فرانسیسی حکومت کے احتجاج کے بعد شیریں مزاری کو ٹویٹ ہٹانا پڑی

فرانس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

فرانس کی طرف سے شدید احتجاج سامنے آنے کے بعد پاکستان کی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کے بارے میں ٹوئٹر پر جاری کیا گیا ایک بیان حذف کر دیا ہے۔

فرانس کی وزارتِ خارجہ نے پاکستانی حکام سے شیریں مزاری کے اس بیان کی تصحیح کا مطالبہ کیا تھا جس میں انھوں نے صدر ایمانویل میکخواں کے فرانسیسی مسلمانوں کے ساتھ سلوک کو دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں کے یہودیوں سے روا رکھے گئے سلوک سے تشبہیہ دی تھی۔

پاکستان میں فرانسیسی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ میں شامل وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کے الفاظ کو فرانسیسی صدر اور ملک کے لیے انتہائی توہین آمیز اور شرمناک قرار دیتے ہوئے، اس بیان کی تصحیح کرنے اور بات چیت کی راہ اختیار کرنے کا کہا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’یہ گھٹیا الفاظ سراسر جھوٹ ہیں جو نفرت اور تشدد کے نظریات پر مبنی ہیں۔ اتنے ذمہ درانہ عہدے پر رہنے والی شخصیت کی جانب سے ایسے تبصرے انتہائی شرمناک ہیں اور ہم ان کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔‘

بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انھوں نے پاکستان کے حوالے سے فرانس میں موجود متعلقہ محکمے کو انتہائی سخت سے سخت الفاظ میں اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فرانس

،تصویر کا ذریعہTwitter/@FranceinPak

بی بی سی نے اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری سے رابطہ کرنے کی بارہا کوشش کی لیکن اس خبر کے شائع ہونے تک ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

دریں اثنا انھوں نے اپنی ٹویٹ ہٹا دی ہے اور اس حوالے سے لکھا ہے کہ ’پاکستان میں فرانسیسی سفیر نے مجھے ایک پیغام بھیجا ہے جس میں لکھا ہے کہ جس مضمون کا میں نے حوالہ دیا تھا، متعلقہ ویب سائٹ نے اس میں تصحیح کر دی ہے۔‘

جس کے جواب میں فرانسیسی سفارت خانے نے انھیں جواب دیا کہ ’اصلاح اور معذرت کے لیے آپ کا شکریہ۔ جمہوریتوں میں آزادیِ اظہار اور مباحثے ضروری ہیں تاہم انھیں توثیق شدہ اور درست حقائق پر مبنی ہونا چاہیے۔‘

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بی بی سی کی طرف سے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ’شیریں مزاری نے اپنی ٹویٹ ہٹا دی ہے لہذا ہمارا موقف اب وہی ہے جو شیریں مزاری نے اپنی حالیہ ٹویٹ میں لکھا ہے۔‘

شریں

،تصویر کا ذریعہ@ShireenMazari1

یاد رہے گذشتہ ہفتے فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے فرانس کے مسلم رہنماؤں سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ 'جمہوری اقدار' کے چارٹر سے اتفاق کریں جو کہ فرانس میں انتہا پسند اسلام کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔

بدھ کو فرانسیسی صدر نے فرینچ کونسل آف مسلم فیتھ (سی ایف سی ایم) کو 15 دن کی مہلت دی کہ وہ اس عرصے میں فرانس کے وزارت داخلہ کے ساتھ کام کریں۔

سی ایف سی ایم نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ نیشنل کونسل آف امام قائم کرے گی جو کہ ملک میں مساجد میں اماموں کی تقرری کے لیے باضابطہ اجازت نامے جاری کرے گی اور ان اجازت ناموں کو واپس بھی لے سکے گی۔

یہ فیصلے ملک میں گذشتہ چند ہفتوں میں ہونے والے تین حملوں کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں انتہا پسند اسلام کا پرچار کرنے والے افراد ملوث تھے۔

