تحریک لبیک کا لانگ مارچ: ’ٹی ایل پی ایک نئی بوتل میں‘، اشعر رحمان کا تجزیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, اشعر رحمان
- عہدہ, صحافی، لاہور
میں ایک سائنسی تجربہ گاہ کے اندر موجود ہوں۔ کمرے میں ایک مانوس چہرہ داخل ہوتا ہے۔ انھیں ہم چاند دیکھنے والوں سے اٹھکیلیاں کرنے اور چاند پر پہنچنے کے دعوؤں کی وجہ سے اچھی طرح پہچانتے ہیں۔
یہ صاحب شیلف سے ایک بوتل اٹھاتے ہیں، اس کا محلول ایک ٹیوب میں ڈالتے ہیں اور شیشے کی اس ٹیوب پر جلی حروف میں یہ دو الفاظ لکھ دیتے ہیں: 'مضر صحت۔' اس کے بعد ہمارے یہ شناسا ایک فاتحانہ نظر ہم حاضرین پر ڈالتے ہیں جو شاید اس معاملے کے مکمل خاتمے کا اعلان ہے۔
کاش ایسا ہوتا۔ بہت وقت لگ گیا اس کام میں کہ فواد چوہدری صاحب کو کہا جائے کہ بطور وزیر اطلاعات وہ میڈیا کے سامنے جائیں اور جا کر علی اعلان یہ انکشاف فرما دیں کہ تحریک لبیک پاکستان اب سے ایک میلیٹنٹ گروہ ہے۔ (میلیٹنٹ کی بجائے عسکری کہنے میں نجانے کیوں ایک جھجھک سی محسوس ہوتی ہے جیسا کسی اپنے نے یہ نام اپنے ساتھ مستقل جوڑ لیا ہو۔)
مطلب اب ٹی ایل پی سے متعلق ہمارے تمام معاملات کسی نئے انداز سے طے کیے جائیں گے اور ظاہر ہے پھر یہ سوالات حل ہو ہی جائیں گے۔ لیبل تبدیل مسئلہ حل۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ اب آپ جی ٹی روڈ پر اپنا سفر جاری رکھنے کے لیے آزاد ہیں۔
لاہور میں چوک یتیم خانہ کے گرد و نواح میں مقیم جاننے اور نہ جاننے والے لوگ اب اپنی معطل شدہ مصروفیات شروع کر سکتے ہیں۔ اور حکومت؟ ذرا ٹھہریے، ’سب اچھا ہے‘ کہنے سے پہلے دیکھ تو لیں حکومت آگے اس مسئلے کو کیسے حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاد رکھیے یہاں قضیہ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری اور ٹی ایل پی کے موجودہ سربراہ کی رہائی سے زیادہ بڑا اور گھمبیر ہے۔ یہ لڑائی ہے ملک میں سب سے بڑے مذہبی فرقے کے نمائندوں کی ریاست کے کاروبار میں اپنے فیصلوں کو منوانے کی۔ اور بڑے سے یہاں مراد ایک بہت بڑی اکثریت ہے۔
بریلوی فرقہ سے تعلق رکھنے والے افراد آپ کو بتائیں گے کہ انھوں نے چھوٹے چھوٹے گروپوں سے نکل کر ٹی ایل پی کی چھتری تلے اس وقت اکھٹا ہونا شروع کیا جب انھیں یہ محسوس ہوا کہ ایک اکثریت ہونے کے باوجود انھیں اپنی خاموشی کی وجہ سے ریاست اور دوسرے فرقے مسلسل نظرانداز کر رہے ہیں۔
پروفیسر طاہرالقادری نے یہ جھنڈا اٹھا کر چلنے کی کوشش کی مگر اہلسنت کے سابقہ رہنما مولانا شاہ احمد نورانی کی طرح پروفیسر صاحب بھی کچھ خاص اصولوں سے کچھ اس طرح منسلک ہو چکے تھے کہ ان کی صحت ایک خاص مقام سے آگے جانے کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دس برس پہلے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے بعد حالات بریلویوں سے ایک نئی، بلکہ ایک نئی نوع کی قیادت کا تقاضہ کر رہے تھے۔ یہی وہ حالات تھے جنھوں نے سنہ 2015 میں 'تحریک لبیک یارسول اللہ' کے پہلو سے 'تحریک لبیک پاکستان' برآمد کی۔
