تحریکِ عدم اعتماد: گجرات کے چوہدریوں کی لاہور واپسی لیکن فیصلہ کیا ہو گا؟

پرویز الہیٰ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو لاہور

پاکستان میں دارالحکومت اسلام آباد ان دنوں سیاسی جوڑ توڑ کا محور بنا ہوا ہے۔ وزیرِاعظم عمران خان کے خلاف حزبِ اختلاف کی طرف سے پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک کے معاملے پر حکومت اور حزبِ اختلاف دونوں اپنی برتری کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکومتی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے لیے اپنے سو فیصد ممبران کی حمایت یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ مشکل یہ بنی ہوئی ہے کہ اتحادی جماعتوں کو حزبِ اختلاف کی طرف چلے جانے سے کیسے روکا جائے۔

حکومت کی اتحادی جماعتوں میں گجرات کے چوہدری یعنی پاکستان مسلم لیگ ق کی قیادت مرکزی حیثیت حاصل کر چکی ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین اپنی جماعت کی دیگر قیادت کے ساتھ چند روز قبل لاہور سے اسلام آباد پہنچے تھے۔

اسلام آباد میں ان کی متحدہ قومی موومنٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی سمیت دیگر حکومتی اتحادی جماعتوں کی قیادت سے کئی ملاقاتیں ہوئی اور یہ کہا جا رہا تھا کہ اتحادی جماعتیں جلد اپنا مشترکہ فیصلہ کریں گی۔

ان کی جانب سے یہ اعلان متوقع تھا کہ وزیرِاعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں وہ حکومت کا ساتھ دیں گے یا حزبِ اختلاف کی طرف جائیں گے۔ یہ واضح اعلانات تاحال سامنے نہیں آئے۔ لیکن اس سے قبل ق لیگ کی قیادت اسلام آباد سے واپس لاہور پہنچ گئی ہے۔

ان کی واپس لاہور آمد سے قبل سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِاعظم عمران خان کی سیاسی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

انھوں نے اس بات کا عندیہ بھی دیا تھا کہ حزبِ اختلاف کے پاس عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے مطلوبہ اعداد سے زیادہ حکومتی ممبران کی حمایت موجود ہے۔

ان کا یہ انٹرویو کچھ حکومتی وزرا کے بیانات اور ایسی خبروں کے بعد سامنے آیا تھا جن میں یہ کہا جا رہا تھا کہ 'پانچ نشستیں رکھنے والی جماعت یعنی ق لیگ پنجاب میں وزارتِ اعلٰی کی طلبگار تھی جو کہ حکومت کو بلیک میل کرنے کے مترادف ہے۔'

مقامی ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی خبروں کے مطابق حکومتی حلقوں میں اس بارے تحفظات پائے جاتے تھے کہ حمایت کی یقین دہانی کے بدلے پنجاب کی وزارتِ اعلٰی ق لیگ کو دی جائے۔

اس موقع پر جب سیاسی جوڑ توڑ عروج پر ہے تو ق لیگ کی قیادت کے اسلام آباد سے چلے جانے کو مبصرین توجہ سے دیکھ رہے ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ تھا کہ اعلان کیے بغیر ق لیگ کی قیادت یہ اشارہ دے چکی ہے کہ اس کا جھکاؤ کس کی طرف ہے؟

یا پھر پنجاب کے حوالے سے کوئی اہم اعلان حکومت کی طرف سے آنے والے دنوں میں سامنے آ سکتا ہے؟ اور اگر پنجاب کی وزارتِ اعلٰی میں کوئی ایسی تبدیلی آتی ہے جس کی بات ق لیگ کی قیادت کرتی رہی ہے تو اس سے وزیرِاعظم عمران خان کو عدم اعتماد کی تحریک میں کتنا فائدہ ہو سکتا ہے؟

سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے ترجمان ڈاکٹر زین علی بھٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلام آباد سے اس موقع پر لاہور آنے کی وجہ آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس تھی۔

بینر

مزید پڑھیے

لائن

،تصویر کا ذریعہNot Specified

'آئندہ ہفتے میں اسلام آباد میں چونکہ او آئی سی ممالک کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس ہونے جا رہی تھی اور سیاسی سرگرمی کم ہونے کا امکان تھا تو چوہدری صاحب نے اس دوران لاہور آنے کا فیصلہ کیا۔' تاہم ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس ختم ہونے کے بعد وہ دوبارہ اسلام آباد کی طرف چلے جائیں گے۔

'انھیں کچھ عرصہ خاموشی اختیار کرنے کا کہا گیا ہے'

صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی کے خیال میں چوہدری پرویز الٰہی کے حالیہ انٹرویو اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد 'شاید ان سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ کچھ عرصہ کے لیے خاموشی اختیار کریں۔'

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سلمان غنی کا کہنا تھا کہ چوہدری پروہز الٰہی کی طرف سے دیے جانے جانے والا انٹرویو کافی سخت تھا۔ 'اور شاید وقت سے تھوڑا پہلے انھوں نے ایسی باتیں کر دیں۔ اس کے بعد انھوں نے اگلے روز ہی اس پر آگ بجھانے کی کوشش بھی کی لیکن اس وقت تک دیر ہو چکی تھی۔'

سلمان غنی کے مطابق ق لیگ کی قیادت کی اسلام آباد سے لاہور منتقلی کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی تھی کہ کچھ عرصہ کے لیے اسلام آباد کی سرگرمی سے خود کو دور کر کے اس انٹرویو کے اثرات کو کم کیا جائے۔

'وہ حکومت کی طرف جھکاؤ نہیں رکھتے'

صحافی اور تجزیہ نگار سلیم بخاری نے بی بی سی سے بات کرتے چوہدری پرویز الٰہی کے حالیہ انٹرویوز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ 'چوہدری برادران غالباً یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ وہ اب کسی حکومتی آفر میں دلچسپی نہیں رکھتے۔'

سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ 'ایسا نظر آتا ہے کہ ان کا جھکاؤ اب زیادہ تر حزبِ اختلاف کی طرف ہے اور اس حوالے سے وہ خود بتا چکے ہیں کہ ان کے ن لیگ کی قیادت سے رابطے ہوئے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا چوہدری برادران کی سیاست پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ زیادہ عرصہ کسی فیصلے پر ابہام کا شکار نہیں رہتے اور اپنا فیصلہ جلد ہی کر لیتے ہیں۔

سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ آنے والے دنوں میں ق لیگ اور ن لیگ کی قیادت کی لاہور میں روابط دیکھنے میں آئیں۔

'اگر چوہدری پرویز الٰہی کے انٹرویو ہی کو دیکھیں تو انھوں نے بڑے واضح طور پر یہ بتایا ہے کہ ان کا ن لیگ کی قیادت کے ساتھ رابطہ ہے۔ انھوں نے یہاں تک بتایا کہ ن لیگ کی قیادت میں آپس میں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا۔'

سلیم بخاری کے مطابق ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب میں وزارتِ اعلٰی کے حوالے سے ن لیگ چوہدری پرویز الٰہی کو یقین دہانی کروا چکی ہے۔

کیا حکومت اب بھی انھیں وزارتِ اعلٰی دے سکتی ہے؟

صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی سیاست میں ایک اہم کردار صوبہ پنجاب کی سیاست کا ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں وزیرِاعظم عمران خان اس وقت عدم اعتماد جیسی جس مشکل کا سامنا کر رہے ہیں اس کی وجہ پنجاب کی وزارتِ اعلٰی کے حوالے سے کیے جانے والا ان کا اپنا ہی فیصلہ ہے۔

'وزیرِاعظم عمران خان نے عثمان بزدار کو وزیرِاعلٰی پنجاب مقرر تو کر دیا تھا لیکن اب یہی ان کی سب سے بڑی کمزوری بن کر سامنے آ رہا ہے۔ اگر پنجاب میں ایک مضبوط وزیرِاعلٰی ہوتا تو ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ حزبِ اختلاف وزیرِاعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا سوچتی۔'

حال ہی میں مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ پنجاب میں حکومت نے ق لیگ کو وزارتِ اعلٰی کی پیشکش کی تھی تاہم یہ کہا گیا تھا کہ ایسا تحریکِ عدم اعتماد کے بعد کیا جائے گا۔

تاہم اس پر ق لیگ کی قیادت تیار نہیں تھی۔ تو کیا اب حکومت ق لیگ کو منانے کے لیے پنجاب کی وزارتِ اعلٰی کی انھیں دوبارہ پیشکش کر سکتی ہے؟

'اب وقت گرز گیا ہے'

تجزیہ نگار سلمان غنی کے خیال میں 'اب دیر ہو چکی ہے'۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر پنجاب میں وزارتِ اعلٰی چوہدری پرویز الٰہی کو دے دی جاتی تو وہ مرکز میں بھی تحریکِ عدم اعتماد کے معاملے پر وزیرِاعظم کی مدد کر سکتے تھے۔'

تاہم سلمان غنی کے خیال میں 'اب وہ وقت گزر چکا ہے جس کے اندر حکومت یہ فیصلہ کر سکتی تھی۔'

جبکہ صحافی اور تجزیہ نگار سلیم بخاری سمجھتے ہیں کہ وزیرِاعظم عمران خان اب تک اپنی ضد پر کافی پکے نظر آئے ہیں۔ وہ اب تک کافی مخالفت کے باوجود اس بات پر قائم رہے ہیں کہ عثمان بزدار کو وزارتِ اعلٰی سے نہیں ہٹایا جائے گا۔

'اس کو دیکھتے ہوئے اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ وزیرِاعظم عمران خان تحریکِ عدم اعتماد سے پہلے عثمان بزدار کو وزارتِ اعلٰی سے ہٹانے پر راضی ہو جائیں گے۔'

سلیم بخاری کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف سے واضح طور پر چوہدری برادران کو یہ پیغام پہنچا بھی دیا گیا تھا کہ فی الوقت عثمان بزدار ہی وزیرِاعلٰی رہیں گے۔

کیا پنجاب میں سیاسی جوڑ توڑ ہونے جا رہی ہے؟

سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کے ترجمان ڈاکٹر زین علی بھٹی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کی مرکزی کمیٹی کا مشاورتی اجلاس جاری تھا اور اس بات پر فیصلہ کیا جانا تاحال باقی ہے کہ تحریکِ عدم اعتماد میں وہ کس کا ساتھ دیں گے۔

'مشاورت کا عمل مکمل ہونے کے بعد یہ فیصلہ لگ بھگ 25 تاریخ کے بعد کسی بھی وقت کر لیا جائے گا۔ ہمارے پاس آپشن کھلے ہیں۔'

صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ آنے والے چند دنوں میں پاکستان میں سیاسی سرگرمی کا محور اسلام آباد ہی رہے گا۔ 'اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت حزبِ اختلاف کی تمام تر کوشش صرف مرکز میں وزیرِاعظم عمران خان کو ہٹانے پر مرکوز ہے۔'

سلمان غنی کے مطابق اگر حزبِ اختلاف وزیرِاعظم کو ہٹانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو 'اس کے بعد پنجاب میں وزارتِ اعلٰی اور صوبوں میں گورنرز اور صدر وغیرہ کی تبدیلی کا معاملہ محض گھنٹوں کا کھیل رہ جائے گا۔'

تاہم ان کے خیال میں حکومت کی طرف سے سامنے آنے والے حالیہ بیانات اور ان کی طرف سے اٹھائے جانے والے چند اقدامات اس جانب اشارہ کر رہے تھے کہ تحریکِ عدم اعتماد پر فیصلہ کن کارروائی کا مرحلہ عدالتوں میں جا سکتا تھا۔

وزیرِاعلٰی پنجاب کی ملاقاتیں

گذشتہ چند روز میں وزیرِاعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ممبران پارلیمان اور متعدد صوبائی اسمبلی کے اراکین سے ملاقاتیں کی ہیں جن کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ان ملاقاتوں سے متعلق وزیرِاعلٰیٰ آفس کی طرف سے جاری بیانات میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی جماعت کے علاوہ دیگر جماعتوں کے ممبران بھی شامل تھے۔

ان ممبران میں خاص طور پر حزبِ اختلاف کی جماعت ن لیگ کے چند ممبران کا ذکر کیا گیا تھا۔ حال میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران بتایا گیا تھا کہ ن لیگ کے رکن صوبائی اسمبلی محمد غیاث الدین نے وزیرِاعلٰی سے ملاقات کی تھی۔

تاہم تجزیہ نگار سلمان غنی کے مطابق یہ زیادہ تر ن لیگ کے وہ ارکانِ صوبائی اسمبلی ہیں جن سے ن لیگ پہلے ہی قطع تعلق کر چکی ہے۔ ان کے خیال میں وزیرِاعلٰی عثمان بزدار یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ بطور وزیرِاعلٰی اب بھی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

'جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب عثمان بزادر کو وزیرِاعلیٰ بنایا گیا تھا تو آدھے سے زیادہ پنجاب اسمبلی کے ارکان انھیں نہیں جانتے تھے کہ وہ کون ہیں۔ اور ان کا سیاست اور خاص طور پر پنجاب کی سیاست میں کوئی زیادہ تجربہ بھی نہیں ہے۔'

سلمان غنی کے مطابق اس قسم کی ملاقاتوں کا انھیں کوئی زیادہ فائدہ نہیں ہو سکتا تھا۔