اس چارٹر میں درج ہوگا کہ ’اسلام ایک مذہب ہے، نہ کہ سیاسی تحریک اور فرانس میں مسلم گروہوں میں ’بیرونی مداخلت‘ پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

بدھ کو ہی فرانس کے صدر اور ان کے وزیر داخلہ گیرالڈ ڈارمانن نے سی ایف سی ام کے آٹھ رہنماؤں سے ملاقات کی۔

فرانس کے اخبار لے پیریرزین کو ذرائع نے بتایا کہ ’دو رہنما اصول اس منشور میں واضح طور پر درج ہوں گے اور وہ یہ ہیں کہ سیاسی اسلام اور بیرونی مداخلت قطعی نامنظور ہیں۔‘

شریں

،تصویر کا ذریعہ@ShireenMazari1

اس کے علاوہ فرانسیسی صدر نے مزید اقدامات کا اعلان کیا جس کے تحت وہ ملک میں ’اسلام پسند علیحدگی‘ کا مقابلہ کریں گے۔ ان اقدامات میں ایک ایسا بِل شامل ہے جو انتہا پسندی کے خلاف ہے اور اس میں درج ذیل قوانین ہیں:

  • گھر پر پڑھانے پر پابندی اور ان لوگوں کے لیے سخت سزائیں جو سرکاری ملازمین کو مذہبی بنیادوں پر ڈرائیں دھمکائیں
  • بچوں کو شناختی نمبر دینا جس کے تحت اس بات کی نگرانی کی جا سکی گی کہ وہ سکول جا رہے ہیں۔ جو والدین قانون کی خلاف ورزی کریں گے ان پر بھاری جرمانے لگائے جائیں گے اور چھ ماہ کی جیل بھی ہو سکتی ہے
  • ایسی ذاتی معلومات کی ترسیل پر پابندی جو کسی شخص کی ذات کے لیے خطرہ بن سکتی ہوں اور دشمن عناصر ان معلومات کو استعمال کر کے اس شخص کو نقصان پہنچا سکتے ہوں

وزیر داخلہ ڈارمانن نے کہا کہ ’ہمیں اپنے بچوں کو سخت گیر اسلام پسندوں کے چنگل سے بچانا ہوگا‘۔

یہ بل فرانسیسی کابینہ میں نو دسمبر کو پیش کیا جائے گا۔

یاد رہے فرانسیسی استاد سیموئیل پیٹی کو گذشتہ ماہ ان کے سکول کے باہر قتل کر دیا گیا تھا اور اس سے قبل ان کے خلاف انٹرنیٹ پر مہم بھی چلائی گئی تھی۔

ضرار

،تصویر کا ذریعہ@ZarrarKhuhro

وفاقی وزیر اور فرانسیسی سفارت خانے کے مابین ٹویٹر پر نوک جھوک

’دی مسلم وائب‘ نامی ویب سائٹ نے اوپر بیان کیے گئے اقدامات کو غیر مبہم الفاظ میں اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا اور گذشتہ روز پاکستان کی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اسی خبر کو شئیر کرتے ہوئے تبصرہ کیا جو بعد میں انھیں حذف کرنا پڑا۔

شیریں مزاری نے مزید لکھا ’مسلمان بچوں کو اسی طرح کپڑوں کے اوپر شناختی نمبر پہننے پر مجبور کیا جائے گا جیسے یہودیوں کو پیلے رنگ کا ستارہ پہننے پر مجبور کیا گیا تھا۔‘

پہلے تو پاکستان میں موجود فرانسیسی سفارت خانے نے وفاقی وزیر کی اسی ٹویٹ کو فیک نیوز اور بہتان قرار دیا۔ جس پر شیریں مزاری نے اگلے دن ایک اور ٹویٹ میں انھیں مذکورہ آرٹیکل پڑھنے کا مشور دیتے ہوئے لکھا ’اگر یہ فیک نیوز ہے تو میری ٹویٹ کو فیک کہنے کے بجائے جہاں یہ خبر شائع کی گئی ہے، وہاں سے اسے ہٹوائیں۔‘

