علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کی لاشوں کو کے ٹو کے مشکل ترین مقام ’بوٹل نیک‘ سے نیچے لانا ممکن ہے یا نہیں؟

کے ٹو

،تصویر کا ذریعہSAYED FAKHAR ABBAS

    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

فروری میں کے ٹو پر لاپتہ ہو جانے والے پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ کی لاش کے ٹو کے ’بوٹل نیک‘ سے 300 میٹر نیچے جبکہ ان کے دو اور ساتھیوں میں سے ایک کی لاش ’بوٹل نیک‘ سے 400 میٹر نیچے ملی ہے اور یہ مقام ڈیتھ زون میں 8200-8400 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔

پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری کی لاشیں برف میں جمی ہوئی ہیں اور انھیں برف سے نکال کر سلنگ آپریشن کے ذریعے رسی سے اوپر کھینچنے میں لاش ٹوٹنے کا خطرہ بھی موجود ہے (گذشتہ روز ساجد سد پارہ نے چلی سے تعلق رکھنے والے تیسرے کوہ پیما ہوان پابلو موہر کی لاش کو راستے سے ہٹا کر دوسری جگہ محفوظ کر دیا تھا)۔

دوسری جانب پیر کے روز گلگت بلتستان کے وزیر اطلاعات فتح اللہ خان کا کہنا تھا کہ ان لاشوں کو فوج کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے منتقل کیا جائے گا تاہم قراقرم کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں ہیلی کاپٹر 7300 میٹر سے اوپر پرواز نہیں کر سکتے۔

تو علی سد پارہ اور ان کے ساتھیوں کی لاشوں کو نیچے کیسے لایا جائے گا؟ یہ وہ سوال ہے جو پاکستان سمیت دنیا بھر میں کوہ پیمائی سے وابستہ فورمز پر تقریباً سبھی افراد کے ذہنوں میں موجود ہے۔

یاد رہے یہ لاشیں ’بوٹل نیک‘ پر ملی ہیں جو کے ٹو کا مشکل ترین حصہ ہے (کے ٹو کے کیمپ فور سے اوپر ڈیتھ زون میں 8200-8400 میٹر کے درمیان ایک راک اینڈ آئس گلی موجود ہے، چونکہ اس کی شکل بوتل کی گردن کی طرح دکھتی ہے لہذا اسے ’بوٹل نیک‘ کہتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے کےٹو سر کرنے کی کوشش کرنے والے کوہ پیماؤں کو ہر حال میں گزرنا پڑتا ہے، اس کا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں)۔

بی بی سی نے آرمی ایویشن، کوہ پیمائی کے ماہرین اور پاکستان میں ریکسیو مشن سے وابستہ افراد سے بات کرکے انھی سوالات کے جواب جاننے کی کوشش کی ہے۔

کے ٹو

،تصویر کا ذریعہAlex Gavan

،تصویر کا کیپشنکے ٹو کی بلندی 8611 میٹر ہے جو کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ سے صرف دو سو میٹر کم ہے لیکن یہاں پر حالات جان لیوا ہو جاتے ہیں

یاد رہے پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کو پانچ فروری کو آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر کے ٹو کی چوٹی کے قریب آخری مرتبہ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے دیکھا تھا جو آکسیجن ریگولیٹر کی خرابی کی وجہ سے مہم ادھوری چھوڑ کر واپس آنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ اس مہم میں بطور ہائی ایلٹیچیوڈ پورٹر شریک تھے۔

تقریباً دو ہفتے تک زمینی اور فضائی ذرائع کا استعمال کرنے کے بعد حکام نے 18 فروری کو علی سدپارہ سمیت لاپتہ ہونے والے تین کوہ پیماؤں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی تلاش کے لیے جاری کارروائی ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ ساجد سدپارہ اپنے والد علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کی لاشوں کی تلاش اور انھیں واپس لانے کے مقصد سے دوبارہ کے ٹو پر پہنچے اور ان کے ہمراہ کینیڈین فوٹو گرافر اور فلم میکر ایلیا سیکلی اور نیپال کے پسنگ کاجی شرپا بھی ہیں۔

’پہلا آپشن اوپر موجود کوہ پیما اور پورٹرز‘

کوہ پیما
،تصویر کا کیپشن(دائیں سے بائیں) جے پی موہر، محمد علی سدپارہ اور جان سنوری

