گوادر کے ماہی گیر وزیرِ ماہی گیری کے لیے چندہ جمع کرنے لگے مگر وجہ کیا بنی؟

چندہ

،تصویر کا ذریعہSocial Media

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بڑے عوامی اجتماعات میں ضرورت مند افراد یا لوگوں کی امداد پر چلنے والے اداروں کے لیے چندہ اکٹھا کرنا ایک عام سی بات ہوتی ہے لیکن بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں حق دو تحریک کے زیر اہتمام اورماڑہ میں ہونے والے دھرنے میں چندہ اکٹھا کرنے کا ایک انوکھا واقعہ دیکھنے کو ملا۔

جمعرات کو ہونے والے اس دھرنے میں چندہ اکٹھا کرنے کا واقعہ اس لیے انوکھا تھا کہ یہ چندہ کسی مستحق فرد کے لیے اکٹھا نہیں کیا گیا بلکہ بلوچستان حکومت کے وزیر برائے ماہی گیری اکبر آسکانی کے لیے اکٹھا کیا گیا۔

حق دو تحریک کے رہنماﺅں نے محکمہ ماہی گیری کے وزیر اور اہلکاروں پر بعض سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر برائے ماہی گیری کو پیسوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے تو ماہی گیر ان کے لیے اس طرح چندہ اکٹھا کر کے بھیجا کریں گے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بلوچستان کے محکمہ ماہی گیری کے وزیر اکبر آسکانی نے حق دو تحریک کے رہنماﺅں کی جانب سے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اپنے خلاف لگنے والے تمام الزامات کو مسترد کیا۔

چندہ کیوں اکٹھا کیا گیا؟

دھرنے میں یہ چندہ کسی عام ڈبے یا چادر میں اکٹھا نہیں کیا گیا بلکہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں جس ڈبے میں چندہ اکٹھا کیا گیا اس پر صوبائی وزیر اکبر آسکانی کا نام بھی تحریر تھا۔

دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حق دو تحریک بلوچستان کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ بلوچستان کے ماہی گیر ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری کے باعث نانِ شبینہ کے محتاج ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی سمندری حدود میں ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری ختم نہ ہونے کی بڑی وجہ ان ٹرالروں سے مبینہ طور پر بھتہ خوری ہے۔

اُنھوں نے بھتہ خوری کا الزام محکمہ ماہی گیری کے وزیر اور محکمے کے اہلکاروں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھتے لینے کے وجہ سے سندھ سے ٹرالر بلوچستان کی سمندری حدود میں آ کر یہاں کے مقامی ماہی گیروں کے روزگار اور معاش کو تباہ کر رہے ہیں۔

چندہ

مولانا ہدایت الرحمان نے محکمے کے وزیر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’اگر ان کو پیسوں کی بہت ضرورت ہے تو وہ ٹرالروں سے بھتہ نہیں لیں بلکہ ماہی گیر ان کے لیے چندہ جمع کر کے اُن کی ضروریات کو پورا کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ماہی گیر جو چندہ جمع کریں گے وہ صوبائی وزیر کے گھر بھیجیں گے اور یہ ماہی گیروں کے حق حلال کی کمائی سے ہوں گے۔‘

مولانا ہدایت الرحمان اور سٹیج کے منتظمین نے جب وزیر برائے ماہی گیری کے لیے چندہ دینے کی درخواست کی تو وائرل ہونے والی ویڈیو میں بڑی تعداد میں لوگ ڈبے میں پیسے ڈالتے ہوئے دکھائی دیے۔

بلوچستان میں کسی بھی عوامی اجتماع میں کسی صوبائی وزیر کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کا اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ تھا۔

