آن لائن ہراسانی: کیا پاکستان میں سائبر کرائم کے قوانین خواتین کو تحفظ دینے میں ناکام ہیں؟

آن لائن ہراسانی
    • مصنف, عماد خالق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

جامعہ کراچی کے شعبہ نفسیات کی ایک خاتون لیکچرار نے ملک میں سائبر کرائم کے قوانین پریونشن آف الیکٹرونک کرائم ایکٹ 2016 (پیکا) کے تحت سنہ 2016 میں آن لائن ہراسانی کا مقدمہ درج کروایا تھا۔

چار سال، آٹھ ماہ اور 141 سماعتوں کے بعد بالآخر جون 2021 میں عدالت نے اس مقدمے میں ملزم، کراچی یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات سے منسلک رہنے والے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کامرانی کو مختلف الزامات ثابت ہونے پر آٹھ برس قید کی سزا سنائی۔

سائبر کرائم کے اس مقدمے کی وجہ اخاتون لیکچرار کی وہ جعلی تصاویر بنی تھیں جنھیں ان کی اجازت کے بنا ایڈٹ کر کے نازیبا بنایا گیا اور یونیورسٹی کے فیس بک پیج، ان کی اپنی پروفائل اور سوشل میڈیا پر متعدد بار شیئر کیا گیا۔

انھوں نے اس کے لیے ملک میں سائبر کرائمز کے خلاف کارروائی اور روک تھام کرنے کے ذمہ دار ادارے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو متعدد درخواستیں دیں۔ تیسری مرتبہ درخواست دینے کے بعد ایف آئی اے نے اس پر کارروائی کی اور اکتوبر 2016 میں پیکا ایکٹ کی دفع 21 کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔

خاتون لیکچرار کے مطابق اس تمام عرصے کے دوران انھیں ایف آئی اے کی جانب سے کوئی خاطر خواہ معاونت حاصل نہیں رہی۔

ساڑھے چار سال کوئی تھوڑا وقت نہیں۔ 141 سماعتیں بھگتانا بھی ایک جدل ہے۔ اس مقدمے کی کہانی اور ایسے ہی دیگر معاملات میں سامنے آنے والے پاکستانی نظام کے چیلنجز پر مبنی ایک تازہ رپورٹ پڑھ کر دل دہل جاتا ہے۔

پاکستان میں خواتین کے خلاف آن لائن ہراسانی کی شکایات اور ایف آئی اے کے کردار کی یہ تفصیلات پاکستان کی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ 'ری تھنکنگ دی پریونشن آف الیکٹرونکس کرائمز ایکٹ'میں بتائی گئی ہیں۔

اس رپورٹ میں اس جانب توجہ دلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ’کیسے سائبر کرائم کے قوانین خواتین کے خلاف ہی استعمال ہوتے ہیں۔‘

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی یونیورسٹی کی لیکچرار کے مقدمے میں ایف آئی اے کے حکام کی جانب سے ان کے مقدمے کو نہ صرف خراب کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ ان کے مقدمے میں تفتیشی کو بھی سست رکھا گیا۔

خاتون لیکچرار کے مطابق مقدمے کے منطقی فیصلے تک پہنچنے میں تاخیری حربے بھی استعمال کیے گئے۔ کبھی متعلقہ حکام یا اس کیس کے تفتیشی افسر کی عدم موجودگی کے باعث اس کی سماعت نہیں کی گئی تو کبھی انھیں سماعت کے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے ان کے کیس کی فائل کو بھی غائب کر دیا گیا اور عدالت کے استفسار کرنے پر ایف آئی اے کی جانب سے کہا گیا کہ ان کے پاس فائل کی کاپی یا کوئی اور ریکارڈ نہیں ہے۔

ایک موقع پر خاتون کو یہ علم ہوا کہ جس عدالت میں ایف آئی اے کی جانب سے ان کے مقدمے کی سماعت کی جا رہی ہے وہ عدالت پیکا قوانین کے تحت ایسے مقدمات کی سماعت کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ جس پر دوبارہ ان کا مقدمہ ایک دوسری عدالت میں چلایا گیا۔

