پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں ڈیڈلاک: ’فکر نہ کریں بجٹ لازمی پیش کریں گے، پلان بی پر کام کر رہے ہیں‘

پنجاب اسمبلی
    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پنجاب اسمبلی کے گذشتہ روز شروع ہونے والے بجٹ اجلاس میں آج بھی بجٹ پیش نہیں کیا جا سکا۔

کل رات کو ملتوی ہونے والے بجٹ اجلاس کو آج ایک بجے شروع کیا جانا تھا۔ تاہم حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک رات گیے تک برقرار رہا۔ اسمبلی میں آنے والے تمام تر ارکان کے لہجے اور رویوں سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ شاید انھیں معلوم ہو کہ آج بھی بجٹ پیش کرنے نہیں دیا جائے گا۔

جبکہ حکموت کے چند نمائندگان سے جب ہماری بات ہوئی کہ 'کیا آپ آج بجٹ پیش کر پائیں گے؟' تو ان کا کہنا تھا کہ وہ پلان بی پر کام کر رہے ہیں اور ’فکر مت کریں بجٹ لازمی پیش کریں گے۔‘

تھوڑی دیر اسمبلی میں اپنے آفس میں بیٹھنے کے بعد شام کو وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز سمیت کئی ارکان اسمبلی سے چلے گئے۔ جبکہ ان میں سے کچھ کا آنا جانا لگا رہا۔

کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد کل کی طرح ہی آج بھی رات دس بجے سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے ایوان میں آ کر اجلاس شروع کیا۔ تلاوت قرآن اور پھر نعت پیش کی گئی۔

اس کے فوری بعد سپیکر نے کہا 'اویس لغاری صاحب بجٹ پیش کریں۔' جس پر حکومت کے ارکان نے نعرے لگانا شروع کر دیے کہ گورنر نے اجلاس برخاست کر دیا ہے اور اس لیے وہ بجٹ پیش نہیں کر سکتے ہیں۔

یہ موقف دیتے ہی وہ اسمبلی سے چلے گئے۔ جبکہ ایوان کی کارروائی جاری رہی اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے کل دوپہر ایک بجے بجٹ اجلاس دوبار طلب کر لیا۔

دوسری جانب گورنر کی جانب سے کل بجٹ اجلاس دوپہر دو بجے ایوان اقبال میں طلب کیا گیا ہے۔

پنجاب اسمبلی

،تصویر کا ذریعہPMLQ

ایک طرف وزیراعلیٰ کا چیمبر، دوسری طرف سپیکر کا۔۔۔ مصالحتی وفد کبھی یہاں کبھی وہاں

پہلے تو پنجاب اسمبلی میں سوموار کے روز دوپہر دو بجے متوقع بجٹ اجلاس رات آٹھ بجے شروع ہوا پھر چھ گھنٹے تاخیر سے شروع ہونے والے اس اجلاس سے پہلے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ڈیڈلاک دیکھنے کو ملا۔

اسمبلی میں بجٹ اجلاس کوریج کے لیے پہنچی تو اپوزیشن اور حکومت کے کافی نمائندگان پہنچ چکے تھے۔ ایوان کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ایڈوائزی کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا، جس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے اراکین موجود تھے۔ اس کمیٹی کی میٹنگ اس لیے بلائی گئی تھی تاکہ بجٹ اجلاس کو شور شرابے اور کسی پر تشدد واقعے کے بغیر پیش کیا جا سکے۔

یاد رہے کہ ماضی میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے روز پنجاب اسمبلی سیشن میں ہنگامہ آرائی اور پرتشدد واقعات بھی دیکھنے کو ملے تھے۔

ہم تو یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ میٹنگ گھنٹے یا زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے میں ختم ہو جائے گی تو پھر بجٹ پیش کر دیا جائے گا جبکہ معاملات ہماری توقع کے برعکس ہوئے۔ ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس تو کچھ دیر کے لیے ہی چلا لیکن اس میٹنگ میں فریقین کے درمیان ڈیڈلاک پیدا ہو گیا۔

پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق کی جانب سے ڈیڈ لاک میں یہ شرط سامنے آئی کہ پہلے آئی جی اور چیف سیکرٹری ایوان میں آئیں اور فرداً فرداً آ کر سب سے معافی مانگیں اور پی ٹی آئی کے لوگوں پر کیے گئے تمام پرچے خارج کیے جائیں۔ جس پر مسلم لیگ نون کے چند اراکین نے انکار کیا تاہم کچھ نے مفاہمت کے لیے درمیانی راستہ نکالنے کی بات کی۔

