مریم اورنگزیب کے کندھے پر ہاتھ رکھے جانے کا واقعہ، جلسوں میں خواتین سیاستدانوں کے تحفظ پر بحث

مریم

،تصویر کا ذریعہTwitter

    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام آسلام آباد

اسلام آباد میں منگل کی رات جلسے کے دوران حمزہ شہباز تقریر کر رہے تھے اور پارٹی کے دیگر اراکین کے ساتھ وہاں پارٹی کے ترجمان مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں اور اچانک انھوں نے اپنے کندھے سے اپنی جماعت کے ایک سینئیر رہنما کا ہاتھ ہٹایا۔

رات گئے ختم ہونے والے اس جلسے کی تصاویر اور ویڈیوز دن بھر چلتی رہیں مگر ایک ویڈیو اب بھی موضوع گفتگو ہے۔

ہم نے اس حوالے سے مریم اورنگزیب سے بات کرنے کی کوشش کی تاہم ان کی جانب سے رپورٹ کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔

ن لیگ کی رہنما شزا فاطمہ خواجہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خیال میں پارٹی رہنما کا کوئی غلط مقصد نہیں تھا اور ایسا بے دھیانی میں ہوا ہوگا۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن سے منسلک ایک سینئیر مرد رہنما نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا ہے کہ ’یہ بھی امکان ہے کہ بے دھیانی میں ایسا ہوا ہو لیکن اگر یہ اراداتاً ہوا تو اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ مریم وہاں ہوتی ہیں، یہ میسج دیا جانا چاہیے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔‘

حالیہ ویڈیو پر جہاں ٹوئٹر صارفین سخت ردعمل ظاہر کر رہے ہیں وہیں وہ ماضی میں چند سیاسی رہنماؤں کی جلسوں اور مظاہروں کے دوران سامنے آنے والی چند ویڈیوز کا حوالہ بھی دے رہے ہیں۔

اس میں مفتاح اسماعیل کی جانب سے پارٹی رہنما ثانیہ اسحاق کے دوپٹے سے اپنا پسینہ صاف کرنے اور ایک پریس کانفرنس کے دوران ن لیگ کے ایک پارٹی رہنما کی جانب سے حنا بٹ کے پلٹنے پر ان سے معذرت خواہانہ انداز میں بات کرنا شامل ہے۔

ماضی میں یوسف رضا گیلانی پر بھی شیریں رحمان سے متعلق ایک جلسے کی ویڈیو پر شدید تنقید ہو چکی ہے جو ایک مثال ہے کہ جلسے جلوس اور احتجاجوں میں خواتین رہنماؤں اور دیگر خواتین کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن پر اس لمحے ان کے چہرے کے تاثرات ہی بتا دیتے ہیں کہ وہ کس قدر برا محسوس کر رہی ہیں۔

مریم

،تصویر کا ذریعہTwitter

مریم اورنگزیب، حنا بٹ یا شیری رحمان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات تو وہ ہیں جو کیمرے کی زد میں آگئے اور یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیمرے کی زد میں نہ آنے والے ایسے کتنے واقعات ہوں گے جس کا سیاسی ورکرز اور خواتین کو سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔

کیا کبھی اس حوالے سے کسی پارٹی نے کچھ کہا یا اپنے اراکین کو تنبیہہ جاری کی؟

خواتین کے لیے اس صورتحال میں کیا آپشن ہوتے ہیں اور وہ کیسے اس سے نمٹتی ہیں؟

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے لوگ جہاں تنقید کر رہے ہیں وہاں خود بھی بہت سے صارفین نازیبا انداز اپنا کر بات کر رہے ہیں۔

علیشہ بھٹہ نامے صارف نے حالیہ ویڈیو سے پہلے گردش کرنے والی تین ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے ن لیگ کی خواتین سے سوال کیا ہے کہ ’آپ اتنی مجبور کیوں ہیں؟‘۔ وہ پارٹی کی دیگر ورکرز کے تحفظ پر بھی سوال اٹھاتی ہیں۔

بی بی سی نے اس حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین سے گفتگو کی۔

انھی کی جماعت کی رہنما شزا فاطمہ خواجہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے خطاب کے دوران لی گئی ویڈیو کے حوالے سے کہا کہ ’میرا نہیں خیال اس میں کوئی غلط مقصد تھا۔ فضل بھائی کسی سے بات کر رہے تھے اور بے دھیانی میں ہاتھ رکھا، اور مریم نے اسے پیچھے کر دیا۔‘

ان کا کہنا تھا ’ویسے بہت کچھ ہوتا ہے جلسوں میں بالکل صحیح بات ہے، آدمی تو آدمی ہیں میں سب آدمیوں کو نہیں کہوں گی، مگر بالکل رش ہوتا ہے، عورتیں ہراس ہوتی ہیں۔‘

شزا فاطمہ نے بتایا کہ کوئی بھی جماعت اس قسم کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی لیکن کوئی حکمنامہ بھی نہیں آتا۔ ’اگر آپ یہ پوچھ رہی ہیں کہ کبھی جماعت کی جانب سے کہا گیا ہو کہ ایسا کبھی نہ ہو، تو یہ تو نہیں ہوا۔‘

