پانچ دہائیوں پرانے مقدمے میں گرفتاری: شیریں مزاری کو رہائی مل گئی، اسلام آباد ہائی کورٹ کا عدالتی تحقیقات کا حکم

،تصویر کا ذریعہtwitter
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان تحریک انصاف کی سینیئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شیریں مزاری کو رات گئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے پیش کیا گیا جہاں انھوں نے عدالت کو اس واقعے کی تفصیلات بتائیں۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے تحریک انصاف کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت جوڈیشل انکوائری کے لیے ٹی او آر عدالت میں جمع کروائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ شریں مزاری کی گرفتاری غیر قانونی طریقے سے کی گئی۔ عدالت نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو حکم دیا کہ وہ شریں مزاری کا فون اور دیگر اشیا بازیاب کروائیں۔
شریں مزاری کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا
ستاون سیکنڈز کی ایک ویڈیو جس میں پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری اسلام آباد میں خواتین پولیس اہلکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے سوال کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ’تم کون ہو مجھے گرفتار کرنے والے۔۔۔۔ نہیں مجھے ہاتھ مت لگاؤ۔۔۔ میرا فون مت لو۔۔۔‘
جواب میں وہاں موجود خاتون پولیس اہلکار جو انھیں شاید گاڑی سے باہر لانا چاہتی ہیں انھیں کہتی ہیں ’ریلیکس‘ اور پھر ایک مرد پولیس اہلکار کہتا ہے ’میڈیم آپ باہر آ جائیں کوئی ایشو نہیں۔ ہم بات کر سکتے ہیں‘ جس پر شیریں مزاری کہتی ہیں کیوں؟
اور پھر وہ باہر نکل آتی ہیں اور پھر سنائی دیتا ہے ’لے آئیں لے آئیں‘ اور فوٹیج میں خواتین اہلکار انھیں دائیں بائیں سے پکڑ کر دوسری جانب لے جاتی ہیں۔
یہ واقعہ سنیچر کی دوپہر کا ہے جب پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کو وفاقی دارالحکومت میں محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم نے اسلام آباد پولیس کی مدد سے تھانہ کوہسار کی حدود میں گرفتار کیا۔
شیریں مزاری کو گرفتار کیوں کیا گیا؟
سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کو ان کے خلاف صوبہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں درج ایک مقدمہ میں گرفتار کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مقدمے کی بنیاد محکمہ اینٹی کرپشن کی ایک رپورٹ ہے جس میں شیریں مزاری کو 800 کنال اراضی غیر قانونی طریقے سے ایک ایسی کمپنی کو منتقل کرنے کا ملزم ٹھہرایا گیا ہے جو مبینہ طور پر وجود نہیں رکھتی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ مقدمہ جو 11 اپریل کو درج کیا گیا تھا، دراصل موضع کچہ میانوالی 2 روجھان کی جمع بندی برائے سال 1971-72 کے حوالے سے ہے۔
بی بی سی کو موصول ہونے والی دستاویز کے مطابق اس پر اسسٹنٹ کمشنر روجھان نے ایک تحقیقاتی رپورٹ جمع کروائی جس کی روشنی میں 11 اپریل کو دو پٹواریوں سمیت شیریں مزاری اور دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
اسلام آباد میں پولیس مانیٹرنگ سسٹم کے مطابق صبح نو بجے ڈیرہ غازی خان سے اینٹی کرپشن کی ٹیم شیریں مزاری کو گرفتار کرنے پہنچی تھی۔
ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹی گیشن اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اے ایس آئی فریال احمد نے اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں مقدمہ نمبر 5/22 کے تحت شیریں مزاری کی گرفتاری کے لیے اسلام آباد پولیس کی مدد طلب کی۔
گرفتاری کے بعد یہ ٹیم مقامی عدالت سے راہداری ریمانڈ لے کر اُنھیں ڈی جی خان لے جانے لگی۔