پاکستان، کراچی یونیورسٹی، ہراسانی، سائبر کرائم، ایف آئی اے

رپورٹ میں اس کہانی سمیت متعدد ایسے مقدمات کا ذکر کیا گیا ہے جس میں خواتین نے آن لائن ہراسانی کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے ایف آئی اے سے رجوع کیا لیکن ادارے کی جانب سے عدم دلچسپی اور تاخیر کے باعث درخواست گزاروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم اس رپورٹ کو مرتب کرتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیم نے اس ضمن میں ایف آئی اے کے ساتھ مل کر کام نہیں کیا اور نہ ہی ان کے موقف کو شامل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ قانونی سطح پر پی ای سی اے (پیکا) کا قانون 2016 میں منظور کیا گیا تھا۔ یہ قانون سٹاکنگ، بلیک میلنگ، آن لائن ہراسانی اور دھمکیوں جیسے جرائم سے نمٹنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا اور اس پر عملدرآمد کرانے کی ذمہ داری ایف آئی اے کی ہے۔

اس رپورٹ میں کیا ہے؟

آن لائن بدسلوکی کی رپورٹس درج کرانے والی خواتین اور ڈیجیٹل رائٹس کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن ایف آئی اے کو اپنا کام ٹھیک طریقے سے انجام نہ دینے پر کڑی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

اس رپورٹ میں اس بات کا ذکر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایف آئی اے اس طرح کے مقدمات کی تحقیقات اور عدالتوں میں دستاویزات پیش کرنے میں کس قدر سست اور غیر مؤثر ثابت ہوئی تھی۔ جبکہ کچھ مقدمات میں فائلیں غائب کر دی گئیں۔

کچھ کیسز میں تفتیشی افسر عدالت کی سماعتوں میں پیش نہیں ہوئے یا ایف آئی اے نے وقت پر کیس دائر ہی نہیں کیا۔اور بعض اوقات ایجنسی استغاثہ کے سامنے گواہ پیش کرنے میں بھی ناکام رہتی ہے۔

جبکہ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 'کچھ معاملات میں متاثرہ فرد کی جانب سے ایف آئی اے کو دیا گیا بیان عدالت میں پیش کی گئی تفصیلات سے مختلف ہوتا ہے۔'

خواتین

ایف آئی اے کے خلاف ایک عام شکایت یہ بھی ہے کہ وہ آن لائن شکایت کرنے کے باوجود شکایت کنندہ یا شواہد آن لائن جمع کرنے والوں کو اپنے دفتر آنے کا کہتے ہیں۔ جبکہ بعض اوقات ایجنسی کی ویب سائٹ پر شکایات کے لیے موجود آن لائن فارم بھی درست طریقے سے کام نہیں کرتا اور وہاں شکایت درج کروانے کے بعد شکایت کنندہ کو کوئی جوابی پیغام موصول نہیں ہوتا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی بہت سے کیسز میں دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانا چاہتی ہے یہاں تک کہ ناقابل حل معاملات میں بھی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض اوقات ایف آئی اے کی جانب سے کمزور کیس بنانے پر ملزم درخواست گزار پر ہی ہتک عزت کا دعویٰ دائر کر دیتے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں پیکا قوانین کی کمزور عملداری، پدرسری معاشرہ اور ایف آئی اے کی ناقص کارکردگی کے باعث خواتین درخواست گزار متعدد بار آن لائن ریپ اور جان سے مارنے کی دھمکی جیسی درخواستوں سے بھی دستبردار ہو جاتی ہیں۔

ایف آئی اے کا موقف

ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ میں سائبر کرائمز کے خلاف ایف آئی اے کے کردار اور کی گئی تنقید پر بات کرنے کے لیے بی بی سی نے ڈی جی ایف آئی اے ثنا اللہ عباسی سے رابطہ کیا۔