اپنے خلاف الزامات پر اکبر آسکانی کا کیا کہنا ہے؟

بی بی سی نے حق دو تحریک کے رہنماﺅں کی جانب سے بھتے لینے کے الزامات پر وزیر برائے ماہی گیری اکبر آسکانی سے فون پر رابطہ کیا تو اُنھوں نے ان الزامات کو مسترد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے ان پر یہ ’بے بنیاد الزامات‘ لگائے ہیں، ان کے سیاسی عزائم ہیں اور وہ اُنھیں بدنام کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اُنھوں نے بتایا کہ سمندر میں بلوچستان کی 12 ناٹیکل میل تک جو حدود ہیں، محکمہ ماہی گیری کے اہلکار اس میں ٹرالروں کو روکنے کے لیے دن رات کوششیں کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اُنھیں ان کے علاقے کے لوگوں نے ووٹ دیکر اس مقام تک پہنچایا ہے لیکن بعض لوگوں کو شاید ان سے تکلیف ہے اس لیے وہ ان پر بے بنیاد الزامات عائد کر رہے ہیں۔

اکبر آسکانی نے کہا کہ اُنھوں نے کسی سے کوئی بھتہ نہیں لیا اور ان کا ضمیر مطمئن ہے، باقی وہ کسی کو الزام لگانے سے نہیں روک سکتے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان کے محکمے کو جو ذمہ داری سونپی گئی ہے، محدود وسائل کے باوجود وہ اسے پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا حکومت نے ان لوگوں کے تمام مطالبات تسلیم کیے لیکن انھوں اپنی سیاست چمکانے کے لیے دوبارہ احتجاج کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

چندہ

دوبارہ احتجاجی تحریک کا آغاز کیوں کیا گیا؟

حق دو تحریک کے قیام کے بعد گوادر کے لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے گذشتہ سال نومبر میں گوادر میں دھرنا دیا گیا۔

اس دھرنے کے دوران چار بڑی ریلیاں نکالی گئیں جن میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ان ریلیوں میں خواتین اور بچوں کی ریلیاں بھی شامل تھیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کیے تھے اور مطالبات پر عملدرآمد کے لیے حکومت اور دھرنے کے شرکاء کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے باعث ایک ماہ سے زائد کے عرصے سے جاری رہنے والے اس دھرنے کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اگرچہ حق دو تحریک کی جانب سے گوادر کے لوگوں کے مسائل سے متعلق 15 سے زائد مطالبات پیش کیے گئے تھے لیکن ان میں چند بڑے مطالبات شامل تھے جن میں بلوچستان کی سمندری حدود میں ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری کا خاتمہ، ایرانی سرحد سے تجارت پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور اس کا انتظام فرنٹیئر کور کے بجائے سویلین انتظامیہ کے حوالے کرنے، غیر قانونی چیک پوسٹوں کا خاتمہ اور مقامی لوگوں کی تحویل میں لی جانے والی گاڑیوں اور کشتیوں کی واپسی کے مطالبات شامل تھے۔

حکومت کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ نا صرف مطالبات کو تسلیم کیا گیا بلکہ ان پر عملدرآمد کے لیے اقدامات کا سلسلہ بھی جاری ہے جن کے نتیجے میں بلوچستان کی سمندری حدود میں غیر قانونی ماہی گیری میں بہت زیادہ کمی آئی ہے اور متعدد چیک پوسٹوں کا خاتمہ بھی کیا گیا۔

تاہم حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کے مطابق مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

حکومت کے ساتھ معاہدے کو ایک ماہ کا عرصہ پورے ہونے کے بعد لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کی موجودگی میں 17 جنوری کو گوادر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ان کے ساتھ جو وعدے کیے ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ گوادر کے ہفت تلار اور دیگر علاقوں میں اب بھی ٹرالر آ رہے ہیں جبکہ سرحدی تجارت کا انتظام اب بھی فرنٹیئر کور کے پاس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح حق دو تحریک کے رہنماﺅں کے خلاف مقدمات بھی واپس نہیں لیے گئے۔

اُنھوں نے 20 جنوری سے 28 فروری تک دوبارہ گوادر اور کراچی کے درمیان کوسٹل ہائی وے پر مختلف تاریخوں کے لیے دھرنوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس کے باوجود حق دو تحریک کے مطالبات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا تو یکم مارچ سے گوادر میں غیر معینہ مدت کے لیے دھرنا دیا جائے گا۔