جنسی ہراس: کیا ہراسانی کا شکار بننے والی خواتین کو ہی مورد الزام ٹھہرانا صحیح ہے؟

Sabah Bano Malik

،تصویر کا ذریعہSabah Bano Malik

،تصویر کا کیپشنصبا بانو ملک
    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’چار سال قبل جب میں نئی نئی پاکستان آئی اور اپنی ماں کے ساتھ راولپنڈی کے ایک بازار میں شادی کے کپڑے خریدنے گئی تو دکاندار نے کپڑے دکھاتے ہوئے غلط طرح سے اپنا ہاتھ میری رانوں کے اگلے اور پچھلے حصے پر لگایا۔ میں کافی بے باک قسم کی فیمینسٹ لڑکی ہوں اور جس کے ساتھ پھڈا لینا پڑے میں لیتی ہوں۔ لیکن اس لمحے میرا سانس رُک گیا اور لگا جیسے میرا دل دھڑکنا چھوڑ دے گا۔‘

جنسی ہراسانی سے متعلق یہ صرف ایک خاتون کی کہانی ہے۔ پاکستان کے ایک نجی بینک میں پیش آنے والے واقعے کے بعد ایسی کئی ہولناک کہانیاں سامنے آئی ہیں۔

گذشتہ دنوں نجی بینک کے مینیجر کی جانب سے اپنی خاتون ساتھی کو نامناسب انداز سے چھونے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے جس میں بیشتر افراد ویڈیو میں نظر آنے والی ’خاتون کے سکتے میں آجانے اور اسی وقت کوئی ردِعمل ظاہر نہ کرنے‘ پر انھیں ہی موردِ الزام ٹھہراتے نظر آتے ہیں۔

وہیں یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ ہر انسان قدرتی طور پر دوسرے سے مختلف ہے اور کسی بھی واقعے پر اس کا ردِعمل مختلف ہوتا ہے لہذا اگر کوئی آپ کو نامناسب طریقے سے چھو رہا ہے یا ہاتھ لگا رہا ہے، تو کیا آپ کو ردِعمل دینے یا نہ دینے پر موردِ الزام ٹھہرانا صحیح ہے یا غلط؟

بی بی سی نے اس حوالے سے زندگی کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والی پاکستانی خواتین سے بات کی ہے جنھوں نے اپنے تجربات ہم سے شیئر کیے۔

یہ بھی پڑھیے

صبا

،تصویر کا ذریعہ@sabahbanomalik

’میری پہلی غلطی عورت ہونا، دوسری گھر سے نکلنا ہے‘

صبا بانو ملک ایک صحافی اور ریڈیو شو کی میزبان ہیں اور خود کو ایک ’برگر لڑکی‘ کہتی ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ چار سال قبل جب وہ ’نئی نئی پاکستان آئیں اور اپنی والدہ کے ساتھ راولپنڈی کے ایک بازار میں شادی کے کپڑے خریدنے گئیں تو دکاندار نے کپڑے دکھاتے ہوئے غلط طرح سے اپنا ہاتھ میری رانوں کے اگلے اور پچھلے حصے پر لگایا۔‘

’میں کافی بے باک قسم کی فیمینسٹ لڑکی ہوں اور جس کے ساتھ پھڈا لینا پڑے میں لیتی ہوں لیکن اس لمحے میرا سانس رُک گیا اور لگا جیسے میرا دل دھڑکنا چھوڑ دے گا۔‘

صبا بتاتی ہیں ’اس وقت میری ماں مجھ سے بالکل ایک فٹ کے فاصلے پر کھڑی تھیں لیکن میں جیسے سکتے میں آ گئی تھی اور ان سے کچھ بھی نہیں کہہ پائی اور بس چپ چاپ بھری آنکھوں سے کھڑی انھیں دیکھتی رہی۔‘

صبا کے مطابق یہ سب اتنا اچانک اور حیرت زدہ کر دینے والا تھا کہ اس لمحے انھیں کچھ سمجھ نہیں آئی کہ انھیں کیا کرنا چاہیے لیکن بعد میں جب وہ گاڑی میں آکر بیٹھیں تو انھوں نے اپنی والدہ کو دکاندار کی حرکت کے متعلق بتایا۔

