’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال

پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔

لائیو کوریج

  1. تحریکِ انصاف کے کپتان کا سیاسی کریئر ’تضادات کا مجموعہ‘ رہا

  2. فرح خان: عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی دوست کون ہیں؟

  3. کیا کھویا کیا پایا۔۔۔ عمران خان حکومت کی ناکامیاں اور کامیابیاں

  4. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد اور پاکستان میں جاری سیاسی تبدیلیوں کے حوالے سے بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    اس بارے میں مزید خبروں اور معلومات کے لیے یہاں کلک کریں۔

  5. الزامات میں کوئی حقیقت نہیں، امریکہ

    وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے جمعے کی رات قوم سے خطاب میں حکومت گرانے کی سازش کے جواب میں امریکہ نے ایک بار پھر ان الزامات کی تردید کی ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے پرنسپل ڈپٹی ترجمان جلینا پورٹر سے سوال کیا کہ پاکستان کے وزیر اعظم کے قوم سے خطاب میں ایک بار پھر ان الزمات کو دہرایا گیا کہ امریکہ نے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی حوصلہ افزائی کی اور ان کے پاس ثبوت کے طور پر ایک سفارتی کیبل موجود ہے، اس پر آپ کیا کہیں گی؟

    امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے جواب دیا کہ ’میں دو ٹوک الفاظ میں کہوں گی کہ ان الزامات میں بلکل بھی کوئی صداقت نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم پاکستان میں سیاسی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان کے آئینی عمل اور قانون کی حکمرانی کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن ان الزامات میں کوئی حقیقیت نہیں۔‘

  6. تحریک عدم اعتماد کو سبوتاژ کیا گیا تو دستور کی دوسری بار خلاف ورزی ہو گی، بلاول بھٹو

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ’اگر حکومت نے تحریک عدم اعتماد کے جمہوری و آئینی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تو یہ دستور کی دوسری بار خلاف ورزی ہوگی۔‘

    واضح رہے کہ وفاقی وزیر فواد چوہدری کی جانب سے کابینہ اجلاس کے بعد اعلان کیا گیا تھا کہ حکومت قومی اسمبلی اجلاس میں دھمکی آمیز خط پر بحث کروائے گی۔

    ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے یہ بھی کہا کہ ’تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونا مشکل ہے۔‘

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ ’تحریک عدم اعتماد کو سبوتاژ کرنے کی صورت میں وزیراعظم، صدر، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر نہ صرف آرٹیکل 6 کی دوسری بار خلاف ورزی کریں گے بلکہ توہین عدالت کے بھی مرتکب ہوں گے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. تحریک عدم اعتماد کے پیچھے کوئی سازش نہیں، بلاول بھٹو

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک عمد اعتماد کے پیچھے کوئی سازش نہیں ہے۔

    بلاول بھٹو نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کر رہے تھے۔

    وزیر اعظم عمران خان کے قوم سے خطاب پر ردعمل میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بھرپور کوشش ہے کہ انگلی کٹا کر خود کو شہید ثابت کریں۔

    انھوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے مبینہ دھمکی آمیز خط عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا؟

    انھوں نے کہا ہمارا مطالبہ تھا کہ خط عدالت میں پیش کرو، وزیراعظم نے عدالت میں خط پیش کیا نہ قومی اسمبلی میں لارہے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تحریک انصاف حکومت نے جو انتخابی اصلاحات کیں، وہ یکطرفہ تھیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان اصلاحات میں اپوزیشن سمیت حکومت نے اتحادی جماعتوں سے بھی مشاورت نہیں کی۔ بلاول نے کہا کہ نئی حکومت انتخابی اصلاحات کا عمل مکمل کرے گی اور پھر الیکشن کی جانب بڑھے گی۔

  8. عمران خان سے آئین و قانون کی فتح ہضم نہیں ہو رہی، حمزہ شہباز

    مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز نے وزیر اعظم عمران خان کے قوم سے خطاب پر ردعمل میں کہا ہے کہ ’عمران خان سڑکوں پر نکلیں گے تو ان کو پتا چلے گا کہ انھوں نے ساڑھے تین سالوں میں عوام کا کچومر نکال دیا ہے۔‘

    ایک بیان میں حمزہ شہباز نے کہا کہ ’عمران خان کا قوم کو آخری لیکچر تاریخی حقائق کو مسخ کرنے اور قوم کو مزید تقسیم و گمراہ کرنے کی بھونڈی کوشش تھی۔‘

    ’عمران خان اقتدار کی ہوس میں ملک کی خارجہ پالیسی پربھی ڈرون حملہ کر رہے ہیں۔‘

    حمزہ کا کہنا تھا کہ ’عوام کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیلنے آئین و قانون کی دھجیاں اڑانے کی سازش کی گئی تھی۔‘

