تحریک لبیک لانگ مارچ: کیا مظاہرین سے نمٹنے کی حکومتی پالیسی سے پولیس کے مورال پر اثر پڑتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو، لاہور
پاکستان کے شہر لاہور میں محض چند ماہ کے وقفے سے دوسری مرتبہ کالعدم مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنان اور پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں اور ایک مرتبہ پھر پولیس کو جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا اور متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
رواں برس اپریل میں ٹی ایل پی کے کارکنان اور پولیس کے درمیان یہ پرتشدد کارروائیاں شہر کے مختلف مقامات پر سامنے آئیں تھیں اور لگ بھگ تین روز تک جاری رہیں۔ اس دوران پولیس کا جانی نقصان اس مرتبہ سے زیادہ ہوا تھا۔
تاہم بعد میں حکومت اور تحریکِ لبیک پاکستان کے درمیان بات چیت کے نتیجے میں معاہدہ طے پا گیا تھا۔ اس مرتبہ پھر حکومت کی طرف سے پہلے پولیس کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے والے ٹی ایل پی کے ہزاروں کارکنان کو روکنے کے احکامات جاری کیے گئے۔
روکنے کی پہلی کوشش میں پولیس کے دو اہلکار ایم اے او کالج کے مقام پر ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ دوسری کوشش میں مزید کئی پولیس اہلکار اقبال پارک کے مقام پر زخمی ہوئے۔ پولیس اور ٹی ایل پی کے اہلکاروں کے درمیان یہ جھڑپیں تیسرے روز بھی جاری رہیں۔
ان تمام کارروائیوں کے دوران کم از کم چار پولیس اہلکار ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر حکومت نے ٹی ایل پی کی قیادت سے مذاکرات کے ذریعے معاملات نمٹانے کے لیے بات چیت کا آغاز کر دیا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مظاہرین اور حکومت کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو حالیہ عرصے میں زخمی اور ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں سے متعلق بنائے گئے مقدمات کا کیا ہو گا اور اگر یہ مقدمات ختم ہوتے ہیں یا ان پر کوئی پیشرفت نہیں ہوتی تو اس کا پولیس کے مورال پر کیا اثر پڑے گا؟
حال ہی میں سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ رات کے وقت مظاہروں پر ڈیوٹی دینے والے پولیس اہلکاروں سے خطاب کر رہے تھے اور ان کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔
اس خطاب کے دوران ایک مقام پر انھوں نے اہلکاروں سے کہا کہ ’۔۔۔ کسی ساتھی کو چوٹ لگی، تو ہم اس کا بدلہ لیں گے۔‘ تاہم ان کے خطاب کا مرکز پولیس اہلکاروں کا حوصلہ بڑھانا تھا جس میں وہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ ’ریاست کی حفاظت کرنا پولیس کا فرض ہے جو وہ پورا کریں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی نے پولیس کے چند افسران سے اس حوالے سے بات کرنے کی کوشش کی تاہم زیادہ تر نے بات کرنے سے انکار کیا۔ جن پولیس حکام نے بات کی انھوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی کیونکہ ان کے خیال میں یہ ’ان کی ذاتی رائے تھی جس کا اظہار وہ کھلے عام میڈیا پر نہیں کر سکتے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا پولیس میں تشویش پائی جاتی ہے؟
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ ’تشویش تو نہیں تاہم پولیس کے چند حلقوں میں یہ تاثر ضرور پایا جاتا ہے کہ ان کے جوان شہید ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد حکومت نہ صرف صلح کر لیتی ہے بلکہ گرفتار کیے گئے افراد کو چھوڑ بھی دیا جاتا ہے۔‘
’انھیں لگتا ہے کہ پولیس کو سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے سامنے کر دیا جاتا ہے، اس کے نتیجے میں ان کا جانی نقصان بھی ہوتا ہے اور اس کے بعد کسی نہ کسی معاہدے کی صورت میں ذمہ داران قانونی کارروائی کا سامنا کرنے سے بھی بچ جاتے ہیں۔‘
پولیس افسر کے مطابق ان تمام تر واقعات کو پولیس کا ہر ایک اہلکار بھی دیکھ رہا ہوتا ہے اور ان کے خیال میں قدرتی طور پر اہلکاروں کے جذبے پر اس کا اثر پڑتا ہے۔