یہ دونوں سیاسی جماعتیں تھیں ان میں واضح فرق یہ تھا کہ ٹی ایل پی کے مطالبوں میں زیادہ شدت تھی اور اس میں ولولہ اور اپنے تقاضے کے لیے اصرار نمایاں۔ جلد ہی یہ مسلسل اصرار ایک للکار میں تبدیل ہو گیا اور جیسے جیسے علامہ خادم حسین رضوی کی شخصیت عوام میں مشہور ہوتی گئی، اس اس طرح ٹی ایل پی اور اس کے تقاضوں اور مطالبوں کو ایک مقبول عام چہرہ ملتا چلا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رضوی صاحب کا آغاز شاید بہت شاندار نہ رہا ہو۔ بہت سے دوسرے لبیک رہنما ان کے مقابلہ کے لیے میدان میں موجود تھے۔ مگر ان میں چند ایسی خوبیاں ضرور موجود تھیں جو بہت سے مسائل سے عاجز عوام کے ایک بڑے طبقہ کو بھا گئیں۔ سب سے پہلے ان کی ظاہری شخصیت یا ’پرسونا۔‘ دونوں ٹانگوں سے معذور ایک باریش شخص اپنی جسمانی کمزوری کو نظر انداز کرتے ہوئے تیزی سے اپنے اہداف پر جھپٹتا ہوا۔
اس کے علاوہ علامہ رضوی کے الفاظ میں بھی ایک اچھے فیچر کی طرح مختلف لوگوں کے لیے مختلف کافی کچھ تھا۔ تاریخ اسلام، اقبال، فارسی شاعری اور پھر ان کے تیزطراز فقرے جنھیں ان کے پسند کرنے والے ان کے عوامی ہونے کی سند قرار دیتے اور اپنا سر دُھنتے۔
یہ بھی پڑھیے
سنہ 2015 میں واپس جاتے ہیں۔ انگریزی میں کہتے ہیں 'کمتھ دی آور، کمتھ دی مین' (یعنی جو بھی صورتحال ہو اس کو حل کرنے والی شخصیت آن موجود ہوتی ہے)۔۔۔ اور اپنی عمر سے زیادہ نظر آنے والے اور جوان ارادوں والے علامہ خادم رضوی سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد اپنے بریلوی نعروں کو فلگ شگاف حد تک پہنچانے کے لیے میدان میں موجود تھے۔
اس وقت بھی تشدد کا عنصر، بھڑکنے بھڑکانے کا مادہ تحریک میں بدرجہ اتم موجود تھا مگر ریاست ابھی ٹی ایل پی کو بطور ایک عسکریت پسند جماعت ماننے کو تیار نہیں ہوئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ سعادت تحریک لبیک پاکستان کو اب اس وقت نصیب ہو رہی ہے جب اس سے متعلق تشدد کی بہت ساری تصویریں عوام میں گردش کر رہی ہیں جن سے بچا جا سکتا تھا۔ بہت سے لوگ مارے گئے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد ان پولیس والوں کی ہے جو بظاہر اس قسم کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
حکومتیں 'کاسٹ ٹائپ' کرنے کی عادی ہوتی ہیں۔ یقیناً موجودہ حکومت کا خیال ہو گا کہ جس طرح پولیس نے اس طرح کے دوسرے مسئلوں پر قابو پا لیا، اسی طرح وہ ٹی ایل پی کے جھگڑے سے بھی ہمیں نکال لے گی۔ ہمارا بس ایک سوال ہے: آخری بار ایسا کب ہوا تھا؟
یہ پولیس والے تو بھاڑ میں جھونکی گئی لکڑیوں کی ان گٹھیوں کی طرح ہیں جنھیں آگ کے حوالے کرنے والے یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ اس عمل سے شعلوں کی تمازت میں، کچھ دیر کے لیے ہی سہی، تھوڑی کمی ہو جائے گی۔
