ہراسانی کے خلاف ترمیمی قانون منظور، اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

خواتین، ہراسانی، جنسی ہراس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عماد خالق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی سینیٹ اور قومی اسمبلی نے کام کی جگہوں پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کے لیے بنائے گیے کے قانون کے ترمیمی مسودے کی منظوری دے دی ہے۔

وزارت انسانی حقوق کی جانب سے اس قانون کے ترمیمی مسودے کی منظوری 14 جنوری کو دی گئی تھی۔

پاکستان میں دفاتر یا کام کی جگہوں پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کا قانون سنہ 2010 میں پاس کیا گیا تھا تاہم وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس قانون میں سقم سامنے آ رہے تھے اور تشریح کے اعتبار سے ترامیم کی ضرورت پیش آ رہی تھی۔

سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اب اس ترمیمی مسودے کو صدر پاکستان کے پاس دستخط کرنے لیے بھیجا جائے گا جس کے بعد یہ ایک قانون کی حیثیت اختیار کر لے گا۔

’مؤثر تحفظ‘

پاکستان کی وزارت انسانی حقوق کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا کہ اس ترمیمی مسودے کی منظوری کے بعد یہ کام کرنے والی خواتین کے لیے معاشرے میں سازگار ماحول پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں کام کی جگہ پر ہراسانی کے خلاف زیادہ مؤثر انداز میں تحفظ فراہم کر سکے گا۔

بی بی سی نے قانونی ماہرین سے بات کر کے یہ سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ پہلے قانون کیا تھا، اس نئے ترمیمی قانون میں کیا تبدیلیاں کی گئی ہے، اس کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس سے معاشرے میں خواتین کو ہراسانی کے خلاف تحفظ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

پاکستان میں کام کی جگہوں پر خواتین کو ہراسانی کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لیے پہلا قانون سنہ 2010 میں منظور کیا گیا تھا۔

تاہم قانونی ماہرین کے مطابق اس قانون میں کچھ سقم موجود تھے اور کام کی جگہ، ہراسانی، ملازم، ملازمت کی قانونی تعریف بھی مبہم اور محدود تھی۔

اس کے ساتھ ساتھ ہراسانی کی تعریف میں صرف جنسی ہراسانی کو شامل کیا گیا تھا۔

ان کے مطابق نئے مسودے کی منظوری کے بعد اس قانون کا دائرہ کار وسیع ہو جائے گا اور اس میں ملازمت کے نئے پیشوں، غیر روایتی شعبوں میں کام کرنے والا افراد اور گھریلو ملازمین کو بھی تحفظ مل سکے گا۔

نئے قانون میں کیا ترامیم کی گئی ہیں؟

وزارت انسانی حقوق کے نئے ترمیمی قانون میں چند اہم ترامیم میں ’درخواست گزار یا شکایت کنندہ‘، ’ملازم اور ملازمت کی جگہ‘ اور ’مالک‘ کی قانونی تعریف کے ساتھ ساتھ کام کی نوعیت اور ہراسانی کی تعریف میں ترمیم کی گئی ہے۔

ان تمام ترامیم کے تفصیلی جائزے کے مطابق نئے ترمیمی مسودے میں ’ملازم‘ کی قانونی تعریف کو مزید واضح اور وسیع کیا گیا ہے۔

پہلے اس قانون میں کسی روایتی اور باضابطہ ادارے یا دفتر میں کام کرنے والے افراد کو ملازم کی حیثیت حاصل تھی جبکہ نئے مسودے میں ’ملازم‘ کی قانونی تعریف میں فری لانسرز، فنکار، پرفارمرز، کھلاڑی، طلبا، آن لائن کام کرنے والے افراد، گھریلو ملازمین، انٹرن، یومیہ، ہفتہ وار یا ماہانہ اجرت پر کام کرنے والے کانٹریکٹ یا بغیر کانٹریکٹ کے کام کرنے والے افراد کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے جو کسی کے پاس بنا کسی اجرت کے بھی کام کرتے ہیں۔

نئے قانونی مسودے میں ان افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے جو کسی بھی ادارے یا شخص کے سابقہ ملازم تھے اور کسی بھی وجہ کے باعث نوکری چھوڑ چکے ہیں وہ بھی اب اپنی سابقہ جگہِ ملازمت کے خلاف ہراسانی کی درخواست دے سکیں گے۔

