عمران خان کا عدلیہ سے رات گئے عدالتیں کھولنے کا شکوہ، امریکہ کی شہباز شریف کو مبارکباد

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عوامی جلسوں کے سلسلے کا آغاز کیا ہے اور گذشتہ رات پشاور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ سے شکوہ کیا کہ ’میں نے کیا جرم کیا تھا کہ رات کے 12 بجے آپ نے عدالتیں لگائیں۔‘ ادھر امریکہ کی جانب سے شہباز شریف کو وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. تحریکِ انصاف کے کپتان کا سیاسی کریئر ’تضادات کا مجموعہ‘ رہا

  2. قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے استعفے: اب صورتحال کیا ہے؟

  3. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

  4. بریکنگ, امریکہ کی شہباز شریف کو مبارکباد، پاکستان کے ساتھ ’طویل المدتی تعاون‘ جاری رکھنے کا اعادہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    امریکہ کے وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں نومنتخب وزیرِ اعظم شہباز شریف کو وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر مبارک باد دی گئی ہے۔

    ان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان گذشتہ لگ بھگ 75 برس سے کثیر البنیاد باہمی دلچسپی کے امور پر ہمارا اہم شراکت دار رہا ہے اور ہم اس رشتے کی قدر کرتے ہیں۔

    ’امریکہ نومنتخب وزیرِاعظم شہباز شریف کو مبارکباد پیش کرتا ہے اور ہم پاکستانی حکومت کے ساتھ طویل المدتی تعاون کو جاری رکھنے کے لیے پرامید ہے۔

    ’امریکہ ایک مضبوط، خوشحال اور جمہوری پاکستان کو دونوں ممالک کے مفادات کے لیے اہم سمجھتا ہے۔‘

  5. ادارے اب نیوٹرل ہیں، عمران کو کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی: بلاول بھٹو

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور رکنِ قومی اسمبلی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’عدلیہ نے اب تک انتہا درجے کے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ ڈپٹی سپیکر، وزیرِ اعظم اور صدر نے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کی جب انھوں نے تحریکِ عدم اعتماد کو مسترد کرنے کی کوشش کی۔

    ’عمران خان نے نیشنل سکیورٹی کمیٹی میٹنگ کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ اب ادارے نیوٹرل ہیں، عمران کو کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔‘

  6. جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہوتا ہم نے سڑکوں پر آنا ہے اور مظاہرہ کرنا ہے: عمران خان

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  7. نواز شریف کسی غلط فہمی میں نہ رہنا، میں تمھارا انتظار کروں گا: عمران خان

    imran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عمران خان نے پشاور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو لگتا ہے کہ وہ دوسرا این آر او لے کر وطن واپس آ جائے گا۔

    ’نواز شریف کسی غلط فہمی میں نہ رہنا، میں تمھارا انتظار کروں گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں ہر شہر میں سڑکوں پر نکلوں گا، جو بھی میری خارجہ پالیسی تھی وہ پاکستان کے مفاد میں تھی۔‘

  8. بریکنگ, عدلیہ بتائے میں نے کیا جرم کیا تھا کہ رات کے 12 بجے آپ نے عدالتیں لگائیں: عمران خان

    imran

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں کبھی عوام ایسے سڑکوں پر نہیں نکلی، جس طرح میں آپ کو نکال کر دکھاؤں گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’سب کان کھول کر سن لو کہ یہ 70 کی دہائی کا پاکستان نہیں ہے، یہ آج ایک نیا پاکستان ہے، باشعور لوگوں کا پاکستان، سوشل میڈیا کا پاکستان۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’شہباز شریف جو سوشل میڈیا کے لوگوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے ہو، جس دن ہم نے کال دے دی، تمھیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔‘

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’عدلیہ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ رات کے اندھیرے میں جب آپ نے عدالتیں لگائیں، میں نے کبھی اپنے اداروں اور عدلیہ کے خلاف لوگوں کو نہیں بھڑکایا۔

    ’میں نے کیا جرم کیا تھا کہ رات کے 12 بجے آپ نے عدالتیں لگائیں۔‘

  9. اتوار کو لوگوں نے نکل کر ثابت کیا کہ امپورٹڈ حکومت نامنظور: عمران خان

    imran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عمران خان نے پشاور میں اپنے خطاب میں کہا کہ میں اس شاندار استقبال پر آپ سب کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    انھوں نے کہا کہ ’جب بھی پاکستان کا کوئی وزیرِ اعظم ہٹایا جاتا تھا، تو پاکستان میں مٹھائیاں بانٹی جاتی تھیں، میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، کہ مجھے ہٹایا تو آپ نے آ کر اتنی عزت دی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جس طرح میری قوم اتوار کو سڑکوں پر نکلی، اس سے ثابت ہوا کہ اب یہ ایک قوم بن چکی ہے۔ جو بھی یہ سمجھتا تھا کہ پاکستانی قوم باہر سے امپورٹڈ حکومت کو مان لے گی۔