وزیر اطلاعات فرماتے ہیں کہ ٹی ایل پی سے اب اس طرح ڈیل کیا جائے گا جیسا کہ اس طرح کے دوسرے گروپوں سے نمٹا جاتا ہے۔ یہ بیان پھر اپنے آپ میں ایک پہیلی ہے کیونکہ ہم پاکستانیوں سے بہتر یہ کوئی نہیں جانتا کہ عسکریت پسندی اور عسکریت پسندوں دونوں کے مختلف درجے ہوتے ہیں۔
وزیر موصوف نے یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کی ہے جیسے ہمارے یہ سب سے نئے عسکریت پسند ابھی کچھ کچے ہیں، یا شاید اسلحہ وغیرہ کی مد میں اتنے خطرناک نہیں جیسا کہ شاید کچھ پرانے عسکریت پسند تھے۔ یہاں پھر حکومت کی ہر گروپ کو ایک ہی عینک سے دیکھنے یعنی 'کاسٹ ٹائپ' کرنے کی عادت غالب آ گئی ہے۔
بھائی آپ یہ بھی تو دیکھیے کہ موجودہ ملزم کے پاس 'مین پاور' اور دیگر وسائل کے ذخائر کس قدر ہیں اور اس کے مطابق اپنا لائحہ عمل ترتیب دیجیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا رینجرز کی تعیناتی موجودہ حالات کا حل ہے؟ شاید یہ اس وقت ضروری تھا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ حکومتِ وقت نے پس پردہ حالات کو قابو میں کرنے کے لیے اور کیا کوششیں کی ہیں۔ یہاں تک سُنا جا رہا ہے کہ ٹی ایل پی کے گرفتار شدہ سربراہ سعد رضوی سے ’مذاکرات‘ (جی ہاں وہیں بات چیت جو ہم کچھ عسکریت پسندوں سے کرنے پر راضی ہیں) چل رہے ہیں۔ مگر حالات بتا رہے ہیں کہ محض سعد رضوی کی رہائی شاید موجودہ مسئلے کا دیر پا حل ثابت ہو۔
ٹی ایل ٹی کے پاس وسائل کے ساتھ ساتھ بہت مسائل ہیں جن کو نمایاں کر کے وہ بہت عرصے تک ریاست کے ساتھ رجوع کر سکتی ہے۔
یہ بہت پیچیدہ سوال ہے اور یہ وقت یقیناً سائنسی لیبارٹری سے رجوع کرنے کا، دریافت کا اور ایجار کا ہے۔ یہ وقت پرانے لگے بندھے جوابات سے عوام کو خوش کرنے کی بجائے دور رس نتائج کو کھوجنے کا، فارمولا کو رد کرنے کا ہے۔
بات یہ نہیں کہ ہمارے عسکریت پسندوں کو بابر سے مدد نہیں ملتی۔ بات یہ ہے کہ ان سب چہروں کو بےنقاب کیا جائے جو بیرون ملک سے ملنے والے احکامات کے پابند ہیں اور ان حکومت کارندوں کی حوصلہ شکنی کی جائے جو ان الزامات کے سہارے بلا تکان اپنے ’باسز‘ کا دفاع کیے جا رہے ہیں۔
سائنس سب مسئلوں کا جواب اور ایجادات اور اخراعات سائنسی تجربہ گاہوں کی جان ہیں۔ لیکن کبھی کبھی کوئی پرانا، ترک کیا ہوا نسخہ بھی ایک امتحان میں کامیابی کی ضمانت ہوسکتا ہے۔
پنجاب کے پولیس حکام اس وقت کڑی آزمائش کے دور سے گزر رہے ہیں۔ انھیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے ٹی ایل پی کے ریلے کو روکنے کے امکانات بہت پہلے معدوم ہو چکے تھے۔۔۔ اس وقت جب پولیس نے مقامی سطح پر حالات پر نظر رکپنے کی پالیسی تبدیلی کی تھی۔
اب تو بس ایک ’اوپرا‘ سا سسٹم ہے۔ اندر کیا چل رہا ہے، اگر لوکل گورنمنٹ ہوتی اس کے نمائندے سے پوچھتے یا پھر مناسب تعداد میں ایسی پولیس جسے صحیح معنوں میں علاقے کی پولیس یا ’نیبرہوڈ سکیورٹی‘ کہا جا سکتا ہو۔
عوام اور ریاست کے پاس اس قسم کی سہولیات پرانے زمانے کی باتیں ہیں جب اکثریت کا کسی سے جھگڑا نہیں ہوتا تھا۔