'اس تاثر کی وجہ حکومتی پالیسی میں تذبذب ہو سکتا ہے'
تاہم پنجاب پولیس کے ایک دوسرے افسر کے مطابق پنجاب پولیس کے اندر اس حوالے سے دو مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ ایک حلقے کے خیال میں جو بھی حکومتی احکامات ہوں پولیس کے محکمے کے لیے ان پر عملدرآمد لازم ہے ’چاہے اس میں انھیں جان کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔‘
تاہم دوسرے حلقے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ’سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے انھیں استعمال کیا جاتا ہے۔‘
پولیس کے سابق انسپکٹر جنرل اور سابقہ وزیرِ داخلہ پنجاب شوکت جاوید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کو جانی نقصان کا سامنے کرنے اور ان میں غم و غصہ پایا جانے کی وجہ حکومت کی پالیسیوں میں تذبذب کا ہونا ہو سکتا ہے۔
’جب حکومت ایک دفعہ پولیس کو مظاہرین کو طاقت کے استعمال سے روکنے کا کہتی ہے اور پھر ان سے مذاکرات شروع کر دیے جاتے ہیں، تو اس قسم کی تذبذب کی پالیسی میں نقصان پولیس کا ہوتا ہے۔‘ ان کے خیال میں حالات کا براہِ راست اثر پولیس کے جوانوں کے مورال پر بھی پڑتا ہے۔
شوکت جاوید کے خیال میں اس قسم کے حالات میں ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ حکومت ایک واضح پالیسی کے ساتھ سامنے آئے اور پھر اس پر قائم رہے۔
’اگر مظاہرین کر روکنا ہوتا ہے تو پھر واضح طور پر پولیس کو معلوم ہونا چاہیے کہ انھیں روکنا ہے تاکہ اس کے مطابق حکمتِ عملی تیار کی جائے اور ان کو روکا جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ دوسری طرف اگر حکومت مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے نمٹنے کا ارادہ رکھتی ہو تو پھر آغاز ہی سے پولیس کے ذریعے طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس مرتبہ حکومتی حکمتِ عملی کیا تھی؟
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تحریکِ لبیک پاکستان کی مجلسِ شورٰی کے رکن پیر محمد عنایت شاہ نے بتایا کہ ان کی جماعت کے کارکنان نو روز سے اپنے مرکز کے سامنے علامتی احتجاج کر رہے تھے تاہم حکومت نے ان کی بات نہیں سنی جس کے بعد انھوں نے اپنے احتجاج کو دھرنے میں تبدیل کیا۔
'حکومت نے ہمارے ساتھ مذاکرات صرف اس وقت شروع کیے جب پولیس کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے تھے۔'
انھوں نے دعوٰی کیا حکومتی مذاکراتی ٹیم جس کی قیادت وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کر رہے تھے، اس نے ٹی ایل پی کے مرکزی امیر سمیت دیگر کئی رہنماؤں سے بات چیت کی۔
’ہماری قیادت نے واضح طور پر انھیں بتایا کہ ہمارا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالا جائے۔‘ ساتھ ہی انھوں نے بتایا کہ حکومت نے حالیہ مظاہرے کے آغاز پر گرفتار کیے گئے ان کے کارکنان کو رہا کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم بہت کم کارکنان کو رہا کیا گیا۔
'ہمارے اپنے تخمینے کے مطابق ہمارے 1700 سے زائد کارکنان کو ملک بھر سے گرفتار کیا گیا تھا لیکن حکومت نے ان میں سے صرف تین سو سے زائد کو رہا کیا ہے باقی کو رہا نہیں کیا گیا۔'
'یہ راستہ آپ ہی نے ہمیں دکھایا ہے'
پیر محمد عنایت شاہ نے مزید بتایا کہ حکومتی مذاکراتی وفد میں شامل ایک وزیر نے ان سے کہا تھا کہ وہ اتنے روز سے سڑکوں کو بند کر کے بیٹھے ہوئے ہیں جو خلافِ آئین و قانون ہے۔
’ہم نے انھیں جواب دیا کہ یہ راستہ آپ نے ہمیں دکھایا ہے۔ جب آپ 120 دن تک دھرنا دے کر بیٹھے تھے تو کیا وہ قانون کے خلاف نہیں تھا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے حکومتی وفد سے یہ کہا تھا کہ اگر حکومت یہ قانون سازی کر دے کہ اس طرح احتجاج کرنا غلط ہے تو وہ اس کا احترام کریں گے۔
’آپ آج یہ قانون بنا دیں کہ اس طرح سڑکیں بند کر کے احتجاج نہیں کیا جا سکتا، اس کے لیے کوئی ایک مقام مخصوص کر دیں تو تحریک لبیک وہ پہلی جماعت ہو گی جو اس پر عمل کرے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت کیا کہتی ہے؟
