محمد علی سدپارہ: جان سنوری کا کیمرہ، گارمین ڈیوائس اور فون مل گیا، ساجد سدپارہ نے والد کی لاش کو ’بوٹل نیک‘ سے ’کیمپ فور‘ پر لا کر محفوظ کر دیا

،تصویر کا ذریعہ@johnsnorri
- مصنف, منزہ انوار
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو سردیوں میں سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما علی سد پارہ کے ساتھی جان سنوری کا کیمرہ، گارمین ڈیوائس اور فون مل گیا ہے۔
ان آلات کی مدد سے یہ پتا چلایا جا سکے گا کہ علی سدپارہ اور ان کے ساتھی کے ٹو سر کرنے نے کے بعد واپسی پر لاپتہ ہوئے یا انھیں سمٹ سے قبل ہی یہ حادثہ پیش آ گیا تھا۔
واضح رہے کہ ساجد سدپارہ اپنے والد علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کی لاشوں کی تلاش اور انھیں واپس لانے کے مقصد سے دوبارہ کے ٹو پر پہنچے اور ان کے ہمراہ کینیڈین فوٹو گرافر اور فلم میکر ایلیا سیکلی اور نیپال کے پسنگ کاجی شرپا بھی ہیں۔
ایلیا سیکلی، جان سنوری کا کیمرہ، گارمین ڈیوائس اور فون تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ساجد، ایلیا اور پسنگ کاجی شرپا بیس کیمپ کی جانب رواں ہیں اور ایلیا کے ٹریکر کے مطابق وہ دن ایک بجے کیمپ ٹو تک پہنچ چکے ہیں۔
یاد رہے اس سے قبل ساجد کو ہوان پابلو موہر کی گارمین ڈیوائس بھی مل گئی تھی۔
اس سے قبل ساجد سدپارہ نے برف میں جمی اپنے والد کی لاش کو ’بوٹل نیک‘ کے خطرناک مقام سے نکال کر کیمپ فور پر محفوظ کر دیا۔
کے ٹو بیس کیمپ پر موجود ذرائع کے مطابق ساجد نے لاش کو کیمپ فور پر محفوظ کرنے کے بعد اپنی والدہ کی خواہش کے مطابق فاتحہ اور قرآن خوانی بھی کی اور اس مقام پر نشانی کے لیے پاکستانی پرچم بھی گاڑا۔
علی سدپارہ کی لاش کو بوٹل نیک سے نکال کر کیمپ فور تک لانے کے خطرناک کام میں ارجنٹائن کے ایک کوہ پیما نے بھی ساجد کی مدد کی۔ منگل کو کے ٹو کے سمٹ پر روانہ ہونے سے قبل ساجد نے علی سدپارہ کے ساتھ لاپتہ ہونے والے تیسرے کوہ پیما ہوان پابلو موہر کی لاش کو بھی راستے سے ہٹا کر محفوظ کر دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ساجد سدپارہ اپنے والد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کی لاشوں کی تلاش اور انھیں واپس لانے کے مقصد سے دوبارہ کے ٹو پر پہنچے ہیں اور بدھ کی صبح تقریباً 8 بجے انھوں نے دوسری مرتبہ کے ٹو کا سمٹ بھی کر لیا ہے۔
فی الحال ساجد نے ان لاشوں کو محفوظ کر دیا ہے تاہم انھیں کے ٹو سے نیچے لانے سے متعلق فیصلہ ہلاک ہونے والے کوہ پیماؤں کے اہلِ خانہ اور ماہرین کی رائے کے مطابق بعد میں کیا جائے گا۔
ساجد سدپارہ بیس کیمپ کی جانب چل پڑے ہیں اور لاشوں کو نیچے لانے کے لیے نئی ٹیم بن رہی ہے۔ مگر اس کا فیصلہ موسم پر اور اس بات پر ہے کہ آیا مزید جانوں کو خطرے میں نہ ڈالتے ہوئے یہ لاشیں نیچے لانا ممکن ہے یا نہیں۔
بدھ کی صبح کے ٹو کی چوٹی سے بھییجے گئے پیغام میں ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ فی الحال لاشوں کو نیچے لیجانا ممکن نہیں لگ رہا لہذا 'میں اپنی ٹیم کے ساتھ انھیں ٹیکنیکل مقام سے دوسری جگہ محفوظ کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ وہ آنے جانے والوں کو نظر نہ آ سکیں'۔