صبا کہتی ہیں کہ اتنے سال ہو گئے لیکن آج بھی وہ سمجھ نہیں پائیں کہ اس لمحے میں ’میں کچھ کہہ یا کر کیوں نہیں پائیں‘۔

وہ بتاتی ہیں کہ اس وقت انھیں شدید ذلت کا احساس ہوا اور وہ خود کو یقین دلانے کی کوشش کر رہیں تھیں کہ ’تمھارے ساتھ یہ ہو رہا ہے، کچھ کرو‘۔

صبا بانو ملک

،تصویر کا ذریعہSabah Bano Malik

،تصویر کا کیپشنصبا بانو ملک

وہ بتاتی ہیں ’میں سوچ رہی تھی کہ تم جو اتنی فیمینسٹ بنتی ہو، اِس وقت خاموش کیوں ہو، اور میرے ذہن میں جو دوسرا خیال آ رہا تھا وہ یہ تھا کہ اگر میں نے شور مچایا تو سب میرا حلیہ دیکھ کر یہی کہیں گے کہ یہ ایک برگر بچی وہاں آئی ہے جس نے دوپٹہ تک نہیں پہنا ہوا تو شاید میرے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے، یا شاید وہ یہ سوچیں کہ میں ہی غلط طرح سے مسکرائی ہوں گی، یا کچھ غلط چیز کہی یا کی ہوگی۔‘

صبا کے مطابق آپ کے دماغ میں پہلی سوچ یہی آتی ہے کہ سب کہیں گے کہ یہ اسی لڑکی کی غلطی ہے۔ ’میری پہلی غلطی عورت ہونا اور دوسری گھر سے نکلنا ہے۔‘

ان کے مطابق دوسری وجہ جس کے باعث وہ ردِعمل نہیں دے پائیں وہ ان کے ذہن میں آنے والا یہ خیال تھا کہ ’سب صرف مرد کا ساتھ دیں گے۔‘

اور تیسری وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’پاکستانی معاشرے میں مردوں کو بھی پتا ہوتا ہے کہ ’اچھی عورت اور اچھی لڑکی گھر میں رہتی ہے لیکن اگر کوئی عورت گھر سے باہر نکل آئی ہے تو اسے نشانہ بنانا آسان ہے، پھر چاہے اس کے گھر سے باہر نکلنے کی مجبوری کچھ بھی ہو۔‘

یہ بھی پڑھیے

ندا

،تصویر کا ذریعہFacebook/Nida Kirmani

’خاتون کا ردعمل کیسا ہونا چاہیے، یہ بحث انتہائی شرمناک‘

صبا کا کہنا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں اچھی اور بُری عورت کے معیار طے کر دیے گئے ہیں ’حتیٰ کہ صرف نوکری پر جانے والی خاتون کو بھی بری عورت سمجھا جاتا ہے۔ ‘

وہ کہتی ہیں کہ کسی بھی صورتحال میں آپ ہراس یا غلط طرح سے چھوئے جانے کا شکار بننے والی خاتون کو الزام کیسے دے سکتے ہیں خاص کر جب آپ ساری زندگی عورتوں کو یہ سکھاتے اور ان کی تربیت کرتے آئے ہیں کہ کچھ ہو جائے بس آواز نہیں اٹھانی۔

’لیکن اگر کوئی مجھے غلط طرح سے چھو رہا ہے اور میں ردِعمل نہیں دے رہی تو اس میں سوائے ایک عورت ہونے اور وجود رکھنے کے علاوہ میری کیا غلطی ہے؟‘

صبا کا کہنا تھا کہ ہراساں ہونے والی خاتون کو کیسا ردِعمل دینا چاہیے تھا، اس پر بحث ہونا ہی انتہائی شرمناک ہے۔

وہ بتاتی ہیں ’پہلی بار تو میں سکتے میں آ گئی تھی اور کچھ کہہ یا کر نہیں پائی لیکن بعد میں جب ایک بار بس کے سفر میں ایک مرد مسافر مجھ پر گندی نظر ڈال رہا تھا تو میں نے ناصرف اس کی سیٹ تبدیل کروا دی بلکہ اسے بتایا کہ میں تمھیں خود پر ایسی نظریں ڈالنے کی اجازت نہیں دوں گی۔۔۔ تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک انسان مختلف قسم کی صورتحال میں مختلف طرح سے ردِعمل دے سکتا ہے اور آپ پہلی بار ردِعمل نہ دینے پر مجھ پر تنقید نہیں کر سکتے۔‘

