تحریکِ لبیک کا لانگ مارچ: ’فرانسیسی سفیر کے بےدخلی کا مطالبہ پورا کرنا مشکل ہے، باقی مطالبات پر اتفاق ہوا ہے‘

پولیس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان سے فرانسیسی سفیر کی بےدخلی کے مطالبے کے علاوہ دیگر معاملات پر اتفاق ہو چکا ہے اور وہ منگل کی شب اور بدھ کو تنظیم کے رہنماؤں سے بات چیت میں درخواست کریں گے کہ وہ اپنے اس مطالبے پر دوبارہ غور کریں۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فرانسیسی سفیر کی بےدخلی کے معاملے پر تحریکِ لبیک نے دو نومبر کی ڈیڈ لائن دی ہوئی ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ چند دن بعد تحریکِ لبیک ایک بار پھر احتجاج کے لیے سڑکوں پر ہو۔

ادھر فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے حوالے سے کیے گئے معاہدے پر عملدرآمد اور اپنے امیر سعد رضوی کی رہائی سمیت متعدد مطالبات لیے لاہور سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے والی کالعدم تنظیم تحریکِ لبیک پاکستان کا کہنا ہے کہ منگل کو حکومتِ پاکستان سے مذاکرات کا دوسرا دور بھی بےنتیجہ رہا ہے۔

تحریکِ کے رہنما اور تنظیم کی چار رکنی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ پیر عنایت الحق نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا ہے کہ پیر اور منگل کو بات چیت کے دو دور ناکام رہنے کے بعد اب منگل کی شام انھیں وزیرِ داخلہ نے ایک بار پھر بات چیت کے لیے بلایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا تیسرا دور شام سات بجے ہو گا۔

پریس کانفرنس میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ’فرانسیسی سفیر کی بےدخلی ان کا پہلا اور بڑا مطالبہ ہے جسے پورا کرنا ہمارے لیے مشکل ہے‘۔

انھوں نے کہا اس کے علاوہ ’تمام مسائل پر اتفاق ہے لیکن فرانسیسی سفارتخانے کی بندش اور سفیر کی ملک بدری ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’سفیر کی ملک بدری کے معاملے پر حکومت کی مجبوریاں ہیں۔‘

وزیرِ داخلہ نے یہ بھی کہا کہ وہ ’ایسی کوئی بدامنی نہیں چاہتے جس کا اثر پاکستانی کی سالمیت پر اور معیشت پر پڑے۔‘

’شیخ رشید نے کہا جب آپ لوگ فیض آباد آ جائیں گے تو پھر میرا مسئلہ شروع ہو جائے گا

ادھر تحریکِ لبیک کے رہنما پیر عنایت الحق شاہ نے منگل کی دوہہر ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ان کے خیال میں حکومت اب ان مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آج کی ملاقات انتہائی مایوس کن رہی ہے۔ کل ہمیں یہ ایک امید نظر آ رہی تھی کہ وزیر اعظم صاحب کی واپسی پر یہ معاملات حل ہوں گے مگر آج ملاقات میں شیخ صاحب پھر اسی بات پر کھڑے ہیں کہ میں اس کمیٹی میں آنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ یہ پنجاب کا مسئلہ ہے، یہ میرا مسئلہ ہے ہی نہیں، آپ لوگ جب فیض آباد آ جائیں گے تو پھر میرا مسئلہ شروع ہو جائے گا۔‘

پیر عنایت کے مطابق ’میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرے خیال میں پی ٹی آئی کے اندر ایسے لوگ ہیں جو سیاسی شہید بننا چاہتے ہیں۔ اور ملک پاکستان میں افراتفری چاہتے ہیں، میں اس موقع پر آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی گزارش کروں گا کہ وہ اس میں اپنا کردار ادا کریں اور اس ملک کو دنگا فساد سے بچائیں۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ اگر لچک کا مظاہرہ کرنا ہے تو ہمارے امیر سعد رضوی کو واپس لایا جائے تا کہ ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کی جائے، وہ جیسے ہی ہمیں حکم صادر فرمائیں گے، وہی ہو گا۔

کن امور پر اختلافات برقرار ہیں؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پیر عنایت الحق کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ کی سربراہی میں حکومت کی طرف سے بنائی جانے والی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات میں تحریک لبیک کو کالعدم جماعتوں کی فہرست اور اس کے کارکنوں کو فورتھ شیڈول سے نکالنے کے بارے میں بات چیت ہوئی لیکن کسی حل پر ابھی تک کوئی اتفاق نہیں ہو سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کی جماعت کے 700 سے زیادہ کارکنوں اور رہنماؤں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل ہیں۔

