آئی ایس آئی کو سویلین افسران کی جانچ کا اختیار: ’ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ دفن‘

شہباز شریف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, فرحت جاوید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے ملک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو سول افسران کے لیے بطور ویٹنگ ایجنسی کام کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

اس نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس آئی تمام پبلک آفس ہولڈرز کی سکروٹنی کرے گی جو ان کی سروس کے آغاز یعنی بھرتی کے وقت، حساس عہدوں پر تعیناتی، تبادلوں، اور ترقی کے لیے درکار ہو گی۔

انٹرسروسز انٹیلیجنس ایجنسی یعنی آئی ایس آئی ویٹنگ کا یہ کام فوجی افسران اور وزارت دفاع کے ماتحت کام کرنے والے تمام اہلکاروں کے لیے پہلے ہی کرتی ہے۔

آ ئی ایس آئی کے ویٹنگ سے متعلق حصے کو ایس وی اے یعنی اسپیشل ویٹنگ ایجنسی کہا جاتا ہے۔

فوج میں 8101 ایس وی اے فارم کسی بھی ترقی، تبادلے، حتی کہ انٹرویو کے موقع پر بھی بھرا جاتا ہے جس میں متعلقہ اہلکار، ان کے خاندان کی تفصیلات سمیت تعلیم، ماضی کی تعیناتیوں سے متعلق تفصیل درج کی جاتی ہے۔ یہ فارم آئی ایس آئی کی جانب سے تیار کی جانے والی فائلز میں چسپاں کیا جاتا ہے اور ہر ترقی اور تبادلے کے موقع پر متعلقہ فارم کو یہ ریکارڈ مہیا کیا جاتا ہے۔

تاہم فوجی اہلکاروں کی حد تک تو آئی ایس آئی کا یہ کردار ہمیشہ ہی رہا ہے، اب سول افسران کی تعیناتی کے حوالے سے ایجنسی کو یہ اختیار دینے پر کئی حلقے تنقید کر رہے ہیں۔

اس سے قبل سول افسران سے متعلق انٹیلجنس معلومات اکٹھی کرنےکا کام باقاعدگی کے ساتھ آئی بی یعنی انٹیلجنس بیورو اور صوبائی سطح پر ایس بی یعنی اسپیشل برانچ کر رہی ہیں۔

اس میں بنیادی کام کوائف اکٹھے کرنا، ان کی تصدیق کرنا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ شخص کی فنانشل انٹیگرٹی، سیاسی وابستگی، بیرون ملک رابطوں اور کردار سے متعلق معلومات بھی جمع کی جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ دیگر ایجنسیوں کے ہاتھ اگر کسی بھی افسر سے متعلق اہم معلومات جیسا کہ ان کی دولت یا بیرون ملک تعلقات، موجود ہوں تو وہ آئی بی یا متعلقہ اتھارٹی سے شیئر کر دی جاتی تھیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انٹیلی جنس بیورو کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل نوید الہی کہتے ہیں کہ وزیراعظم کا یہ فیصلہ انتہائی مایوس کن ہے اور اس سے خود آئی بی کے اہلکاروں میں یہ تاثر گیا ہے کہ ان کے کام اور ادارے کو غیرموثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

خیابان سہروردی

وہ کہتے ہیں کہ`یہ ایک غیرضروری قدم ہے اور سول اداروں کو غلط پیغام ملا ہے۔‘

'آئی بی بہت موثر انداز میں کام کرتی رہی اور اب بھی کرتی ہے۔ یہ ایک غلط کام ہے، اس سے سول ادارے کمزور ہوں گے، غیر ضروری فوجی مداخلت ہو گی، اور اختلافات پیدا ہوں گے۔ دوسری معلومات اکٹھی کرنے کا آئی ایس آئی کا طریقہ آئی بی سے مختلف ہے، آئی بی زور زبردستی کی بجائے بہت خفیہ طریقے سے کام کرتی ہے۔'

وہ اس فیصلے کا ذمہ دار وزیر اعظم اور آئی بی سربراہ کے درمیان فاصلوں کو بھی سمجھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'حالیہ کچھ عرصے میں عام طور پر ڈی جی آئی بی پرنسپل سیکرٹریز کی مرضی سے لگتے رہے ہیں اور وزیراعظم کی ایجنسی سے متعلق سمجھ بوجھ کم رہی ہے، ایک وقت تھا جب ڈی جی آئی بی براہ راست وزیر اعظم کے دفتر پہنچ جاتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہو رہا۔ وہ کہتے ہیں کہ وسائل کے لحاظ سے تو آئی ایس آئی مضبوط ہے مگر جہاں تک معلومات اکٹھی کرنے کی بات ہے تو آئی بی کا طریقہ کار کئی درجے بہتر ہے۔‘

