تحریک عدم اعتماد: سندھ ہاؤس پر دھاوا بولنے والے پی ٹی آئی کارکنان ضمانت پر رہا، پیپلز پارٹی کی مذمت

تصویر

،تصویر کا ذریعہScreen Grab

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان کو سندھ ہاؤس پر حملے کے الزام میں گرفتاری کے بعد اب ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سنیچر کی صبح ان 11 کارکنان کو مقامی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا اور ضمانت منظور کی گئی۔

وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل نے ٹوئٹر پر ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ انھوں نے کارکنان کو تھانے سے چھڑوایا۔ انھوں نے کہا تھا ’قانون کے مطابق‘ کارکنان کو رہا کروایا جائے گا۔

خیال رہے کہ ان پی ٹی آئی کارکنان نے جمعے کی شام سندھ ہاؤس پر دھاوا بولا تھا اور دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونے کے بعد وہاں ہنگامہ آرائی کی تھی جس کے بعد سے پیپلز پارٹی کی جانب سے شدید ردِ عمل سامنے آیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اسلام آباد میں سندھ ہاؤس پر حملے کو ’سندھ پر حملے‘ کے برابر قرار دیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’سندھ ہاؤس پر حملہ کو دہشت گردی پر مبنی کارروائی ہے۔‘

پولیس کی جانب سے کچھ گرفتاریاں کرنے کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنان کو باہر نکال دیا گیا تھا۔

مقامی پولیس کے مطابق سندھ ہاوس پر حملہ کرنے کے الزام میں 11 افراد کو حراست میں لے کر انھیں تھانہ سیکرٹریٹ میں منتقل کیا اور ان کے خلاف متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اپنے ردِعمل میں بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا ہے کہ ’سندھ ہاؤس پر منظم منصوبہ بندی سے ہونے والا حملہ دراصل سندھ پر حملے کے مترادف ہے۔‘

انھوں نے کہا ہے کہ ’درجنوں پولیس چوکیوں کو عبور کرکے حملہ آوروں کا ریڈ زون میں واقع سندھ ہاؤس پہنچنا سوالیہ نشان ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

پیپلز پارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر سابق صدر آصف علی زرداری کا بیان بھی ٹوئٹ کیا گیا ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان کے پاس اگر نمبرز پورے ہوتے وہ پارلیمنٹ لاجز اور سندھ ہاؤس پر حملوں کے بجائے ایوان میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے۔‘

ادھر اسلام آباد پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر ان افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

حراست میں لیے جانے والوں میں حکمراں جماعت کے دو ارکانِ قومی اسمبلی بھی شامل تھے، جنھیں شخصی ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔

اراکین اسمبلی کی شخصی ضمانت کس نے دی پولیس کی جانب سے یہ تفصیل نہیں بتائی گئی۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اسلام آباد پولیس کو سندھ ہاوس پر حملہ کرنے والوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے جمعے کی شام چھ بجے کے قریب سندھ ہاؤس کا گیٹ توڑا تو انھوں نے ہاتھوں میں لوٹے اٹھا رکھے تھے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے سندھ ہاؤس میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی آمد اور ہنگامہ آرائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'ایسا نہیں ہونا چاہیے۔'

نجی ٹی وی چینل سما سے گفتگو میں شیخ رشید نے کہا کہ 'یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے میں ابھی اسلام آباد پولیس سے پوچھتا ہوں۔'

ادھر پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن نے سندھ ہاؤس پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کے دھاوے اور ہنگامہ آرائی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سے صورتحال کو دیکھنے کو کہا ہے۔

میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم بھی ایسے کریں کیونکہ ہمیں بھی بنی گالا کا راستہ معلوم ہے۔‘

سندھ ہاؤس سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تین سے چار پولیس اہلکاروں نے ابتدائی طور پر گیٹ کو لاتیں مارنے والے کچھ افراد کو وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی تاہم اس کے بعد کے مناظر میں مشتعل افراد کی بڑی تعداد نے آگے بڑھ کر دروازے کو توڑا۔

تصویر

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سندھ ہاؤس پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے حوالے سے کہا کہ 'بچے ہیں، جذباتی ہیں، ایسا ہو جاتا ہے کوئی ایسی بات نہیں ہے۔'

انھوں نے نجی ٹی وی چینل دنیا ٹی وی سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ سندھ ہاؤس ایک علامت بن گیا ہے، چھانگا منگا بن گیا ہے۔

'ضمیر فروشی کا مرکز ہے جس میں پیپلز پارٹی کے لوگ نوٹوں کی بوریاں رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ 'پی ٹی آئی کے ناراض اراکین نے جو گھٹیا حرکت کی گئی ہے، ظاہر ہے ان کے بارے میں معاشرے میں نفرت پائی جاتی ہے اور آج اس کا اظہار کیا گیا ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے ان سے ایسا کرنے کا نہیں کہا تھا اور اسد عمر صاحب نے ان سے ایسا کرنے سے روک دیا ہے۔

شاہ محمود قریشی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’کوئی مر گیا یا مروا دیا گیا تو سب پچھتائیں گے‘

مسلم لیگ (ق) کے صدر و سابق وزیرِ اعظم چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ یہ عدم اعتماد کی پہلی تحریک ہے جس میں نہ کوئی ووٹ خرید رہا ہے اور نہ کوئی ووٹ بیچ رہا ہے۔

اُنھوں نے اس بات کو پراپیگنڈا قرار دیا۔

چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ حکومت تو ہمیشہ جلسے جلوس روکنے کی کوشش کرتی ہے لیکن یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایک ہی ایشو پر جلسہ کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ’میری ایک مرتبہ پھر اپیل ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنے جلسے جلوسوں کا پروگرام فوری ملتوی کر دیں، ان جلسے جلوسوں میں اگر کوئی مر گیا یا مروا دیا گیا تو سب پچھتائیں گے۔‘

’تحریک انصاف میں مائنس ون کی کوئی گنجائش نہیں ہے‘

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف میں مائنس ون کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور یہ ابہام اگر کسی کے ذہن میں ہے تو اسے نکال دینا چاہیے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اس کا مقابلہ کیا جائے گا۔

تاہم انھوں نے منحرف پارٹی اراکین سے اپیل کی کہ ’اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ہارس ٹریڈنگ نہ نوٹوں کی بوریوں پر بات کروں گا میں یہ کہوں گا ٹھنڈے دل سے تولیے اور غور کریں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر جماعت کے اراکین پارٹی کے خلاف جائیں گے تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آج قانون، آئین اور اخلاقیات کو مد نظر رکھتے ہوئے تحریک انصاف نے فیصلہ کیا ہے کہ اپیل کے باوجود کوئی منحرف ہوتا ہے تو نوٹس اور صدارتی ریفرنس دائر کیا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ کہا جا رہا ہے کہ ’سب کچھ ٹھیک ہے صرف عمران خان ٹھیک نہیں ہے۔ یعنی کہ سب کچھ بچ سکتا ہے اگر مائنس ون ہو جائے۔‘

وزیر خارجہ نے اپوزیشن سے سوال کیا کہ جب بے نظیر بھٹو کے خلاف، آصف علی زرداری کے خلاف اور نواز شریف کو مائنس ون کرنے کی بات کی جا رہی تھی تو کیا آپ مانے تھے۔

اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ مائنس ون کا مطلب مائنس عمران نہیں مائنس پی ٹی آئی ہے۔

وزیر خارجہ نے اپوزیشن کے نام پیغام میں افغانستان کی صورتحال، انڈین میزائل کا پاکستان کی حدود میں گرنا، یورپ کی صورتحال کا حوالہ دیا اور کہا کہ کیا اس ماحول میں ملک عدم استحکام کا متحمل ہو سکتا ہے۔

فواد

،تصویر کا ذریعہAPP

اس سے قبل اسلام آباد میں واقع سندھ ہاؤس میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ناراض ارکان کی موجودگی کی تصدیق کے بعد وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت تحریک عدم اعتماد میں اِن ارکان کے ووٹ کی قانونی حیثیت کے بارے میں سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔

جمعرات کو پاکستانی ذرائع ابلاغ پر پاکستان تحریک انصاف کے متعدد اراکین قومی اسمبلی کے انٹرویو نشر ہوئے تھے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دو درجن حکومتی ایم این اے سندھ ہاؤس میں موجود ہیں اور وہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے تناظر میں 'اپنے ضمیر کی آواز پر فیصلہ' کریں گے۔

ان اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد حکومتی رہنماؤں نے ان اراکین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا تھا اور اس سلسلے میں جمعہ کو تحریک انصاف کا ایک اہم مشاورتی اجلاس وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں منعقد ہوا۔

بینر
لائن

،تصویر کا ذریعہNot Specified

اس اجلاس کے بعد ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا کہ ’حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ میں آرٹیکل 186 کے تحت ریفرینس دائر کیا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت سپریم کورٹ سے اس بارے میں رائے مانگے گی کہ 'جب ایک پارٹی کے ارکان واضح طور پر ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہوں اور پیسوں کے بدلے وفاداریاں تبدیل کریں تو ان کے ووٹ کی قانونی حیثیت کیا ہے؟'

فواد چوہدری نے یہ بھی بتایا کہ عدالت عظمیٰ سے یہ رائے بھی طلب کی جائے گی کہ ’کیا ایسے ارکان جو اپنی وفاداریاں معاشی مفادات کے بوجوہ تبدیل کریں ان کی نااہلیت زندگی بھر ہو گی یا انھیں دوبارہ انتخاب لڑنے کی اجازت ہو گی؟‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

وزیر اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ سے اس ریفرینس کو روزانہ کی بنیاد پر سن کر فیصلہ سنانے کی درخواست کی جائے گی۔

’سندھ ہاؤس میں پولیس گردی ہوئی تو نتائج کے ذمہ دار عمران خان اور شیخ رشید‘

ادھر پاکستان کے تین سابق وزرا اعظم نے جمعرات کو ایک مشترکہ بیان میں اسلام آباد کی پولیس و انتظامیہ اور سیکریٹری داخلہ کو ’خبردار‘ کیا ہے کہ وہ کسی سیاسی عمل کا حصہ نہ بنیں۔

اپوزیشن اتحاد میں شامل شاہد خاقان عباسی، راجہ پرویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی نے اس بیان میں متنبہ کیا ہے کہ سندھ ہاؤس، جہاں اپوزیشن کے علاوہ حکمراں جماعت کے ناراض اراکین نے ’پناہ‘ لے رکھی ہے، میں پولیس گردی کی صورت میں وزیر اعظم عمران خان اور وزیر داخلہ شیخ رشید ذمہ دار ہوں گے۔

دوسری طرف عمران خان کی حکومت کے وزرا کا دعویٰ ہے کہ سندھ ہاؤس ہارس ٹریڈنگ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

سابق وزرا اعظم

،تصویر کا ذریعہGetty Images/AFP

تحریک انصاف کے رہنما راجہ ریاض نے جمعرات کو کہا تھا کہ حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے دو درجن ارکانِ قومی اسمبلی سندھ ہاؤس میں موجود ہیں اور ان کے یہاں آنے کی وجہ پارلیمنٹ لاجز پر حملے کے بعد پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات ہیں۔

شاہد خاقان عباسی، راجہ پرویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی نے اپنے مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اکثریت اور ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں اور ’پولیس گردی، آئین شکنی پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی لاتعلقی اور مجرمانہ خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ آئین کے بجائے پارٹی لیڈر کے تابع ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’نہیں چھوڑوں گا‘ کہنے والے کو سب چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ سابق وزرا اعظم نے الزام لگایا ہے کہ ’عمران خان 172 ارکان لا نہیں پا رہے (اس لیے) پولیس اور انتظامیہ کے ذریعے ان کے اغوا کی تیاری ہے۔‘

دوسری طرف وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات نے سندھ ہاؤس کو ’نیلام گھر‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’سندھ کے عوام کا پیسہ چوری کر کے آج پھر ضمیروں کی بولیاں لگ رہی ہیں۔‘

الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن نہ صرف یوسف رضا گیلانی کے ووٹ خریدنے کا فیصلہ کرے بلکہ اس نیلام گھر کے تمام کرداروں پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگائے۔‘