پیر کی بات چیت کے بعد پیر عنایت نے کہا تھا کہ انھیں حکومتی ٹیم کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تحریکِ لبیک کے 320 زیرِ حراست کارکنوں کو رہا کیا جا چکا ہے تاہم مقدمات کی واپسی کا معاملہ منگل کو ہونے والی بات چیت میں زیرِ بحث آئے گا۔

کالعدم تحریکِ لبیک کے کارکنان اس وقت جی ٹی روڈ پر سادھوکی کے مقام پر موجود ہیں اور ابتدائی مذاکرات کے بعد تحریک کے رہنماؤں نے حکومت کو فرانسیسی سفیر کی بےدخلی کے معاملے اور اپنے امیر سعد رضوی کی رہائی کے لیے منگل کی شام تک کی مہلت دی ہوئی ہے۔

پیر عنایت الحق کے مطابق پیر کے روز ہونے والے مذاکرات میں شیخ رشید کے علاوہ سیکریٹری داخلہ بھی موجود تھے لیکن منگل کی ملاقات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ کے علاوہ نہ تو کوئی وزیر شامل تھا اور نہ ہی سیکریٹری داخلہ مذاکرات میں شریک ہوئے۔

پیر عنایت الحق کا کہنا تھا کہ منگل کی صبح ہونے والے مذاکرات ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک چلے جس میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ نے تحریک لبیک کے وفد کو دوبارہ منگل شام سات بجے اپنے دفتر میں بلایا ہے۔

شیخ رشید

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وزیر داخلہ نے پیر کو اپنی پریس کانفرنس میں مزید کیا بتایا تھا؟

پیر کے روز ہونے والی پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ منگل کو وزیراعظم عمران خان ملک واپس آ جائیں گے اور پھر وہ ان سے ملاقات کر کے انھیں صورتحال سے آگاہ کریں گے۔

سعد رضوی کے ساتھ صوبائی دارالحکومت میں ہونے والی دو ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ تحریک لبیک کا مطالبہ ہے کہ حکومت جلد اس معاملے کو پارلیمنٹ کی کمیٹی کے سامنے پیش کرے گی۔

شیخ رشید نے واضح کیا کہ وہ سعد رضوی سے جیل میں ملنے نہیں گئے تھے تاہم انھوں نے کہا کہ ان کی سعد رضوی سے لاہور میں ہی ملاقات ہوئی تھی۔

فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے پر عملدرآمد اور کالعدم تنظیم کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی کے مطالبات پر گذشتہ جمعے کو شروع ہونے والے لانگ مارچ کو لاہور میں روکنے کی کوششیں ناکام رہی تھیں اور یہ سنیچر کی شب ضلع گوجرانوالہ میں مریدکے کے علاقے میں پہنچا تھا۔

شیخ رشید کی پریس کانفرنس کے بعد ‏تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ لانگ مارچ کے شرکا نے حکومت سے مذاکرات کے دوران کیے گئے وعدے کے تحت راستے کھول دیے ہیں اور حکومت اپنے معاہدے کو پورا کرے۔

ٹی ایل پی کی شوریٰ کا کہنا ہے کہ ’جب تک ہمارے امیر علامہ سعد حسین رضوی نہیں آجاتے معاہدہ مکمل طریقے سے پورا نہیں ہوتا، تب تک ہم یہیں پر موجود ہیں۔‘

’اکاؤنٹس بحال کرنے سے متعلق ہدایت کر دی ہے‘

پیر کو شیخ رشید نے کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے سیکریٹری اعظم خان کو یہ ہدایت کر دی ہے کہ وہ ایف بی آر سے بات کر کے (تحریک لبیک اور دیگر مدارس کے) منجمد اکاؤنٹس بحال کروا دیں۔

ان کے مطابق یہ اچھی بات ہو گئی ہے کیونکہ اب اس طریقے سے مدارس کے فنڈز کے بارے میں بھی پتہ چل سکے گا۔

خیال رہے کہ سٹیٹ بینک نے حکومت کے احکامات کی روشنی میں رواں برس اپریل میں کالعدم قرار دی جانے والی تحریک لیبک پاکستان کے رہنماؤں اور کارکنوں کے بینک اکاؤنٹس کو منجمد کر دیا تھا۔

