عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی: سیاسی جماعتوں اور ماہرین کی رائے

سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan

    • مصنف, عماد خالق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی سپریم کورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف لانگ مارچ کے دوران عدالت عظمیٰ کے بدھ کے روز دیے گئے فیصلے کے برعکس اقدامات کرنے پر وفاقی حکومت کی جانب سے توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی درخواست نمٹا دی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے جمعرات کو حکومتی درخواست کی سماعت کی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ عدالت کے حکم کے باوجود عمران خان نے اپنے کارکنوں کو سرینگر ہائی وے کی بجائے ڈی چوک پہنچنے کی تاکید کی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے استدعا کی گئی تھی کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ تحریک انصاف کو اسلام آباد میں جلسے کے لیے موزوں جگہ فراہم کی جائے، جلسہ گاہ کی سکیورٹی کا بندوبست کیا جائے اور راستے سے تمام رکاوٹیں ہٹائی جائیں۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ جلسے کے شرکا ریڈ زون میں داخل نہ ہوں اور سرکاری و نجی املاک کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچایا جائے۔

دوران سماعت ایک موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ممکن ہے کہ عمران خان کو (ان کی قانونی ٹیم کی جانب سے) غلط بتایا گیا ہو، سپریم کورٹ نے آئینی حقوق کا تحفظ کرنا ہے، ہمارے علم میں آیا ہے کہ جگہ جگہ آگ لگائی گئی، جلاؤ گھیراؤ کیا گیا، ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مسلسل مظاہرین پر شیلنگ کی۔

عمران خان

،تصویر کا ذریعہPTI

چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ پاکستان میں کل جو ہوا وہ افسوسناک ہے، کل جو کچھ ہوا اس سے عدالت کا سیاسی جماعتوں پر اعتماد ٹوٹا ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو پاکستان کی عوام کی طرف سونپی گئی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہیے، پی ٹی آئی کو مثال بننا چاہیے تھی، اور اگر ایسے چلتا رہا تو صورتحال مزید بگڑ جائے گی۔

عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست نمٹائے جانے کے بعد پاکستان کے سوشل میڈیا پر اس فیصلے کے بارے بھرپور بحث جاری ہے جس میں انتظامی امور میں عدلیہ کے فیصلوں پر رائے دی جا رہی ہے۔

سینیئر تجزیہ کار مظہر عباس چند حلقوں کی جانب سے پیدا کردہ اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے کہ عدلیہ کا جھکاؤ ایک جماعت کی طرف تھا تاہم ان کا ماننا ہے کہ میڈیا کی وجہ سے یقیناً سپریم کورٹ زیر اثر ہے۔

اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’سپریم کورٹ نے آج آبزرویشن دی کہ سیاسی جماعتوں کے رویے سے اعتماد کو دھچکا لگا ہے، اس سے عدالت کی مایوسی کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔‘ اُن کا کہنا تھا کہ عدالت نے ایچ نائن میں جلسہ کی جگہ کا تعین کیا تھا لیکن عمران خان ڈی چوک چلے گئے اور اگر توہین عدالت عائد ہوتی ہے تو حکومت نے بھی عدالت کی واضح ہدایت کے باوجود راہ میں رکاوٹیں ڈالیں اور شیلنگ کی۔

مظہر عباس کے مطابق ’ہر اداراہ پولرائزڈ ہے اور فیصلے کو فیصلے کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔ اگر فیصلہ بارہ بجے آتا ہے کسی کو فائدہ دیتا ہے توکہا جاتا ہے کہ فلاں کے خلاف ہے، اگر رات کو 11 بجے فیصلہ آتا ہے کہ کہا جاتا ہے کہ یہ قانون اور اصول کی جنگ ہے۔ اب جو حتمی تحریری فیصلہ آئے گا اس میں مستقبل کے دھرنوں کے حوالے سے پالیسی واضح ہو گی۔‘