انھوں نے اس رپورٹ میں ایف آئی اے کی کارکردگی پر اٹھائے گئے سوالات اور تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ 'اس میں کوئی شک نہیں کہ ایف آئی اے سائبر ونگ میں کوتاہیاں برتی گئی ہیں لیکن یہ تمام تفصیلات ماضی کے مقدمات کی ہیں۔ اب ہم نے ایف آئی اے سائبر ونگ کی از سر نو تشکیل کی ہے جو عوام اور خصوصاً خواتین کی مدد اور خدمت کے جذبے سے کام کر رہی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں کی گئی کوتاہیوں کی نشاندہی پر اگر ضرورت پڑی تو تحقیقات کی جا سکتی ہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔' ان کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں خواتین کے خلاف آن لائن ہراسانی کے روک تھام اور انھیں تحفظ دینے کے لیے ہر وقت کوشاں ہیں اور ہر ممکن اقدامات اٹھا رہے ہیں۔'

ایف آئی اے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ 'ہم انسانی حقوق کا احترام کرتے ہیں اور ہم ان کیسز میں فیئر ٹرائل اور قانونی طریقہ کار کا احترام کرتے ہیں۔'

رپورٹ میں خواتین کی جانب سے ایف آئی اے کو آن لائن ہراسانی کے واقعات رپورٹ کرنے میں عدم اعتماد اور قوانین کے غلط استعمال کا جواب دیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ خواتین کے خلاف آن لائن ہراسانی کی مقدمات میں سزائیں اس کا بات ثبوت ہیں کہ ایف آئی اے ایسے معاملات میں خواتین کی ہر ممکن معاونت اور مدد فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کسی ایسے مقدمے کا علم ہوتا ہے جس میں کوئی کوتاہی برتی گئی ہوں تو اس کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کروائی جاتی ہیں۔ چند شاکایات یا مقدمات میں تاخیر یا درخواست گزاروں کو تاخیر سے جواب ملنے پر بات کرتے ہوئے ثنا اللہ عباسی کا کہنا تھا کہ اس کی وجوہات ایف آئی اے کے عملے میں کمی اور خصوصاً خواتین عملے میں کمی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سائبر کرائم ونگ میں خواتین کی درخواستوں اور مقدمات کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ ثنا اللہ عباسی کا کہنا تھا کہ پیکا قانون کی منظوری ہوئی کے بعد ایجنسی میں عملے کی قلت، خصوصاً خواتین افسران کی کمی تھی جن کے باعث خواتین کی شکایات حل کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ایجنسی کے سائبر ونگ میں پہلے چار پانچ سال خواتین اہلکار نہیں تھیں لیکن اب ادارے میں بہت سی خواتین آفیسرز کو تعینات کیا گیا ہے ان میں خواتین تفتیش کار اور سٹریس کونسلرز بھی شامل ہیں۔

خواتین کی جانب سے ایف آئی اے کو رپورٹ کرنے میں ہچکچاہٹ پر بات کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے ثنا اللہ عباسی کا کہنا تھا کہ 'ایسا کہنا غلط ہے کیونکہ ایف آئی اے کے پاس سینکڑوں درخواستیں موصول ہوتی ہیں اور ایجنسی فوری ان پر کارروائی کا آغاز کرتی ہے۔'

تاہم ان کا کہنا تھا کہ 'بعض اوقات خواتین معاشرتی یا خاندانی دباؤ کے باعث رپورٹ کرنے سے کتراتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ماحول ایسا ہے کہ بیشتر شکایت کنندہ، جن میں واضح اکثریت نوجوان خواتین کی ہوتی ہے، وہ ایف آئی آر درج نہیں کرنا چاہتیں۔'

خواتین، تحفظ، سائبر کرائم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

خواتین ایف آئی اے کو ان واقعات کی رپورٹ کرنے سے کیوں کتراتی ہیں؟

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن حنا جیلانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ کو مرتب کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اداروں کی کارکردگی میں موجود سقم کی نشاندہی کر کے اس میں بہتری لائی جائے اور خواتین کو آن لائن ایک تحفظ فراہم کیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ خواتین کی جانب سے ایسے واقعات کو ایف آئی اے کو رپورٹ کرنے میں ہچکچاہٹ ان خواتین کے تجربات ہیں جنھوں نے ایجنسی کو رپورٹ کیا اور ان کے برے تجربات دیگر خواتین کو رپورٹ کرنے میں حوصلہ شکنی کی وجہ بن رہے ہیں۔

