وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے معاملے پر جی ڈی اے کہاں کھڑی ہے؟

،تصویر کا ذریعہPMLF
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
وزیرِ اعظم عمران خان نے گذشتہ ہفتے سندھ میں موجود اپنے اتحادیوں سے ملاقات کی غرض سے کراچی کا ایک روزہ دورہ کیا تھا، اس دورے کے دوران ان کی اپنے اتحادی گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اور مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگارا سے ملاقات نہیں ہو سکی جس کے بعد مختلف نوعیت کی چہ میگوئیوں نے جنم لیا ہے۔
وزیر اعظم ایسے وقت میں سندھ میں اپنے اتحادیوں کے پاس چل کر آئے تھے جب متحدہ اپوزیشن کی جانب سے اُن کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہو چکی تھی۔
مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما سردار رحیم کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سے جی ڈی اے کا کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پیر پگارا پیر صبغت اللہ شاہ کی طبعیت ناساز تھی اس لیے وزیر اعظم سے ملاقات میں احتیاط برتی گئی ورنہ کوئی اختلافات نہیں تھے۔
سردار رحیم کے مطابق تحریک عدم اعتماد میں وہ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، نہ کوئی ناراضی ہے نہ اختلافات ہیں، ہاں انھیں اعتماد میں لیا گیا یا نہیں، یہ سیاسی معاملات ہیں جن کو حل کیا جا سکتا ہے۔
جی ڈی اے کیا ہے؟
گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سنہ 2018 کے عام انتخابات سے ایک سال قبل یعنی اکتوبر 2017 میں قائم کیا گیا تھا جس میں مسلم لیگ فنکشنل اور قومی عوامی تحریک کے علاوہ وہ جماعتیں اور سیاسی دھڑے شامل ہیں جنھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی سے اختلافات کے بعد علیحدگی اختیار کر لی تھی۔
اُن میں مرحوم ممتاز بھٹو کی سندھ نیشنل فرنٹ، صفدر عباسی اور ناہید خان کی پیپلز ورکرز پارٹی، مرحوم غلام مصطفیٰ جتوئی کی نیشنل پیپلز پارٹی شامل تھی جبکہ بعد میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور اُن کا خاندان بھی اس کا حصہ بن گئے اور تحریک انصاف کو بھی اس اتحاد کا حصہ بنا لیا گیا۔
اس سے قبل ان جماعتوں نے دیگر پی پی مخالف جماعتوں کے ساتھ 12 جماعتی اتحاد بنایا تھا اور سنہ 2013 کے انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 2018 کے عام انتخابات میں جی ڈی اے نے قومی اسمبلی کی دو نشستوں اور صوبائی اسمبلی کی 13 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ تحریک انصاف کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کے بعد اتحاد کے حصے میں خواتین کی ایک مخصوص نشست بھی آئی جس کے بعد اس کی نشستیں تین ہو گئیں۔ وفاق میں یہ تحریک انصاف کی اتحادی جماعت بنی اور ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو وزارت دی گئی جبکہ سندھ میں اس نے اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
جی ڈی اے کا کردار
سندھ میں کراچی کی سیاست میں تو ایم کیو ایم اور تحریک انصاف نے ایک بھرپور اپوزیشن کا کردار ادا کیا لیکن دیہی سندھ میں حکمران پیپلز پارٹی کو کسی سیاسی چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ تجزیہ کار شہاب اوستو کا کہنا ہے کہ وفاق ہو یا سندھ، جے ڈی اے ’کمفرٹ زون‘ میں رہی، اس کی حیثیت علامتی تھی اس نے کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کیا حالانکہ سندھ اسمبلی میں 13 نشستوں کے ساتھ اس کا ایک متحرک کردار ہو سکتا تھا۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار ناز سہتو کہتے ہیں کہ بلدیاتی نظام اور حلقہ بندیوں پر اپنی حد تک جی ڈی اے نے اپنا کردار ادا کیا ہے، اس میں فنکشنل لیگ بڑی جماعت ہے جس کی سیاست کا اپنا انداز ہے اس کے علاوہ مہر سردار اور مرزا خاندان ہیں وہ محدود ہی سہی لیکن سیاسی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