ساجد سد پارہ کی ریسکیو مہم کے انتظامات کرنے والی کمپنی جیسمن ٹورز کے بانی اور پاکستان میں ہیڈ آف ریسکیو مشن فار پاٹو (پاکستان ٹور آپریڑ ایسوسی ایشن) اصغر علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ساجد سد پارہ کی طرح جان سنوری کی اہلیہ اور ہوان پابلو موہر کے اہلِ خِانہ بھی ان کی لاشوں کو اپنے اپنے ملک واپس لیجانا چاہتے ہیں۔

اصغر کے مطابق پہلی سٹیج پر ان کوہ پیماؤں کی لاشوں کو بوٹل نیک سے نیچے اس بلندی (تقریباً 6500 میٹر) تک لانا ہے جہاں ہیلی کاپٹر پہنچ سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں نیچے سے کوہ پیماؤں یا پورٹرز کے لیے بوٹل نیک تک جا کر لاشیں لانا ممکن نہیں ہے لہذا سب سے بہتر اور پہلا آپشن یہی ہے کہ اوپر موجود کوہ پیما اور پورٹرز جو سمٹ کر کے واپس لوٹ رہے ہیں ان سے لاشیں نیچے لانے کی درخواست کی جائے۔

انھوں نے بتایا کہ اوپر نیپالی (تقریباً 10-15 افراد) اور پاکستانی ٹیمیں (6-7 افراد) موجود ہیں اور ہم سب سے رابطہ کرکے مدد کی درخواست کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی حکومت اس سلسلے میں نیپالی شرپاؤں کو رقم دینے پر بھی تیار ہے۔

اس سوال پر کہ بوٹل نیک سے ان کوہ پیماؤں کی لاشوں کو 6500 میٹر تک لانے میں کتنے افراد اور وقت لگے گا، اصغر علی کا کہنا تھا کہ ’تقریباً 10-12 تجربہ کار کوہ پیماؤں کی ضرورت ہے جو پہلے برف میں جمی ہوئی لاشوں کو نکال کر طریقے سے سلیپنگ بیگ میں ڈالیں، اور کچھ افراد آگے اور کچھ پیچھے ہو کر درمیان میں لاش کو رکھتے ہوئے گھسیٹ کر یا سلائیڈ کرکے اس پوائنٹ تک لا سکیں جہاں سے ہیلی اسے اٹھا سکے۔‘

تو کیا اوپر گئے ہوئے کوہ پیماؤں کے پاس لاشوں کے لیے فالتو سلیپنگ بیگ موجود ہیں؟ اس سوال پر اصغر علی کا کہنا تھا کہ کچھ کوہ پیماؤں کے پاس یقیناً فالتو سلیپنگ بیگ موجود ہوں گے اور ساجد بھی اوپر پہنچ چکے ہیں، وہ یقیناً ضروری سامان لے کر ہی اوپر گئے ہیں کیونکہ ان کا مقصد ہی لاشیں لانا ہے۔

اصغر کے مطابق اگر سب کوہ پیما راضی ہو جاتے ہیں اور مل کر کام کریں تو اس کام میں کل 4-5 گھنٹے لگیں گے اور اگر وہ ایسے پوائنٹ تک لا سکیں جہاں ہیلی کاپٹر پہنچ جائے تو آج ہی ہیلی کے ذریعے لاشیں واپس لائی جائیں سکتی ہیں۔

تو اس آپریشن پر کتنا خرچہ آئے گا؟ اس کے جواب میں اصغر علی نے بتایا کہ گلگت بلتستان کی حکومت مدد کر رہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ نیپالی شرپا ہوں یا پاکستانی، اگر وہ پیسے لے کر مدد کرنا چاہتے ہیں تو جی بی کی حکومت دینے پر تیار ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ آرمی ایوی ایشن لاشیں لانے کا کام فری آف کاسٹ (بغیر پیسے لیے) کر رہی ہے۔

’ہیلی کاپٹر اس حد سے اوپر نہیں جا سکتے‘

کے ٹو

،تصویر کا ذریعہSAYED FAKHAR ABBAS

آرمی ایویشن میں جس ٹیم کو یہ لاشیں لانے کا کام سونپا گیا ہے، ان کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سب سے پہلی چیز موسم ہے اور دو دن تک سکردو اور بلترو میں کلاؤڈ کور نظر آ رہا ہے۔