دوسری جانب حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما محسن شاہنواز رانجھا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ توقع نہیں تھی کہ حکومت کی (توہین عدالت کی) درخواست کو یوں نمٹا دیا جائے گا۔‘

عدالت کی مس کمیونیکیشن سے متعلق آبزرویشن پر بات کرتے ہوئے محسن رانجھا نے کہا ’اگر وزرات داخلہ سے عمران خان کے ساتھ کنٹینر پر موجود افراد کی سی ڈی آر نکلوا لی جاتی تو اس سے یہ علم ہو جاتا کہ ان کی لوکیشن کیا تھی اور ان کیا ان کے موبائل نمبر چل رہے تھے۔ تاکہ یہ یقینی بنایا جاتا کہ پی ٹی آئی کے ان رہنماؤں کے موبائل نبمر چل رہے تھے اور انھیں سپریم کورٹ کے فیصلے کے متعلق اطلاع کر دی گئی تھی۔‘

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس ٹیکنالوجی کے دور میں جب تمام وسائل موجود ہیں تو سپریم کورٹ کا اس فیصلے پر پہنچنا میرے لیے تعجب کا باعث ہے۔‘

محسن شاہ نواز کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کے حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی جس طرح سے کی گئی وہ سب کے سامنے موجود ہے۔ جس طرح عدالتی احکامات کی خلاف ورزی میں ڈی چوک پہنچا گیا، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، آگ لگا کر دہشت پھیلائی گئی، میرے خیال میں یہ سب سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی تھی۔ لیکن معزز عدالت کا فیصلہ ہے لہذا اس پر مزید تبصرہ نہیں کر سکتا۔‘

’جو سب کو دکھ رہا ہے وہ مجھے بھی دکھ رہا ہے اور پاکستانی عوام اس درخواست پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی توقع کر رہی تھی لیکن اس طرح کے فیصلے کچھ شکوک و شبہات کو جنم دے رہے ہیں۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور اس درخواست پر پارٹی کے وکیل بابر اعوان نے بی بی سی سے بات سے کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے حکومت کی درخواست کو ’انٹرٹین‘ ہی نہیں کیا۔

بابر اعوان نے عدالتی ریمارکس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عدالت نے یہ نہیں کہا کہ عمران خان کو عدالتی فیصلے سے متعلق غلط بتایا گیا ہو، بلکہ بات اس طرح سے کی گئی کہ ایک شخص سے دوسرے اور پھر تیسرے شخص تک بات اگر پہنچے تو اس میں کچھ کمی بیشی ہو جاتی ہیں، لہذا گزشتہ روز رابطے کی کمی تھی کیونکہ لیڈرشپ یہاں نہیں تھی۔‘

سپریم کورٹ کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’عدالتی فیصلے میں نقل و حمل کی آزادی اور آزادی اظہار رائے کو مزید تقویت دی گئی ہے اور آئین کی بالادستی ہوئی ہے۔‘

لاہور

،تصویر کا ذریعہEPA

ان کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کا اس درخواست کو نمٹا دینے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے بطور ملک کے سب سے بڑے ثالثی ادارہ کے اختیارات کے عین مطابق ہے۔‘

پی ٹی آئی کے وکیل کی جانب سے اظہار رائے کے حق اور آزادئ نقل و حمل کے بیان پر بات کرتے ہوئے مسلم لیگ کے محسن رانجھا کا کہنا تھا کہ ’آئین میں زندگی اور املاک کے تحفظ کا حق آزادی اظہار رائے سے زیادہ بڑا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسی صورتحال میں سپریم کورٹ میں آنے والے وقت میں مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ مستقبل میں جب بھی توہین عدالت ہوا کرے گی تو اس طرح کے فیصلوں کی مثال دی جائے گی۔‘