ساتھ ہی شیریں مزاری نے یہ بھی لکھا ’ویسے یہ تو بتائیے کہ عوامی مقامات پر راہباؤں کو سر ڈھکنے کی اجازت کیوں ہے جبکہ مسلمان عورتیں حجاب نہیں پہن سکتیں؟ کیا یہ امتیازی سلوک نہیں ہے؟‘

اس کے علاوہ شیریں مزاری نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ (جس میں کہا گیا تھا کہ فرانس جس آزادیِ اظہار کا پرچار کرتا ہے، دراصل وہاں اتنی آزادیِ اظہار نہیں) شئیر کرتے ہوئے فرانسیسی سفارت خانے کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا، اگر یہ رپورٹ بھی فیک ہے تو اس کا الزام ایمنسٹی پر لگائیں۔

شیریں مزاری کے ٹویٹر پر دیے گئے ان ہی بیانات کے ردِعمل میں فرانسیسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے اوپر دیا گیا بیان جاری کیا گیا ہے۔

یاد رہے گذشتہ ماہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے فرانس میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی تھی اور وفاقی کابینہ نے گستاخانہ خاکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس حوالے سے مسلمانوں کے جذبات کی موثر نمائندگی کے لیے ہر دستیاب فورم استعمال کرنے کا اعادہ کیا تھا۔

مشرف

،تصویر کا ذریعہ@mosharrafzaidi

ٹویٹر پر یہ نوک جوک صرف شیریں مزاری اور فرانسیسی سفارت خانے تک محدود نہیں رہی اور کئی پاکستانی صارفین اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں اور ایک ناختم ہونے والی بحث جاری ہے۔

مصنفہ فاطمہ بھٹو نے بھی اسی خبر کے حوالے سے ٹویٹ کیا ’میکخواں مسلمان بچوں کو قانون کے تحت ایک شناختی نمبر دینا چاہتے ہیں جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا کہ وہ سکول جا رہے ہیں؟‘

جس پر فرانس میں مقیم پاکستانی صحافی طحہ صدیقی نے ان سے پوچھا ’اس آرٹیکل میں کہاں لکھا ہے کہ یہ شناخت صرف مسلمان بچوں کو دی جائے گی؟‘

طحہ کا کہنا تھا کہ مغرب کے بیشتر ممالک کی طرح فرانس کے بھی اپنے ملک میں رہنے والی مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے ساتھ کشیدہ تعلقات ہیں (جس کی وجہ ماضی کا نوآبادیاتی نظام، جدید دور میں لڑی جانے والی جنگوں میں فرانس کی شرکت، نسل پرستی اور دائیں بازو کی سیاست کا عروج ہے)۔

انھوں نے فاطمہ کو کہا کہ اپنا نقطہ نظر سمجھانے کے لیے لوگوں کو گمراہ نہ کریں۔

فاطمہ

،تصویر کا ذریعہ@fbhutto

صحافی مشرف زیدی لکھتے ہیں فرانس، مسلمان بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کے حوالے سے پریشان نہیں ہے ’البتہ انھیں پریشانی ہے کہ کوئی ان کے اس سلوک کا موازنہ 1930 اور 1940 میں نازیوں کے یہودی بچوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک سے کرے گا۔‘

ساتھ ہی انھوں نے لکھا ’اگر فرانسیسی موازنہ پسند نہیں کرتے ہیں تو اس کی تصحیح کرنا فرانس پر ہے، ٹھیک ہے نا؟‘

ایک اور صارف نے لکھا ’شکر ہے شریں مزاری وزیرِ خارجہ یا سلامتی کی قومی مشیر نہیں ورنہ اب تک ہم آدھے درجن ملکوں کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہوتے۔‘