خالد جاوید: جیالے خاندان سے تعلق رکھنے والے اٹارنی جنرل کا آخری لیکن اہم مقدمہ

خالد جاوید

،تصویر کا ذریعہFacebook/@ImranKhan

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے جب قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کی تجویز صدر پاکستان کو بھجوانے کا فیصلہ کیا تو پاکستان کے ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل کے اس فیصلے کے بعد یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید بھی مستعفی ہو جائیں گے تاہم جس روز یہ چہ میگوئیاں گردش کر رہی تھیں، اُسی شام وہ سپریم کورٹ پہنچ گئے اور حکومتی فیصلوں کا دفاع کرتے نظر آئے۔

کراچی کے سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے اٹارنی جنرل خالد جاوید نے قانون کی تقریباً تمام تعلیم بیرون ملک سے حاصل کی ہے۔ انھوں نے کوئین میری یونیورسٹی لندن سے ایل ایل بی، آکسفورڈ یونیورسٹی سے بی سی ایل (بیچلر آف سول لا)، ہاورڈ یونیورسٹی سے ایل ایل ایم اور لِنکنز اِن سے بار ایٹ لا کیا ہے۔

خالد جاوید خان کا کیریئر تقریباً تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ انھوں نے سنہ 1991 میں ہائی کورٹ کے وکیل کے طور پر اِن رول کیا اور سنہ 2004 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے وہ آئین، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کسٹم، زمینی معاملات، بینکنگ قانون اور سروس قوانین سمیت قانون کے وسیع شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں۔

پیپلز پارٹی سے تعلق

خالد جاوید اور ان کے خاندان کا ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی سے گہرا تعلق رہا ہے۔ اُن کے والد نبی داد خان عرف این ڈی خان اور والدہ شمیم این ڈی خان کا شمار کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بنیادی اراکین میں ہوتا ہے۔ جب جنرل ضیاالحق نے مارشل لا نافذ کیا تو خالد جاوید کے والد اور والدہ ان چند لوگوں میں سے تھے جو پابند سلاسل ہوئے۔

سنہ 1988 میں جمہوریت کی بحالی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد پروفیسر این ڈی خان بینظیر بھٹو کی کابینہ میں وزیر قانون و انصاف کے منصب پر فائز رہے۔بینظیر کے دوسرے دور حکومت یعنی سنہ 1993 سے سنہ 1996کے دوران نوجوان خالد جاوید نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کے قانونی مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں اور انھیں فخرالدین جی ابراہیم اور اقبال حیدر کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ وہ ممبر نجکاری کمیشن بھی رہے اور اس وقت اقوام متحدہ جانے والے حکومتی وفد میں بھی شامل تھے۔

پروفیسر این ڈی خان ذوالفقار علی بھٹو کے ہمراہ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ProfessorNDKhan

،تصویر کا کیپشنپروفیسر این ڈی خان ذوالفقار علی بھٹو کے ہمراہ

جنرل پرویز مشرف کے خلاف جب وکلا نے تحریک کا آغاز کیا تو وہ اس میں عملی طور پر تو متحرک نظر نہیں آئے باوجود اس کے کہ اس تحریک کا زیادہ زور کراچی میں ہی تھا، تاہم انھوں نے اس تحریک کی حمایت میں اخبارات میں کالم ضرور لکھے تھے۔

سنہ 2008 میں جب پاکستان پیپلز پارٹی کی وفاق اور سندھ میں حکومت قائم ہوئی تو ان کی سوتیلی والدہ نرگس این ڈی خان کو خواتین کی مخصوص نشت پر رکن سندھ اسمبلی منتخب کیا گیا اور بعدازاں وہ صوبائی وزیر کے منصب پر بھی فائز رہیں۔ اس سے اگلے انتخابات یعنی 2013 میں خالد جاوید کی اہلیہ ارم خالد مخصوص نشست پر رُکن صوبائی اسمبلی رہیں اور اسی سال جون میں خالد جاوید کو ایڈووکیٹ جنرل آف سندھ تعینات کیا گیا لیکن ایک سال کے عرصے میں وہ اختلاف رائے کی وجہ سے مستعفی ہو گئے تاہم اُن کی اہلیہ نے اسمبلی میں اپنی مدت پوری کی تھی۔