خواتین، ہراسانی، جنسی ہراس

اس قانون کے ترمیمی مسودے میں جہاں ’ملازم‘ کی تعریف کو وسعت دی گئی ہے وہیں ’ملازمت کی جگہ‘ کی تعریف اور دائرہ کار کو بھی بڑھایا گیا ہے۔

نیے قانونی مسودے کے مطابق ملازمت کی جگہ سے مراد روایتی دفاتر کے ساتھ ساتھ جمنازیم، کھیل کے میدان، کنسرٹ، عدالتیں، عوامی تقریبات اور گھر وغیرہ کو شامل کیا گیا ہے۔

نئے قانونی مسودے میں کھلاڑیوں اور ان کی کام کی جگہ یعنی کھیل کے میدان، پریکٹس کی جگہوں کو بھی شامل کیا گیا ہے اور اب کسی بھی ایسی جگہ پر ہراسانی کا کوئی بھی عمل قابلِ گرفت جرم بن سکتا ہے۔

’ہراسانی‘ کی قانونی تعریف میں بھی وسعت لائی گئی ہے۔ پہلے قانون میں ہراسانی سے مراد صرف جنسی ہراسانی تھا جبکہ اس نئے قانونی مسودے کے مطابق جنسی ہراسانی کے ساتھ ساتھ کوئی بھی ایسا اشارہ، عمل یا فقرہ جو کام کی جگہ پر کسی کے لیے باعث ہتک یا زحمت بنے، ذومعنی الفاظ یا فقرے، کسی کو گھورنا یا سائبر سٹاکنگ یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے کسی کی نگرانی کرنا بھی اب ہراسانی کے زمرے میں آئے گا۔

اس سے مراد کوئی بھی ایسا عمل یا حرکت جو کسی کے لیے کام کی جگہ پر کام میں رکاوٹ بنے یا ان کی کارکردگی کو متاثر کرے ہراسانی تصور کیا جا سکے گا۔

اسی طرح اس قانون میں ’صنف کی بنیاد پر امتیازی سلوک‘ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

نئے قانون کے مطابق ہراسانی کی تحقیقات کرنے والی کمیٹییوں اور وفاقی یا صوبائی محتسبوں کے لیے ’شواہد‘ کی قانونی تعریف کو بھی مزید واضح کیا گیا ہے اور ترمیم کے مطابق نئے قانون میں کوئی بھی ڈاکیومنٹری شواہد چاہے وہ ویڈیو، آڈیو یا کسی تحریر کی صورت میں ہو، ایک ثبوت کے طور پر تصور کیا جائے گا اور تحقیقاتی ٹیموں کے لیے قابل قبول ہو گا۔

کام کی جگہوں پر خواتین کے خلاف ہراسانی کے تحفظ کے نئے مسودے میں خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں، بچوں اور خواجہ سراؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ شکایت کنندہ پر ہراسانی کے ملزم کی جانب سے ہتک عزت کے دائر کردہ دعوؤں اور قانونی مقدموں کو اس کے ’ردعمل‘ یا ’مزاحمت‘ تصور کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

خواتین، ہراسانی، جنسی ہراس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

قانون میں ترامیم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی کارکن اور وکیل نگہت داد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون میں نئی ترامیم بہت اہم ہیں اور اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران ہراسانی کے خلاف عدالتوں میں مقدمات میں اس قانون میں ملازم، ملازمت کی جگہ، ہراسانی اور شواہد کے قانونی تعریف اور تشریح میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے کے قانون میں یہ تعریفیں بہت محدود تھی اور بعض اوقات ہراسانی کے مقدمات میں ان کی تشریح میں ابہام کے باعث اس قانون کا اطلاق مشکل ہوتا تھا اور متاثرہ فرد کی داد رسی نہیں ہو پاتی تھی۔

نگہت داد کا کہنا تھا کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں ان معاملات پر کام کرنے والے ادارے، وکلا، متاثرین اور یہاں تک کہ محتسبوں کا بھی یہ مطالبہ سامنے آ رہا تھا کہ اس قانون کو بہت محدود رکھا گیا ہے اور اس میں ترامیم کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس نئے ترمیمی مسودے میں ’ملازم‘ کی تعریف کو بہت وسعت دی گئی ہے جو کہ پہلے بہت محدود تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس نئے قانونی مسودے سے غیر روایتی شعبوں میں کام کرنے والے افراد بھی اب اپنی شکایات کا اندراج کروا سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

