونین خصوصی فوری طور پر اپنے اپنے عہدے چھوڑ دیں اور دفاتر خالی کر دیں۔
پنجاب میں گورننس کا شدید فقدان پیدا ہو گیا تھا جس کے باعث عوامی مفاد کا سوال پیدا ہو چکا تھا اسی لیے پرویز الٰہی کی پیٹیشن کو شنوائی کی گئی اور فیصلہ کیا گیا۔
پی ٹی آئی کارکنوں کا سپریم کورٹ کے باہر جشن
سپریم کورٹ کے باہر پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے رہنما اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو فیصلہ آنے کے بعد خوشی کا اظہار کر رہی ہے جبکہ کارکنوں کی جانب سے نعرے بازی بھی کی گئی۔
پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ پنجاب قرار، ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کالعدم قرار
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے پر دیکھیے بی بی سی اُردو کا فیس بُک لائیو۔
بریکنگ, پنجاب کابینہ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ حمزہ شہباز کے وزارت اعلیٰ کے حلف لینے کے بعد تشکیل دی گئی پنجاب کابینہ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
بریکنگ, حمزہ شہباز اور ان کی کابینہ کے تمام آئینی اور قانونی احکامات کو تحفظ حاصل ہو گا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ حمزہ شہباز اور ان کی کابینہ کے تمام آئینی اور قانونی احکامات کو تحفظ حاصل رہے گا تاہم نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب اگر مناسب سمجھیں تو ان کے فیصلوں میں تبدیلی کر سکتے ہیں یا انھیں واپس لے سکتے ہیں۔
بریکنگ, مریم نواز نے فیصلے کو ’عدالتی بغاوت‘ قرار دے دیا
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف نے سپریم کورٹ کی جانب سے حمزہ شہباز کی وزارتِ اعلیٰ کے خاتمے اور پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب مقرر کرنے کے فیصلے کو ’جوڈیشل کو‘ یا عدالتی بغاوت قرار دے دیا ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کالعدم، پرویز الٰہی سے آج رات ہی حلف لینے کا حکم

،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan
چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ نے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی وزیراعلیٰ کے انتخابات پر دی گئی متنازع رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس رولنگ کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا۔
تین رکنی بینچ نے گیارہ صفحات پر مشتمل مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ حمزہ شہباز کا بطور وزیراعلیٰ نوٹیفیکیشن غیرقانونی تھا کیونکہ زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے پرویز الٰہی کامیاب امیدوار تھے۔
سپریم کورٹ نے گورنر پنجاب کو حکم دیا ہے کہ وہ منگل کی رات ساڑھے گیارہ بجے سے پہلے پرویز الٰہی سے وزارت اعلیٰ کا حلف لیں اور اگر گورنر دستیاب نہ ہوں تو صدر مملکت عارف علوی حلف برداری کی تقریب منعقد کروائیں۔
حکومت کو غیرمتزلزل مؤقف اختیار کرتے ہوئے درپیش صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے: مریم نواز
پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ حکومت کو غیرمتزلزل مؤقف اختیار کرتے ہوئے درپیش صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔
سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ حکومت مشکل صورتحال کا مقابلہ کرے ورنہ دوسرا آپشن یہ ہے کہ سٹیٹس کو کا شکار ہو جائے، لیڈر ان حالات میں بنتے ہیں جن کا وہ سامنا کرتے ہیں۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