بینر

پاکستان میں سیاسی صورتحال کی لمحہ بہ لمحہ کوریج بی بی سی لائیو پیج پر

لائن

انھوں نے سنہ 2018 میں پیپلز پارٹی کو سینیٹر کے ٹکٹ کے لیے بھی درخواست بھی دی تھی۔

اٹارنی جنرل کے عہدے پر تعیناتی اور مخالفت

موجودہ حکومت نے خالد جاوید کو کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان کے مستعفی ہونے کے بعد اٹارنی جنرل آف پاکستان تعینات کیا گیا تھا۔ پاکستان بار کونسل نے انور منصور خان سے سپریم کورٹ کے ججز کے حوالے سے کیے گئے کچھ تبصروں پر استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

خالد جاوید کی تعیناتی کی تحریک انصاف کے لائرز فورم اور حامد خان سمیت متعدد رہنماؤں نے مخالفت کی تھی اور انھیں ’جیالا‘ اور سابق صدر ’آصف علی زرداری کا ساتھی‘ بھی قرار دیا تھا۔ اور شاید یہی وجہ تھی کہ اُن کی تقرری کا نوٹیفیکیشن تاخیر سے جاری کیا گیا تھا۔

خالد جاوید

،تصویر کا ذریعہGov of Sindh

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے بارے میں صدارتی ریفرنس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل چند ججوں کے خلاف متنازع بیان دینے پر انور منصور سے استعفیٰ لے لیا گیا تھا۔ خالد جاوید نے اٹارنی جنرل بننے کے بعد اس مقدمے میں وفاق کی نمائندگی کرنے سے معذرت کی تھی۔

اس وقت بینچ کے سربراہی موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کر رہے تھے۔ خالد جاوید نے عدالت کو بتایا تھا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کے معاملے میں انھیں ’مفادات کے ٹکراؤ‘ کا سامنا ہے جس کی بنا پر وہ اس معاملے سے علیحدہ ہو رہے ہیں۔

سپریم کورٹ میں ان کے دور میں کراچی میں تجاوزات، میاں نواز شریف کے بیرون ملک علاج، پیکا قانون، کلبھوشن یادو، فلور کراسنگ جیسے مقدمات زیر سماعت رہے۔

’آخری مقدمہ‘

خالد جاوید موجودہ صورتحال میں وفاق کی جانب سے سپریم کورٹ میں یہ یقین دہانی کرا چکے تھے کہ کوئی بھی غیر آئینی اقدام نہیں اٹھایا جائے گا۔

سپریم کورٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی اور دیگر پارٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ان کے مدمقابل خالد جاوید ہیں جن کے ماضی کے تعلقات کی وجہ سے اب پیپلز پارٹی کی قیادت ان سے شکوہ کر رہی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر نثار احمد کھڑو نے کہا ہے کہ اٹارنی جنرل پاکستان بیرسٹر خالد جاوید خان کی جانب سے عمران خان کی حمایت کرنا ’افسوسناک‘ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’جمہوریت دوست خاندانی پس منظر ہونے کے باوجود آئین پر حملے کی حمایت اپنے بزرگوں کی جدوجہد کی توہین ہے۔‘

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کے ریٹائرمنٹ پر ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کا کہنا تھا کہ آئین کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس سے قبل اُن کا مستعفی ہونے کا ارادہ تھا مگر اُن کے مطابق اِن حالات میں استعفے کا مطلب میدان چھوڑ کر فرار ہونا ہوتا۔

سپریم کورٹ میں منگل کو سماعت کے موقع پر انھوں نے یہ بھی واضح کر دیا کہ بطور اٹارنی جنرل اُن کا یہ آخری مقدمہ ہے۔

ان کا یہ مقدمہ آخری سہی لیکن پاکستان کی جمہوری اور آئینی و پارلمانی تاریخ کا اہم مقدمہ بھی ہے، جس نے مستقبل کی راہیں اور آنے والے وقتوں کے لیے مثالیں بھی متعین کرنی ہیں۔