ساجد سدپارہ ماؤنٹ ایورسٹ پر کس مہم پر تھے جب ان کی طبیعت خراب ہوئی؟

،تصویر کا ذریعہKhaqan Ibrahim
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
پاکستان کے ممتاز کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ ماؤنٹ ایورسٹ پر ایک مشن مکمل کرنے کی کوشش میں ’ہائی ایلٹیٹیوڈ سِکنس‘ یا اونچائی پر طبیعت کی خرابی کے بعد نیپال کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
ساجد سدپارہ کے ترجمان خاقان ابراہیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا ساجد سدپارہ سے بدھ کو حادثے کے بعد پہلی مرتبہ رابطہ ہوا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اس وقت ادوایات لے رہے ہیں اور خود کو بہتر محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ ایسی ادویات لے رہے ہیں جن سے غنودگی ہوتی ہے۔
خاقان ابراہیم کے مطابق ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ وہ بہتر ہیں۔ ان کے حوصلے بلند ہیں۔ ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ وہ کچھ دنوں میں سفر کے قابل ہو جائیں گے۔ ’ڈاکٹرں نے بھی بتایا ہے کہ ساجد سد پارہ کی طبیعت بہتر ہو رہی ہے۔‘
خاقان ابراہیم نے کہا کہ ساجد سدپارہ نے قوم سے دعاؤں کی اپیل کی ہے۔
مشن کیا تھا؟
خاقان ابراہیم کے مطابق محمد علی سدپارہ اور فرانس کے کوہ پیما مارک بیٹارڈ نے منصوبہ بنایا تھا کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ سے کیمپ ون تک کا نیا محفوظ روٹ تلاش کرتے ہیں۔ ماؤنٹ ایورسٹ کا بیس کیمپ سے کیمپ ون تک کا روایتی روٹ مختلف وجوہات کی بناء پر خطرناک ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ پہلے محمد علی سدپارہ اس مشن کا حصہ تھے اس لیے چند روز قبل مارک بیٹارڈ نے ساجد سدپارہ کے ساتھ رابطے کیا تو وہ اپنے والد کا مشن مکمل کرنے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔
یاد رہے پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سردیوں میں سر کرنے کی ایک مہم کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔
ساجد سدپارہ سات نومبر کو نیپال پہنچے تھے جہاں پر انھوں نے کچھ ابتدائی کام کیا تھا۔ جس کے بعد وہ کوہ پیماؤں کے لیے نیا محفوظ روٹ تلاش کرنے کے مشن پر تھے کہ تقریباً پانچ ہزار میٹر کی بلندی پر ان کی طبیعت بگڑ گئی۔
ہوا کیا تھا؟
خاقان ابراہیم کا کہنا تھا کہ ساجد سدپارہ کے ساتھ کیا ہوا یہ تو وہ خود ہی صحت یاب ہو کر بتائیں گے۔ ’میں نے اس موقع پر ان سے نہیں پوچھا کہ کیا ہوا تھا۔ مگر یہ بات ذہن میں رہے کہ کوہ پیمائی کی 25 فیصد مہمات اونچائی پر طبیعت کی خرابی کے سبب ناکام ہوتی ہیں۔‘
انھوں نے کہا ’ساجد سدپارہ اپنے والد محمد علی سدپارہ کے حادثے کے بعد سے ایک مختلف اور تکلیف دہ صورتحال کا شکار تھے۔ اس صورتحال کا وہ بڑی جوان مردی سے سامنا کرتے رہے تھے۔‘
یہ بھی پڑھیے
خاقان ابراہیم نے کہا کہ دنیا کے سامنے انھوں نے کبھی اپنے جذبات ظاہر نہیں کیے۔ انھوں نے کے ٹو پر اپنے والد کی لاش کی تلاش کے آپریشن میں بھی حصہ لیا تھا اور وہ ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔
’ڈاکٹروں نے ہمیں بتایا ہے کہ اسی ذہنی دباؤ کی وجہ سے وہ اپنی مہم کے دوران اونچائی پر پیش آنے والی بیماری کا شکار ہوئے ہیں۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ دنیا بھر کے تمام بڑے کوہ پیما کبھی نہ کبھی اس کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کا علاج ہوتا ہے اور وہ پھر میدان میں آ جاتے ہیں۔‘
امدادی سرگرمی کیسے مکمل ہوئی؟
خاقان ابراہیم کے مطابق ساجد سدپارہ نے اپنا مشن 10 نومبر سے شروع کیا تھا۔ ’14 تاریخ سے ان سے میرا رابطہ ختم ہو گیا تھا۔ جس کا مطلب میں یہ لے رہا ہوں کہ وہ 14 یا 15 نومبر کو کسی مسئلے کا شکار ہوئے ہیں۔ 16 تاریخ کو 12 سو ڈالر کے عوض کچھ پوٹرز کی خدمات حاصل کی گئیں تھیں۔ جو ساجد سدپارہ کو نیچے لائے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ نیپال کے نمچھی بازار میں جب ان کو لایا گیا تو وہاں پر کچھ پاکستانی موجود تھے۔ ساجد سدپارہ بندھے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ ان کو نیچے لانے کا کوئی طریقہ موجود نہیں تھا۔ جس پر وہ پاکستانی فکرمند ہوئے۔ انھوں نے ساجد سدپارہ سے بات کرنے کی کوشش کی اور پریشانی میں وہ ویڈیو وائرل کر دی۔ ان کو نمچھی بازار سے ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال پہنچایا گیا تھا۔