آڈیو پیغام میں ساجد سدپارہ نے یہ بھی بتایا کہ انھیں پابلو موہر کی جیب سے صرف گارمین ڈیوائس ملی ہے مگر وہ دوبارہ نیچے جا کر ان کا گو پرو، سیٹیلائٹ اور موبائل ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔
یاد رہے کہ علی سدپارہ کی لاش پیر کے روز کے ٹو پہاڑ کے ’بوٹل نیک‘ کے قریب ملی تھی۔ گلگت بلتستان کے وزیر اطلاعات فتح اللہ خان نے تینوں کوہ پیماؤں کی لاشیں ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان لاشوں کو فوج کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے منتقل کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter:\@sajid_sadpara
پہلے علی سد پارہ اور جان سنوری کی لاشیں ملنے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں لیکن کے ٹو پر مہمات کا انتظام کرنے والی کمپنیوں اور ہون پابلو موہر کے مینیجر فیڈریکو شیچ نے ان کی لاش ملنے کی بھی تصدیق کی تھی۔
بتایا گیا ہے کہ محمد علی سد پارہ کی لاش کے ٹو کے ’بوٹل نیک‘ سے 300 میٹر نیچے جبکہ پہلی لاش ’بوٹل نیک‘ سے 400 میٹر نیچے ملی ہے (کے ٹو کے کیمپ فور سے اوپر ڈیتھ زون میں 8200-8400 میٹر کے درمیان ایک راک اینڈ آئس گلی موجود ہے، کیونکہ اس کی شکل بوتل کی گردن کی طرح دکھتی ہے لہذا اسے بوٹل نیک کہتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے کےٹو سر کرنے کی کوشش کرنے والے کوہ پیماؤں کو ہر حال میں گزرنا پڑتا ہے، اس کا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں ہے اور یہ کے ٹو کا مشکل ترین حصہ ہے)۔
یاد رہے کہ پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کو پانچ فروری کو آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر کے ٹو کی چوٹی کے قریب آخری مرتبہ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے دیکھا تھا جو آکسیجن ریگولیٹر کی خرابی کی وجہ سے مہم ادھوری چھوڑ کر واپس آنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ اس مہم میں بطور ہائی ایلٹیچیوڈ پورٹر شریک تھے۔
تقریباً دو ہفتے تک زمینی اور فضائی ذرائع کا استعمال کرنے کے بعد حکام نے 18 فروری کو علی سدپارہ سمیت لاپتہ ہونے والے تین کوہ پیماؤں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی تلاش کے لیے جاری کارروائی ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہinstagram\@eliasaikaly
ساجد سد پارہ کی ریسکیو مہم کے انتظامات کرنے والی کمپنی جیسمن ٹورز کے بانی اور پاکستان میں ہیڈ آف ریسکیو مشن فار پاٹو (پاکستان ٹور آپریڑ ایسوسی ایشن) اصغر علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تین لاشیں ملنے کی تصدیق کی تھی۔ ان کے مطابق یہ تینوں لاشیں لاپتہ کوہ پیماؤں علی سدپارہ، جان سنوری اور جان پابلو موہر کی ہی ہیں۔
ان کے مطابق آرمی کی طرف سے ان کے لئیزن آفیسر جن کا بذریعہ ریڈیو ساجد سدپارہ سے رابطہ ہے، تصدیق کی ہے کہ یہ لاشیں علی سدپارہ، جان سنوری اور ہوان پابلو موہر کی ہیں۔
اس سے پہلے کے ٹو پر مہمات کا انتظام کرنے والی کمپنی مہاشا برم ایکسپیڈیشن کے مالک محمد علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے علی سدپارہ کی لاش ملنے کی تصدیق کی تھی۔
