کالعدم تحریک لیبک پاکستان کے ’متحرک کارکنوں‘ کے بینک اکاؤنٹس منجمد

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے سٹیٹ بینک نے حکومت کے احکامات کی روشنی میں گذشتہ ماہ کالعدم قرار دی جانے والے مذہبی اور سیاسی تنظیم تحریک لیبک پاکستان کے کارکنوں کے بینک اکاؤنٹس کو منجمد کر دیا ہے۔
جن سینکڑوں افراد کے اکاؤنٹس منجمند کیے گئے ہیں ان پر الزام ہے کہ وہ اس کالعدم جماعت کے متحرک کارکن ہیں۔
بظاہر ان میں ایسے افراد کی بھی ایک قابل ذکر تعداد ہے جن کا اس جماعت سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کا نام فورتھ شیڈول میں ڈال کر ان کے بینک اکاونٹ منجمد کر دیے گئے ہیں۔
ان افراد کو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے گذشتہ ماہ اس جماعت کی جانب سے فرانس میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
ان میں سے ایک سیالکوٹ کے رہائشی محمد نذیر بھی ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے انھیں اس وقت گرفتار کیا جب وہ کالعدم جماعت تحریک لبیک کی طرف سے ’احتجاجی مظاہرے کے قریب سے گزر رہے تھے‘ اور ان کا دعویٰ ہے کہ نہ تو وہ مظاہرے میں شریک تھے اور نہ ہی ان کا اس جماعت سے کوئی تعلق ہے۔
محمد نذیر کے مطابق وہ دو ہفتے جیل میں گزارنے کے بعد ضمانت کرواکر باہر آئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جب وہ بینک سے رقم نکلوانے کے لیے بینک گئے تو بینک کے حکام نے بتایا کہ چونکہ ان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل ہے اس لیے جب تک وہ ہوم ڈیپارٹمنٹ سے کلیئرنس لے کر نہیں آتے اس وقت تک ان کا اکاونٹ ایکٹو نہیں کیا جاسکتا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ بینک اکاؤنٹ کی بحالی کے لیے انھوں نے متعلقہ حکام کو درخواست دی ہے اور انھیں بتایا گیا ہے کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ 90 روز کے اندر اندر اس درخواست پر کوئی فیصلہ سنائے گا۔
شناختی کارڈ بھی بلاک
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ چونکہ اس جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد کا نام فورتھ شیڈول میں ڈال دیا گیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ان کے اکاونٹس منجمد کردیے گئے ہیں بلکہ شناختی کارڈ بھی بلاک کردیے گیے ہیں جس کی وجہ سے وہ لین دین نہیں کرسکتے۔
واضح رہے کہ تحریک لبیک کو گذشتہ ماہ کالعدم قرار دیے جانے کے بعد وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’اس جماعت اور اس سے تعلق رکھنے والے افراد کے نہ صرف بینک اکاؤنٹس بلکہ ان کے پاسپورٹ بھی بلاک کردیے جائیں گے جبکہ ان کے شناحتی کارڈز کو بھی ریکارڈ پر لایا جائے گا۔‘
وزارت داخلہ کے اہلکار کا کہنا ہے کہ جب تک اس تنظیم کو کالعدم قرار دیے جانے کا فیصلہ واپس نہیں لیا جاتا یا عدالت کی طرف سے اس ضمن میں کوئی احکامات جاری نہیں کیے جاتے اس وقت تک ان کے اکاؤنٹس منجمد رہیں گے۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کا کہنا ہے کہ اگلے ماہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس ہے جس میں پاکستان کی طرف سے انتہا پسندی کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔
اہلکار کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس کے بعد ہی تحریک لبیک کو کالعدم قرار دیے جانے کے فیصلے پر نطرثانی کی درخواست پر کوئی فیصلہ ہو۔
فورتھ شیڈول میں آنے کا کیا مطلب ہے؟
انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے فورتھ شیڈول کے تحت اگر کسی شخص کا نام اس شیڈول میں شامل کرلیا جاتا ہے تو اس کے بینک اکاؤنٹس منجمند کرنے کے ساتھ ساتھ جس علاقے میں وہ شخص رہائش پذیر ہے اسے وہاں کے متعقلہ تھانے میں ہر ہفتے یا دو ہفتوں کے بعد حاضری لگوانی ضروری ہوتی ہے۔
اس قانون کے مطابق اگر کسی شخص کا نام فورتھ شیڈول میں شامل ہے اور وہ کسی دوسرے شہر جانا چاہتا ہے تو اس وقت تک وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر نہیں جاسکتا جب تک متعقلہ تھانے کا انچارج اس کی اجازت نہیں دیتا۔
