فوڈ فیوژن نامی یوٹیوب چینل چلانے والا جوڑا: ’شروع میں تھوڑی الجھن تھی کہ گھر میں بھی بیگم اور کام پر بھی بیگم کا ساتھ‘

’ایک جوڑا مل کر کاروبار کرے، اس سے بہتر کوئی چیز نہیں ہو سکتی اور جب ہم نے مل کر کام شروع کیا تو ایک دوسرے کے بارے میں اور بھی بہت سی چیزیں پتا چلیں جو پہلے پتا نہیں تھیں۔ اس سے ہمارا تعلق اور بھی مضبوط بنا۔‘
’ساتھ کام کرنے کی سب سے بہترین چیز یہ ہے کہ آپ ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے لیے موجود ہیں۔۔۔ ایسا نہیں کہ ایک بندہ دفتر جا رہا ہے اور رات کو دو بجے آ رہا ہے۔‘
یہ خیالات ’فوڈ فیوژن‘ نامی یوٹیوب چینل کے مالک اسد میمن کے ہیں۔ کراچی کے اسد اور ان کی اہلیہ صائمہ کا شمار پاکستان کے معروف یوٹیوبرز میں ہوتا ہے۔ ان کے کوکنگ چینل کے یوٹیوب پر چالیس لاکھ سے زائد سبسکرائبرز جبکہ فیس بک پر پچاس لاکھ سے زائد مداح ہیں۔
بی بی سی کے لیے صحافی براق شبیر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس جوڑے نے ہمیں بتایا کہ کیسے ان دونوں نے ایک ساتھ مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔
’ایک پکوڑا بنانے کے لیے آپ کو آدھے گھنٹے کا پورا شو دیکھنا پڑتا ہے‘
چینل شروع کرنے کے پیچھے وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے اسد میمن کہتے ہیں کہ ہر گھر کا مسئلہ ہے کہ ’آج کیا بنے گا‘ اور یہی آئیڈیا فوڈ فیوژن کا سبب بنا کیونکہ ہم اس سوال کا جواب دینا چاہ رہے تھے۔
’شادی کے بعد ہمیں روز اس مسئلے کا سامنا تھا کیونکہ ہر روز ایک چیز کھانے کا دل نہیں کرتا تھا۔ میں بھی کھانے کو لے کر بہت تجربات کرتا رہتا تھا اور صائمہ بھی کچھ نہ کچھ نیا بنانے کی کوشش کرتی رہتی تھی۔۔۔ ہم دونوں کا بھی فیوژن ہی چل رہا تھا۔‘

صائمہ اسد بتاتی ہیں کہ ہم صرف دو تھے اسی لیے ہمارے پاس بہت مارجن تھا کہ نئی نئی چیزیں بنا کر کھا سکتے تھے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اگر آپ کو کھانا بنانا آتا ہے اور آپ مزید کچھ سیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے کوئی پلیٹ فارم نہیں تھا۔
اسد کا کہنا ہے کہ ’ایک پکوڑا بنانے کے لیے آپ کو آدھے گھنٹے کا پورا شو دیکھنا پڑتا ہے جس میں تین ڈشز بن رہی ہوتی ہیں اور ان میں سے ایک پکوڑا ہوتا ہے اور پورا شو دیکھنے کے بعد یہ بات سمجھ آتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صائمہ کے مطابق اس وقت ہم سوچھتے تھے کہ ’یار اس مسئلے کا کوئی حل نہیں کیا؟‘
اسد اس وقت ڈیجیٹل میڈیا میں کام کر رہے تھے لہذا انھوں نے سوچا کہ ’کچھ کرنا ہے‘ البتہ انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ کیا کریں گے بس وہ چاہتے تھے کہ ’اپنے اور صائمہ دونوں کے ہنر کا استعمال کرنا ہے اور جو کرنا ہے مل کر کرنا ہے ورنہ کچھ نہیں کرنا۔‘
اسد نے ہمیں بتایا کہ ’وہ کہتے ہیں نا کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے، اسی طرح ہر کامیاب عورت کے پیچھے مرد کا ہاتھ ہوتا ہے اور اگر دونوں ساتھ مل کر کام کریں تو اس میں اللہ نے بڑی برکت رکھی ہے۔‘

