قومی اسمبلی کا اجلاس: ’یہ ہم ہیں، یہ ہماری اکثریت ہے اور نیازی دیکھ رہا ہے‘

،تصویر کا ذریعہPPP
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
’یہ ہم ہیں، یہ ہماری اکثریت ہے اور نیازی دیکھ رہا ہے۔‘
یہ نعرہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد لگایا مگر وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں اعلان کیا کہ وہ آخری گیند تک مقابلہ کریں گے۔
تقریباً 12 منٹ جاری رہنے والا اجلاس شروع تو سوا گھنٹے کی تاخیر سے ہوا لیکن ڈھائی تین گھنٹے پہلے سے ہی میڈیا کی گاڑیاں پارلیمنٹ کے باہر موجود تھیں اور سامنے درختوں کے سائے میں موجود پولیس اہلکاروں کی بھی بڑی تعداد دکھائی دے رہی تھی۔
پارلیمنٹ کی راہداریوں میں موجود رپورٹروں کا موضوع عدم اعتماد سے زیادہ اس بات پر تھا کہ اپوزیشن کو پیغام ملا ہے کہ عدم اعتماد واپس لیں، اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی اور یہ کہ کوئی ثالثی کی بات ہو رہی ہے۔
ہر صحافی گپ شپ میں یہ اندازہ لگا رہا تھا کہ حکومت جا رہی ہے تو جائے گی کیسے، کیا وزیراعظم استعفیٰ دیں گے، اپوزیشن کے نمبر تو پورے لگ رہے ہیں تو قومی سلامتی کے اجلاس میں کیا ہو گا۔
ہر آنے والے اپوزیشن رہنما کی جانب مائیک اٹھائے، فون کے کیمرے آن کیے بھاگتے دوڑتے رپورٹر لپک لپک کر سوال کر رہے تھے۔
کیا قومی سلامتی کیمٹی کا اجلاس عدم اعتماد پر کوئی اثر ڈال سکتا ہے؟ اس کے جواب میں اختر مینگل نے کمیٹی روم کی جانب بڑھتے ہوئے کہا مذاکرات کا ٹائم گیا، اپوزیشن نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اس نے آج ایوان میں نمبر پورے کرنے ہیں۔‘

مسلم لیگ نون کے رہنما خرم دستگیر نے کہا کہ ’بحث شروع ہو گی اور پوری قوم کے سامنے چار سال کی فاشزم کی سیاہ رات کی تفصیل سامنے آئے گی اور معاملات نکھر کر سامنے آئیں گے کہ کتنا ضروری ہے کہ ہم اس ہائبرڈ نظام کا خاتمہ کریں اور جلد از جلد نئے انتخابات کے ذریعے حقیقی طور پر ایک منتخب حکومت کو لائیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن انھی کی جماعت کے رہنما خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم کے ہاتھ میں اس روز خالی پیپر تھا۔
وہ کہنے لگے ’یہ مراسلے تو روز آتے ہیں، وزیر خارجہ کے فرائض میں ہوتا ہے، یہ پارلیمنٹ کے فلور پر آنے چاہیے، یہ جلسوں میں کرنے والی باتیں نہیں۔۔۔ ان کے پاس اس وقت جو کاغذ تھا وہ خالی پیپر تھا، اوریجنل ان کے پاس ہے بھی نہیں آپ پتا کر لیں۔‘
رانا ثنا اللہ پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر کے ہمراہ اندر داخل ہوئے تو صحافیوں نے انھیں گھیر کر پوچھا کہ ان کی حکومت آ کر مہنگائی ختم کرے گی تو ان کا جواب تھا کہ جو عذاب ملک کے اوپر مسلط ہے، اس کو ٹلنے دیں اس کے بعد ساری چیزیں ٹھیک ہو جائیں گی۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’وزیراعظم نے این آر او مانگا ہے کہ مجھے معاف کر دو تو جو کہیں میں کرنے کو تیار ہوں، اب ان کو این آر او نہیں ملے گا تو معافی کی کوئی گنجائش نہیں۔‘
پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے تیزی سے پارلیمان کی جانب بڑھتے ہوئے کہا ’بے کار بات ہے یہ، بہت دیر ہو گئی۔‘
چلتے چلتے مسلم لیگ نون کے رہنما سعد رفیق سے کسی نے پوچھا کہ ’کیا چوہدریوں کی جگہ بن سکتی ہے تو جہاں وہ مسکرانے لگے وہیں کہا ’تسی کہندے او تے بنا لیندے آں۔‘