تاہم وہ کہتی ہیں کہ ان کی پارٹی کے مرد بھی اسی سوسائٹی کا حصہ ہیں اور یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے مرد یا خواتین ایک دوسرے سے مختلف ہیں ’ہر جماعت سے ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں‘۔

اس سوال کے جواب میں کہ وہ خود بھی جلسے جلوسوں میں شرکت کرتی ہیں تو کیا کبھی انھوں نے ایسی صورتحال کو دیکھا یا اس کا سامنا کیا، ان کا کہنا تھا ’ہم خواتین کا گروپ الگ سے جاتا ہے۔ الگ جگہ ہوتی ہے، انتظام ہوتا ہے۔ پتہ ہوتا ہے کہ کس ماحول میں جانا ہے۔ میں یہی پھر کہوں گی کہ ہر طرح کے لوگ ہر جگہ پر ہوتے ہیں لیکن جتنا انسان اپنے آپ کو بچا سکتا ہے اتنا ہی بہتر ہے۔

’ہجوم میں ایسی چیزیں ہوتی ہیں۔ آپ خود بھی ان سے گزرتے ہیں، انھیں آپ ہینڈل کیسے کرتے ہیں یہ آپ کے اوپر ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ماریہ

،تصویر کا ذریعہMaria iqbal

،تصویر کا کیپشنماریہ اقبال کہتی ہیں کہ شکایت کرنے پر انھیں پارٹی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما ماریہ اقبال نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ ’جب کسی جلسے میں ہوں تو سینکڑوں ہزاروں خواتین اور مرد ہوتے ہیں۔ کچھ لوگوں سے تو غیر ارادی طور پر دھکے لگتے ہیں لیکن کچھ لوگ جان بوجھ کر ایسی حرکیتیں کرتے ہیں، ہمیں فوکس اس پر کرنا ہے کہ کیا سیاسی جماعتوں میں ہراسانی سے متعلق کوئی ضابطہ ہے کہ کوئی شکایت کرے۔

’جو لوگ سیاسی کریئر کے آغاز میں اس قسم کی ہراسانی کا سامنا کرتے ہیں ان کے لیے بہت مشکل ہوتی ہے اور بہت عرصے تک ٹراما میں رہتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ پڑھی لکھی نوجوان لڑکیاں سیاسی جماعتوں میں نہیں آتیں‘۔

اس حوالے سے اپنے تلخ تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں بھی اپنے اس سیاسی کریئر میں کئی بار اپنے سینئیر ساتھیوں کی جانب سے ہراسانی کا سامنا کرتی رہی ہوں‘۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا انھوں نے کبھی آواز اٹھائی اور کیا ان کی جماعت نے کبھی ایکشن لیا، ان کا کہنا تھا ’میں نے اپنی خاتون سینئیر ساتھیوں سے بات کی لیکن انھوں نے اسے ان سنا کیا، لیکن اب میرے سامنے کچھ ایسا ہو تو میں ضرور دوسروں کے لیے آواز اٹھاتی ہوں۔‘

وہ مزید کہتی ہیں ’میں شکایت کرنے کے بعد سوچتی تھی اتنے بڑے عہدے داروں کی جانب سے جواب نہیں آیا تو یہ کل مجھے سائڈ پر کر دیں گے اور ہوا بھی ایسا، انھوں نے مجھے بہت بار متنازع بنانے کی کوشش کی۔۔۔۔ مجھے میٹنگز میں نہیں بلایا جاتا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ واضح پیغام ہوتا تھا کہ اگر میں شکایتیں جاری رکھوں گی تو میں سیاست جاری نہیں رکھ سکوں گی۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما ماریہ اقبال کہتی ہیں کہ ’اگر کوئی خاتون شکایت کر رہی ہے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ توجہ حاصل کرنا چاہتی ہے اور بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس قسم کی صورتحال بڑھ رہی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’گھر والوں کو پتہ ہوتا ہے کہ جلسوں میں جائیں گے تو ایسا تو ہوگا، تو وہ خواتین کو جانے نہیں دیتے لیکن یہ جو ایسا ہونا ہے کہ اس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور میں اپنی خواتین ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک پالیسی بنا رہی ہوں جو جلد چیئرمین پارٹی بلاول بھٹو کو بھجوائیں گے۔‘

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور سندھ اسمبلی کی رکن رابعہ اسفر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے کبھی اس قسم کی صورتحال اپنی جماعت کے جلسوں میں تو نہیں دیکھی‘۔

تاہم وہ کہتی ہیں کہ ’سینیئر سیاسی جماعتوں کے جلسوں میں اس قسم کی صورتحال دیکھنے پر بہت مایوسی اور دکھ ہوتا ہے۔

’مخصوص نشتوں پر خواتین سیاسی سسٹم میں ہیں، وہ گراؤنڈ پر بھی کام کرتی ہیں۔ ایسی سوچ کی وجہ سے بہت سی خواتین اور ان کے گھر والے سوچتے ہیں کہ کیا یہ پلیٹ فارم ہے، ان کے گھر کی عورتوں کو جانا بھی چاہیے۔‘