گوادر: دھرنا ختم مگر حق دو تحریک جاری، بلوچستان حکومت اور مولانا ہدایت کے درمیان کیا معاہدے طے پایا؟

مولانا ہدایت

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@MHidayatRehman

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد ’حق دو تحریک‘ نے 32 روز سے جاری دھرنے کے خاتمے کا اعلان کیا۔

دھرنے کے خاتمے کا اعلان حق دو تحریک کے مطالبات کو تسلیم کرنے اور ان پر عملدرآمد سے متعلق معاہدے پر دستخط کے بعد کیا گیا۔ اس معاہدے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اورحق دو تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمان نے دستخط کیے ہیں۔

معاہدے پر دستخط کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان جمعرات کی شام پانچ بجے کابینہ کے بعض اراکین اور سرکاری حکام کے ہمراہ دھرنا گاہ آئے اور وہاں معاہدے پر دستخط کیے۔

دھرنا ختم مگر احتجاجی تحریک جاری رہے گی

اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے دھرنے کے شرکا سے خطاب بھی کیا جہاں انھوں نے تسلیم کیا کہ حق دو تحریک کے تمام مطالبات جائز تھے۔ خیال رہے کہ ان مطالبات میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور غیر قانونی فشنگ کی روک تھام شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’جن مسائل کے حل کے لیے آپ لوگوں نے گوادر میں پُرامن جدوجہد کی وہاں ان کے حل کے لیے ہم حکومتی سطح پر کام کررہے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مسائل کے حل کے لیے ’ہم دونوں کو کامیابی ملی ہے۔‘

گوادر، بلوچستان، معاہدہ

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@MHidayatRehman

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس موقع پر اپیل کی کہ دھرنے کو ختم کیا جائے اور ’ہمارے یہاں سے جانے کے ساتھ آپ لوگ یہاں سے چلے جائیں۔‘

ان کی درخواست پر حق دو تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمان نے 15 نومبر سے جاری دھرنے کے خاتمے کا اعلان کیا۔

اگرچہ مولانا ہدایت نے دھرنے کے خاتمے کا اعلان کیا ہے تاہم انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ ’بلوچستان کو خوشحال بنانے تک ان کی تحریک جاری رہے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کی یہ تحریک پُرامن، آئین اور قانون کے دائرے میں رہے گی۔

حکومت اورحق دو تحریک کے درمیان معاہدے میں کیا ہے؟

حکومت بلوچستان اور حق دو تحریک کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے اس کے مطابق بلوچستان کی سمندری حدود میں غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور اس کی روک تھام کے لیے محکمہ ماہی گیری اور ماہی گیر مشترکہ پیٹرولنگ کریں گے۔

گوادر، بلوچستان، معاہدہ
،تصویر کا کیپشنمعاہدے کے مطابق بلوچستان کی سمندری حدود میں غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی

غیر قانونی ماہی گیری کی روک تھام سے متعلق نکات کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز کا تبادلہ ہو چکا ہے۔ ’پسنی، ماڑہ اور لسبیلہ کے علاقوں میں آئندہ اگر کوئی ٹرالر پایا گیا تو متعلقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘

اس معاہدے کے تحت ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری کی روک تھام کے لیے مشترکہ پیٹرولنگ کی جائے جس میں انتظامیہ اور ماہی گیر شامل ہوں گے۔ اور ماہی گیروں کے نمائندگان کو باقاعدہ محکمہ فشریز کے دفتر میں ایک ڈیسک دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

معاہدے کے نکات کے مطابق بلوچستان کی سمندری حدود کو 12 سے 30 ناٹیکل میل کرنے کی تجویز متعلقہ فورم کو بھیجی جائے گی۔ ماہی گیروں کو سمندر میں جانے کی آزادی ہوگی جبکہ وی آئی پی نقل و حمل کے دوران بلاضرورت عوام الناس کی نقل و حمل کو محدود نہیں کیا جائے گا۔

سرحدی تجارت

سرحدی تجارت سے متعلق معاہدے کے نکات کے مطابق ٹریڈ یونینز اور کمیٹی سسٹم کے خاتمے کے احکامات جاری کیے جائیں گے۔ اور سرحدی کاروبار ضلعی انتظامیہ کے مرتب کردہ ضابطہ کار کے مطابق بحال کیا جائے گا۔