دوسرا یہ لاشیں جس بلندی پر موجود ہیں ہیلی کاپٹر وہاں نہیں پہنچ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری کلاؤڈ سیلنگ 23000 فٹ یعنی 7300 میٹر ہے۔ یہ ہماری حد ہے اس سے اوپر ہم اڑ نہیں سکتے کیونکہ ہیلی کاپٹر اس سے اوپر نہیں جا سکتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر ان لاشوں کو ایک مناسب بلندی تک لایا جائے تو ہم وہاں جانے کی کوشش کریں گے لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ لاشیں کے ٹو پہاڑ کے کس حصے میں موجود ہیں۔

ایویشن کے اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ اس مقصد کے لیے ایک چھوٹا ہیلی کاپٹر استعمال کیا جائے گا جس میں ایک وقت میں صرف ایک ہی لاش لائی جا سکتی ہے کیونکہ اس کا کیبن چھوٹا ہے (تقریباً پانچ فٹ سات انچ)۔ اس میں تین لوگ بیٹھ تو سکتے ہیں لیکن لاش صرف ایک ہی لائی جا سکتی ہے لہذا ہیلی کو باری باری جانا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ مشن عسکری ایوی ایشن کی پلاننگ کے مطابق ہی کرتے ہیں اور وہی بتائیں گے کہ مشن کو دو تین میں بریک کرنا ہے یا ایک ہی مشن کرنا ہے۔

’جمی ہوئی لاش زیادہ بھاری ہو جاتی ہے، ٹوٹنے کا خطرہ ہے‘

علی

،تصویر کا ذریعہ@eliasaikaly

دوسری جانب عسکری ایوی ایشن کے ایک اہلکار نے اپنے تجربے کی بنیاد پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان لاشوں کو وہاں پڑے تقریباً پانچ ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور وہ وہاں جمی ہوئی حالت میں موجود ہیں۔

’جمی ہوئی لاش زیادہ بھاری ہو جاتی ہے اور اس کے ٹوٹے کا خطرہ بھی موجود ہوتا ہے لہذا اس کام کے لیے بہت مین پاور اور کوشش کی ضرورت ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یا تو ہیلی کاپٹر لینڈ کرے گا یا سلنگ کے ذریعے لاشیں اٹھائے گا، اس کے علاوہ کوئی تیسرا طریقہ موجود نہیں ہے اور ’جس بلندی پر یہ لاشیں موجود ہیں وہاں سلنگ آپریشن ممکن نہیں کیونکہ لاشیں جمی ہوئی ہیں، جب آپ انھیں سلنگ کے ذریعے اٹھانے کی کوشش کریں گے تو خدانخواستہ اگر وہ سلنگ کسی چیز سے ٹکرا جائے تو لاش کے ٹوٹنے کا خطرہ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’سلنگ صرف اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب انسان زندہ ہو یا لاش تازہ ہو۔ آپ اسے جمی ہوئی برف یا جمے ہوئے گوشت کی طرح سمجھیں، جو اگر کسی چیز سے ٹکرائے تو اس کے ٹوٹ کر بکھرنے کا خطرہ ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

اس سوال کے جواب میں کہ لاشوں کو بوٹل نیک سے کتنے میٹر نیچے تک لانا پڑے گا، ان کا کہنا تھا کہ ’کم از کم کے ٹو کے ایڈوانس کیمپ (5300 میٹر) تک تو لانا پڑے گا تاکہ ہیلی وہاں لینڈ کرکے لاش کو پک کر سکے، اس کے علاوہ اور کوئی حل نظر نہیں آ رہا۔‘

عسکری ایوی ایشن کے اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ آپریشن آرمی ایوی ایشن یا فوج کی مدد کے بغیر کسی صورت ممکن نہیں ہے۔

ان کا یہ کہنا تھا کہ اگر اوپر موجود کوہ پیما لاشیں نیچے لانے پر راضی ہو جائیں، موسم اچھا رہے اور بہت جلدی بھی کی جائے تم ہیلی کاپٹر کے لیے مناسب بلندی (ایڈوانس کیمپ) تک لاشیں لانے میں کم از کم چار سے پانچ دن کا وقت لگے گا۔