    ’اتوار کو لوگوں نے نکل کر ثابت کیا کہ امپورٹڈ حکومت نامنظور۔‘

  10. مراسلے پر چیف جسٹس اگر جوڈیشل کمیشن بنا دیں تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا: شاہ محمود قریشی

    shah mehmood

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے پشاور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز شریف کو سب سے پہلے کس نے مبارکباد دی، نریندر مودی نے، انڈیا مبارک دیتا ہے۔

    ’خوددار عمران خان کو فون نہیں کرتا، ان کے لیے ٹویٹ کرتا ہے۔ کشمیریوں کے قاتل کو ساڑھیاں بھجواتے ہو، انھیں رائیونڈ بلاتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ساڑھے تین سال یہ کہتے رہے کہ الیکشن کرواؤ تمھارا مینڈیٹ جعلی ہے، اب عمران کہتا ہے کہ ہم تیار ہیں تو دم دبا کر بھاگ رہے ہیں۔‘

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’چیف جسٹس اگر جوڈیشل کمیشن بنا دیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ گرفتاریاں کر دیں گے، گھبراؤ گے تو نہیں؟‘

  11. بریکنگ, جب تک نئے الیکشن نہیں ہوتے عمران خان ہی ہمارے وزیر اعظم رہیں گے: محمود خان

    پشاور میں جلسے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان کا کہنا تھا کہ ’امپورٹڈ حکومت کو کسی صورت نہیں مانیں گے۔‘

    محمود خان کا کہنا تھا کہ ’میں وزیر اعظم کو یہ باور کروانا چاہتا ہوں۔ کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ میرے لیے یہ سابق وزیر اعظم نہیں یہی میرے وزیر اعظم ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا ’جب تک نئے الیکشن نہیں ہوتے عمران خان ہی ہمارا وزیر اعظم رہیں گے۔ کوئی انھیں سے عہدے سے نہیں ہٹا سکتا۔ ‘

    ان کا کہنا تھا ’خیبر پختونخوا کے لوگ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ عمران خان نے قومی خود مختاری پرکمپرومائز نہیں کیا۔

  12. سابق وزیر اعظم جلسے کے لیے پشاور پہنچ گئے

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI/FACEBOOK

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کچھ دیر میں پشاور میں ایک جلسے سے خطاب کرنے والے ہیں۔ ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد جلسہ گاہ میں موجود ہے اور پارٹی کے رہنما جلسے سے خطاب کر رہے ہیں۔

    اس جلسے کے لیے عوام کو دعوت دیتے ہوئے ویڈیو پیغام میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ اس ’امپورٹڈ حکومت‘ کے بارے میں جلسے میں بات کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ قوم اپنی آزادی کی حفاظت خود کرتی ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں فوری الیکشن کے لیے تحریک چلائیں گے۔

  13. برطانوی وزیر اعظم کی شہباز شریف کو مبارکباد

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے پاکستان کے نو متتخب وزیر اعظم شہباز شریف کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا ’برطانیہ اور پاکستان کے درمیان دیرینہ تعلقات ہیں اور ہمارے عوام کے درمیان گہرے تعلقات ہیں۔ میں باہمی دلچسپی کے شعبوں پر مل کر کام کرنے کا منتظر ہوں۔‘

    ان کے اس ٹویٹ کے جواب میں پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ میں عمران خان اور ان کی حکومت کے تعاون کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ہم شہباز شریف اور اور نئی حکومت کے ساتھ مل کر 75 سالہ مضبوط پارٹنر شپ قائم رکھیں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. بریکنگ, تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ ق یک جان دو قالب ہیں: عثمان بزدار

    عثمان بزدار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزداراور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہٰی کی سربراہی میں ساہیوال، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے اراکین پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہوا۔

    تحریک انصاف پنجاب کے صدر شفقت محمود، ایم این اے حسین الہٰی ،تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ق کے سابق وزرا نے شرکت کی۔ اجلاس میں خواتین اراکین اسمبلی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    اراکین اسمبلی نے نامزد وزیر اعلی چودھری پرویزالٰہی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔

    اس موقعے پر پرویز الہی نے کہا ’ن لیگ پر کرپشن کیسز ہیں جس پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔ عمران خان کو عوامی رابطہ مہم میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا ’خلوص نیت کے ساتھ اپنی ذمہ داری پہلے بھی نبھائی اورآئندہ بھی نبھاؤں گا۔ بہترانداز میں پنجاب کے عوام کی خدمت کریں گے۔‘

    اجلاس میں عثمان بزار کا کہنا تھا ’عوام کی خدمت کو مشن بنایا، ضمیر مطمئن ہے۔ ہمارے ارکان اسمبلی متحد ہیں۔ تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ ق یک جان دو قالب ہیں۔ چودھری پرویزالٰہی کو کامیاب کرائیں گے۔‘

    عثمان بزدار کا کہنا تھا ’عوام کے حقوق کی جنگ ہر سطح پر لڑیں گے۔‘

    اجلاس میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ سابق وزرا اور ارکان اسمبلی کو رابطوں کے لیے مختلف ٹاسک سونپے گئے۔