مہاشا برم ایکسپیڈیشن کے مالک محمد علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی ٹیم میں شامل رسیاں لگانے والے شرپاؤں کو ’بوٹل نیک‘ کے قریب دو لاشیں ملی ہیں جن میں سے ایک کی شناخت کر لی گئی ہے اور وہ محمد علی سد پارہ کی لاش ہے جبکہ دوسری لاش کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
محمد علی کے مطابق ان کی مختلف ممالک کے 19 کوہ پیماؤں پر مشتمل ٹیم کے ٹو کی جانب رواں دواں تھی اور اس دوران سات شرپا (جن میں ان کی ٹیم کے چار شرپا) بھی شامل ہیں، سب سے پہلے رسیاں فکس کرنے اوپر جا رہے تھے۔ جب یہ سات افراد سمٹ کی جانب رسی فکس کرنے گئے تو کیمپ فور سے آگے بوٹل نیک کے قریب پہنچنے پر انھیں پہلے ایک لاش ملی اور گھنٹے بعد تقریباً سو میٹر اوپر جا کر دوسری لاش ملی۔
کچھ دیر بعد انھوں نے بتایا کہ تیسری لاش بھی مل گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہInstagram/@14Dawa
محمد علی سدپارہ کی لاش کی شناخت کیسے کی گئی ہے؟
محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کو پیش آنے والے حادثے کو تقریباً پانچ ماہ گزر چکے ہیں۔
اس سوال کے جواب میں کہ اتنا عرصے گزر جانے کے بعد ان شرپاؤں نے محمد علی سدپارہ کی لاش کیسے شناخت کی؟
محمد علی کے مطابق جس وقت ان کی ٹیم بیس کیمپ سے نکل رہی تھی اس وقت محمد علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ نے انھیں کچھ تصاویر اور نشانیاں بتائیں تھیں جن کی بنا پر علی سد پارہ کی لاش کی شناخت کی گئی ہے۔
محمد علی نے بتایا تھا کہ ان کی ٹیم نے ساجد سدپارہ تک یہ خبر پہنچا دی ہے اور لاشوں کو نیچے لانے کے متعلق فیصلہ ساجد ہی کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
لاشوں کی تصدیق سے متعلق سوال پر پاکستان میں ہیڈ آف ریسکیو مشن فار پاٹو (پاکستان ٹور آپریڑ ایسوسی ایشن) علی اصغر پورک کا کہنا تھا کہ ’اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا، ہمیں سب ہسٹری معلوم ہوتی ہے کہ کون کب گیا، کون کوہ پیمائی کر رہا ہے کون نہیں کر رہا اور کون ہلاک ہوا ہے۔۔۔ ہم ہر سال مہمات کرتے ہیں اور ہمیں ساری معلومات ہوتی ہیں۔‘
اصغر علی پورک نے یہ بھی بتایا کہ ’کل آرمی کے ہیلی کاپٹر جائیں گے اور سلنگ آپریشن (جس میں رسیوں کی مدد سے لاش اوپر لائی جاتی ہے) کے ذریعے لاشوں کو بیس کیمپ تک لانے کی کوشش کی جائے گی۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ آج سے قبل پاکستان میں ایسا آپریشن کبھی نہیں کیا گیا کہ اتنی اونچائی سے لاشوں کو نیچے لایا جائے۔ اصغر علی کے مطابق اس آپریشن کے لیے آرمی کو اپنے ہیلی کاپٹر میں سیٹیں اور پٹرول کم کر کے ہیلی کاپٹر کا وزن کم کرنا پڑتا ہے اور یہ انتہائی خطرناک آپریشن ہوتا ہے۔
’اگر آرمی کامیاب ہو گئی تو دنیا میں اتنی اونچائی سے لاش نیچے لانے کا یہ ایک ریکارڈ آپریشن ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہSAYED FAKHAR ABBAS
’جب تک ان لاشوں کو 7000 میٹر تک نہیں لایا جاتا، دنیا کا کوئی سلنگ آپریشن ممکن نہیں‘
کوہ پیمائی کے ماہر مہم جو عمران حیدر تھہیم کے مطابق پاکستان آرمی کے پاس کوئی ایسا ہیلی کاپٹر موجود نہیں ہے جو 7000 میٹر سے اوپر پرواز کر سکے اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ لاشیں 8200-8300 میٹر کے آس پاس پائی گئی ہیں۔
