تحریک عدم اعتماد: پلس مائنس، نمبر گیم اور عمران خان کے لیے ’نئے ملک‘ کی مہم پر مزاحیہ میمز

عمران خان

،تصویر کا ذریعہTwitter/@PakPMO

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا ہے اور قومی اسمبلی میں اس کی ووٹنگ آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔ لیکن لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال کو فالو کرنا یقیناً کافی مشکل ہے۔

کسی روز آپ جلدی سو جائیں تو صبح اُٹھ کر معلوم ہوتا ہے کہ حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم تو اپوزیشن سے بغل گیر ہو گئی ہے۔ ٹوئٹر پر بقول عزیر یونس کے، اتحادی کو رات کو دو تین بجے چھوڑ دینا اچھی بات نہیں۔ ’سیاست میں نہ پیار میں۔‘

کسی دن آپ صبح دیر سے اٹھیں تو کوئی چِلا کر بتاتا ہے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد آچکی ہے۔ اس خبر سے تنگ آ کر ماہم فاطمہ سوشل میڈیا پر کہتی ہیں ’سب کو صبح بخیر، سوائے بزدار سے نفرت کرنے والوں کے۔‘

حکمراں جماعت تحریک انصاف اور اپوزیشن اتحاد کے حامیوں نے ہاتھوں میں کیلکولیٹر تھامے ہوئے ہیں۔ کبھی 172 ارکان پورے کرنے کی جمع تفریق کے لیے تو کبھی فلاں پلس اور فلاس مائنس کی خاطر۔

مگر تیزی سے بدلتی سیاسی صورتحال میں بھی حالات سے اپ ڈیٹ رہنا اب اتنا مشکل نہیں اگر آپ پاکستانی ’مِیم ورس‘ میں رہتے ہوں۔۔۔

وسیم اکرم

،تصویر کا ذریعہTwitter

پہلے پہل تو یہ بات سابق فاسٹ بولر وسیم اکرم بھی نہیں سمجھ پائے تھے جنھوں نے گذشتہ دنوں بڑی معصومیت سے پوچھا کہ ’میں (وسیم اکرم) ٹوئٹر پر ٹرینڈ کیوں ہو رہا ہوں؟‘ انھیں ٹی وی اینکر فخر عالم نے بتایا ’کیونکہ آپ کا پلس ورژن مائنس ہو گیا ہے۔‘

فخر عالم کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ ماضی میں وسیم اکرم کی طرح عثمان بزدار کو عمران خان کی موجودہ ٹیم کا اہم کھلاڑی کہا جاتا تھا۔

خبروں کی جگہ میمز پر نظر

اگر آپ کے لیے اپنے پسندیدہ چینل پر روز نو بجے کا خبرنامہ دیکھنا مشکل ہے تو آپ محض سوشل میڈیا پر سکرول کر کے میمز کی مدد سے سیاسی صورتحال اور تحریک عدم اعتماد کی نمبر گیم کا اندازہ لگا سکتے۔

آپ کو بس یہ دیکھنا ہے کہ ’کانپیں ٹانگنے‘ کا اشارہ کس کی جانب کیا جا رہا ہے، حکومت کی طرف یا اپوزیشن کی طرف۔

ایم کیو ایم

،تصویر کا ذریعہTWITTER

بدھ کی صبح ایسی خبریں سامنے آئیں کہ ایم کیو ایم نے طویل مشاورت اور ان گنت ملاقاتوں کے بعد حکومت کے بجائے اپوزیشن سے معاہدہ کر لیا ہے۔

اس پر صارفین ایک بار پھر متحرک ہوگئے اور مزاحیہ میمز کے ذریعے اپنے تاثرات بتائے۔ جاسر شہباز نے امیتابھ اور جیا بچن کی ایک فلم کی تصویر شیئر کی جس کا ڈائیلاگ تھا ’بوجھوں ہم کہاں ہیں؟‘

عمران خان

،تصویر کا ذریعہTwitter

دوسری طرف پیروڈی اکاؤنٹ کی بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ بھرمار ہو رہی ہے۔

جیسے ’بروکن نیوز‘ نامی ایک اکاؤنٹ نے سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کو اس ٹرک کا ڈرائیور دکھایا ہے جو حکومت اور اپوزیشن کے بیچ پھنسی ہوئی ہے۔

لیکن یہ مزاحیہ میمز صرف حکومت اور اس کے اتحادیوں تک محدود نہیں ہیں۔ ایک صارف نے متحدہ اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ آئندہ ادوار میں بھی بُرے دن آسکتے ہیں۔

اپوزیشن میمز

،تصویر کا ذریعہTWITTER

’شہباز شریف کو پی ایم، مولانا کو صدر اور بلاول کو وزیر خارجہ دیکھنے‘ پر وہ لکھتے ہیں کہ ’خوش قسمتی سے بُرے دن ختم ہوگئے ہیں۔ اب بدترین دنوں کا وقت آ گیا ہے۔‘

ادھر وزیر اعظم کی حمایت کرنے والی بنت حوا نے ایک تصویر میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں، بیرونی قوتوں، اپنے ناراض اتحادیوں اور منحرف اراکین سے عمران خان تنہا لڑ رہے ہیں۔

عمران خان

،تصویر کا ذریعہTwitter

حکومت کی جانب سے مبینہ دھمکی آمیز خط اور بیرونی سازش پر بھی پوسٹیں بنائی گئی ہیں۔

عثمان بزدار کی وزارت جانے پر ایک صارف نے ’واشنگٹن ڈی سی سے لائیو سینز‘ سے متعلق ایک تصویر شیئر کی ہے۔

عثمان بزدار

،تصویر کا ذریعہTWITTER

عمران خان کے لیے الگ ملک خریدنے کی طنزیہ مہم

اس دوران مالی امداد کے آن لائن پلیٹ فارم ’گو فنڈ می‘ پر ایک طنزیہ مہم سامنے آئی ہے۔ اس میں ذیشان احمد ’اوورسیز نیا پاکستان‘ کے لیے 10 لاکھ یورو جمع کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں ایک اوورسیز پاکستانی ہوں اور عمران خان کے لیے فنڈ اکٹھے کرنا چاہتا ہوں۔‘

عمران خان

،تصویر کا ذریعہTwitter

عمران خان

،تصویر کا ذریعہTwitter

’وہ ہماری قوم کے ایک عظیم رہنما ہیں لیکن انھیں انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تمام اوورسیز پاکستانی ان کے لیے ایک جزیرہ خریدیں جہاں ان کے لیے بغیر کسی دباؤ نیا پاکستان بنایا جاسکے۔‘

صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس طنزیہ مہم پر قہقہے لگائے ہیں جبکہ کچھ لوگ اسے سچ مان کر شیئر کر رہے ہیں۔

ٹوئٹر پر عزیرہ نامی صارف نے اسے شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کچھ لوگ تو عمران خان کے ساتھ ایسے کھڑے ہیں کہ ’ایک نیا ملک خریدنے کو تیار ہیں۔ ایسی قوم عمران خان کو کہاں ملے گی۔‘

اوورسیز پاکستانی

،تصویر کا ذریعہTWITTER

تاہم موجودہ حالات کو اوورسیز پاکستان درحقیقت کیسے دیکھتے ہیں، اس پر ایک میم میں اکشے کمار کو یہ ڈائیلاگ بولتے دیکھا جاسکتا ہے کہ ’ارے مجھے چکر آنے لگا ہے۔‘