’شروع میں تھوڑی الجھن تھی کہ گھر میں بھی بیگم اور کام پر بھی بیگم کا ساتھ‘
اپنے رشتے کے حوالے سے اسد بتاتے ہیں کہ ’شروع میں تھوڑی الجھن تھی کہ گھر میں بھی بیگم اور کام پر بھی بیگم کا ساتھ۔۔۔۔ مگر ہمارے بیچ ذہنی ہم آہنگی موجود ہے اسی لیے تو شادی ہوئی اور اب ہم کام اور گھر دونوں جگہ ساتھ ہوتے ہیں ورنہ اس سے پہلے ہم گھر واپس آتے تو اپنے اپنے دفتر کی باتیں کرتے رہتے تھے کہ آج یہ ہوا، آج فلاں نے یہ کہا۔‘
صائمہ بتاتی ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے سے ان کی ذہنی ہم آہنگی مزید بہتر ہو گئی اور انھیں ایک دوسرے کی پسند ناپسند کا زیادہ اچھے سے پتا چلا۔
صائمہ کہتی ہیں کہ انھوں نے بہت واضح الفاظ میں اس بات کا تعین کر لیا کہ کونسی چیز اسد کی ذمہ داری ہے اور کونسی ان کی۔ ان کی ذمہ داریاں آپس میں جڑی بھی ہیں اور ایک دوسرے سے الگ بھی ہیں۔
’اسد کو پتا ہے کہ کہاں صائمہ کی رائے کی ضرورت ہے اور مجھے پتا ہے کہ کہاں اسد کی رائے چاہیے اور اسی وجہ سے ہمیں مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا البتہ ہم نے ایک توازن ضرور برقرار رکھا ہوا ہے۔‘
تاہم صائمہ ساتھ کام کرنے کا ایک نقصان بتاتی ہیں اور وہ یہ کہ دونوں ’بالکل سوشلآئز نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں ہر وقت ساتھ ہوتے ہیں اور ان کے لیے دوستوں کے لیے وقت نکالنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ ‘
یہ بھی پڑھیے

’اسد چاہے جتنا مرضی تھکے ہوں اتوار کو ناشتہ انھوں نے ہی بنانا ہے‘
بچوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے صائمہ کہتی ہیں کہ ’ماں کا کردار زیادہ ہے، ان کا خیال رکھنا، انھیں سکول چھوڑنا اور وہاں سے لینا وغیرہ۔۔۔ یہ سب میں کرتی ہوں اور میں نے اپنے کام کو اس طرح تقسیم کیا ہوا ہے کہ مجھے پتا ہے کہ صبح جب بچے سکول میں ہیں تو میں کام کے لیے موجود ہوں۔‘
’پھر دوپہر کو انھیں کھانا کھلا کے میں ان کے ساتھ کام پر آتی ہوں اور ان کے لیے کام پر ہی ایک جگہ مخصوص کی ہوئی ہے اور وہاں اسد اور میں مل کر بچوں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔‘
صائمہ بتاتی ہیں کہ اسد چاہے جتنا مرضی تھکے ہوں اتوار کو ناشتہ انھوں نے ہی بنانا ہے کیونکہ دونوں کام کر رہے ہیں اور ہمارا ایک ہی چھٹی کا دن ہوتا ہے مگر پھر دوپہر کا کھانا میں بنا لوں گی۔
’فوڈ فیوژن سے پہلے بھی ہمارا یہی معمول تھا کہ اگر میں کام کر رہی ہوں تو اسد میرے ساتھ اٹھ کر کچن میں آتے اور میری مدد کرتے تھے۔‘