  9. مودی کی خارجہ پالیسی کی تعریف کشمیریوں کی جدوجہد سے سب سے بڑی غداری ہے: شہباز شریف

    پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان پر جھوٹ بولنے اور من گھڑت باتیں کرنے کے علاوہ اقتدار کی ہوس کا الزام عائد کیا ہے۔

    ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا ’پارلیمنٹ، آئین اور عدالت کے لیے ان کے احترام کو قوم جانتی ہے۔ آج کی تقریر ہمارے فوجیوں کی قربانیوں کی توہین ہے اور مودی کی خارجہ پالیسی کی تعریف کشمیریوں کی جدوجہد سے سب سے بڑی غداری ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. فواد چوہدری: چاہتے ہیں ووٹنگ سے قبل مراسلے پر بحث ہو

    اے آر وائے نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ مراسلہ ایک اہم مدعا ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ ووٹنگ سے پہلے اس پر گہری بحث ہو اور حکومت اور اپوزیشن اس پر بحث کریں تاکہ سب سمجھ لیں کہ یہ عدم اعتماد کا معاملہ ہے کیا۔

    اُنھوں نے ایک بار پھر اپنا یہ مؤقف دہرایا کہ یہ ’عمومی عدم اعتماد‘ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بہت بڑی سازش ہے۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ مراسلہ تو نہیں دکھایا جا سکے گا تو لوگوں کو قائل کیسے کریں گے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں وہ درست ہے، اس پر اُنھوں نے کہا کہ اس حوالے سے بہت مواد موجود ہے۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ دفترِ خارجہ اس حوالے سے سپیکر کو بریف کرے گا اور اس کے بعد سپیکر یہ فیصلہ کریں گے کہ اجلاس اوپن ہونا ہے یا ان کیمرا ہونا ہے۔

  11. انڈیا اگر اتنا پسند ہے تو وہیں شفٹ ہو جائیں: مریم نواز

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کے رد عمل میں مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ اگر ’انہیں انڈیا اگر اتنا پسند ہے تو وہیں شفٹ ہو جائیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. عمران خان کی عوام کو اتوار کو احتجاج کی کال

    عمران خان نے کہا کہ آپ سب نے اتوار کو نمازِ عشا کے بعد نکلنا ہے اور پرامن احتجاج کرنا ہے اور زور دیا کہ وہ احتجاج میں تصادم اور توڑ پھوڑ نہیں کریں گے۔

    اُنھوں نے کہا کہ قوم نے اپنی خود مختاری اور جمہوریت کی حفاظت کرنی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی، کون کیا کردار ادا کرتا ہے، سامنے آ جاتا ہے، عدالت کے کون سے فیصلے اچھے ہیں اور کون سے نہیں، تاریخ موجود ہے، لیکن ایک زندہ قوم ہمیشہ اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہوتی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. عمران خان: اپوزیشن سب سے پہلے الیکٹرانک ووٹنگ مشین ختم کرے گی

    عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن نے کبھی بھی نیوٹرل امپائر کے ساتھ میچ نہیں کھیلا۔

    اُنھوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے بارے میں کہا کہ اپوزیشن سب سے پہلے اسے ختم کرے گی کیونکہ اس سے دھاندلی ممکن ہو پائے گی۔

    عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹنگ حقوق کے بارے میں کہا کہ اگر وہ پیسے نہ بھیجیں تو پاکستان دیوالیہ ہو جائے گا تو اُنھیں ووٹ کا حق کیوں نہیں ہونا چاہیے۔

  14. بریکنگ, ’امپورٹڈ حکومت تسلیم نہیں کروں گا، عوام میں نکلوں گا‘

    اُنھوں نے کہا کہ وہ امپورٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے اور عوام کے پاس جاؤں گا۔

    عمران خان نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں اتنی بڑی پبلک جمع نہیں ہوئی جتنی کہ پریڈ گراؤنڈ میں ہوئی۔

    عمران خان نے کہا کہ اُنھیں عوام ہی لے کر آئے تھے اور وہ دوبارہ ان کے پاس جائیں گے۔

  15. عمران خان: اپنے لوگوں کو کسی اور کے لیے قربان نہیں کر سکتا

    عمران خان نے کہا کہ میرا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ مغرب نے میری پروفائلز دیکھی ہیں کہ اس نے ڈرون حملوں اور عراق جنگ کی مخالفت کی اور افغان جنگ کے بارے میں کہا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ چونکہ عمران خان اُن کے حکم کی تعمیل نہیں کر سکتا اس لیے اسے ہٹانے کے لیے یہ سارا ’ڈرامہ‘ ہو رہا ہے۔