تاہم اس بارے میں آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ ایک حکومتی فیصلہ ہے اور وہی اس بارے میں بہتر رائے دے سکتے ہیں کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا۔ جبکہ حکومتی ترجمان سے رابطے کے باوجود جواب نہیں دیا گیا۔

آئی ایس آئی میں سویلین بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں لیکن وہ اس ادارے کے تنظمی ڈھانچے میں غلبہ یا طاقت نہیں رکھتے۔

آئی ایس ائی

،تصویر کا ذریعہGov of

مصنف ڈاکٹر ہین ایچ کیسلنگ نے اپنی کتاب 'آئی ایس آئی آف پاکستان' میں اس ادارے کے تنظیمی خاکے سے متعلق لکھتے ہیں کہ آئی ایس آئی کے سات ڈائریکٹوریٹس اور محکموں کی متعدد پرتیں یا تہوں کے علاوہ 'وِنگز' (منسلک شعبے) ہیں۔

آئی ایس آئی کے تنظیمی ڈھانچے میں فوج کا غلبہ زیادہ ہے، اگرچہ بحریہ اور فضائیہ سے تعلق رکھنے والے افسران بھی تنظیم کا حصہ ہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور اسلام آباد میں قائم غیر ملکی سفارت خانوں میں تعینات فوجی اتاشیوں سے رابطوں کے مرکز کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح درپردہ وہ انٹیلجنس امور پر وزیراعظم کے چیف ایڈوائزر کے طور پر کام کرتے ہیں۔

کیا وزیراعظم کا فیصلہ واقعی سول بالادستی کے لیے ایک دھچکا ہے؟

اس بارے میں دفاعی تجزیہ کار پاکستانی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کہتے ہیں کہ سکیورٹی کے تناظر میں یہ برا قدم نہیں ہے، مگر واضح طور پر فوجی مداخلت سمجھا جائے گا۔

' اگر حکومت آئی ایس آئی کو کسی شخص کی ویٹنگ کا کہتی تو وہ کر دیتے تھے، یا ان کے پاس کوئی معلومات ہوتی تو وہ متعلقہ حکام کے ساتھ شیئر ضرور کرتے تھے مگر ایجنسی کے پاس باقاعدہ طور پر ایسے اختیارات نہیں تھے۔ مگر ابھی یہ ایک ریگولر فیچر ہو گا، ہر حساس یا سینیئر عہدوں پر تعیناتی یا ترقی کے لیے کے ان سول افسران کے نام آئی ایس آئی کو بھیجے جائیں گے اور ایجنسی انہیں کلیئر کرے گی تب ہی ان کی تعیناتی ہوگی۔'

وہ کہتے ہیں کہ 'سکیورٹی کے نقطہ نظر سے تو یہ کوئی بری بات نہیں ہے، مثلاً آپ کو اہم اور حساس عہدوں پر ایسے لوگ ملیں جن کے باہر تعلقات یا مفادات نہ ہوں، مگر اس کا سول حلقوں میں اچھا تاثر نہیں جائے گا۔ اور یہ کہا جائے گا کہ یہ اتھارٹی فوج کے پاس چلی گئی ہے اور اگر ملٹری کسی کو پسند نہیں کرتی تو وہ کلیئر نہیں ہوگا اور بیورکریسی سمجھے گی کہ ان پر ایک ایکسٹرا چیک اور انٹرفیئرنس ہے۔'

دوسری جانب نوید الہی بھی اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آئی بی میں اور ایس بی میں باقاعدہ طریقہ کار موجود ہونے کے باوجود سول بالادستی کو نشانہ بنایا گیا ہے، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ لکھ کر ہی دے دیں۔ وہ انٹر سروسز انٹیجنس ہے، یعنی مسلح افواج میں انٹیلجنس کا کام کرنے والی، ان کا یہ مینڈیٹ نہیں۔‘

انپی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ` دوسرا یہ کہ آئی بی سب سے بڑا سول انٹیلجنس ادارہ ہے جو براہ راست وزیراعظم کو رپورٹ کرتا ہے، بیچ میں کوئی وزارت نہیں آتی۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں سے مسلسل ایسا ہو رہا ہے کہ آئی بی سربراہ کا رابطہ وزیراعظم کی بجائے ان کے پرنسپل سیکرٹری تک ہی ہوتا ہے۔ آئی بی ایک انتہائی مضبوط ادارہ ہے اور معلومات اکٹھی کرنے کا کام آئی ایس آئی سے بڑی حد تک بہتر انداز میں کرتا ہے۔'

خیال رہے کہ آئی بی بھی سول اہلکاروں کی بھرتی سے لیکر مستقبل میں ترقیوں اور تعیناتیوں تک ہر موقع پر کوائف اور معلومات اکٹھی کرتی رہتی ہے۔