صبا کا ماننا ہے کہ غط طرح سے چھونے یا پکڑنے یا ہراس کرنے والوں کو سزا دینے کے لیے ناصرف قوانین ہونے چاہییں بلکہ ان پر عمل درآمد بھی کروانا چاہیے۔

آئمہ

،تصویر کا ذریعہ@aimaMK

’غیرت جاگ ہی جاتی ہے‘

آئمہ کھوسہ ایک صحافی اور سماجی کارکن ہیں۔ بینک میں پیش آنے والے واقعے کے بعد آئمہ کھوسہ نے ٹوئٹر پر اپنا تجربہ شئیر کیا جس پر ان کی تعریف ہوئی اور ساتھ ساتھ ہی تنقید بھی کی گئی۔

اپنے ساتھ کئی برس قبل پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے آئمہ کھوسہ کا کہنا تھا کہ جب ان کی عمر 16، 17 سال تھی تو وہ ایک دن ایک سٹور کی سیڑھیاں چڑھ رہیں تھیں جب ایک مرد نے نیچے آتے ہوئے انھیں پیچھے کی جانب سے پکڑا۔

’شروع میں تو مجھے سمجھ نہیں آئی لیکن پھر میں پیچھے مڑی اور ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا، جیسے ہی وہ میری طرف مڑے میں نے انتہائی غصے کے عالم میں کس کر ان کے منھ پر طمانچہ لگایا۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ اس وقت وہاں ایک دم خاموشی سی چھا گئی ’میری والدہ میرے ساتھ تھیں لیکن وہ ذرا آگے چل رہیں تھیں، انھوں نے بھی پیچھے مڑ کر دیکھا لیکن ہم نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی۔‘

آئمہ کھوسہ بتاتی ہیں کہ ان کے ساتھ اس طرح کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں جہاں کئی مرتبہ وہ سکتے میں آ گئیں اور ردِعمل نہ دے پائیں لیکن ان کا خیال ہے کہ اگر آپ کو سمجھ آ جائے کہ آپ کے ساتھ جو ہوا ہے وہ غلط ہے تو اس چیز سے انسان میں غصے کے ساتھ ساتھ بہت ہمت بھی آ جاتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ایک خاتون کو جب اس طرح سے عوامی مقام پر غیر مناسب انداز چھوا جاتا ہے تو وہ ساری صورتحال آپ کے کنٹرول سے باہر ہوتی ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ ’جب تک آپ آواز نہیں اٹھائیں گے آپ کو اپنے حقوق کے متعلق علم ہی نہیں ہو گا۔ میری کوشش تو یہی ہوتی ہے کہ میں ردِعمل دوں تاکہ میرے اردگرد کے معاشرے کو پتا تو چلے کہ یہاں پر کھلم کھلا، سڑک کے اوپر، دفتروں اور کریانے کی دکانوں کے اندر کہیں بھی کوئی بندہ آ کر آپ کو ہاتھ لگا کر چلا جاتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں ’کبھی کبھی ایسے بھی ہوتا ہے کہ لوگ پہچان جاتے ہیں کہ لڑکی کے ساتھ غلط ہو رہا ہے اور ان کی مردانگی یا غیرت جاگ ہی جاتی ہے۔ لیکن اگر ان کے دل میں چور ہے تو وہ کہتے ہیں کوئی نہیں بھائی کو جانے دیں، لہذا جب تک آپ بولیں گے نہیں آپ کو اردگرد کے لوگوں کا ردِعمل کیسے پتا چلے گا۔‘

آئمہ کھوسہ

،تصویر کا ذریعہAima Khosa

،تصویر کا کیپشنآئمہ کھوسہ

’ہمارے معاشرے میں پدرشاہی سوچ ہے اسی لیے مرد سوچتے ہیں کہ کسی کو ہاتھ لگا بھی لیا تو کیا فرق پڑ جائے گا‘