حنا جیلانی کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات میں خواتین کے رپورٹ نہ کرنے کی وجہ صرف تاخیر ہی نہیں ہے بلکہ ایسے معاملات میں متعلقہ ادارے کی نہ صرف نااہلی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اس ادارے کی بری شہرت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاملات میں ایف آئی اے کی ساکھ ایسی نہیں ہے کہ جب کوئی خاتون آن لائن ہراسانی کی رپورٹ کرے تو اسے شفاف تحقیقات ہونے کا اعتماد ہو۔

انسانی حقوق کی تنظیم کی چیئرپرسن کا کہنا تھا کہ اس کی ایک اور بڑی وجہ ان معاملات کی تحقیقات کے دوران ادارے کے عملے کا رویہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'بہت سی درخواست دینے والی خواتین نے بتایا کہ دوران تفتیش انھیں عملے کی رویے سے ہراساں ہونے کا احساس ہوا۔'

آن لائن ہراسانی

ان کا کہنا تھا کہ خواتین نے بتایا کہ ادارے کے تفتیشی افسران کا رویہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایک دباؤ محسوس کرتی ہیں۔ایسے معاملات میں ان افسران میں خواتین کی طرف ایک حساسیت کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

حنا جیلانی نے کہا کہ خواتین نے کمیشن کو بتایا کہ ایف آئی اے کا تفتیش کا طریقہ کار بہت سخت ہے، وہ متاثرہ فرد پر الزام لگانے یا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا 'ہم سمجھتے ہیں کہ متعلقہ ادارے نے غیر جانبداری سے تحقیقات کرنا ہوتی ہے لیکن متاثرہ فرد کو دوران تفتیشی کہیں معاونت اور مدد کا احساس نہیں ہوتا۔'

وہ کہتی ہیں کہ خواتین کی جانب سے کمیشن کو ملنے والی اس قسم کی شکایات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ خواتین کو آن لائن ہراسانی کے واقعات ایف آئی اے تک لے جانے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کے ایسے معاملات کی جانب غیر سنجیدگی بھی ایک مسئلہ ہے اور اس کی طرف تو ملک کی عدالتوں نے بھی اشارہ کیا ہے۔

اس کا حل اور سفارشات

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی جاری کردہ رپورٹ میں ملک میں خواتین کو محفوظ آن لائن سپیس دینے، پیکا قوانین اور ایف آئی اے کے کام میں بہتری لانے کے متعلق چند سفارشات بھی پیش کی گئیں ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیکا قانون ملک میں کمزور عدالتی نظام میں سیاسی مقاصد حاصل کرنے آمرانہ نظام حکومت کے دوران ایک غلط نظریے اور غیر جمہوری طریقے سے جلد بازی میں کی گئی قانون سازی کا نتیجہ ہے۔ لہذا اس میں مزید اصلاحات اور اس کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

حنا جیلانی کا اس بارے میں کہنا تھا کہ اس قانون پر بہت اعتراضات ہیں اور اس کے دوبارہ جائزے کی بہت ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کے فوجداری نظام انصاف میں شامل تمام افراد کی جینڈر سینسٹیویٹی (صنف کی حساسیت) کی تربیت سازی کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی جانب سے کی گئی شکایات کو ادارے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور متعلقہ افسران کو اس حوالے سے کوئی استثیٰ حاصل نہیں ہونا چاہیے۔

ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی اور قوانین میں موجود درست دفعات کے استعمال سے خواتین کے خلاف آن لائن ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کی جا سکتی ہے۔

کمیشن رپورٹ میں ایف آئی اے کے طریقہ کار کے متعلق سفارشات میں کہا گیا ہے کہ ایجنسی کی جانب سے مبہم اور بنا تاریخ کے طلبی کے سمن جاری کرنا، ان طلبی کے حکم ناموں کے ساتھ شکایت کی کاپی فراہم نہ کرنا، عدالت کی اجازت کے بنا ہی تحقیقات کا آغاز کرنا، عدالت کی جانب سے درخواست گزاروں کو تحقیقات کا حصہ بننے پر مجبور کرنا، عدالت کی جانب سے ایجنسی اہلکار کے درخواست گزار سے ناروا سلوک کے متعلق جانچ پڑتال نہ کرنا وغیرہ کا تدارک کر کے اس کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