’برف میں لاش ایک شیشے کی طرح ہے‘

کے ٹو

،تصویر کا ذریعہTwitter/@@ChhangDawa

کوہ پیمائی سے وابستہ ماہر عمران حیدر تھہیم بھی آرمی ایوی ایشن کے اہلکار سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔ بی بی سی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’سب سے پہلا مسئلہ جمی ہوئی لاش کو برف سے نکالنا ہے۔‘

’جمی ہوئی برف میں لاش ایک شیشے کی طرح ہے جو سرفیس یعنی اوپری سطح پر نہیں پڑی ہوئی بلکہ میری معلومات کے مطابق دبی ہوئی ہیں اور انھیں برف سے ثابت نکالنے کے لیے بہت تجربہ کار کوہ پیماؤں کی ضرورت ہے جو احتیاط سے یہ کام کر سکیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ کے ٹو پر موجود کمپنیوں کے کلائنٹس کو نکال کر اس وقت کے ٹو پر تجربہ کار شرپاؤں میں میڈیسن ماؤٹینرینگ کے پاس 10 نیپالی شرپا اور چار ہائی ایلٹیٹیوٹ پاکستانی پورٹرز، پائنرینگ کے نو شرپا، ایلیا سیکلی اور ساجد سدپارہ کے ساتھ دو ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹر اور شرپا بھی موجود ہیں۔

عمران کے مطابق دوسری اہم چیز ڈیتھ زون میں زندہ رہنے کی جنگ ہے۔ ڈیتھ زون میں کوہ پیماؤں کو عام حالات میں زندہ رہنے کے لیے سانس لینے کا عمل ہی بہت مشکل ہے، ہیلوسینیشن جیسے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور اپنی جان کے لالے پڑے ہوتے ہیں، ایسے میں لاش کو کھود کر نکالنا اور نیچے لانا دو تین بندوں کے بس کا کام نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر تازہ تازہ لاش ہو تو اسے گھسیٹ کر نیچے لایا جا سکتا ہے کیونکہ اس کے ٹوٹنے کا خطرہ نہیں ہوتا لیکن یہ لاشیں تو ایک طرح کے برف کے مجسمے ہیں جنھیں سلیپنگ بیگ کے ساتھ احتیاط سے رسیاں لگا کر، آگے پیچھے اور درمیان میں دو سے تین تین افراد کو خود کو فکسڈ روپ کے ساتھ رکھتے ہوئے مربوط کوشش سے نیچے لانا ہو گا اور آج کے دن میں یہ کام کسی صورت ممکن نہیں اور اس میں کم سے کم دو سے تین دن لگیں گے۔

عمران کے مطابق سلنگ آپریشن کی صورت میں یہ لاشیں ہیلی سے تابوت نیچے اتار بھی کر اوپر اٹھائیں جا سکتی ہیں لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہپیلی کاپٹر کتنا لوڈ اٹھا سکتا ہے۔

کیا ماضی میں کے ٹو پر اس بلندی سے کوئی لاشیں نیچے لائی گئیں ہیں؟

علی

،تصویر کا ذریعہInstagram\Elia Saikaly

عمران کے مطابق 1954 سے آج تک تاریخ میں کے ٹو کی چوٹی پر تقریباً 92-93 اموات ہو چکی ہیں جن میں سے تقریباً 80-90 فیصد سمٹ، بوٹل نیک، کیمپ فور اور ڈیتھ زون میں ہی ہوئی ہیں اور یہ سب لاشیں وہیں پڑی ہیں۔

’اگر نیچلے لیول پر کوئی اموات ہوئی ہیں تو وہ لاشیں مل جاتی ہیں لیکن ہائی ایلٹیٹیوٹ سے آج تک کسی لاش کو نیچے نہیں لایا جا سکا اور نہ ہی وہ نظر آتی ہیں۔‘

عمران کا کہنا تھا کہ ’ایورسٹ پر کوہ پیماؤں کو آتے جاتے لاشیں نظر تو آ جاتی ہیں لیکن کے ٹو پر نظر بھی نہیں آتیں اور یہ بھی ایک معجزہ ہے کہ ان تینوں کوہ پیماؤں کی لاشیں نظر آ گئیں ہیں۔‘