وزیراعظم کو ایسا فیصلہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اس سوال کا جواب حکومت کی جانب سے تادم تحریر موصول نہیں ہوا ہے۔

تاہم دفاعی تجزیہ کار امجد شعیب سمجھتے ہیں کہ اس کی وجہ خود وزیراعظم کی خواہش بھی ہو سکتی ہے اور جی ایچ کیو کا مطالبہ بھی۔

'شہباز شریف غالباً اسٹیبلشمنٹ کو بہت زیادہ خوش کرنا چاہتے ہیں جو اس طرح کا فیصلہ کیا۔ لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خود جی ایچ کیو نے کہا ہو کہ افسران کی تعیناتی کے موقع پر انٹیلیجنس کلیئرنس میں آئی ایس آئی کو شامل ہونا چاہیے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سکیورٹی کلیرنس کی آڑ میں ایسے لوگوں کو تعینات کیا جا سکتا ہے جو جی ایچ کیو کی بات سنیں۔'

نوید الہی کہتے ہیں کہ 'وزیراعظم شہباز شریف کو بطور وزیراعلیٰ بھی یہ پسند تھا کہ کسی بھی افسر کے انٹرویو سے قبل ان کی میز پر انٹیلجنس ایجنسیوں کی رپورٹس کے تین چار صفحے پڑے ہوں۔ اور یہ معلومات ان کے فیصلوں پر اثرانداز بھی ہوتی تھیں۔ مگر بطور وزیراعظم سول ایجینسیاں ہوتے ہوئے ایک فوجی ایجنسی کو ایسی ذمہ داری دینا جو اس کے مینڈیٹ سے باہر ہے، ان کا یہ فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔'

لیفٹیننٹ جنرل ر امجد شعیب کے مطابق اس نوٹیفیکیشن کے بعد اب آئی ایس آئی کے فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو جائے گی:

'معلومات پہلے بھی دی جاتی تھیں مگر آئی ایس آئی فیصلہ سازی نہیں کرتی تھی مگر اب تو کسی بھی شخص کی تعیناتی آئی ایس آئی کی کلیئرنس کی پابند ہوگی۔ اس لیے سول سپریمیسی متاثر ہونے کا امکان تو ہے، نہ صرف بیورکریسی میں بلکہ کل حکومت بھی یہ محسوس کر سکتی ہے۔'

وہ سمجھتے ہیں کہ اس میں سب سے بڑا مسئلہ عدلیہ کے ججز کی تعیناتی تھی۔

انھوں نے کہا کہ `مشرف کے دور میں آئی ایس آئی کو انھوں نے غیر تحریری طور پر یہ ٹاسک دیا ہوا تھا کہ مجوزہ ججز کے نام کی سکروٹنی آئی ایس آئی کرے۔‘

وہ ایک جج کا واقعہ سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ `ایک جج ان کے پاس آئے اور انہیں کہا کہ ان کی رپورٹ دی گئی ہے کہ وہ مذہبی رحجان رکھتے ہیں اس لیے وہ اس عہدے کے لیے موزوں نہیں۔ وہ کہنے لگے کہ میں تو زیادہ مذہبی نہیں ہوں یہ رپورٹ غلط ہے۔ مگر اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ میرا پیغام پہنچائیں کہ میں ان کے مطابق ہی فیصلے کروں گا۔'

تاہم نوید الہی کے مطابق آج سے تیس سال پہلے اگر ہائی کورٹ کا جج تعینات ہونا ہوتا تو آئی بی اپنا اِن پٹ دیتی تھی۔ یہ معاملہ آئی ایس آئی کو دینے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔'

کس کی معلومات کو فوقیت ملے گی؟

تو اگر دیگر انٹیلجنس ادارے کسی افسر کو کلیئر کر دیں اور آئی ایس آئی نہ کرے تو کس کی معلومات کو فوقیت دی جائے گی؟

اس سوال پر لیفٹننٹ جنرل امجد شعیب کہتے ہیں کہ آخری فیصلہ تو سول حکومت میں موجود سربراہ کا ہی ہو گا۔

'وزیراعظم حتمی فیصلہ کریں گے اور آئی ایس آئی اس معاملے پر کچھ نہیں کر سکتی، وہ صرف معلومات دے سکتی ہے کہ فلاں شخص اس عہدے کے موزوں نہیں ہے۔ البتہ مستقبل میں آئی ایس آئی اپنی ان معلومات کو استعمال ضرور کر سکتی ہے۔‘

لیکن نوید الہی سمجھتے ہیں کہ اس نوٹیفکیشن کے بعد تمام انٹیلجنس ایجنسیوں کی معلومات پر فوقیت آئی ایس آئی کو حاصل ہو گی۔

وہ کہتے ہیں کہ 'اب تو آئی ایس آئی کو پاور اور اختیار دے دیا گیا ہے اور اب کسی کی تعیناتی ترقی وغیرہ پر حتمی معلومات آئی ایس آئی کی ہی ہوں گی۔'