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ سرحدی تجارت فرنٹیئر کور سے ضلعی انتظامیہ کے حوالے کیا جائے گا اور اسے تمام اختیارات دیے جائیں گے۔ سرحدی تجارت کے حوالے سے ٹوکن، ای ٹیگ میسیج اور لسٹنگ وغیرہ کا خاتمہ کیا جائے گا۔ سرحدی تجارت سے متعلق معاہدے کے نکات پر ایک مہینے میں عملدرآمد کیا جائے گا۔

گوادر، بلوچستان، معاہدہ

،تصویر کا ذریعہBEHRAM BALOCH

چیک پوسٹوں کا معاملہ

غیر ضرووری چیک پوسٹوں کے خاتمے سے معاہدے کے نکات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ضلع گوادر، کیچ اور پنجگور میں غیر ضروری چیک پوسٹوں کے خاتمے کے لیے مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

اس کے مطابق یہ کمیٹی سروے کر کے رپورٹ مرتب کرے گی اور غیر ضروری چیک پوسٹوں اور چوکیوں کے خاتمے کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔

’مظاہرین کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں ہوگی‘

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان ضلع گوادر کے ماہی گیروں کی امداد کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان کریں گے۔ جبکہ گوادر میں ایکسپریس وے متاثرین کو دوبارہ سروے کے بعد جلد معاوضہ ادا کیا جائے گا۔

معاہدے کے مطابق حق دو تحریک کے کارکنان پر تمام مقدمات فوراً ختم کیے جائیں گے اور حق دو تحریک کے قائد مولانا ہدایت کا نام فورتھ شیڈول سے فوری طور پر خارج کیا جائے گا۔

گوادر، بلوچستان، معاہدہ

،تصویر کا ذریعہJAVED BALOCH

،تصویر کا کیپشن12 دسمبر کو وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ گوادر کے محنت کش مچھیروں کے انتہائی جائز مطالبات پر کارروائی کی جائے گی

سمندری طوفان سے متاثرہ ماہی گیروں کی امداد سے متعلق معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ان کی امداد کے لیے ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے رابطہ کر کے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

حکومت نے اس معاہدے میں یہ وعدہ کیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی محکمے ملازمتوں سے متعلق معذور کوٹے پر عمل کریں گے۔ جبکہ مکران ڈویژن کے رہائشی علاقوں میں چادر و چاردیواری کا احترام کیا جائے گا۔

معاہدے کے مطابق دھرنے کے بعد حق دو تحریک کے کسی بھی کارکن کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ جبکل کوسٹ گارڈ اور کسٹمز کے پاس مقامی لوگوں کی جتنے بھی کشتیاں، لانچ اور گاڑیاں ہیں، ان کو ان کے مالکان سے واپس کرانے کے لیے صوبائی حکومت ’ہر قسم کا تعاون کرے گی۔‘

دھرنے کے اختتام پر ماسی زینی کو خراج تحسین پیش کیا گیا

دھرنے کے خاتمے پر احتجاجی تحریک میں سب سے متحرک رہنے والی خاتون ماسی زینی کو خصوصی طور پر سٹیج پر بلا کر خراج تحسین پیش کیا گیا۔

وہ جب سٹیج پر آئیں تو پنڈال میں بیٹھے لوگ ان کے احترام میں کھڑے ہوئے اور ان کے لیے خوب تالیاں بجائیں۔ حق دو تحریک کے قائد نے ماسی زینی کو چادر پہنائی۔

اس موقع پر مقررین نے انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماسی زینی نے عوام کے حقوق کے لیے بھرپور جدوجہد کی اور خواتین کو متحرک کیا۔

خیال رہے کہ حق دو تحریک کے 32 روزہ دھرنے اور تحریک کے دوران چار بڑی ریلیاں نکالی گئیں جن میں خواتین کی الگ ریلی بھی شامل تھی۔

مبصرین نے خواتین کی اس ریلی کو نہ صرف گوادر بلکہ بلوچستان میں خواتین کی سب سے بڑی ریلی قرار دیا تھا۔

ماسی زینی گوادر کی معروف سماجی کارکن ہیں اور وہ حق دو تحریک میں بھرپور انداز سے متحرک رہیں۔ جب دھرنے کے دوران 9 دسمبر کی شب پولیس کی بھاری نفری مولانا ہدایت کی گرفتاری کے لیے آئی تو نہ صرف ماسی زینی خواتین کی بڑی تعداد کے ہمراہ دھرنے کے مقام پر پنچیں بلکہ وہ دھرنے میں بیٹھنے کے لیے اپنا بستر بھی ساتھ لائیں۔