ویگو: ٹویوٹا کا پک اپ ٹرک پاکستان میں ’بدنام‘ کیوں؟

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK
- مصنف, عمیر سلیمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں ٹوئٹر پر ’ویگو‘ کا ہیش ٹیگ اور اس کے تحت کی جانے والی ٹویٹس دیکھ کر شاید آپ کے ذہن میں یہ معصومانہ سوال آئے کہ بھلا اس بے پناہ افادیت کے حامل پک اپ ٹرک سے گھبرانے کی کیا بات ہے؟
مگر پاکستانی سوشل میڈیا پر اس وقت لفظ ’ویگو‘ ٹرینڈ کر رہا ہے اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس پک اپ ٹرک کا کوئی نیا ماڈل مارکیٹ میں آ رہا جس کے فیچرز جاننے کے لیے لوگ بے قرار ہیں۔
عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور ان کے وزیر اعظم نہ رہنے پر ان کی جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے گذشتہ روز احتجاجی مظاہرے کیے تو اس دوران ایک پلے کارڈ نے کافی مقبولیت حاصل کی۔
انسانی حقوق کی سابق وزیر شیریں مزاری کے لیے بھی یہ پلے کارڈ اُن کا فیورٹ تھا جس پر لکھا تھا کہ ’اتنی ویگو کہاں سے لاؤ گے؟‘
یہ پیغام کس کے لیے تھا، یہ تو نہیں بتایا گیا مگر کالی ویگو کا حوالہ اس قدر بڑھ گیا کہ یہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرنے لگا اور پی ٹی آئی کے بعض حمایتیوں نے ایک دوسرے کو ویگو سے محتاط رہنے کا بھی مشورہ دیا۔
ویگو آخر ہے کیا؟
یہ نام ویگو پہلی بار اس وقت سامنے آیا جب ٹویوٹا نے اپنے معروف پک اپ ٹرک ’ہائیلکس‘ کی ساتویں جنریشن 2004 میں سب سے پہلے تھائی لینڈ میں متعارف کرائی۔
ٹویوٹا ہائیلکس 1968 میں متعارف کروایا گیا تھا اور یہ نام 'ہائی' اور 'لگژری' کو ملا کر بنایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
مضبوطی اور کمفرٹ کی علامت سمجھا جانے والا ’ویگو ڈالا‘ کم از کم 140 ملکوں میں فروخت ہوتا ہے۔ پاکستان میں ویگو سنہ 2010 کے بعد متعارف کروایا گیا لیکن ترقی یافتہ ممالک کے برعکس پاکستان میں اس کے زیادہ تر خریدار عام لوگ یا شہری نہیں تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عرصہ دراز تک ٹویوٹا آئی ایم سی پک اپ ٹرک بنانے میں پاکستان کی واحد کمپنی رہی ہے اور مقامی سطح پر تیار ہونے والی اس گاڑی کو اکثر سرکاری پروٹوکولز اور اہم شخصیات کے سکیورٹی قافلوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ٹویوٹا کی ’بدنام‘ گاڑیوں میں سے ایک
چاہے بات ’ویگو ڈالے‘ کی ہو یا لینڈ کروزر کی، ٹویوٹا کی یہ رف اینڈ ٹف گاڑیاں آف روڈنگ کے لیے بہترین سمجھی جاتی ہیں۔ اور کسی جیپ میں اتنی رفتار نہیں جتنی اس 2.7 لیٹر انجن کی گاڑی میں ہے جو 100 ایچ پی ہارس پاور پیدا کرتا ہے۔
وسیع پیمانے پر بکنے والے ان پرانے ماڈلز کے سپیئر پارٹس عالمی سطح پر ہر جگہ ہی دستیاب ہوتے ہیں اور ان کی مرمت عام اوزاروں سے کی جا سکتی ہے کیونکہ ان میں کوئی پیچیدہ الیکٹرانک سسٹم نہیں۔
اور سب سے بڑھ کر اِن کی فیول اکانومی بھی کچھ زیادہ بُری نہیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہTWITTER
شاید یہی وجہ ہے کہ ویران یا گنجان دونوں طرح کے علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ویگو ڈالے سے بھرپور فائدہ حاصل کرتے ہیں۔
مگر اکثر جو چیز دفاع کے لیے استعمال ہوتی ہے وہ کسی کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔۔۔
چاڈ اور لیبیا کی سرحد پر ہونے والی لڑائی کو ’ٹویوٹا وار‘ کا نام دیا گیا تھا کیونکہ اس دوران جنگجوؤں کے پاس ٹویوٹا کے لائٹ پک اپ ٹرکس تھے جن کی مدد سے وہ حملے کرتے اور حملے روکتے تھے۔