ذرائع کے مطابق میاں اسلم اقبال، مراد راس اور ڈاکٹر یاسمین راشد نے حکومتی اراکین کے سامنے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے گھروں کی چادر اور چار دیواری پامال کی گئی۔ میاں اسلم اقبال کی جانب سے یہ شکایت بھی کی گئی کہ ان کی والدہ کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔

پنجاب اسمبلی
،تصویر کا کیپشنایک طرف سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کے درجنوں گارڈ ان کے دروازے کے باہر تھے اور دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے درجنوں گارڈ ان کے آفس کے باہر کھڑے تھے

ان باتوں کے دوران خاصی گرما گرمی بھی رپورٹ ہوئی۔ جس میں اپوزیشن اراکین کی جانب سے حکومتی ارکین سے بدتمیزی بھی گئی اور لڑائی تک پہنچتی بات کو روکا گیا۔

یہ تمام تر معاملات پنجاب اسمبلی کی دوسری منزل پر چل رہے تھے۔ وہ بھی خاصہ دلچسپ منظر تھا۔ پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ اور سپیکر کے آفس آمنے سامنے ہیں اور وہاں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے محلے میں دو دشمنوں کے گھر ہوں۔

ایک طرف سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کے درجنوں گارڈ ان کے دروازے کے باہر تھے اور دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے درجنوں گارڈ ان کے آفس کے باہر کھڑے تھے۔ جیسے ہی کوئی کسی آفس سے باہر نکلتا تو سب گارڈز چوکنا ہو جاتے۔ یہ منظر دیکھ کر میں سوچنے لگی کہ آنے والے دنوں میں یہ ایوان کیسے چلے گا؟

حکومتی وفد کی جانب سے مسلم لیگ نون کے رکن ملک احمد خان تمام تر معاملات طے کر رہے تھے۔ جنھوں نے وزیر اعلیٰ چیمبر سے سپیکر اسمبلی چیمبر کے دفاتر کے درجنوں چکر لگائے۔ لگتا تھا کہ پیغام رسائی کا کام وہی کر رہے ہیں اور جہاں وہ پھنستے تھے وہاں وہ پیپلز پارٹی کے حسن مرتضیٰ کو ساتھ لے جاتے تھے۔ یہ سلسلسہ تقریباً چھ سے ساتھ گھنٹےتک چلتا رہا لیکن کوئی بات نہ بنی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب نے آنے سے بھی منع کر دیا تھا جبکہ اپوزیشن کے لوگوں نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری معافی نہیں مانگیں گے اور وہ معافی کس چیز کی مانگیں۔ انھوں نے تو آڈرز ماننے ہیں۔‘

یہ تمام تر باتیں سننے کے بعد دونوں طرف سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے یہ مسئلہ معافی تلافی یا کسی کے ساتھ زیادتی نہیں بلکہ صرف انا کا ہے۔

پنجاب اسمبلی

خیر یہ بات چلتے چلتے چند گھنٹوں کا سفر کر کے اس نتیجے پر پہنچی کہ ایوان میں بلوا کر معافی نہیں مانگی جائے گی تاہم چیمبر میں بلا کر وضاحت ہو سکتی ہے یا پھر ایک کمیٹی تشکیل دے دی جائے جس میں حکومت اور اپوزیشن کے لوگ ہوں اور اس کو رپورٹ پیش کی جائے، جس کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ایک نیا ڈرافٹ تیار ہوا اور حکومتی اراکین وہ لے کر وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے پاس گئے۔ کچھ دیر بعد معلوم ہوا کہ اس پر بھی اتفاق نہیں ہوا۔ اسی دوران اپوزیشن جماعتوں نے بھی اپنا اجلاس کیا جس میں یہی معاملات اور لائحہ عمل پر بات کی گئی۔ چھ سات گھنٹوں کے بعد معاملات کسی رخ بیٹھتے دکھائی دیے۔

اس وقت مجھ سے بات کرتے کرنے والے فریقین کے چہروں پر مسکراہٹ تھی اور دونوں نے یہی بتایا کہ معافی والا مطالبہ ختم کر دیا ہے، اب ہمارے پرچے واپس لے لیے جائیں گے۔

سب لوگ ایوان میں چلے گئے۔ جس کے بعد ایوان کی کارروائی شروع ہوئی۔ پہلے ایک قرارداد پیش کی گئی، جس کے بعد بجٹ سیشن شروع ہونا تھا لیکن اس سے پہلے ہی اپوزیشن کی جانب سے یہ آواز آئی کہ ایوان میں ایک اجنبی شخص موجود ہے۔