ثالثی کی خبر پر سعد رفیق نے کہا کہ ’میرے خیال سے ثالثی بری چیز نہیں لیکن عمران خان صاحب جو بچاؤ چاہ رہے ہیں اس پر بہت پہلے بات کرنی چاہیے تھی۔
’اب فیس سیونگ یہی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں آئیں، ان کی اکثریت ختم ہو چکی۔ بہرحال ہماری جماعت یہ چاہتی ہے کہ قبل از وقت انتخابات ہوں۔۔۔ جبر کی بنیاد پر لوگ سلیکٹ نہ کیے جائیں، انھیں آج اپنا استعفیٰ دینا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ قومی سلامتی کا اجلاس بے معنی ہے اور میرا نہیں خیال اس میں اپوزیشن شرکت کر ے گی۔
مریم اورنگزیب نے میڈیا کو بتایا کہ اپوزیشن جماعتوں کو تو وزیراعظم ہاؤس سے قومی سلامتی کے اجلاس کا کوئی بلاوا نہیں ملا۔
اندر پہنچے تو کچھ دیر پہلے خالی ہال اب بھرا ہوا تھا اور اپوزیشن کی واضح اکثریت دکھائی دے رہی تھی۔ ہاں ایک کرسی پر علی وزیر کی تصویر رکھی تھی۔
تمام اراکین ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے تھے۔ کبھی کبھی قہقے بھی بلند ہوتے تھے اور صرف اپوزیشن نہیں بلکہ حکومتی بنچوں پر بھی بیٹھے اراکین معمول کے ماحول میں تھے۔
پرویز خٹک بڑھ کر اپوزیشن کے چند رہنماؤں سے علیک سلیک کرتے دکھائی دیے۔
پارلیمان کا اجلاس دیر سے شروع ہونے کی بظاہر وجہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس تھی، جہاں حکومتی وزرا مصروف تھے۔
اپوزیشن اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری ہو چکا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ’اپوزیشن نے وزیرِ اعظم عمران خان کو ہٹانے کے لیے درکار نمبر موجود ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اپوزیشن عمران خان کو کوئی این آر او نہیں دیا جائے گا۔‘
یہ بھی پڑھیے
یہی نہیں اپوزیشن قومی اسمبلی کے جاری اجلاس کے ایجنڈے میں وزیراعظم کے انتخاب کو بھی شامل کرنے کی درخواست جمع کروا چکی تھی۔
شہباز شریف، سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری ایوان میں پہنچے۔ گھڑی پر پانچ بج چکے تھے۔
حکومتی اراکین کی سیٹیں بھی قدرے پُر ہونے لگیں۔ پرویز خٹک کے علاوہ نمایاں رہنماؤں میں شفقت محمود، علی محمد، زرتاج گل دکھائی دیں۔
اپوزیشن کی جانب سے 173 اراکین کے ایوان میں موجودگی کی اطلاع اوپر پریس گیلری میں کھڑے صحافیوں تک پہنچی تو کسی نے پوچھا یہ کس نے کہا ہے تو ایک صحافی نے کہا ’شہباز شریف نے۔‘
اجلاس کی کارروائی تو عدم اعتماد کی قرارداد پر بحث کے لیے کی جانی تھی لیکن جب آغاز میں ہی سپیکر نے ایوان کو قومی سلامتی اجلاس کے کمیٹی روم میں تبدیل کرنے کے حوالے سے رائے مانگی تو اپوزیشن کے بنچوں سے نو، نو، نو کی آواز ہی سنائی دی۔
خیر سپیکر نے کہا میرے خیال میں اکثریت ناں کے حق میں ہے اس لیے کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نمبر دو میں ہو گا۔