سینٹر فار امریکن سکیورٹی کے اینڈریو ایگزم نے نیوز ویک کو بتایا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے پاس ہر جگہ یہ پک اپ ٹرک نظر آتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ 'اے کے 47 کی برابری کی گاڑی ہے۔‘
یہی وجہ تھی کہ اقوام متحدہ میں سابق امریکی سفیر مارک والس نے تسلیم کیا تھا کہ ’افسوس کی بات ہے کہ ٹویوٹا لینڈ کروزر اور ہائیلکس آئی ایس آئی ایس (نام نہاد دولت اسلامیہ) کے برانڈ کا حصہ بن گئے ہیں۔‘
ٹویوٹا نے امریکی حکام کو بتایا تھا کہ ان گاڑیوں کا پراملٹری یا دہشتگردی کی کارروائیوں میں استعمال روکنے کے حوالے سے سخت پالیسی مرتب کی گئی ہے۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں انتہا پسند گروہوں کے پاس انھی پک اپ ٹرکس کے بیڑے دیکھے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK
پاکستان میں ’خوف کی علامت‘
ٹویوٹا ہائی لکس کو پاکستان میں عموماً ویگو کے نام سے پکارا جاتا ہے اور اب یہاں اس کی ایک بڑی مارکیٹ ہے۔
مگر اس کے ساتھ ایک خوف کا عنصر جڑا ہوا ہے کیونکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی اداروں کی کئی رپورٹس میں متاثرین کی جانب سے یہ دعوے کیے گئے کہ شہریوں کے خلاف ہونے والے مبینہ جرائم میں یہ ویگو ڈالے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔
بلوچستان میں ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنزکے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کے مطابق بلوچستان سے لوگوں کی جبری گمشدگیوں کے واقعات کے لیے جو گاڑیاں استعمال ہوتی رہی ہیں ان میں ویگو گاڑیاں شامل رہی ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کالی شیشوں والی یہ ویگو گاڑیاں زیادہ تر بغیر نمبر پلیٹ ہوتی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ان کے بڑے بیٹے جلیل ریکی کو جب جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تو ان میں دیگر گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ایک ویگو گاڑی بھی شامل تھی۔
ٹوئٹر پر بھی بعض افراد کے میمز سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ انھیں کسی کالی ویگو کی آمد کا خوف ہے۔ جیسے سعیدہ صدیق نامی صارف نے ایک ساتھی کو متنبہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’کالی ویگو آ جائے گی بھائی۔‘
صارف شہباز قاسمانی نے پیشگوئی کی ہے کہ ’ملک میں کالے ویگو کا بحران ہونے والا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER
’ویگو سے بچنے کا طریقہ‘
اور پاکستان میں گذشتہ رات ویگو سے شروع ہونے والی بات یہیں تک محدود نہیں رہی۔ سماجی کارکن گلالئی اسماعیل نے اپنے ’چار سال کے تجربے کی بنیاد پر‘ نوجوانوں کو ویگو سے بچنے کے لیے کچھ حفاظتی اقدامات بھی بتا دیے ہیں۔
ان کی تجویز ہے کہ ’گھر میں کیمرے لگوائے، اور اس کی میموری ڈسک کسی خفیہ جگہ لگائیں۔ اٹھائے جانے کی صورت میں فوراً فوٹیح پبلک کریں۔‘
ان کے مطابق ویڈیو بہترین ثبوت ہے۔ ’جہاں ممکن ہو کوشش کریں کہ موبائل سے ویڈیو بنائیں۔ فورا پولیس میں رپورٹ لکھوائیں، ایف آئی آر نہ لی جائے تو بھی بضد رہیں، کم از کم روزنامچہ لکھوائیں۔ اور ٹوئٹر ٹرینڈ چلانا تو آپ کو خود آتا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
گلالئی کہتی ہیں کہ 'لوگ آپ کو گالیاں دیں گے کہیں گے کہ آپ یہ سب بیرون ملک شہریت کے حصول کے لیے کر رہے ہیں۔ کوئی کہے گا کہ شہرت کے لیے، شاید کوئی ایجنسیوں سے بھی جوڑیں، لیکن یاد رکھیے گا کہ جب آپ کا کوئی پیارا ویگو میں اٹھایا جا چکا ہو تو آپ نے توجہ صرف اس کی بازیابی پر رکھنی ہے۔ گالیوں، طعنوں اور کردار کشی کی فکر نہیں کرنی۔‘