آئمہ کھوسہ کا کہنا ہے کہ اردگرد کے معاشرتی دباؤ، گھر والوں یا دفتر والوں کی جانب سے حمایت نہ ملنے کے ڈر سے اکثر خواتین اپنی بات نہیں کر پاتیں ’ان کے گھر والے یا دفتر کے باقی ساتھی یہی کہتے ہیں کہ یہ تو اتنا بڑا مسئلہ نہیں جتنا آپ نے بنا لیا ہے۔‘

صبا ملک کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے آئمہ کھوسہ کا بھی یہی خیال ہے کہ کسی بھی صورت میں عورت کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ ’آخر کو غلط حرکت کرنے والا تو مرد ہے نا۔ اور آپ کبھی بھی اس عورت کی صورتحال سمجھ نہیں سکتے کہ اس پر کیا گزر رہی تھی۔‘

سوشل میڈیا پر آئمہ کھوسہ کی ٹویٹ کے باعث ان پر خاصی تنقید کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’اگر سکتے میں آ جانا ٹھیک ہے تو جارحانہ ردِعمل دینے کے لیے خواتین کی حوصلہ افزائی میں بھی کچھ غلط نہیں۔‘

آئمہ کھوسہ کا خیال ہے کہ ہمارے معاشرے کی سوچ پدرشاہی ہے ’اسی لیے مرد سوچتے ہیں کہ کسی کو ہاتھ لگا بھی لیا تو کیا فرق پڑ جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں سب کو معلوم ہے کہ یہ مسئلہ موجود ہے لیکن ہراس سے متعلق قوانین کا نفاذ سب سے بڑا مسئلہ ہے اور دفاتر میں اس مسئلے پر اسی صورت میں قابو پایا جا سکتا ہے اگر کام کی جگہوں پر ساتھی عورتوں سے کیسا برتاؤ ٹھیک ہے اور کیسا غلط ہے، اس حوالے سے ان کی تربیت کی جائے اور غلط برتاؤ کی صورت میں ہونے والی سزائیں مقرر کی جائیں۔

’جب تک کسی مرد کو یہ معلوم نہیں ہو گا کہ یہ حرکت غلط ہے اور اسے اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں، تب تک وہ مرد نہیں رکے گا۔‘

مینا

،تصویر کا ذریعہ@gabeenaa

’تمھارے ساتھ تو روز یہ ہونا ہے، چھوڑو، نظر انداز کرنا سیکھو‘

رابیل حنا سوشل میڈیا سپیشلسٹ اور کونٹیٹ پروڈیوسر ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کی یاداشت کے حساب سے پہلی بار جب ایسا کوئئ واقعہ ان کے ساتھ پیش آیا تو ان کی عمر سات، آٹھ برس ہوگی۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ ایک جیولری کی دکان پر کھڑی تھیں اور ان کے مطابق انھوں نے ’مناسب لباس‘ پہن رکھا تھا ’اچانک میرے والد سے بھی بڑی عمر کا آدمی میرے پیچھے آکر کھڑا ہو گیا اور مسلسل اپنا جسم میرے ساتھ لگانے لگا۔ میں اپنی امی کے پاس چلی گئی لیکن وہ پھر آیا اور اپنی کمر میری کمر کے ساتھ لگائی۔۔۔ اسے نظر آ رہا ہے کہ میں بے چین ہو رہی ہوں، جگہ تبدیل کر رہی ہوں لیکن وہ بندہ نہیں رکا۔‘

رابیل حنا بتاتی ہیں کہ ان کی شکل پر بے چینی اور بار بار انھیں جگہ تبدیل کرتا دیکھ کر ان کے والد مڑے اور ان سے پوچھا کہ ’سب ٹھیک ہے؟‘ جب اس بندے کو محسوس ہوا کہ ان کے والد دیکھ رہے ہیں ’تب جا کر وہ بندہ رکا۔‘

تاہم وہ کہتی ہیں کہ وہ اپنے والد کو بتا نہیں پائیں اور صرف یہ جواب دے سکیں کہ ’ہاں سب ٹھیک ہے۔‘