ہراسانی کے خلاف مقدمات پر کام کرنے والی قانونی ماہر و وکیل سارہ ملکانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ترمیم کی سب سے بڑی وجہ سنہ 2010 کے قانون میں ہراسانی کی تعریف میں ابہام اور اس کا محدود ہونا تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں گذشتہ برس سپریم کورٹ نے بھی ہراسانی کے ایک مقدمے میں کہا تھا کہ سنہ 2010 کے قانون کے مطابق صرف اس طرح کا عمل جو واضح اور ظاہر طور ہر جنسی ہراسانی ہو وہ ہی اس قانون کے دائرے میں آئے گا۔

سارہ ملکانی کا کہنا تھا کہ کام کی جگہوں پر خواتین کو جس قسم کی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ ہمیشہ ظاہری اور واضح جنسی نوعیت کی نہیں ہوتی بلکہ انھیں ہتک، صنف کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور دیگر رویوں کے ذریعے بھی ہراساں کیا جاتا ہے۔ ایسے معاملات میں یہ قانون ان خواتین کو قانون مدد فراہم نہیں کرتا تھا مگر اب اس ترمیم کے بعد انھیں بھی مدد ملے گی۔

اس سے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

نگہت داد کا کہنا تھا کہ اگر اس قانون کی مکمل عملداری ممکن ہوتی ہے تو معاشرے میں خواتین کے لیے کام کرنے کی جگہوں پر زیادہ سازگار اور محفوظ ماحول بنے گا۔

اُن کے مطابق ملک میں نہ صرف مزید خواتین تحفظ کے احساس کے ساتھ کام کرنے باہر نکلیں گی بلکہ ملک میں صنف کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا بھی خاتمہ ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کے نافذ ہونے سے ملک میں خواجہ سراؤں کو بھی تحفظ اور انھیں بھی ملازمت کرنے کا حوصلہ ملے گا کیونکہ اس قانون میں صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مرد، بچے اور خواجہ سراؤں یا صنفی اقلیت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

خواتین، ہراسانی، جنسی ہراس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اُنھوں نے بتایا کہ قانونی تشریح میں سقم کے علاوہ اس قانون میں ترمیم کرنے کی ایک اہم وجہ یہ بھی کہ ملک کے غیر روایتی شعبوں میں کام کرنے والی خواتین اور افراد جیسا کے گھریلو ملازمین وغیرہ کے لیے کسی اور جگہ پر اپنی شکایات کرنے کے مواقع موجود نہیں تھے۔

سارہ ملکانی کے مطابق غیر روایتی شعبوں میں کام کرنے والے افراد کو شامل کرنے کے ساتھ ساتھ نئے دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بھی اس قانونی ترامیم کی ضرورت تھی کیونکہ آج کل بہت سے افراد آن لائن خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ وہ اپنی شکایات کہاں کر سکتے ہیں کیونکہ وہ کسی دفتر کی چار دیواری میں موجود نہیں لیکن ہراسانی کا سامنا انھیں بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

نگہت داد کا کہنا تھا کہ اگر اس قانون پر مکمل طور پر عملدرآمد کیا جاتا ہے تو معاشرہ میں ہراسانی کا تصور بہت واضح ہو جائے گا کہ ہراسانی صرف جنسی عمل یا حرکت کی بنیاد پر ہی نہیں ہوتی بلکہ اگر کسی کے ساتھ ہتک آمیز رویہ رکھا جاتا ہے، یا امتیازی سلوک کیا جاتا ہے تو وہ بھی ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے۔

اس سے معاشرے میں ہراسانی کے خلاف ’صفر برداشت‘ کی بنیاد رکھی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ مالک کے اپنے ملازم سے رویے اور معاملات میں بہتری آئے گی۔ اس قانون کے ذریعے کام کی جگہوں کو سب کے لیے محفوظ بنایا جا سکے گا اور جب وہ محفوظ ہوں گی تو یقیناً خواتین کے لیے گھر سے باہر کام کرنے کے لیے نکلنے کی حوصلہ افزائی ہو گی اور ان کی طرف معاشرتی رویوں میں بھی تبدیلی آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اس وقت ہی ممکن ہو گا جب اس مقدمات کو سننے والے محتسب، یا اداروں میں موجود تحقیقاتی کمیٹیاں اور عدالتیں اس طرح کے فیصلے دیں جو معاشرے میں برابری کی سطح کی حوصلہ افزائی کریں۔