    عمران خان نے روس اور یوکرین جنگ اور انڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ملک کے مخالف نہیں ہیں مگر وہ اپنے لوگوں کو کسی اور قوم کی خاطر قربان نہیں کر سکتے۔

    عمران خان نے کہا کہ جمہوریت کی حفاظت عوام نے کرنی ہے، نہ فوج نے اور نہ کسی غیر ملکی نے۔

    اُنھوں نے کہا کہ کسی کی جرات نہیں ہے کہ انڈیا کے بارے میں ایسی بات کرے۔

  16. عمران خان: مراسلہ 22 کروڑ لوگوں کی توہین ہے

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    عمران خان نے مراسلے کے بارے میں کہا کہ وہ مراسلہ میڈیا کو کیوں نہیں دے سکتے، اس لیے کیونکہ اس پر جو کوڈ ہوتا ہے اگر وہ پبلک کر دیا تو لوگوں کو کوڈ پتا چل جائے گا اور حساس معلومات لیک ہو جائیں گے۔

    اُنھوں نے کہا کہ ہوا یہ کہ ہمارے امریکہ میں سفیر تھے، ان کی امریکی عہدیدار سے ملاقات ہوئی۔ اُن عہدیدار نے کہا کہ عمران خان کو روس نہیں جانا چاہیے۔

    سفیر نے بتایا کہ یہ پہلے سے طے شدہ تھا۔ عہدیدار نے کہا کہ اگر پاکستان عدم اعتماد سے بچ گیا تو پاکستان کو ’نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن اگر وہ ہار جاتا ہے تو پاکستان کو معاف کر دیا جائے گا۔

    عمران خان نے کہا کہ یہ 22 کروڑ لوگوں کے لیے توہین آمیز بات ہے۔

  17. وزیر اعظم عمران خان کا قوم سے خطاب

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. بریکنگ, سپریم کورٹ کو کم از کم سازش کے الزام کو دیکھنا تو چاہیے تھا: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پر قومی اسمبلی میں ووٹنگ سے ایک دن قبل قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ 26’ سال پہلے تحریک انصاف کا آغاز کیا تو اس کے اصول خود داری، انصاف، فلاحی ریاست اور انسانیت یہی میرے اصول تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ آج کے خطاب میں وہ خود داری اور انصاف پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

    عمران خان کا کہنا تھا ’سپریم کورٹ اور پاکستان کی عدلیہ کی عزت کرتا ہوں۔ میں ایک دفع جیل گیا وہ بھی آزاد عدلیہ کی تحریک کے لیے، میرے خیال میں عدالتیں انصاف کے رکھوالا ہوتی ہیں۔ ‘

    ان کا کہنا تھا ’مجھے افسوس اس لیے ہوا کہ جو ڈپٹی سپیکر نے آرٹیکل پانچ کی وجہ سے عدم اعماد کو مسترد کیا۔ میں چاہتا تھا سپریم کورٹ کو کم از کم سازش کے الزام کو دیکھنا تو چاہیے تھا۔ ‘

    ’سپریم کورٹ کم از کم اس دستاویز کو دیکھ تو لیتی، اور یہ کہ کیا ہم سچ بول رہے ہیں یا نہیں۔ اتنا بڑا ایشو ہے اور اس پر سپریم کورٹ نے غور نہیں کیا۔‘

    وزیر عظم عمران خان کا کہنا تھا ’دوسرا جو کھلے عام ہارس ٹریڈنگ ہوئی ، بچے بچے کو پتا ہے کون کتنے میں ضمیر بیچ رہا ہے، یہ کون سی جمہوریت ہے۔ ؟‘

    سپریم کورٹ سے چاہتے تھے کے وہ اس کا بھی از خود نوٹس لے۔ اتنے کھلے عام کہیں سیاستدان نہیں بکتے۔

  19. ’جو چیزیں کھلے عام ہو رہی ہیں ان پر کوئی سنجیدہ نہیں ہے‘

    عمران خان نے کہا کہ اُن کے لیے سب سے تکلیف دہ چیز ہے کہ ایک قوم جس کی ساٹھ فیصد آبادی تیس سال کی ہے، وہ ہمارا مستقبل ہے، اگر اُن کی رہنمائی نہیں کریں گے، اور اس طرح کی چیزیں کریں گے تو وہ سوچیں گے کہ یہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ میری مایوسی یہاں تک ہے۔ ہم نے عدلیہ کا فیصلہ تسلیم کیا۔ میں اس پر ضرور مایوس ہوں کہ کھلے عام جو چیزیں ہو رہی ہیں اس پر کوئی سنجیدہ نہیں ہے۔

  20. گالیوں بھری زبان اور سیاست کا زوال