`آیس آئی کو بھی سویلین انتظامیہ کے زیر سپرد بھی ہونا چاہیے اور پارلیمنٹ کو جوابدہ بھی‘

دوسری جانب اس حوالے سے نوٹیفکیشن سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر سول بالادستی کا سوال اٹھایا گیا وہاں وزیراعظم کے اس فیصلے پر کھل کر تنقید بھی دکھائی دے رہی ہے۔

مسلم لیگ ن کے ہی سینیئر رہنما پرویز رشید نے وزیراعظم کے فیصلے پر اپنے تبصرے میں ایک مطالبہ بھی کیا ہے۔

آئی ایس آئی، پرویز رشید

،تصویر کا ذریعہTwitter

ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ `اگر سویلین افسروں کی چھان بین کا فریضہ آئی ایس آئی کی ذمہ داریوں میں شامل کیا جاتا ہے تو پھر آئی آیس آئی کو بھی سویلین انتظامیہ کے زیر سپرد بھی ہونا چاہیے اور پارلیمنٹ کو جوابدہ بھی۔‘

ماضی میں حکومت نے آئی ایس آئی کو سول حکومت کے ماتحت کی گئی کوششوں کا نتیجہ کیا ہوا؟

ماضی میں دو بار ایسی کوشش کی گئی کہ آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت لایا جائے۔ ایسا پہلی بار 1990 میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں ایسا ہوا جب ایک ریٹائرڈ جنرل کو آئی آیس آئی کا سربراہ مقرر کیا گیا۔

دوسری بار اس ضمن میں 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے یہ فیصلہ کیا اور ایک نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا۔ اس وقت وزیر داخلہ رحمان ملک اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی تھے جو اس نوٹیفکیشن کے وقت برطانیہ کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔

اس بارے میں رحمان ملک نے وفات سے قبل بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ اور وزیراعظم لاعلم تھے اور برطانیہ پہنچتے ہی ائیرپورٹ پر انہیں اطلاع دی گئی کہ یہ نوٹیفکیشن کیسے جاری ہوا ہے۔

وزیراعظم نے اسی وقت اعلامیہ واپس لینے کا حکم دیا۔ اور یوں چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اس وقت کی حکومت نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس معاملے پر فوج سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ آئی ایس آئی کی زیادہ تر ذمہ داری ایکسٹرنل انٹیلجنس اکٹھی کرنے پر رہی ہے تاہم ذووالفقار علی بھٹو پہلے وزیراعظم تھے جنہوں نے اندرونی طور پر انٹیلجنس جمع کرنے کا مینڈیٹ آئی ایس اآئی کو دیا جس کا مقصد سیاستدانوں سے متعلق معلومات جمع کرنا تھا۔

ہیومن رائٹس

،تصویر کا ذریعہTwitter

ہیومن رائٹس پاکستان نے اپنی ٹویٹ میں وزیراعظم کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو جمہوری حیثیت سے آگے بڑھنا ہے تو سویلین معاملات میں فوج کے کردار کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔

عاقل

،تصویر کا ذریعہTwitter

دی آرمی اینڈ ڈیموکریسی: ملٹری پالیٹکس اِن پاکستان کے مصنف عاقل شاہ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ آئی ایس آئی سرکاری افسران کی سکریننگ معمول میں کرتی ہے۔ یہ بلینکٹ پالیسی صرف سول سروس کے گیٹ کیپر، واچ ڈاگ کے طور پر آئی ایس آئی کے کردار کو مضبوط کرے گی۔ سویلین بالادستی محض الفاظ ہیں۔

یوسف نذر نے حکومتی فیصلے کی خبر کو شئیر کرتے ہوئے کہا کہ ‘ حکومتی افسران کی جانچ کے لیے آئی ایس آئی کو لیگل کور دے دیا گیا ہے، اس نے ووٹ کو عزت دو کے نظریے کو موثر طور پر دفن کیا ہے۔‘

نزر

،تصویر کا ذریعہTwitter

صحافی معید پیرزادہ کی نظر میں آئی ایس آئی کے پاس علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اور بھی چیلنجز ہیں۔

انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ `شہباز شریف نے اس عجیب و غریب نوٹیفکیشن کے ذریعے سنہ 2014 سے اپنائے گئے پی ایم ایل این کے نطریے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ سول سوسائٹی میں `ملیٹرائزیشن ‘ کو بڑھایا ہے،آئی ایس آئی کو ایسے معاملات میں شامل کر لیا ہے جن سے اسے دور رکھنا چاہیے، آئی ایس آئی کے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پت پر چیلنجز ہیں اور اسے اپنی استعداد پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

معید پیرزادہ

،تصویر کا ذریعہTwitter