سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت، عدالت اور اٹارنی جنرل کا تاحیات نااہلی اور اس کی وجوہات پر مکالمہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ جو جرم ابھی سرزد ہی نہیں ہوا اس کی سزا کے بارے میں کیسے رائے دے دیں۔
انھوں نے کہا کہ جب پارلیمنٹ کے پاس قانون سازی کا اختیار ہے تو پھر منحرف اراکین کی سزا کے بارے میں تفصیلی بات کیوں نہیں کی گئی۔
جسٹس مندوخیل نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے میں منحرف ارکان کی سزا صرف ڈی سیٹ ہونے کی دی گئی ہے جبکہ اس میں تاحیات نااہلی کا ذکر نہیں ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے جمعے کے روز صدارتی ریفرنس کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے اس بارے میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ آئین کے اس آرٹیکل کے تحت نااہلی کی مدت کا تعین نہیں ہے اس لیے عدالت سے رائے لینے کے لیے حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پوری پارلیمنٹ کا اس پر یقین ہے کہ سپریم کورٹ سے بڑھ کر آئین کی تشریح کوئی اور ادارہ نہیں کر سکتا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے پاس اس بارے میں رائے دینے کی گنجائش بڑی محدود ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کے پاس یہ اختیار تھا کہ اگر کوئی رکن منحرف ہو جائے تو اس بارے میں قانون کو سخت کرنے کے لیے قانون سازی کی جاتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 62 ون ایف جو کہ رکن پارلیمان کی تاحیات نااہلی سے متعلق ہے اس کو بھی الیکشن ایکٹ سنہ 2017 اور اٹھارہویں ترمیم میں بھی برقرار رکھا گیا اور اس کو عدالتی دائرہ کار میں داخل کیا گیا جس کے بعد عدالتیں متحرک ہو گئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ صدر کی طرف سے سپریم کورٹ سے رائے اس آرٹیکل کے تناظر میں اس لیے مانگی گئی ہے تاکہ اگر کوئی بھی رکن پارٹی پالیسیوں سے اختلاف کر کے منحرف ہو جائے تو اس کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ قانون بنانے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص جرم کرنے کا ارادہ کرے تو اس کو معلوم ہو کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ منحرف ارکان میں سے مخصوص نشستوں والے ارکان بھی سندھ ہاؤس میں موجود تھے اور مخصوص نشستیں پارٹی کی جانب سے فہرست پر ملتی ہیں۔
بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جب ایک رکن جماعت کا حصہ بنتا ہے تو کیا وہ پارٹی وفاداری کا حلف اٹھاتا ہے اور کیا 63 اے کے تحت پارٹی سربراہ نے اراکین کو اس بارے میں کوئی ہدایات جاری کی ہوتی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہPID
انھوں نے کہا کہ اگر وزیرِ اعظم نے کوئی ہدایات جاری کی ہیں تو عدالت کو آگاہ کریں۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ووٹر بیلٹ پیپر پر کسی سیاسی جماعت کا انتخابی نشان دیکھ کر ووٹ دے تو کیا اس کے لیے جماعت کی منشا پر چلنا ضروری ہو جاتا ہے۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ برصغیر میں یہ پریکٹس ہے کہ پارٹی کو منشور کے مطابق چلایا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب فوجی عدالتیں بنیں تو رضا ربانی نے ذاتی اختلاف کے باوجود پارٹی موقف کی حمایت کی تھی۔
جسٹس جمال مندو خیل نے خالد جاوید خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ اٹارنی جنرل ہیں، پارٹی نمائندے یا وکیل نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اگر وزیرِ اعظم کوئی غلط کام کرے کیا تب بھی پارٹی سے وفاداری نبھانا ضروری ہے۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم پہلے اسمبلی کی رکنیت اور پھر وزارتِ عظمیٰ کا حلف لیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم اور ارکان کے حلف کی ذمہ داریاں مختلف ہیں۔
بینچ میں موجود جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ پارٹی لائن سے اختلاف کرنے والا استعفیٰ کیوں دے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اگر کوئی شخص کس پارٹی کا ٹکٹ لے اور اس پر انتخاب لڑ کر پارلیمان میں پہنچے تو اس کے بعد جماعتی اختلاف نہیں کر سکتے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک بندہ اظہارِ رائے کر رہا ہے اور پارٹی سے اختلاف کر رہا ہے تو کیا اس کو تاحیات نااہل کر دیا جائے؟