بابر اعوان نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے سپریم کورٹ میں کسی توہین عدالت کی درخواست کا نہیں کہا کیونکہ عدالت عظمیٰ میں توہین عدالت کی جو درخواست دی جاتی ہے اس کا عنوان ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں کوئی بھی درخواست بغیر قانونی عنوان کے دائر نہیں کی جا سکتی یہ کوئی اسمبلی کی قرار داد نہیں کہ جو چاہیں لے آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں اگر توہین عدالت سے متعلق کوئی درخواست جمع کروائی جائے تو اس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ ’اسے توہین عدالت آرڈیننس 2002 کے ساتھ پڑھا جائے۔‘

قانونی ماہر اور سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا سپریم کورٹ کی جانب سے توہین عدالت کی حکومتی درخواست نمٹائے جانے پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’سب سے پہلی بات یہ ہے کہ امن و امان سے متعلق معاملات حکومت وقت کے حل کرنے کے ہیں، عدالتوں کو اس چیزکا اختیار نہیں ہے کہ وہ ایگزیکٹیو اُمور کو اپنے ذمہ لے لیں۔‘

سپریم کورٹ کی جانب سے حکومتی درخواست نمٹائے جانے پر سابق اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالت کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ عدالتوں کو اس طرح کے تنازعات سے بچنا چاہیے اور اس طرح کے معاملات سے خود کو دور رکھنا چاہیے۔

سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی نے اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو عدالت کا حکومتوں اور سیاست کے حوالے سے ایک کردار رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر گزشتہ 24 گھنٹوں کا جائزہ لیا جائے تو ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے معاملات ایک بار پھر اداروں کے سپرد ہو گئے ہیں، پاکستانی اداروں کو بنیادی اور بڑے فیصلے خود کرنے پڑ رہے ہیں اس کی وجہ پاکستان کی سیاسی قوتوں میں موجود ڈیڈ لاک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ملکی سیاسی قوتوں میں ڈیڈ لاک پیدا ہو جائے تو ملکی فیصلے اداروں خصوصاً عدالت کے پاس جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ کو یہ کریڈٹ دینا چاہیے کہ اس نے ہمیشہ پاکستان کی سیاسی قوتوں کو ریلیف دیا ہے۔ 'ماضی میں جب حکومتوں نے عدالت عظمیٰ کو ٹارگٹ بھی کیا تب بھی سپریم کورٹ نے انھیں ریلیف دیا۔ لہذا ایسا تاثر بننا مناسب نہیں ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے بدھ کے روز جاری کردہ احکامات سے اسلام آباد میں بے چینی اور غیر یقینی کی صورتحال کی نفی ہوتی نظر آ رہی تھی لیکن اس کے برعکس عمران خان نے ایسا اقدام جان بوجھ کر اٹھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں عمران خان کو ریاستی اداروں کی مدد حاصل رہی ہے لیکن سیاستدانوں کو عدالتی فیصلے پر تبصرہ کرنے کی بجائے اپنے درمیان موجود ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

سپریم کورٹ کے سینیئر رپورٹر عبدالقیوم صدیقی کہتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست گزشتہ روز کے سپریم کورٹ کے احکامات کی بنیاد پر تھی جس میں پی ٹی آئی کی جانب سے جلسہ کے مقام کو طے کرنے اور اس کی پاسداری کی یقین دہانی کروانے، سیاسی درجہ حرارت کو نیچے لانے اور اپنے ورکروں کو ڈس انگیج کرنے کا کہا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'آج سب سے حیرت کی بات یہ تھی کہ تین رکنی بنچ سے پانچ رکنی بنچ کیسے بن گیا، دوسرا یہ کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کے وکلا جنھوں نے یقین دہانی کروائی تھی، ان سے کوئی سوال نہ کرنا اور عدالت کا یہ کہنا کہ کوئی مس کمیونیکشن ہوئی ہوگی کہ عمران خان نے ڈی چوک کا اعلان کر دیا اور بنچ کی جانب سے کارکنان کے جذباتی ہونے اور سیاسی قیادت کے موجود نہ ہونے سے متعلق جواز فراہم کرنا۔'