وہ بتاتی ہیں ’اس وقت میں نے اس بندے کو کچھ کیوں نہیں کہا، والد کو کیوں نہیں بتایا۔۔۔ کیونکہ میں ڈر گئی تھی کہ اگر انھیں بتا دیا کہ یہ بندہ مجھے تنگ کر رہا ہے تو اگلی بار وہ مجھے بازار لائیں گے ہی نہیں اور میرا باہر نکلنا بھی بند کر دیں گے۔۔۔ اور شاید یہ کہیں گے کہ تم اس طرح کیوں کھڑی تھیں یا تم ہی وہاں سے ہٹ جاتیں۔‘

رابیل حنا بتاتی ہیں کہ ان کے ساتھ ایسے کئی واقعات ہوئے۔ یونیورسٹی میں ہونے والے ایک واقعے کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک بار وہ اپنی دوستوں کے ہمراہ بیٹھی تھیں تب کچھ ڈرائیور حضرات پارکنگ میں بیٹھے انھیں گھور رہے تھے۔ وہاں کے گارڈ نے آکر انھیں کہا کہ ’وہ آدمی آپ کو ایسی نظروں سے دیکھ رہے ہیں تو آپ ایسا کریں کہ یہاں سے اٹھ جائیں۔‘

’ہم سب ایک دم بولیں کہ ہم کیوں اٹھیں آپ ان کو جا کر بولیں۔‘ جس پر گارڈ نے انھیں جواب دیا کہ ’بیٹا اس میں بدنامی تو آپ کی ہے، ان کو تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘

رابیل حنا کا کہنا تھا کہ جب آپ بچن سے لے کر بڑے ہونے تک ایسی باتیں اپنی خواتین کے دماغ میں ڈالتے جائیں گے اور انھیں معلوم ہے کہ ان کے ساتھ کھڑا ہونے والا یا ان کی حمایت کرنے والا کوئی نہیں تو وہ صرف سکتے میں ہی آ سکتی ہیں کیونکہ انھیں لگتا ہے کہ ان کے ساتھ جو غلط ہو رہا ہے وہ شاید ان کی اپنی ہی غلطی ہے اور انھیں ہی اس کے لیے قصوروار ٹھہرایا جائے گا۔

ملزم بینک ملازم پولیس کی حراست میں

،تصویر کا ذریعہ@hamzashafqaat

،تصویر کا کیپشنپاکستانی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ملزم کو خاتون اہلکار کو نامناسب انداز میں چھوتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا

’لڑکی کچھ بولے تو بھی وہ غلط اور نہ بولے تب بھی وہی غلط۔‘

رابیل حنا کا کہنا ہے کہ ’99 فیصد لڑکیاں ایسے واقعات پر کوئی ردِعمل نہیں دیتیں، کیونکہ ایک تو انھیں سمجھنے میں کچھ سیکنڈ لگتے ہیں کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے، اور جب تک وہ شور مچانے یا کچھ بھی بولنے کا سوچتی ہیں تب تک وہ بندہ جا چکا ہوتا ہے۔ خواتین کو یہ بھی ڈر ہوتا ہے کہ اگر انھوں نے کچھ بولا تو اس مرد کے ساتھ جو چار اور بندے ہیں وہ بھی اسے تنگ کریں گے۔۔ عورتوں کو اپنی عزت خاندان، اپنی جان کئی طرح کی فکریں ہوتی ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں ’آپ کے گھر والے ہی آپ کو چپ کرا دیتے ہیں کہ اگر یہ شور مچائے گی تو سوشل میڈیا یا ٹی وی والے آ جائیں گے اور یہ ہماری بدنامی ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت کم خاندان اپنی بیٹیوں کا ساتھ دیتے ہیں۔

رابیل حنا کے نزدیک ایک اور وجہ یہ ہے کہ ’خواتین کو بھی اپنی ذلت کا ڈر ہوتا ہے۔ وہ ڈر جاتی ہیں کہ ان کے ساتھ دوبارہ ایسا کب ہو سکتا ہے اور انھیں لگتا ہے کہ شاید ان کی ذات ہے ہی ایسی کہ جب وہ باہر نکلیں گی، جہاں جائیں گی ان کے ساتھ ایسا کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تبصرے کہ لڑکیاں سکتے میں کیوں آ جاتی ہیں یا بولتی کیوں نہیں ’یہ ملک اور معاشرہ ایسا ہے کہ لڑکی کچھ بولے تو بھی وہ غلط اور نہ بولے تب بھی اسے ہی غلط بولا جاتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں ’لکھنا بہت آسان ہے کہ وہ لڑکی بولی کیوں نہیں، آپ سالوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں کہ جب جب عورت بولی ہے اس کے ساتھ کیا سلوک ہوا ہے اور جب عورتوں کے حقوق کی بات آئے تو ہماری قانون پر عمل درآمد کی تاریخ بھی کوئی اچھی نہیں۔‘