رپورٹ سفارشات میں یہ بھی کہا گیا کہ مقدمے کا سماعت سے قبل کا دورانیہ بہت اہم ہوتا ہے اور اس دوران درخواست گزار اور ملزم دونوں ہی ایف آئی اے کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ تفتیش کے لیے طلب کیے گئے مردوں، خواتین اور بچوں کو گھنٹوں انتظار کروایا جاتا ہے اور ان کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جاتا ہے کہ وہ درخواست کے دن سے ہی مجرم بن جاتے ہیں۔

لہذا ایف آئی اے کے تفتیش کے طریقہ کار کو بہتر بنایا جائے، مجرم اور ملزم، درخواست گزار اور گواہان میں تفریق کی جائے اور تمام فریقین کو کیس کے حقائق اور تفصیلات سے آگاہ رکھا جائے۔

پارلیمان بھی ایف آئی اے کی جانب سے پیکا قوانین کے متعلق سالانہ دو رپورٹس لینے میں ناکام رہی ہے۔ ادارے کے احتساب اور شفافیت کا عمل واضح کیا جائے۔ ادارے کو اپنی حدود کے تجاوز کرنے سے روکا جائے۔

آن لائن ہراسانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

خواتین آن لائن ہراسانی کے خلاف کہاں شکایت درج کروا سکتی ہیں؟

ایسی خواتین جنھیں کسی قسم کی آن لائن ہراسانی کا سامنا ہے ان کے لیے پورے ملک میں کچھ نجی و سرکاری ہیلپ لائنز موجود ہیں۔ جہاں وہ ایسے واقعات کے خلاف شکایات درج کروا سکتی ہیں۔

سائبر کرائم سے متعلق معاملات پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مختلف شہروں کے لیے اپنی ہیلپ لائنز جاری کی ہوئی ہیں۔ ایف آئی اے کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی انھیں اپنی شکایات سے آگاہ کیا جاسکتا ہے۔

اسی طرح اقوام متحدہ نے بھی اپنی ویب سائٹ پر کئی فون نمبرز دیے ہوئے ہیں جن پر رابطہ کر کے خواتین ہراسانی کی شکایات یا دیگر مسائل سے حکام کو آگاہ کر سکتی ہیں۔

پنجاب ویمن ہیلپ لائن 1043 ہر کال کر کے خواتین کام میں ناانصافی، تشدد اور جنسی ہراسانی، جائیداد اور دیگر مسائل پر شکایات درج کروا سکتی ہیں۔ اسی طرح آن لائن شکایت بھی درج کرائی جاسکتی ہے۔

اگر خواتین ایف آئی اے کو رپورٹ نہیں کرنا چاہتیں تو ان کے پاس دوسرے کیا آپشنز ہیں؟

آن لائن ہراس کی صورت میں پہلا قدم تو عمومی طور پر سوشل میڈیا کمپنی کو رپورٹ کرنا ہوتا ہے لیکن اس کے علاوہ ایف آئی اے یا پھر پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اتھارٹی اختلاف رائے، اسٹیبلشمنٹ مخالف یا مذہبی توہین سمجھے جانے والے مواد کے خلاف فوراً ایکشن میں آتی ہے اور ایسے مواد کو ہٹا دیا جاتا ہے بیشک اس میں کوئی غلط بات بھی نہ کی گئی ہو۔

لیکن اتھارٹی کو کبھی بھی ایسی نازیبا وائرل ویڈیوز یا پوسٹس کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے نہیں دیکھا گیا جو عورت مخالف ہوں یا جن سے ان کی زندگیوں کو خطرہ ہی کیوں نہ لاحق ہو۔

پی ٹی اے آن لائن فراڈ اور پاکستان مخالف مواد شائع کرنے کے بارے میں تو آگاہی پیغامات بھیجتی ہے لیکن خواتین کے خلاف آن لائن ہراسانی کے بارے لب کشائی سے گریز کرتی ہے۔