تاہم حکومت کے مطابق ٹی ایل پی کے رہنماؤں سے ہونے والی بات چیت میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت جمعہ تک نہیں ہو پائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جماعت کے گرفتار کارکنان کو آزاد کرنے کی حامی بھری تھی جس کے مطابق انھیں رہا کیا گیا تھا۔
وزیرِ داخلہ شیخ رشید کے مطابق ’اس کے باوجود ٹی ایل پی نے لانگ مارچ ختم کر کے واپس لاہور میں اپنے مرکز کو لوٹ جانے کے وعدے پر عمل نہیں کیا تھا اور سڑکیں نہیں کھولیں تھیں۔‘
وفاقی حکومت نے پنجاب میں دو ماہ کے لیے رینجرز کو تعینات کر کے انھیں انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے تحت اختیارات بھی دے دیے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
'گرفتار افراد کو چھوڑنا انھیں حوصلہ دیتا ہے'
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک پولیس اہلکار کا کہنا تھا ’حکومت کی طرف سے ایسے گرفتار مظاہرین کو رہا کرنا جو کہ پولیس پر حملے کرنے اور اہلکاروں کو زخمی کرنے میں ملوث ہوتے ہیں انھیں بار بار سڑکوں پر نکلنے اور پرتشدد کارروائیوں میں حصہ لینے کا حوصلہ دیتے ہیں۔‘
سابق انسپکٹر جنرل پولیس شوکت جاوید کے مطابق یہ تاثر درست ہے کیونکہ اگر صرف تحریکِ لبیک پاکستان ہی کو دیکھا جائے تو وہ چھ مرتبہ اس نوعیت کے پرتشدد مظاہروں کے لیے سڑکوں پر نکل چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اب یہ محض ایک مذہبی جماعت نہیں رہی، یہ ایک شدت پسند جماعت بن چکی ہے جو شدت پسندی کو فروغ دے رہی ہے۔ اور وہ جب چاہتے ہیں باہر نکل کر سڑکیں بند کر دیتے ہیں اور اپنے مطالبات منوا کر واپس چلے جاتے ہیں۔‘
شوکت جاوید کے خیال میں حکومت کو اس حوالے سے واضح پالیسی اپنانے کی ضرورت تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'پولیس کے پاس دو ہی ہتھیار ہوتے ہوتے ہیں، لاٹھی اور آنسو گیس'
پولیس کے ایک افسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی طرف سے رینجرز کو پنجاب میں تعینات کرنے کے حکومتی فیصلے کی منطق بھی انھیں سمجھ نہیں آئی۔
ان کے خیال میں پولیس مظاہرین کو روکنے کا کام بخوبی انجام دے سکتی تھی تاہم رینجرز کے برعکس پولیس پر حملے کی صورت میں پولیس کے پاس جواباً گولی چلانے کے اختیارات نہیں دیے گئے تھے۔
’پولیس کے پاس ایسے مظاہروں میں دو ہی ہتھیار ہوتے ہیں، لاٹھی اور آنسو گیس۔ آنسو گیس لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے تاہم آپ کتنی گیس استعمال کر سکتے ہیں، کتنا لاٹھی چارج کر سکتے ہیں۔ یہاں کوئی دو چار سو لوگ نہیں، ہزاروں لوگ ہیں۔‘
ان کے خیال میں ایسی صورت میں جب کئی ہزار افراد حملہ آور ہو جائیں تو لاٹھی اور آنسو گیس کام نہیں آتی۔ ’اس صورتحال میں پولیس ہو یا رینجرز ان کو بھاگنا ہی پڑے گا ورنہ وہ تشدد کا نشانہ بنیں گے اور زخمی ہوں گے۔‘
پولیس افسر کے خیال میں پولیس اہلکار ایسی صورتحال میں گولی نہیں چلاتے۔ ’ماڈل ٹاؤن کے واقعے کے بعد سے کوئی بھی پولیس افسر اس طرح کی ذمہ داری نہیں لیتا اور نہ ہی ایسے معاملے میں پھنسنا چاہتا ہے۔'
کیا پولیس مظاہرین سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی تھی؟
سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس شوکت جاوید کے مطابق حکومت کی نیم فوجی دستوں کی پنجاب میں پولیس کے اوپر تعیناتی کی پالیسی غلط ہے۔ ’اگر میں آئی جی پولیس ہوتا تو میں کبھی بھی نیم فوجی دستوں کو طلب نہ کرتا۔'
شوکت جاوید کے مطابق نیم فوجی دستے ہمیشہ پولیس کی معاونت میں کام کرتے ہیں نہ کہ پولیس ان کے ماتحت کام کرتی ہو۔ ان کے خیال میں پولیس کے لیے ٹی ایل پی کے حالیہ لانگ مارچ جیسے مظاہرے کو روکنا یا منتشر کرنا زیادہ مشکل کام نہیں تھا۔
’آپ نے حکمتِ عملی کے ساتھ مظاہرین کے مرکزی رہنماؤں کو گرفتار کرنا ہے اور اس کے بعد ہم نے دیکھا ہے کہ زیادہ تر مظاہرین از خود منتشر ہو جاتے ہیں۔ پولیس بخوبی یہ کام کر سکتی ہے۔‘