کالعدم قرار دی جانے والی جماعت تحریک لبیک کے قانونی معاملات کی نگرانی کرنے والی ٹیم میں شامل احسان علی عارف کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول کے قانون میں یہ لکھا ہوا ہے کہ اگر کسی جماعت پر یہ بات ثابت ہو جائے کہ اس کو غیر ملکی فنڈنگ ملی ہے تو اس جماعت اور اس کے مرکزی عہدیداروں کے بینک اکاؤنٹس منجمند کر دیے جائیں گے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اگر کسی جماعت کے خلاف ممنوعہ ذرائع سے فنڈز حاصل کرنے کے شواہد نہیں ملے تو اس جماعت کو کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکال دے۔
انھوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہے اور اس ملک میں پالیسی کو قوانین پر ترجیح دی جاتی ہے‘۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پابندی کے خلاف اپیل
احسان علی عارف کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ میں تحریک لبیک کو کالعدم قرار دیے جانے والے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کے لیے جو تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، ان کو درخواست دی گئی ہے کہ وہ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جلد از جلد سماعت کریں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس تین رکنی کمیٹی کی منظوری دی گئی تھی۔
کالعدم تحریک لبیک کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر اس کمیٹی نے 90 روز کے اندر اندر فیصلہ نہ کیا تو پھر وہ حکومت کے اس اقدام کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے۔
وزارت داخلہ نے پنجاب پولیس کے ایک محکمے سی ٹی ڈی اور پنجاب حکومت کی رپورٹس کی روشنی میں تحریک لبیک کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
تحریک لبیک کو کالعدم قرار دینے کے بعد بطور سیاسی جماعت اس پر پابندی لگانے سے متعلق ابھی تک سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا گیا جبکہ الیکشن ایکٹ کے قانون میں اس بات کا ذکر ہے کہ وفاقی حکومت کو کسی سیاسی جماعت پر پابندی عائد کرنے کے 15 روز کے اندر سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنا ہے۔
سپریم کورٹ میں ریفرنس نہ بھیجنے کی وجہ سے تحریک لبیک نے کراچی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ملک بھر میں ہزاروں کارکنوں کے اکاؤنٹس منجمد
تحریک لبیک کے مرکزی ترجمان انجینیر حفیط اللہ علوی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق پاکستان کے ہر ضلع سے اوسطاً پچاس سے ساٹھ افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمند کیے گئے ہیں اور اس طرح یہ تعداد ہزاروں میں چلی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایک ضلعے میں ان کی تنظیم کے عہدیداروں کی تعداد سات سے نو تک ہوتی ہے۔
حفیظ اللہ علوی کا کہنا تھا کہ ان افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمند کرنے کی وجہ تو کسی حد تک سمجھ آتی ہے لیکن دیگر لوگوں کے بینک اکاؤنٹس کس بنیاد پر فریز کیے گئے ہیں یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔
انھوں نے کہا ان کی جماعت کی طرف سے ’پیغمبر اسلام کے خاکوں کے خلاف مظاہروں کے لیے جو بینرز لگائے گئے تھے،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان بینرز پر ان مظاہروں کی حمایت کرنے والے جن افراد کے نام لکھے گئے تھے، اداروں نے ان افراد کے نام متعقلہ اداروں کو بھجوا دیے جنہوں نے ان افراد کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کردیے ہیں۔‘
حفیظ اللہ علوی کا کہنا تھا کہ انھوں نے متعقلہ صوبوں کے ہوم ڈیپارٹمنٹں کو اس اقدام کے خلاف درخواستیں دائر کر رکھی ہیں تاہم ان درخواستوں پر متعقلہ حکام نے ابھی تک کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد کی جیلوں سے رہائی کے بعد ان کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے ہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ مقررہ وقت پر متعلقہ تھانے میں نہ پہنچیں تو قانون نافد کرنے والے ’اداروں کے اہلکار ان کے گھروں پر دھاوا بول دیتے ہیں‘۔
حفیظ اللہ علوی نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکار چادر اور چاردیوری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے ان کارکنوں کے گھروں میں گھس کر تور پھوڑ بھی کرتے ہیں تاہم پنجاب پولیس کے حکام ان الزامات کی نفی کرتے ہیں۔










