ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کلپ پر سماعت: ’فرض کریں آڈیو درست بھی ہے تو اصل کلپ کہاں کس کے پاس ہے؟‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پاکستان کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کے لیے دائر درخواست کی سماعت میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ آڈیو درست بھی ہے تو اصل کلپ کہاں کس کے پاس ہے؟
اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو ٹیپ کی تحقیقات کےلیے کمیشن بنانے کی درخواست پر سماعت سماعت ہوئی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں یہ درخواست صدر سندھ ہائی کورٹ بار صلاح الدین احمد اور جوڈیشل کمیشن کے ممبر سید حیدر امام رضوی نے دائر کی ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ عدالت نے صرف قانون کے مطابق حقائق کو دیکھنا ہے اور جوڈیشل ایکٹوزم میں نہیں جانا۔
عدالت نے آج کی سماعت کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اٹارنی جنرل سے معاونت لینے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کو پری ایڈمشن نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی ہے۔
سماعت کے دوران کیا ہوا؟

،تصویر کا ذریعہEPA
سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ یہ بتا دیں کہ یہ پٹیشن قابل سماعت کیسے ہے؟ کس کے خلاف رٹ دائر کی گئی؟
انھوں نے درخواست گزار صلاح الدین احمد سے کہا کہ آپ کی درخواست حاضرسروس چیف جسٹس کےآڈیو کلپ سے متعلق ہے۔
عدالتی استفسار پر درخواست گزار نے کہا کہ درخواست موجودہ چیف جسٹس نہیں بلکہ سابق چیف جسٹس پاکستان کے آڈیو کلپ سے متعلق ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جسٹس اطہر من اللہ نے سوال اٹھایا کہ چیف جسسٹس پاکستان کی آڈیو ٹیپس ریکارڈ کرنے کی صلاحیت کس کے پاس ہے اور یہ آڈیو انھوں نے ریلیز کی ہے یا کسی امریکا میں بیٹھے ہوئے شخص نے کی ہے؟
جیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر فرض بھی کر لیں کہ یہ اصل ہے تو یہ بہت اہم یہ بھی ہے کہ اس کا اوریجنل کلپ کہاں ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدلیہ کو بڑے چیلنجز درپیش ہیں اور عدالت یہ نہیں چاہتی کہ ہم کسی ایسی چیز میں چلیں جائیں کہ فلڈ گیٹ کھل جائے اور عدالت کو بہت ساری چیزوں کو مد نظر رکھنا ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ایسےمعاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں سوشل میڈیا کسی ریگولیشن کے بغیر ہے اور ہر روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے،آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟
درخواست گزار وکیل صلاح الدین احمد کا کہنا تھا کہ یہی بات تکلیف دہ ہےکہ سوشل میڈیا پریہ چیز وائرل ہوئی اوراس پرڈسکشن بھی ہورہی ہے۔
عدالت نے کہا کہ سیاسی جماعتوں یا گروپس کے لیے بہت آسان ہو جائے گا کہ کوئی بھی رائے قائم کردیں اور پھر کورٹس میں نہیں بلکہ کورٹس کے باہر فیصلے ہونا شروع ہو جائینگے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ مختلف سیاسی قوتیں مختلف بیانیے بناتی ہیں مگر عدالت نہیں آتیں۔ اس کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جن کے کیسز سے متعلق ٹیپ ہے انھوں نے معاملہ عدالت لانے میں دلچسپی نہیں دکھائی ہے اور جب وہ عدالت نہیں آتے تو کورٹ کو یہ بھی دیکھنا ہے نیت کیا ہے۔
درخواست گزار صلاح الدین احمد نے بھی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ جو اصل متاثرہ فریق ہیں وہ سامنے نہیں آتے اور یہی مسئلہ ہے۔
سماعت کے اختتام پر عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو پری ایڈمشن نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
متنازع آڈیو کا پس منظر کیا ہے؟
چند روز قبل تحقیقاتی صحافت کرنے والی ایک ویب سائٹ 'فیکٹ فوکس' پر جاری کردہ ایک آڈیو میں دو افراد کی گفتگو سنی جا سکتی ہے جس میں دونوں افراد اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے مگر وہ گفتگو کے دوران ملک کے سابق وزیراعظم 'نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو سنائی جانے والی سزاؤں کے لیے دباؤ ڈالنے' کی بات کر رہے ہیں۔
دونوں ہی افراد اس گفتگو کے دوران اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے تاہم ویب سائٹ کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے ایک آواز سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ہے۔
اس گفتگو کے دوران مبینہ طور پر انھیں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ عدلیہ کو نواز شریف کو سزا دینے کے لیے کہا گیا ہے۔
آڈیو میں سابق چیف جسٹس سے منسوب آواز کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ 'میں لگی لپٹی رکھے بغیر کہوں گا ہمارے ہاں فیصلے ادارے دیتے ہیں۔۔۔اس میں میاں صاحب کو سزا دینی ہے اور کہا گیا ہے کہ جی ہم نے خان صاحب کو لانا ہے۔'
گفتگو میں شریک دوسرے فرد سے یہ بھی کہا جاتا ہے 'کہا ہے جی، اب کرنا پڑے گا۔'
مریم نواز کو سزا دینے کے معاملے پر جب گفتگو میں شامل دوسرا فرد کہتا ہے کہ 'میرے خیال میں بیٹی کو سزا دینی بنتی نہیں ہے' تو اس پر مبینہ طور پر سابق چیف جسٹس کہتے ہیں کہ 'آپ بالکل جائز ہیں۔ میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ اس پر کچھ کیا جائے، دوستوں نے اتفاق نہیں کیا۔'
سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کا رد عمل

،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN
بی بی سی اردو نے جب اس آڈیو پر ردعمل لینے کے لیے ثاقب نثار سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ آڈیو جعلسازی کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'یہ سب فیبریکیٹڈ ہے۔ میں نے ایسی کوئی کسی سے بات نہیں کی ہے۔'
اس سوال پر کہ آڈیو میں آواز ان کی ہے ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ 'پتا نہیں جی کسی اور کی ہے یا میری کہیں سے توڑ جوڑ کر اکھٹی کی ہوئی ہے، میں نہیں کہہ سکتا لیکن یہ میں نے کبھی کسی سے (یہ بات) نہیں کی۔'
اس سوال پر کہ جن فیصلوں سے متعلق یہ بات ہو رہی ہے کیا ان کے خیال میں وہ فیصلے میرٹ پر ہوئے تھے، سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا 'بھئی فیصلے تو ججز میرٹ پر کرتے ہیں۔ میں نے کسی کو کبھی کوئی حکم ہی نہیں دیا تو میں کیسے کہہ سکتا ہوں کہ میرٹ پر فیصلہ نہیں ہوا۔'