جن سینکڑوں افراد کے اکاؤنٹس منجمد کیے گئے ہیں ان پر الزام ہے کہ وہ اس کالعدم جماعت کے متحرک کارکن ہیں۔ بظاہر ان میں ایسے افراد کی بھی ایک قابل ذکر تعداد ہے جن کا اس جماعت سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کا نام فورتھ شیڈول میں بھی ہے۔

ٹی ایل پی

،تصویر کا ذریعہTLP

’ٹی ایل پی کالعدم جماعت ہے‘

ایک سوال پر وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ وہ (ٹی ایل پی) کالعدم (جماعت) ہے اور ’ہم اس پر بھی بات کر رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق انھوں نے دو ملاقاتوں میں سعد رضوی کو بہت معقول انسان پایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں اس معاملے کو مکمل حل کرنا چاہتا ہوں تاکہ چھ ماہ بعد پھر کوئی تنازع نہ پیدا ہو۔‘

ان کے مطابق مطالبات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ فوری پورے کیے جائیں مگر اس کے لیے ایک قانونی عمل کی ضرورت ہے اور اس میں وقت لگتا ہے۔

واضح رہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان پر انسداد دہشگردی کے قانون 1997 کی شق نمبر 11 B کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے اور اس وقت پاکستان میں 78 تنظیمیں اور ہیں جن پر اس قانون کے تحت پابندی عائد ہے۔

اس قانون کے تحت جب کسی جماعت یا تنظیم پر پابندی عائد کی جاتی ہے تو اس تنظیم کے تمام سیاسی دفاتر سیل کر دیے جاتے ہیں اور ان میں موجود تمام آفس ریکارڈ اور مواد بھی تحویل میں لے لیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ تنظیم کے تمام مالی اثاثے بھی منجمد کر دیے جاتے ہیں۔ تنظیم کو الیکشن یا کسی اور سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ تنظیم کسی فلاحی یا مذہبی مقاصد کے لیے مالی امداد اکھٹا کر سکتی ہے۔

اس کے علاوہ میڈیا تنظیم یا کوئی بھی شخص جو کالعدم تنظیم کے پیغام کو پھیلانے میں مدد فراہم کرے گا اس کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا تھا کہ حکومت ٹی ایل پی کے خلاف جماعت کو تحلیل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ نہیں گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس وقت ٹی ایل پی پورے ملک میں ہر جگہ اپنے انتخابی نشان پر نہ صرف انتخابات لڑ رہی ہے۔

اس کانفرنس کے دوران انھوں نے اپنی حکومت کو یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ مذہبی لوگوں سے ٹکراؤ نہیں ہونا چائیے۔

تحریکِ لبیک کی شوریٰ نے کہا ہے کہ حکومت کو منگل کی شام تک کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ تنظیم کے مطالبات پورے کرے، ’غیرقانونی مقدمات‘ ختم کرے اور فورتھ شیڈول پر نظرِ ثانی کرے۔‘

شوریٰ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ جب تنظیم کے امیر سعد رضوی رہائی کے بعد شوریٰ کے دیگر ارکان سمیت لانگ مارچ کے شرکا کے سامنے آ کر مطالبات پورے ہونے کا اعلان کریں گے تبھی مارچ ختم ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

سعد رضوی

،تصویر کا ذریعہTLP

سعد رضوی کون ہیں؟

خادم رضوی کی وفات کے بعد ان کی جماعت کی 18 رکنی شوریٰ نے گذشتہ برس ان کے بیٹے سعد رضوی کو تحریک لبیک کا نیا سربراہ مقرر کیا جس کا اعلان جماعت کے مرکزی نائب امیر سید ظہیر الحسن شاہ نے جنازے کے موقع پر کیا تھا۔

لاہور میں خادم رضوی کے جنازے کے موقع پر ان کے بیٹے سعد رضوی نے خطاب میں اپنے والد کا مشن جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

سعد رضوی لاہور میں اپنے والد کے مدرسہ جامعہ ابوذر غفاری میں درس نظامی کے طالبعلم رہے۔ درس نظامی ایم اے کے برابر مدرسے کی تعلیم کو کہا جاتا ہے۔

ان کے قریبی دوستوں کے مطابق سعد کا کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات سے گہرا رابطہ ہے۔

وہ شاعری سے خصوصی شغف رکھتے ہیں اور سب سے اہم یہ کہ وہ جدید دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے بھی خوب واقف ہیں اور فیس بک اور ٹوئٹر پر اپنے ذاتی اکاؤنٹس چلاتے ہیں۔