جس پر سپیکر نے کہا وہ کون ہے تو اپوزیشن اراکین بولے کہ عطا اللہ تارڑ۔ انھیں پہلے باہر نکالیں۔ جس کے بعد سپیکر اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ ایوان میں موجود ہوں۔

سپیکر اسمبلی نے عطا اللہ تارڑ کو کہا کہ ’آپ باہر چلے جائیں‘ جس پر وہ بیٹھے رہے۔ سپیکر اسمبلی نے سارجنٹ کو کہا کہ آپ انھیں باعزت طریقے سے باہر نکالیں، جس پر مسلم لیگ نون کے تمام اراکین ان کے گرد کھڑے ہو گئے اور سکیورٹی اہلکاروں کو آگے آنے سے روک دیا۔

یاد رہے کہ عطا اللہ تارڑ رکن اسمبلی نہیں لیکن حال ہی میں انھیں ترجمان پنجاب حکومت اور پھر محکمہ داخلہ کا پورٹ فولیو دیا گیا ہے۔

یہ سب دیکھ کر مجھے مسلم لیگ نون کے ایک رکن کی بات یاد آ گئی، جو انھوں نے مذاکرات کے وقت کی تھی کہ ’یہ مونس الہی کس حیثیت میں ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ میں بیٹھے ہیں؟‘

انھوں یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ ’مونس الہی ہی یہ سب کروا رہے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

پنجاب اسمبلی
،تصویر کا کیپشنعطا اللہ تارڑ رکن اسمبلی نہیں لیکن حال ہی میں انھیں ترجمان پنجاب حکومت اور پھر محکمہ داخلہ کا پورٹ فولیو دیا گیا ہے

اسی دوران سپیکر اسمبلی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کہاں ہیں؟ ملک احمد خان بولے کہ ’سر آپ بجٹ کے وقت کا اعلان کریں وہ فوراً پہنچ جائیں گے۔ جس پر وہ سپیکر بولے کہ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ بجٹ پیش ہونا ہے اور صوبے کا وزیر اعلیٰ ایوان میں موجود نہیں بلکہ یہ دیکھیں آئی جی اور چیف سیکرٹری بھی نہیں یہاں تو۔۔۔انھیں بھی بلائیں۔‘

ملک احمد نے کہا کہ ’سر میں حکومت کا حصہ اور وزیر قانون ہوں۔ پی ٹی آئی کے اراکین کے ساتھ جو زیادتی ہوئی میں اس کے لیے معافی مانگتا ہوں اور جہاں جس کی غلطی ہو گی اس سے پوچھا جائے گا‘ لیکن اپوزیشن اراکین نے یہ بھی ماننے سے انکار کر دیا اور ایک مرتبہ پھر بات سامنے آئے کہ اپنی شکایات وہ تب تک ایوان کے سامنے نہیں رکھیں گے جب تک آئی جی اور چیف سیکرٹری ایوان میں نہیں آتے۔

اسی دوران دس منٹ کا وقفہ بھی لیا گیا جس میں عطا اللہ تارڑ کو کہا گیا کہ وہ باہر چلے جائیں۔ دس منٹ کا وہ وقفہ چالیس منٹ تک جا پہنچا لیکن وہ باہر نہیں گئے۔

سپیکر ایوان میں آئے تو انھوں نے کہا کہ ’آپ کی رولنگ آ گئی ہے اس لیے میں احتجاجاً اسے تسلیم کرتا ہوں کیونکہ میں اس بجٹ کو روکنا نہیں چاہتا۔ یہ 12 کروڑ عوام کا بجٹ ہے۔‘

تھوڑی دیر بعد سپیکر کے اصرار پر وزیر اعلیٰ پنجاب ایوان میں آ گئے لیکن اس کے بعد سپیکر نے کافی دیر تک یہ مطالبہ ہی کیا کہ ’آئی جی اور چیف سیکرٹری کو بلوائیں۔ وہ کیوں نہیں آرہے۔ کیا وہ آپ کی بات نہیں مانتے یا پھر انھوں نے ہاتھوں پر مہندی لگائی ہوئی ہے۔‘

سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ ’جب تک وہ یہاں نہیں آئیں گے تب تک بجٹ اجلاس نہیں ہو گا۔ اس لیے میں کل ایک بجے تک ملتوی کرتا ہوں۔‘