انھوں نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو کوئی کہے کہ اٹارنی جنرل ہونے کے بعد پانچ سال پریکٹس نہ کریں تو؟ اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آزادئ اظہار رائے کی بھی حدود ہیں اور کوئی شخص ایک بیمار شخص پر چیخ کر اس کی موت کی وجہ بن کر آزادی رائے کا مزہ نہیں لے سکتا۔
انھوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کا ضمیر جاگ گیا ہے اور انھوں نے پارٹی پالیسی سے اختلاف کیا ہے تو بہتر ہے کہ استعفے کے دو لفظ لکھ دے۔

جسٹس مندوخیل نے سوال کیا کہ اگر وزیرِ اعظم ملک کی سلامتی کے خلاف کارروائی کرے تو کیا کوئی اس سے اختلاف نہیں کر سکتا؟ اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہاں پر وزیرِ اعظم کا ذکر نہیں ہو رہا۔ انھوں نے کہا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تاحیات نااہلی انحراف کا خاتمہ کر دے گی۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انھیں یہ بتانا ہو گا کہ تاحیات نااہلی کس بات پر ہونی چاہیے۔
جسٹس مندوخیل نے کہا کہ بہتر نہ ہوتا کہ صدر تمام پارلیمانی لیڈرز کو بلا کر مشورہ لیتے، اور پھر عدالت آتے۔

،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan
جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ابھی جرم ہوا نہیں کہ آپ رائے مانگ رہے ہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ قتل کی سزا قتل ہونے سے پہلے متعین ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ جرم سے پہلے سزا کا تعین ضروری ہے۔ ’کیا پتہ انحراف نہ ہو، مگر اس کی سزا متعین ہونا ضروری ہے۔‘
جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ صدر نے آئین کی تشریح کا کہا ہے، تشریح سے اِدھر اُدھر نہیں جا سکتے اور ممکن ہے ریفرنس واپس بھیج دیں۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ بینچ ایڈوائزری دائرہ اختیار اور جوڈیشل دائرہ اختیار استعمال کر رہا ہے اور کیا یہ عدالت ایڈوائزری دائرہ اختیار میں سپریم کورٹ کے اختیارات استعمال کرسکتی ہے؟
چیف جسٹس پاکستان نے سوال اٹھایا کہ آئین میں خلا کون پُر کرے گا، کیا عدالت آئین میں موجود خلا کو پُر کر سکتی ہے؟
انھوں نے کہا کہ سنہ 2009 میں اٹھارویں ترمیم کا بل پارلیمنٹ سے منظور ہوا تھا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا عدالت ایوان سے منظور بل پر فل سٹاپ لگا سکتی ہے؟ انھوں نے کہا کہ وہ آخری شخص ہوں گے جو لوٹوں کی حمایت کرے گا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ انحراف کا طریقہ کار کیا ہو گا؟
خالد جاوید نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ چوری چاہے کسی کا پیٹ بھرنے کے لیے ہو، غلط اقدام ہے۔ انھوں نے کہا کہ کیا پتہ انحراف کس وجہ سے کیا جا رہا ہے اور چوری کرنے والے کا ساتھ اس لیے نہیں دیا جاسکتا کہ اس کی وجوہات درست ہیں۔
بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی منحرف ہے تو اس کو ڈی سیٹ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ انحراف کے نتائج آرٹیکل 63 اے میں موجود ہیں، انحراف پر نااہلی ہو گی یا اسمبلی رکنیت کی اہلیت ختم ہو گی؟
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پارلیمنٹ کے پاس کسی کی اہلیت ثابت کرنے کا اختیار نہیں مگر نااہلی کا ہے۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا سارے پارلیمینٹیرین آپ کے اس ریفرنس کے حق میں ہیں؟
جواباً اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام پارلیمینٹیرین اس بات پر متفق ہیں کہ سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے، آئین تو بن گیا مگر اس پر عملدرآمد سپریم کورٹ نے یقینی بنانا ہے۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ قانون سازی سے بھی نااہلی کا تعین کر سکتے تھے لیکن آپ نے ایسا کیوں نہیں کیا۔
اس صدارتی ریفرنس کی سماعت 28 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔












