نوشکی، پنجگور حملہ: بلوچستان سے مستند معلومات کا فقدان اور فیک نیوز، ‘انفارمیشن وار فیئر‘ میں کون آگے؟

نوشکی کے دورے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو فوجیوں سے ملاقات کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننوشکی کے حالیہ دورے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو فوجیوں سے ملاقات کر رہے ہیں
    • مصنف, سارہ عتیق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے نوشکی اور پنجگور کے علاقوں میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملے کی اطلاعات بدھ (2 فروری) کو رات آٹھ بجے کے قریب موصول ہونا شروع ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔

مقامی لوگوں اور صحافیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایسی متعدد ویڈیوز شیئر کی گئیں جن میں رات کے اندھیرے میں فائرنگ کی گرج کو صاف سنا جا سکتا تھا۔

اس سے پہلے اس حملے کی کوئی سرکاری تصدیق یا تردید آتی، بلوچستان کی علیحدگی کی حامی شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی ایک پریس ریلیز جاری کی گئی۔ اس میں انھوں نے نہ صرف ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی بلکہ یہ بھی دعویٰ کیا کہ سکیورٹی فورسز کے خلاف ان کی کارروائی جاری ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے رات گئے ان حملوں کی تصدیق کی گئی جبکہ وفاقی اور صوبائی وزارت داخلہ کی جانب سے اس حملے کی تفصیلات اگلے روز دی گئیں اور ان میں بھی اس حملے میں ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق متضاد بیانات سامنے آئے۔

ان حملوں کے اگلے روز جہاں آئی ایس پی آر کی جانب سے سات فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی وہیں بلوچستان کے صوبائی وزیر داخلہ نے یہ تعداد بارہ بتائی۔

اسی دوران نوشکی اور پنجگور میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس کو بند کر دیا گیا جس کی وجہ سے میڈیا کو زمینی حقائق تک رسائی اور مشکل ہو گئی۔ اس کے علاوہ پاکستان کے مقامی میڈیا میں ان حملوں سے متعلق زیادہ کوریج نظر نہیں آئی جس کی شکایت بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر کرتے نظر آئے۔

نوشکی، پنجگور حملہ

،تصویر کا ذریعہTwitter

امریکہ میں مقیم تجزیہ کار مدیحہ افضل کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سکیورٹی کی صورت حال تشویشناک ہے لیکن تعجب کی بات ہے کہ ڈان اخبار کے پہلے صفحے پر اس کے متعلق کوئی خبر نہیں ہے۔

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ اس وقت معلومات کا بالکل ’بلیک آؤٹ‘ ہے اور کسی مستند ذرائع سے خبر نہیں مل رہی کہ فریقین کے دعوؤں کی تصدیق ہو سکے۔

دفائی تجزیہ کار اعجاز حیدر کا کہنا تھا ہمیں (بلوچستان) میں ہونے والے حملوں کی مکمل تفصیلات آئی ایس پی آر سے نہیں مل رہی ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ حملے دہشتگردوں اور ان کے سپانسرز کی حکمت عملی کا نتیجہ ہیں جس کا مقصد ہمیں نقصان پہنچانا ہے۔

نوشکی، پنجگور حملہ

،تصویر کا ذریعہTwitter

‘بی ایل اے کی جانب سے آنے والی بروقت معلومات ہی ہمارا واحد ذریعہ تھا‘

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ بلوچستان میں ہونے والے حملے کی سرکاری تصدیق اور تفصیلات جاری کرنے میں اتنی تاخیر کی گئی ہو۔

نوشکی اور پنجگور میں حملوں سے کچھ دن قبل 25 جنوری کی رات بلوچستان کے علاقے کیچ میں ایک فوجی چوکی پر حملے کے نتیجے میں دس فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی خبر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی تھی۔

26 جنوری کو بلوچ تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ نے اس حملے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری قبول کی جبکہ سرکاری ذرائع نے اس خبر کی تصدیق اس واقعے کے تقریباً تیس گھنٹے بعد 27 جنوری کی رات کو کی۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صحافی علی رضا رند کا کہنا ہے کہ نوشکی حملے کی تصدیق کے لیے جب انھوں نے مقامی پولیس اور کمشنر آفس سے رابطہ کیا تو ان کے پاس اس حملے سے متعلق تفصیلات نہیں تھیں۔

‘ہم اس طرح کے واقعات میں مقامی ذرائع سے خبریں بھی نہیں چلا سکتے کیونکہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ جب تک آئی ایس پی آر تصدیق نہ کرے اور پریس ریلیز جاری نہ کرے ہم خبر فائل نہ کریں۔‘

علی رضا رند کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں ویسے بھی بہت سے لوگ تفصیلات دینے سے کتراتے ہیں۔

‘ایک ایسے وقت میں جب مقامی لوگوں اور افسران سے نہ کوئی معلومات مل رہی تھیں اور رابطہ کرنا مشکل ہو رہا تھا، وہیں بی ایل اے اپنے ٹیلی گرام چینل کے ذریعے ویڈیو، آڈیو اور پریس ریلیز کی شکل میں مسلسل معلومات شیئر کر رہی تھی۔ اور ہم نے دیکھا کہ کچھ ہی دیر میں یہ معلومات سوشل میڈیا پر شیئر ہونے لگی۔

’سرکاری اور مستند میڈیا کی جانب سے معلومات نہ ہونے کی وجہ سے بی ایل اے کا بیانیہ سوشل میڈیا پر زیادہ پھیلنے لگا۔‘