  15. امریکہ پاکستان کا دوست یا دشمن؟

  16. وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ کراچی: ملاقاتیں، اعلانات

    دد

    ،تصویر کا ذریعہPID

    پاکستان کے وزیراعظم محمد شہبازشریف نے اپنے دورہ کراچی میں پانی کی فراہمی کے منصوبے کو سنہ 2024 تک مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کی فراہمی کا مسئلہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

    شہباز شریف نے وزیراعلی ہائوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کراچی سرکلر ریلوے کو سی پیک کا حصہ بنانے کے لیے چین کی حکومت سے بات کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ وفاق ترقیاتی منصوبوں کے لیے صوبائی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔

    کراچی میں ایئر کنڈیشنڈ بسیں چلانے سے لوگوں کو سفر کی بہتر سہولت ملے گی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ انھوں نے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دی ہے اور وہاں پر اس پختہ عزم کا اظہار کیا کہ ہم بابائے قوم کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں گے اور پاکستان کو ان کے خواب کی حقیقی تعبیر بنائیں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے وزیراعلی سندھ اور ان کی ٹیم کے ساتھ مفید بات چیت کی ہے۔

    وزیراعلی سندھ نے سندھ کے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں جامع بریفنگ دی۔ مجھے خوشی ہوئی ہے کہ ٹرانسپورٹ کی سہولت اور پانی کی فراہمی اور دیگر منصوبوں کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کی ٹیم محنت سے کام کر رہی ہے، انھیں یقین دلایا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی اور وفاق ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔

  17. عمران خان کے سیاسی سفر میں اب تک کے پانچ اہم لمحات

  18. بریکنگ, گورنر بلوچستان احتجاجاً مستعفی ہو گئے

    گورنر بلوچستان سید ظہور آغا ایڈووکیٹ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اپنے استعفے میں انھوں نے لکھا کہ وہ احتجاجاً استعفیٰ دے رہے ہیں کیونکہ وہ ایک ایسے امپورٹڈ وزیراعظم کو تسلیم نہیں کر سکتے ہیں، جسے 40 بلین روپے کی بدعوانی کے مقدمات کا سامنا ہو۔

    انھوں نے صدر پاکستان عارف علوی کو اپنا استعفیٰ جلد قبول کرنے کی درخواست کی ہے۔

    سید ظہور آغا کا شمار بلوچستان میں تحریک انصاف کے دیرینہ کارکنان میں ہوتا ہے۔ سیدظہور آغا گذشتہ سال جون میں بلوچستان کے گورنر مقرر کیے گئے تھے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق سابق گورنر سید فضل آغا کے بعد سید ظہور آغا کے دور میں کوئٹہ میں گورنر ہاﺅس پر عوامی رنگ بڑی حد تک غالب آگیا تھا۔

  19. پاکستان کے مسائل کا حل مکالمے، جمہوریت اور ترقی میں مضمر ہے: بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے منظور پشتین اور علی وزیر سے ملاقات کی ہے۔ اپنے ٹوئٹر پیغام میں انھوں نے اسے ایک خوشگوار ملاقات قرار دیا ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ مکالمہ، جمہوریت اور ترقی ہی پاکستان کو درپیش مسائل کا حل ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. بریکنگ, پنجاب کے نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب 16 اپریل کو کرایا جائے: لاہور ہائی کورٹ کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں وزیراعلیٰ کا الیکشن کرانے کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ 16 اپریل کو ہی وزیر اعلیٰ کے الیکشن کے لیے ووٹنگ کرائی جائے۔

    چیف جسٹس نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ڈپٹی سپیکر 16 اپریل کو ووٹنگ کا عمل مکمل کرائیں اور تمام فریقین قانون اور آئین کے تحت زمہ داری نبھائیں۔

    لاہور ہائی کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ صوبائی اسمبلی کا تمام عملہ الیکشن کرانے میں مکمل تعاون کرے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ نے بھی اجلاس 16 اپریل تک ہی ملتوی کیا تھا، جس کے خلاف قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز اور دیگر درخواست گزاروں نے عدالت کا رخ کیا تھا۔

    پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے اس وقت حمزہ شہباز اور پرویز الہیٰ کے درمیان مقابلہ ہونا ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عطااللہ تارڑ نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ہماری التجا یہ ضرور تھی کہ جلد از جلد الیکشن کروایا جائے مگر 16 کو بھی انتخاب قابل قبول ہے۔ ان کے مطابق چونکہ سپیکر کا مفادات کا تصادم ہے اس وجہ سے عدالت نے ڈپٹی سپیکر کے اختیارات بحال کر دیے ہیں اور اب وہ یہ انتخابات کرائیں گے۔

    ان کے مطابق اب کسی رکن کو ووٹنگ سے روکا نہیں جا سکتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ یہ الیکشن میڈیا کے بغیر نہیں ہونا چائیے اور میڈیا کو ان انتخابات میں مکمل رسائی دی جائے۔