عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف پر فیصلے کے اثرات اور کیا یہ ایک طویل سیٹ بیک ثابت ہو سکتا ہے؟

پی ٹی آئی کے حامی (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency

،تصویر کا کیپشن(فائل فوٹو)
    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے متفقہ فیصلے دیتے ہوئے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کو مسترد کرنے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسمبلیاں بحال کرنے اور عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس نو اپریل کو طلب کرنے کا فیصلہ سُنایا ہے۔

اس وقت پاکستان کی ٹی وی سکرینز اور سوشل میڈیا پر یہ ایک بڑی خبر ہے۔ اس وقت اپوزیشن جماعتوں کی ملاقات تو ہو رہی ہے لیکن عمران خان نے بھی پارٹی رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا ہوا ہے۔

دوسری جانب سیاسی ماہرین اسے ایک ’غیر معمولی‘ فیصلہ بھی قرار دے رہے ہیں۔

صحافی نسیم زہرہ نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے اور عدلیہ نے آئین کی پاسداری کی ہے۔ عدلیہ کی جو ذمہ داری ہے وہ کر کے دکھایا، یہ متفقہ فیصلہ تھا اور ہر چیز کو انھوں نے سٹرائیک ڈاؤن کیا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ آئین کے لیے ایک بہت اہم دن ہے۔ پارٹیز تو آتی جاتی ہیں لیکن یہ آئین کی بحالی ہے، پارلیمان میں کس کی کتنی پاور ہے اور یہ جو تھا کہ بیرونی سازش ہے یہ بھی سٹرائیک ڈاؤن ہو گیا۔‘

بینر

پاکستان میں سیاسی صورتحال کی لمحہ بہ لمحہ کوریج بی بی سی لائیو پیج پر

لائن

سینیٹر عرفان صدیقی نے فیصلے کے بعد بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سب سے اہم اور خوشی اس بات کی ہے کہ جو روایت کے طور پر سمجھا جاتا تھا کہ سپریم کورٹ نظریہ ضرورت کو سامنے رکھے گی۔ عدالت نے عدالت کے طور پر کام کیا اور کسی جرگے اور پنجائیت کے طور پر کام نہیں کیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ فیصلہ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور آئین اور جمہوریت کی مضبوطی کی بنیاد بنے گا۔‘

سینئیر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’یہ ایک انقلابی فیصلہ آیا ہے اور یہ کہیں کہ نظریہ ضرورت دفن ہو گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ خیال نہیں کیا جا رہا تھا کہ اس قسم کا فیصلہ آئے گا، ہاں، یہ توقع تھی کہ شاید سپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دی جائے گی اور الیکشن کی جانب جائیں گے لیکن یہ ایک تاریخی فیصلہ آیا ہے اور اس سے آگے بہت کچھ ٹھیک ہو گا۔‘

پی ٹی آئی، پی پی پی اور پی ایم ایل این پر اس فیصلے کے کیا اثرات ہوں گے؟

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ ’اپوزیشن اسے اپنی وکٹری سمجھ رہی ہے اور یہ ان کی وکٹری ہے بھی۔‘

تاہم وہ کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی اسے اپنی شکست سمجھے گی۔ میرا انداز یہ ہے کہ عمران خان کی کوشش ہوگی کہ ان کے اراکین سب کے سب اسمبلی سے استعفے دیں تاکہ بحران چلتا رہے لیکن اس کا منفی اثر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے مزید اراکین استعفے دینے پر تیار نہ ہوں اور ان کی جماعت کی کمزور ہوگی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ عمران خان کی سیاست کے لیے ایک بڑا سیٹ بیک ہے اور اب پنجاب کے اندر بھی اس کا فوری اثر ہوگا اور پرویز الہیٰ کی وزارت اعلیٰ مشکل میں ہوگی۔ اور یہاں سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور صدر کے لیے بھی کٹھن وقت آ سکتا ہے۔‘

کیا یہ پی ٹی آئی کے لیے سیٹ بیک ہے؟

نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ ’ہاں، یہ پی ٹی آئی کے لیے بڑا سیٹ بیک ہے۔ لیکن یہ عارضی ہے کیونکہ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ عدم اعتماد کے ووٹ میں کیا ہوگا، وہ اہم ہوگا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن کی حکومت کتنے عرصے کے لیے آئے گی۔ اگر یہ ڈیڑھ سال تک چلتی ہے تو ظاہر ہے کہ اس کا پی ٹی آئی کے لیے مختلف اثر ہوگا لیکن سیاسی جماعتوں میں کوئی پورا ہارتا یا جیتتا نہیں ہے اصل میں آئین جیتا ہے۔‘

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اس سے پی ٹی آئی کے ’بیانیے کو نقصان ہوا ہے تاہم بہت عرصے بعد یہ دیکھا گیا کہ عدلیہ کی جانب سے متحدہ اپوزیشن اور ن لیگ کے حق میں کوئی فیصلہ آیا ہو۔‘

سینئیر صحافی اور تجزیہ نگار راؤ خالد کہتے ہیں کہ اس فیصلے کے سیاسی جماعتوں پر کیا اثرات ہوں گے یہ تو آنے والے وقت میں واضح ہوگا۔ تاہم ان کے مطابق خارجہ امور اور داخلی امور دونوں پر اثرات ہوں گے۔

'اگر عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد آنے والی نئی حکومت کے تسلسل کی کوشش کی گئی تو اقتصادی اور خارجی امور میں بہت مشکلات ہوں گی، یہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