بی ایل اے کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات میں آئی ایس پی آر کے اس دعویٰ کی تردید کی گئی کہ پنجگور میں حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا کہ بی ایل اے کے حملہ آور اب بھی ایف سی ہیڈ کوارٹرز میں موجود ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ بی ایل اے کی جانب سے ایسی آڈیوز بھی جاری کی گئیں جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ مبینہ طور پر ایف سی ہیڈ کوارٹرز کے اندر موجود حملہ آوروں کی ہیں جو تازہ صورتحال سے آگاہ کر رہے ہیں۔

بی ایل اے کی جانب سے یہ معلومات تین زبانوں انگریزی، بلوچی اور اردو میں جاری کی جا رہی تھیں۔ اس کے علاوہ حملہ آوروں کی تعداد، نام اور تصاویر کے ساتھ ساتھ ’آپریشن گنجل‘ کہلائے جانے والے حملے کی مکمل تفصیلات بھی میڈیا اور سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں۔

ٹویٹر

،تصویر کا ذریعہDunya News/Twitter

،تصویر کا کیپشن2015 میں دنیا نیوز میں لگنے والی تصویر جسے اب حالیہ کارروائی کی تصویر کہہ کر چلایا جا رہا ہے

اسی اثنا میں سوشل میڈیا پر متعدد اکاؤنٹس جہاں علاقے کی تصاویر، نقشے اور سیٹلائٹ تصاویر شیئر کرتے رہے تھے وہیں بہت سے غلط معلومات کو بھی شیئر کیا گیا۔ ایسی ہی کچھ اہم معلومات سے متعلق بی بی سی نے فیکٹ چیک یعنی حقائق کی چھان بین کی تو کچھ اہم نکات سامنے آئے۔

حملے کے دوران سوشل میڈیا پر غلط معلومات کا بازار گرم

بی ایل اے کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ انھوں نے پنجگور میں فوجی گن شپ ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا۔

جس کے بعد متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے ایسی ویڈیوز شیئر کیں جس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ویڈیوز پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنائے جانے کی ہیں۔

لیکن دراصل یہ ویڈیو فروری 2020 ہے جب شام کے ایک ہیلی کاپٹر کو باغیوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

Twitter/Youtube

،تصویر کا ذریعہTwitter/Youtube

،تصویر کا کیپشنفروری 2020 میں باغیوں کی جانب سے شام کے فوجی ہیلی کاپٹر کی ویڈیو جسے پنجگور واقع سے جوڑا جا رہا ہے

اسی خبر سے متعلق جو تصاویر گردش کر رہی ہیں وہ بھی دراصل سنہ 2015 میں حادثے کا شکار ہونے والے پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹر کی ہیں۔

اس کے علاوہ ٹوئٹر پر یہ خبر بھی گردش کرتی رہی کہ اس حملے میں ایف سی ساؤتھ کے سربراہ میجر جنرل بلال صفدر ہلاک ہوگئے۔ کچھ ٹوئٹر صارفین کی جانب سے ان کا نام میجر جنرل سعید بتایا گیا۔

تاہم ان تمام ہی خبروں کی عسکری ذرائع نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف ان کی ہلاکتوں کی خبریں غلط ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور نام ایف سی ساؤتھ کے سربراہ کے ہیں ہی نہیں۔ اس وقت ایف سی ساؤتھ میجر جنرل کمال انور چوہدری ہیں جو ’بخیریت ہیں۔‘

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات شیئر کرنے والے بہت سے اکاؤنٹس نے اپنا مقام انڈیا بتایا ہوا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات شیئر کرنے والے بہت سے اکاؤنٹس نے اپنا مقام انڈیا بتایا ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشناس واقعے کے دوران سوشل میڈیا پر غلط معلومات شیئر کرنے والے بہت سے اکاؤنٹس نے اپنا مقام انڈیا بتایا ہوا ہے

پاکستان کی قومی سلامتی پالسی اور ہائبرڈ وار فیئر

حال ہی میں جاری ہونے والی پاکستان کی قومی سلامتی کی پالیسی میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستان کو خطرہ ملکی اور غیر ملکی عناصر کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات سے بھی ہے، اس کو ناکام بنانے کے لیے ایسی پالیسی بنائی جائے گی جو ملکی سطح پر رابطوں اور معلومات کے تبادلے کو بہتر بنائی گی۔

تاہم سکیورٹی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے حساس صوبے بلوچستان کو آج بھی ‘انفارمیشن بلیک ہول‘ کہا جاتا ہے، یعنی ایک ایسا مقام جس میں سے کوئی معلومات باہر نہیں آتیں۔ اور حالیہ حملوں کے دوران مستند معلومات کے فقدان نے اس دعوے کو مزید تقویت پہنچائی ہے۔

فیک نیوز پر اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق غلط معلومات کے پھیلاؤ کی ایک وجہ قابل اعتبار ذرائع جیسا کہ میڈیا اور سرکاری ذرائع سے معلومات کا جاری نہ ہونا ہے۔

پنجگور اور نوشکی حملے کہ دوران جہاں سرکاری ذرائع کی جانب سے معلومات تاخیر اور متضاد بیانات کا شکار رہیں، وہیں شدت پسند تنظیم سے معلومات لمحہ بہ لمحہ بغیر تعطل کے جاری رہیں یہاں تک کہ پنجگور میں حملے کے اختتام کی خبر پہلے بی ایل اے اور بعد میں سرکاری حکام کی جانب سے جاری کی گئی۔