’لہذا ان لاشوں کو جہاں یہ موجود ہیں ( 8200-8300 میٹر) وہاں سے ورٹیکل 7000 میٹر نیچے تک لانا پڑے گا جو کے ٹو کا ’بلیک پیرامڈ سیکشن‘ ہے اور یہ بہت زیادہ پتھریلا حصہ ہے۔ کوہ پیماؤں کو ہر حال میں یہاں تک لاشوں کو اٹھا کر لانا پڑے گا۔‘
عمران کے مطابق اس کام کے لیے ایک منظم اور مربوط کوشش کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ’دو تین بندوں کے بس کا کام نہیں ہے‘۔
ان کے مطابق لاشوں کو 7000 میٹر تک لانے کے لیے کم از کم 10-15 ایکلیمٹائزڈ (سطح سمندر سے بلندی پر آکسیجن کی کمی کے ساتھ انسانی جسم کے موافقت اختیار کرنے کے عمل کو ایکلیمٹائزیشن کہتے ہیں) کوہ پیماؤں کی ضرورت ہے اور ’جب تک ان لاشوں کو 7000 میٹر تک نہیں لایا جاتا، دنیا کا کوئی سلنگ آپریشن ممکن نہیں ہے۔‘
یاد رہے کہ ہیلی کاپٹر سے ریکسیو لانگ لائن کے ذریعے کیا جاتا ہے یعنی ہیلی کاپٹر اوپر جا کر لانگ لائن کی رسی نیچے پھینکتا ہے اور نیچے سے زندہ انسان یا لاش کو اس کے ساتھ باندھ کر اوپر اٹھا لیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہinstagram\@eliasaikaly
رواں برس 18 فروری کو اپنے والد سمیت تینوں کوہ پیماؤں کی موت کا اعلان ساجد سدپارہ نے سکردو میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا تھا۔ اس وقت ساجد کا کہنا تھا کہ 'کے ٹو نے میرے والد کو ہمیشہ کے لیے اپنی آغوش میں لے لیا ہے۔'
اس وقت بیس کیمپ سے سکردو پہنچنے پر علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ نے بتایا تھا کہ جب انھیں ڈیتھ زون میں 8200 میٹر کی بلندی پر ہیلوسنیسیشن شروع ہوئی اور آکسیجن ماسک کا ریگولیٹر خراب ہو جانے کے باعث انھوں نے واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا اس وقت آخری بار انھوں نے اپنے والد علی سدپارہ کی ٹیم کو بوٹل نیک میں 8200-8300 میٹر پر بہت اچھی اور فٹ حالت میں سمٹ کی جانب رواں دواں دیکھا تھا۔
ساجد کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں لگتا ہے کہ ان کے والد نے سمٹ کیا ہے (یعنی کے ٹو کی چوٹی تک پہنچے ہیں) اور ان کے ساتھ جو بھی حادثہ ہوا وہ سمٹ سے واپسی کے سفر میں بوٹل نیک یا کہیں نیچے ہوا۔

،تصویر کا ذریعہ@Angelab8848
دو ہفتوں کی تلاش کے دوران محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کی تلاش کے لیے پاکستان فضائیہ کے جدید ٹیکنالوجی سے لیس خصوصی طیارے نے آٹھ ہزار چھ سو گیارہ میٹر سے اوپر پروازیں کی تھیں اور کے ٹو کی چاروں اطراف سے خصوصی فلم بندی اور ہائی ایچ ڈی کیمروں کی مدد سے تصاویر لی گئیں تھیں۔
سرچ آپریشن کے دوران آئس لینڈ اور چلی نے بھی سیٹلائٹ تصاویر جاری کی تھیں جس میں محمد علی سدپارہ اور ٹیم کے اس آخری مقام کی نشاندہی کی گئی تھی جہاں ان سے آخری بار رابطہ ہوا تھا۔
اس سرچ کے دوران زمینی راستوں سے بھی ان تینوں کوہ پیماؤں کی لاشیں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم اس مقصد میں کوئی کامیابی نہیں مل سکی تھی۔
اس وقت بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مہم جو عمران حیدر تھہیم نے بھی یہی اندازہ لگایا تھا کہ جون جولائی میں سمٹ کے لیے آنے والوں کو ان تین افراد کی لاشیں ملنے کا امکان ہے۔












