’خاتون ملازم کو ہراساں کرنے والا بینک اہلکار گرفتار، نوکری سے برخاست‘

،تصویر کا ذریعہ@hamzashafqaat
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق پولیس نے شہر کے ایک نجی بینک کے اس افسر کو حراست میں لے لیا ہے جس پر اپنے ہی ادارے کی خاتون ملازم کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ہے۔
ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے سنیچر کی شب ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں بتایا کہ مذکورہ شخص کو نوکری سے بھی برخاست کر دیا گیا ہے اور سٹیٹ بینک کے قواعد کے مطابق اب وہ کسی اور بینک میں ملازمت بھی نہیں کر سکے گا۔
ملزم کی جانب سے خاتون کو دفتر میں جنسی طور پر پراساں کرنے کا واقعہ ایک ویڈیو میں سامنے آیا تھا جو سوشل میڈیا پر شائع کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
ڈپٹی کمشنر نے سوشل میڈیا صارفین سے یہ درخواست بھی کی کہ ویڈیو میں جو خاتون موجود ہیں ان کی شناخت کا تحفظ کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بینک کی ملازم اس خاتون کو ہراساں کیے جانے کی ویڈیو سنیچر کو پاکستانی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں بینک کے ایک مرد ملازم کو انھیں نامناسب انداز میں چھوتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔
یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد حکام سے مذکورہ شخص کے خلاف کارروائی کا زوروشور سے مطالبہ کیا گیا جس کے بعد وزیرِ انسانی حقوق شیریں مزاری نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ اس شخص کے خلاف فوری ایکشن ہونا چاہیے کیونکہ اس کی حرکت کا ثبوت موجود ہے۔
انھوں نے بتایا تھا کہ اس سلسلے میں انھوں نے اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کو پیغام بھیج دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک گھٹیا حرکت ہے لیکن انھیں اس سے دھچکا نہیں لگا کیونکہ ایسے واقعات رونما ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ShireenMazari1
شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ ’قانون حرکت میں آئے گا لیکن اگر ہم خواتین اور بچوں سے بدسلوکی روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں سوچ کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔‘
جبکہ اس واقعے پر نجی بینک کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کام کی جگہ پر خاتون کو ہراساں کرنے کے واقعے کی سختی سے مذمت کی گئی ہے۔ بینک کے مطابق ملزم اہکار کو فوری نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے۔
تاہم بینک نے بیان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ملزم کو بینک مینیجر بتایا گیا ہے جبکہ وہ مینیجر نہیں بلکہ ایک اہلکار ہے۔
جنسی ہراس کیا ہوتا ہے؟
ناپسندیدہ جنسی حرکات، کسی سے جنسی فائدہ اٹھانے کی کوشش یا جنسی نوعیت کا لفظی یا جسمانی برتاؤ جو کام میں مداخلت کرے یا نوکری برقرار رکھنے کی شرط بن جائے یا دفتر میں جارحانہ ماحول پیدا کر دے۔ یہ ساری باتیں جنسی ہراس کے زمرے میں آتی ہیں۔ جنسی ہراس ایک شخص کی طرف سے دوسرے شخص کی طرف برتا جانے والا جنسی نوعیت کا ناپسندیدہ رویہ ہے جس کا تعلق جنس یا صنف سے ہے اور یہ رویہ مندربہ ذیل کا باعث بنتا ہے:
آپ کیسے تعین کر سکتے ہیں کہ آپ کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا ہے؟
کسی بھی صنف کے شخص کو جنسی طور پر غیر مناسب رویے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ناگوار جنسی پیش قدمی اسی صنف یا مخالف صنف کی طرف سے بھی ہو سکتی ہے۔
عام طور پر جنسی ہراس کسی ایک بات تک محدود نہیں ہوتا بلکہ نامناسب رویوں کے سلسلے پر مشتمل ہوتا ہے اور دفتروں میں ہراساں ہونے والے شخص کی طرف سے منع کرنے کے باوجود بھی یہ رویہ جاری رہتا ہے۔ اس کے برعکس ایک بار ہونے والا واقعہ بھی جنسی ہراس ہی ہے اور اس بات سے قطعاً فرق نہیں پڑتا کہ کسی دوسرے شخص کو یہ فعل غلط لگ رہا ہے یا نہیں۔
جنسی نوعیت کی باتیں یا مذاق، جنسی پیش قدمی کرنا یا کسی کو چھونا، بری نظر سے دیکھنا، گھورنا، ذاتی نوعیت کے جنسی سوالات کرنا، جنسی افواہیں پھیلانا اور جنسی نوعیت کی تصویریں بھیجنا جنسی ہراس کے زمرے میں آتے ہیں۔
پاکستان میں جنسی ہراس کا مسئلہ کتنا بڑا ہے؟
2014 میں پاکستان کے دفاتر میں ہونے والے جنسی ہراس سے متعلق قانون بنوانے اور قوانین کے نفاذ پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم 'مہرگڑھ' کے مطابق گذشتہ چار برسوں میں خواتین نے جنسی ہراس کے تین ہزار سے زیادہ کیس درج کروائے۔
2014 میں سرکاری محتسب کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2011 سے اپریل 2014 تک، 173 کیس درج ہوئے، جن میں سے 77 فیصد کا تعلق سرکاری دفاتر سے تھا۔

پاکستان میں جنسی ہراس کے خلاف قوانین
پاکستان بھر میں جنسی ہراس کے سلسلے میں دو قسم کے قوانین لاگو ہوتے ہیں: تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 509 اور 2010 میں عورتوں کو دفاتر میں ہراساں کیے جانے کے خلاف متعارف کروائے گئے قوانین۔
تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 509 کے تحت عوامی مقامات پر خواتین کو ہراساں کرنا قانوناً جرم ہے۔ جنسی زیادتی کرنے پر زیادہ سے زیادہ تین سال قید یا پانچ لاکھ تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
سنہ 2010 کے عورتوں کو دفاتر میں ہراساں کیے جانے کے خلاف قانون کے تحت ہر کمپنی کو تین افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنانی ہو گی جو درج کی گئی شکایات سے 30 دن کے اندر نمٹے گی۔
اس کمیٹی میں ایک خاتون کا ہونا لازمی ہے۔ سات دن کے اندر کمپنی کو کمیٹی کے نتائج کا نفاذ کرنا ہو گا۔ اس قانون کے تحت نشانہ بننے والی خاتون حکومت کی طرف سے مقرر کردہ صوبائی محتسب کو خود بھی شکایت جمع کروا سکتی ہیں۔
آپ کو کس سے رابطہ کرنا چاہیے؟
جنسی ہراس کے کیسوں کو تفصیلی طور پر درج کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کا کیس ثابت ہو جائے تو آپ کے آجر کو ذمہ دار تصور کیا جائے گا۔
دفاتر میں جنسی طور پر ہراساں ہونے والے لوگوں کے لیے مشورہ ہے کہ جب آپ کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ ہو تو آپ دفتر میں کسی ایسے شخص سے اس بارے میں بات کریں جس پر آپ بھروسہ کر سکتے ہیں۔
اگر آپ باقاعدہ شکایت کرنے لے کیے تیار نہیں ہیں تو بھی آپ تفصیل سے اپنے بھروسے کے کسی شخص کو پوری بات بتائیں۔ اس کے علاوہ آپ کے دفاتر میں جنسی ہراس کے خلاف پالیسی میں یہ بات ظاہر ہونی چاہیے کہ شکایت کس کو درج کروا سکتے ہیں مثلاً آجر، مینیجریا ایچ آر ڈیپارٹمنٹ۔