،تصویر کا ذریعہtwitter
’والدہ کو کچھ ہوا تو حکومت کو چھوڑوں گی نہیں‘
شیریں مزاری کی گرفتاری کی خبر فوراً ہی مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر آ گئی اور ان کی بیٹی اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری نے والدہ کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ’مرد پولیس افسران نے ان کی والدہ پر تشدد کیا اور انھیں گھر سے حراست میں لے کر چلے گئے۔‘
انھوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’مجھے بتایا گیا ہے کہ اینٹی کرپشن ونگ لاہور نے انھیں حراست میں لیا۔‘
شیریں مزاری کی گرفتاری کے فوراً بعد پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کا رخ کیا اور پارٹی کے تمام کارکنوں کو تھانہ کوہسار پہنچنے کی ہدایات کر دی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
تھانہ کوہسار کے باہر پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا پر اپنی والدہ شیریں مزاری کی گرفتاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میری والدہ کو غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے اغوا کیا گیا۔‘
اُنھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ اپنی والدہ کی حراست کے لیے گرفتاری کا لفظ استعمال نہیں کریں گی کیونکہ گرفتاری کی صورت میں گھر والوں کو بتایا جاتا ہے کہ اس شخص کا کیا جرم ہے۔‘
جبکہ پی ٹی آئی نے بھی شریں مزاری کی گرفتاری پر ملک بھر میں احتجاج کی کال دی اور اپنے کارکنوں سے ملک کے مختلف شہروں میں نکل کر اس گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے کا کہا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں شیریں مزاری کو رات ساڑھے 11 بجے پیشی
شیریں مزاری کی بیٹی اور وکیل ایمان مزاری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنی والدہ کی پولیس گرفتاری سے متعلق ایک درخواست دائر کی۔ جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ ان کی والدہ کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا، جس کے بعد پنجاب پولیس نے انھیں غیر قانونی طور پر ’لاپتہ‘ کیا۔
اس درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سیکریٹری داخلہ کو حکم دیا کہ وہ شیریں مزاری کو سنیچر کی شب ساڑھے 11 بجے عدالت کے روبرو پیش کریں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے مختصر سماعت کے بعد رہنما پاکستان تحریک انصاف شیریں مزاری کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انھیں فوری طور ہر رہا کرنے اور وفاقی حکومت کو اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ آمد کے موقع پر شریں مزاری نے الزام عائد کیا کہ انھیں وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی ایما پر گرفتار کیا گیا۔
شیریں مزاری کی گرفتاری کے بعد اسلام آباد کی مرکزی شاہراہ سرینگر ہائی وے پر ہر چند گز کے فاصلے پر رینجرز اہلکار موجود کھڑے دکھائی دیے۔ اس وقت پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد سمیت ملک کے دوسرے علاقوں میں احتجاج کے کال دی جا چکی تھی۔
عدالت سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب نے رہائی کا حکم جاری کیا تھا
اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری پر ان کی فوری رہائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ’شیریں مزاری بطور خاتون قابل احترام ہیں، ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی خاتون کی گرفتاری معاشرتی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اُنھوں نے کہا کہ شیریں مزاری کو گرفتارکرنے والے اینٹی کرپشن عملے کے خلاف تحقیقات ہونی چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیش اور تحقیقات میں گرفتاری ناگزیر ہے تو قانون اپنا راستہ خود بنا لے گا۔
اُنھوں نے کہا کہ وہ شیریں مزاری کی گرفتاری کے عمل سے اتفاق نہیں کرتے اور مسلم لیگ (ن) بحیثیت سیاسی جماعت خواتین کے احترام پر یقین رکھتی ہے۔

شیریں مزاری کون ہیں؟
شیریں مہرالنسا مزاری نے سنہ 2013 میں پہلی بار قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشست حاصل کی۔ اس سے قبل وہ شعبہ تدریس اور صحافت سے منسلک تھیں۔
انھوں نے سنہ 2008 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ وہ انگریزی اخبار دی نیشن کی مدیر اعلیٰ بھی رہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری ٹی وی پر 90 کی دہائی میں اور پھر سنہ 2008 کے بعد انھیں پروگرام اینکر کے طور پر کام کرنے کا موقع بھی ملا۔
وہ ملک کے معروف تعلیمی ادارے قائد اعظم یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر کام کرتی رہیں اور بعد میں یونیورسٹی کے ڈیفینس اینڈ سٹریٹیجک ڈیپارٹمنٹ میں چیئرپرسن بھی رہیں۔
وہ پی ٹی آئی کی انفارمیشن سیکریٹری اور ترجمان کی حیثیت سے کام کرتی رہی ہیں تاہم ایسا موقع بھی آیا جب ایک بار انھوں نے پارٹی سے استعفیٰ بھی دیا۔ لیکن بعد میں پھر پارٹی میں شامل ہو گئیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں انھیں وزیر برائے انسانی حقوق کا قلمدان سونپا گیا۔

،تصویر کا ذریعہPMLN
مریم نواز کا شریں مزاری کی گرفتاری پر ردعمل
پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شریں مزاری کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’مجھے شیریں مزاری کی گرفتاری پر خوشی نہیں ہوئی۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ان پر یہ مقدمہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی حکومت میں قائم ہوا، 800 کنال کی اراضی جو حکومت کی ہے محکمہ مال کی ہے میں کرپشن کی گئی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہپولیس
سامنے آنے والی دستاویزات پر بات کرتے ہوئے عمران ایڈووکیٹ نے چند اہم نکات کی وضاحت کچھ یوں کی:
- یہ کیس 50 سال پرانا ہے اور تب کا جب شیریں مزاری کی عمر 6 برس ہو گی۔ وہ کمسن تھیں اور اتنے پرانے کیس میں ان کو گرفتار کرنا بدنیتی سے خالی نہیں لگتا۔ اگر گرفتاری ہو بھی تو خواتین کو تو فوری طور پر ضمانت ملتی ہے۔
- اس رپورٹ میں کہیں کوئی شواہد نہیں دیے گئے کہ شیریں مزاری نے اس معاملے میں کوئی جعلسازی کی ہو یا اس عمل کا کوئی گواہ ہو۔ انھیں فوجداری مقدمے میں ملزم نہیں بنایا جا سکتا جب تک کہ وہ خود جرم کا ارتکاب نہ کریں۔
- یہ ایک دیوانی نوعیت کا مقدمہ معلوم ہوتا ہے جسے زبردستی فوجداری مقدمے میں تبدیل کیا گیا۔











