تحریک عدم اعتماد کے دن پارلیمان کی سکیورٹی کی ذمہ داری رینجرز اور ایف سی کی ہو گی: شیخ رشید

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی حکمران جماعت کے وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن پارلیمنٹ ہاؤس، ایم این اے لاجز اور پرانے ایم این اے ہاؤس کی سکیورٹی رینجرز اور ایف سی کے حوالے کیا جائے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ اقدام اس لیے اٹھایا جا رہا ہے تاکہ ’ملک میں کوئی ایسا واقعہ نہ ہو جو ملک کی بدنامی کا باعث بنے۔‘
گذشتہ روز اسلام آباد میں پارلیمنٹ لاجز میں پولیس کی جانب سے کیے گئے آپریشن کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں تحریک عدم اعتماد کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔
انھوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ لوگ عدم اعتماد سے بھاگنا چاہتے ہیں اور عدم اعتماد سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، یہ عدم اعتماد سے پہلے اسلام آباد میں کوئی ہنگامہ کرنا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے اپوزیشن جماعتوں کے نام پیغام میں کہا کہ 'گھیراؤ کرنے سے پہلے 101 مرتبہ سوچنا، جو بھی تشدد کرے گا، امن و امان میں خلل ڈالے گا اس کو کچل دیا جائے گا۔
’اگر کسی نے قانون کو ہاتھ میں لیا تو میں کسی کا لحاظ نہیں رکھوں گا کہ وہ کتنا بڑا یا کتنا معتبر رہنما ہے میں کچل کر رکھ دوں گا۔‘

،تصویر کا ذریعہ@RadioPakistan
واضح رہے کہ جمعرات کی شب اسلام آباد پولیس نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے 19 کارکنان کو یہ کہہ کر گرفتار کیا تھا کہ یہ تنظیم سنہ 2019 سے غیر قانونی قرار دی جا چکی ہے اور انصار الاسلام ایک نجی ملیشیا ہے۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کی قرارداد جمع کرائے جانے کے بعد سے پیدا ہونے والی کشیدگی جمعرات کو اس وقت بڑھ گئی جب اپوزیشن کے قانون سازوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مدعو کی گئی جمعیت علمائے اسلام کی رضاکار فورس انصار الاسلام کے ارکان کو نکالنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری نے پارلیمنٹ لاجز پر چھاپہ مارا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جس کے بعد جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ملک بھر میں اپنے اور اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان کو سڑکوں پر آنے اور احتجاج کرنے کی ہدایت کر دی تھی۔
جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے حکومت کو ان کارکنوں کو رہا کرنے کے لیے جمعے کی صبح نو بجے کی ڈیڈ لائن دی تھی۔
اس سے قبل ان گرفتاریوں کے نتیجے میں جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ڈی آئی جی پولیس، اے ڈی سی اور وزیر داخلہ کے خلاف مقدمہ درج کرانے کے لیے درخواست اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں جمع کروائی تھی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@MoulanaOfficial
’اپوزیشن کے پاس 172 بندے پورے نہیں‘
ان کا کہنا تھا کہ 'عدم اعتماد میں کوئی رکاوٹ نہیں بلکہ وہ آپ کا آئینی حق ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں لیکن آپ ناکام ہوں گے اور آپ کی تحریک عدم اعتماد 12 ووٹوں سے ناکام ہو گی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہے کیونکہ 172 آدمی ان کا کوئی بڑا بھی اکٹھا نہیں کر سکتا۔ اپوزیشن کے پاس تحریک عدم اعتماد کے لیے 172 بندے پورے نہیں اس لیے یہ حرکتیں کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر کسی ایم این اے کو سکیورٹی چاہیے تو ہمیں بتائیں۔ ہم حکومتی اراکین سے زیادہ انھیں سکیورٹی فراہم کریں گے اور تحریک عدم اعتماد والے دن اسمبلی میں لا کر ووٹ بھی ڈلوا دیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’کوئی ملیشیا کے لباس میں اسلام آباد میں آیا تو چھوڑوں گا نہیں‘
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ 'آئین کے تحت کسی کو پرائیویٹ ملیشیا رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ اکتوبر 2019 میں انصارالاسلام پر پابندی لگائی گئی تھی۔'
انھوں نے کہا کہ 'خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری اور آئی جی کو میں نے ہدایت کی ہے کہ انصار الاسلام کا کوئی بھی بندہ یونیفارم میں اسلام آباد کی جانب نہ آئے، سب کان کھول کر سن لیں کہ ملیشیا کے لباس میں جو بھی اسلام آباد آیا تو اسے نہیں چھوڑیں گے، ہم نے مردان اور نوشہرہ میں بھی ایکشن لیا ہے۔‘
گذشتہ رات پولیس کی جانب سے پارلیمنٹ لاجز میں کیے گئے آپریشن اور جے یو آئی ف کے کارکنوں کی گرفتاری اور رہا کرنے سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کے تمام رضاکاروں اور اراکین قومی اسمبلی کو رہا کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ ’ہم نے پانچ گھنٹے ان سے مذاکرات کیے، انھوں نے 50 افراد پارلیمنٹ لاجز میں گھسائے ہوئے تھے۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’میں پارلیمنٹ لاجز کے واقعے کی مذمت کرتا ہوں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’گذشتہ رات پولیس نے کسی کارکن پر تشدد نہیں کیا بلکہ پولیس پر تشدد کیا گیا جس میں پانچ پولیس والے زخمی بھی ہوئے۔
’ہم اراکین پارلیمان کا احترام کرتے ہیں کسی کے خلاف دہشتگردی کا پرچہ نہیں بنایا اور تھانے میں ان کی آؤ بھگت کی، کوئی جھوٹی ایف آئی آر درج نہیں کی، ایم این ایز وہاں اپنی مرضی سے گئے۔‘
وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ’فضل الرحمان نے کال واپس لے کر اچھا فیصلہ کیا، زرداری اور نواز شریف ان کو استعمال کر رہے ہیں، ان سے درخواست ہے کہ مدرسے کے طلبہ کو استعمال نہ کریں ورنہ خسارے میں رہیں گے۔‘