بینک میں ہراساں کیے جانے کے واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’یہ صرف ایک واقعہ تھا جس پر ایکشن لیا گیا اور وہ بھی اس لیے کیونکہ ثبوت موجود تھا۔ لیکن پاکستان میں عوامی مقامات اور بند کمروں میں روزانہ ایسے سینکڑوں واقعات ہوتے ہیں جن کے کوئی ثبوت نہیں ہوتے اور اگر ثبوت ہوں بھی تو انھیں کون مانتا ہے۔

’اسی لیے کئی لڑکیاں چپ رہتی ہیں کیونکہ انھیں لگتا ہے کہ اگر وہ بولیں تو لوگ کہیں گے یہ تو بس توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے یا یہ کہیں گے کہ تمھارے ساتھ تو روز یہ ہونا ہے، چھوڑو، نظر انداز کرنا سیکھو۔‘

منال

،تصویر کا ذریعہ@manalkhan07

لاش سے پوچھا جاتا ہے کہ تم نے قاتل کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا کیوں نہیں؟‘

رابیل حنا کا کہنا ہے کہ عورتوں کو اس چیز کا الزام دینے کے کہ ’وہ گھر سے باہر کیوں نکلی یا وہ عورت ہی کیوں پیدا ہوئی، اس کے بجائے ایسا کریں کے عورتوں کا ایک چڑیا گھر بنا دیں اور انھیں پیدائش سے مرنے تک اس میں رکھیں‘۔

ہراس ہونے پر ردِعمل نہ دینے والی خواتین پر ہونے والی تنقید کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ ’جب قتل ہوتا ہے تو کیا میت کو کہا جاتا ہے کہ تم نے قاتل کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا کیوں نہیں؟ یا یہ کہ قتل ہونے کے لیے یہ بندہ گھر سے باہر کیوں نکلا یا دشمنی بنائی ہی کیوں۔‘

رابیل حنا سوال کرتی ہیں کہ متاثرہ شخص کو یہ چیزیں نہیں بولی جاتیں بلکہ اسے انصاف دلانے کے لیے کام کیا جاتا ہے تو عورتوں کو جب ہراس کیا جاتا ہے تو ’اتنی جانب داری کیوں دکھائی جاتی ہے؟‘

ان کا کہنا ہے کہ ’عورت کس مجبوری کے تحت گھر سے نکلی اس سے آپ کا کوئی لینا دینا نہیں ہونا چاہیے، اگر خدا نے آپ کو محافظ بنایا ہے تو صرف اپنی ماں، بہن اور بیٹی کا نہیں بلکہ ہر عورت کا محافظ بنایا ہے۔ اس لیے خدارا دوسری عورتوں کو غیر محفوظ نہ محسوس کروائیں اور وہ عورت جو پہلے ہی ہراسگی کے باعث پریشانی کا شکار ہے اس پر تنقید اور انگلیاں اٹھانے کے بجائے خدارا انھیں بھی اپنے جیسا انسان سمجھیں۔‘

رابیل کا کہنا ہے کہ ’ہمیں کہا جاتا ہے کہ وہ جگہ اچھی نہیں کیونکہ وہاں لڑکے بیٹھے ہوتے ہیں، یا رات کو دیر سے فلاں جگہ نہ جانا وہاں لڑکے تنگ کریں گے۔۔۔ اور یہ بات کہنے والے بھی مرد ہی ہوتے ہیں۔۔۔ قوانین پر عمل درآمد کروائیں اور عورتوں کو بھی یہ محسوس کرنے دیں کہ وہ بھی سکون سے گھر سے باہر نکل سکیں۔۔۔ اور یہ ملک اتنا ہی ان کا بھی ہے جتنا مردوں کا ہے۔‘