اپوزیشن کو وقفہ سوالات پر بات کرنے کا موقع ملا تو ایوان میں اپوزیشن کے نعروں کی صدا بلند ہوئی اور حکومتی بنچوں پر بیٹھے پی ٹی آئی اراکین نے لوٹے لوٹے کہنا شروع کر دیا۔ شازیہ مری نے کہا کہ عدم اعتماد پر آج ہی ووٹنگ کروا لیں۔
نعرے بازی اور شور کے باعث جب مائیک ایک کے بعد دوسرے اپوزیشن رہنماؤں کے پاس گیا اور بس یہی مطالبہ دوہرایا گیا تو سپیکر نے شور ختم کرنے کی درخواست کے بجائے بڑی عجلت میں یہ جملہ دہرایا کہ میرے خیال سے ایوان میں سوالات کے لیے سنجیدہ ماحول نہیں۔ اجلاس اتوار کو ہو گا۔
ابھی سپیکر اجلاس ختم کر کے اٹھ نہیں پائے تھے کہ بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اپوزیشن رہنما ان کی نشست کی جانب بڑھے اور ان سے بات کی لیکن چند ہی لمحوں میں سب رہنما واپس پلٹ گئے۔
سپیکر تو ایوان سے چلے گئے اور پی ٹی آئی کے اراکین بھی لیکن اپوزیشن رہنما ایوان کے اندر ہی رہے اور نعرے بازی کرتے رہے۔
اب جہاں وہ پریس گیلری کی جانب سر اٹھا کر نعرے بازی کر رہے تھے تو وہیں انھوں نے کچھ صحافیوں پر بھی غصہ کرنا شروع کر دیا اور کہا کہ بہت شوق ہے تو تم سیاست میں آ جاؤ۔
نفیسہ شاہ نے ایوان سے نکل کر کہا کہ ’حکومت کی اکثریت آپ نے دیکھی ہم نے واضح کر دیا کہ اپوزیشن کے 173 اراکین تھے اور ہاؤس میں ان کے 60 ، 70 لوگ تھے۔ جو نمبر ہیں 173 وہ ڈیمانڈ کر رہے ہیں کہ آپ ووٹنگ کروائیں۔ آپ کے ہاؤس کا بزنس مفلوج ہو چکا ہے، ووٹ آف نو کانفیڈنس ٹیبل ہو چکا اور سپیکر صاحب راہ فرار اختیار کر کے چلے گئے، اب ان کے پاس ایک دن ہے تین اپریل کا اس دن یا انھیں ووٹنگ کروانی ہے یا استعفیٰ دینا ہے۔‘
نفیسہ شاہ نے کہا کہ ’وزیراعظم کی ترجمانوں کی ٹیم نے ان کا کباڑ کیا۔ عزت والا راستہ تو یہی ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔‘
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’ووٹنگ اتوار کو ہو جائے گی، دو دن اور مل گئے عمران خان کو۔‘
میں نے ان سے پوچھا کہ ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں تو انھوں نے رک کر سوال کیا ثالثی کس بات کی، عدم اعتماد ہو گا، ووٹ پڑے گا اور عمران خان گھر جائیں گے۔‘
شام کے سائے ڈھل رہے تھے اور پارلیمنٹ کی راہداریاں خالی ہو چکی تھیں اب سب لوگ باہر مرکزی گیٹ پر بلاول بھٹو اور شہباز شریف کی میڈیا ٹاک کے منتظر تھے۔

شہباز شریف نے کہا کہ عدم اعتماد کے حوالے سے آج بحث ہونی تھی، ہم وقت کا ضیائع نہیں چاہتے تھے اور ووٹنگ چاہتے تھے تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور بھاگ گئے۔ انھوں نے کہا کہ سپیکر آئین شکنی کر رہے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اب کوئی بیک ڈور، کوئی بچاؤ کا راستہ نہیں۔
’آج متحدہ اپوزیشن نے 175 ممبر ہاؤس میں کھڑے کر کے ثابت کر دیا کہ اب عمران خان کے پاس بھاگنے کے لیے کوئی راستہ نہیں۔۔۔ اب جب ہمارے پاس اکثریت ہے، جب اتحادی اپوزیشن کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں اب کوئی بچاؤ کا راستہ نہیں رہا، کوئی فیس سیونگ نہیں، اب کوئی بیک ڈرور نہیں رہا۔ ایک باعزت راستہ ہے کہ وزیر اعظم استعفیٰ دیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اب اگر عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس وقت این آر او لے سکتے ہیں تو اس کے لیے بہت ہی دیر ہو چکی۔‘
پریس کانفرنس کے آخر میں اختر مینگل نے اپنی گفتگو میں کہا کہ جب کپتان ہی بھاگ جاتا ہے تو فوج کیا کرے گی۔
انھوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کی جانب سے جو نمبر بتائے گئے اس میں پی ٹی آئی کے 22 اراکین شامل نہیں یہ ان کے ناراض اتحادی اراکین کی تعداد ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر محسن داوڑ نے کہا کہ سپیکر صاحب سے کہوں گا کہ جاتے جاتے ایک کام تو کریں ہمارے ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کا پروڈکشن آڈر جاری کریں۔
پریس کانفرنس ختم ہوئی اور سوالات میں ایک صحافی نے پھر پوچھا کہ کیا ثالثی ہو رہی ہے؟ لیکن بلاول بھٹو نے کہا کہ اپوزیشن آپ کے سامنے ہے اور ہم اس رائے کو مسترد کرتے ہیں۔
واپسی کی راہ لی تو وزیراعظم کے قوم سے خطاب کا اعلان ہو چکا تھا اور اس میں بھی تاخیر ہوئی لیکن وزیراعظم نے توقع کے مطابق اعلان کیا کہ وہ آخری گیند تک مقابلہ کریں گے۔