تحریک انصاف اور جی ڈی اے کے تعلقات
تحریک انصاف اور جی ڈی اے میں شکوے شکایات سامنے آتے رہے ہیں جس کا اظہار قومی عوامی تحریک کے رہنما ایاز لطیف پلیجو بھی متعدد بار کر چکے ہیں۔ شہاب اوستو کہتے ہیں کہ عمران خان جب کراچی آئے تو وہ ایم کیو ایم سے ملنے اُن کے دفتر گئے لیکن پیر پگارا کو انھوں نے گورنر ہاؤس طلب کیا تھا۔ ’یہ ایک بیوروکریٹک سوچ تھی، انھیں وہاں جانا چاہیے تھا کیونکہ ماضی میں بھی سیاسی قیادتیں وہاں جاتی رہی ہیں۔‘
سیاسی تجزیہ کار فیاض نائچ کہتے ہیں کہ جی ڈی اے کی قیادت کو امید تھی کہ جب وہ سندھ میں اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں تو وفاقی حکومت اُن کے علاقوں میں ترقیاتی کام کرے گی لیکن ایسا نہ ہوا۔ عمران خان مہر برادری کے پاس خان گڑھ یا سندھ میں جن علاقوں میں گئے وہاں جو ایک دو اعلانات ہوئے ان پر بھی عملدرآمد نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے جی ڈی اے مایوس تھی۔
کراچی سے جب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد کے لیے لانگ مارچ کا آغاز کیا تو اسی وقت گھوٹکی سے تحریک انصاف نے وفاقی وزیر شاہ محمود قریشی اور علی زیدی کی قیادت میں مارچ کا آغاز کیا، لیکن جی ڈی اے میں شامل تنظیموں نے اس احتجاج سے اپنے آپ کو دور رکھا اور صرف بدین میں وفاقی وزیر فہمیدہ مرزا کے حلقے میں سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔
عدم اعتماد اور جی ڈی اے

،تصویر کا ذریعہFacebook/Imran Khan Official
گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس میں شامل جماعتیں سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی مخالف سیاست کرتی رہی ہیں۔ اس حوالے سے شہاب اوستو کہتے ہیں کہ مسلم لیگ فنکشنل اسٹیبلشمنٹ کی حامی جماعت رہی ہے، اس نے دیکھنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا کیا فیصلہ ہے، اسی کے مطابق ان کی رائے ہو گی۔ ’اگر وہ دیکھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہے تو پھر وہ یہ دیکھیں گے کہ ہوا کا رُخ کس طرف ہے اس کا ساتھ دیں گے۔‘
فیاض نائچ کہتے ہیں ایسے دعوے سامنے آ رہے ہیں کہ اپوزیشن میں یہ طے ہو چکا ہے کہ وزیر اعظم کے امیدوار میاں شہباز شریف ہوں گے، اس لیے جی ڈی اے اُن کی حمایت کرے گی، اور مہر برادران اور فہمیدہ مرزا کے لیے شریف خاندان کے ساتھ کام کرنا آسان ہو گا۔
اسلام آباد میں سندھ کی پارلیمانی سیاست پر نظر رکھنے والے سینیئر صحافی قربان بلوچ کا خیال ہے کہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور غوث بخش مہر کے لیے پیپلز پارٹی کا ساتھ دینا دشوار ہے کیونکہ مرزا خاندان کے لیے یہ سیاسی نہیں ذاتی معاملہ بھی ہے جبکہ غوث بخش مہر ٹھٹہ کے شیرازیوں اور دیگر ایسے خاندانوں کی صورتحال دیکھ چکے ہیں جنھوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔
سینیئر صحافی ناز سہتو کہتے ہیں کہ ایک رابطے وہ ہیں جو نظر آتے ہیں جبکہ دوسرے منظرِ عام پر نہیں آتے، سابق صدر آصف علی زرداری کے پیر پگارا سے رابطہ کیا ہے۔ اسی طرح یوسف رضا گیلانی اور مخدوم احمد کے خاندان کی پیر پگارا کے خاندان سے رشتے داریاں بھی ہیں اور اس بنیاد پر یوسف رضا گیلانی کو پہلے بھی ووٹ بھی مل چکا ہے۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں اسلام آباد میں جی ڈی اے کی قیادت سے ملاقات کی تھی جس کے بعد ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے ایک ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ وزیر اعظم کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ کابینہ کا حصہ ہیں اور انصاف کا تقاضہ یہی ہے کہ اُن کا ساتھ نہ دوں۔ تاہم، انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو سندھ میں ان کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا تھا۔












