رحیم یار خان مندر حملہ: پولیس کی جانب سے کارروائی کے بعد مندر پر حملے کے واقعے میں 50 گرفتاریاں

،تصویر کا ذریعہFacebook\@pakistanhinducouncil
چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے گذشتہ روز جاری کیے گئے احکامات کے بعد رحیم یار خان میں مندر توڑنے کے واقعے میں پولیس کارروائی میں اب تک 50 کے قریب شر پسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
علاقے کے ڈی پی او کے مطابق سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز کی مدد سے مندر حملے میں ملوث افراد کی گرفتاریاں کی جا رہی ہیں جبکہ واقعے کی ایف آئی آر کے مطابق 150 سے زائد ملزمان مطلوب ہیں۔
پولیس کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دیگر ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کی سماعت میں کیا ہوا تھا؟
گذشتہ روز پاکستان کی سپریم کورٹ نے صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع رحیم یار خان میں مندر پر حملے کے واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پولیس بروقت کارروائی کرتی تو اس واقعے سے بچا جا سکتا تھا۔
مشتعل ہجوم کی جانب سے مندر پر حملے کا واقعہ بدھ کو پیش آیا تھا جب درجنوں افراد نے بھونگ میں واقع مندر پر دھاوا بول دیا تھا۔ حملہ آوروں نے مندر میں گھس کر توڑپھوڑ کی تھی اور وہاں نصب مورتیوں کو بھی نقصان پہنچایا تھا۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جمعے کو عدالت کو بتایا ہے کہ مندر میں توڑ پھوڑ کرنے والے افراد نے اس حملے سے قبل ایک مقامی شیعہ آبادی میں واقع امام بارگاہ پر بھی حملہ کیا تھا اور وہاں نصب علم کو نذرِ آتش کر دیا تھا۔
مندر پر حملے کی خبر عام ہونے کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا اور جمعے کو معاملے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر مندر کی جگہ مسجد کو گرا دیا جاتا تو پھر مسلمانوں کے کیا جذبات ہوتے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس واقعے میں ملوث لوگوں اور اس غیر قانونی کام پر اکسانے والے افراد کو گرفتار کرنے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا حکم دیا۔
جمعے کے روز چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس از خود نوٹس کی سماعت کی تو پنجاب حکومت کی طرف سے اس واقعہ سے متعلق اب تک کی جانے والی تحقیقات کے بارے میں رپورٹ پیش کی گئی جبکہ پنجاب کے چیف سیکریٹری اور پنجاب پولیس کے سربراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
پنجاب پولیس کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ اس واقعہ سے متعلق دو مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کا بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس نے پنجاب پولیس کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کے اندراج کو ایک طرف رکھیں پہلے یہ بتائیں کہ کیا اس واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جس پر انعام غنی نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اب تک کوئی گرفتار نہیں ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGhulam Hassan Meher
چیف جسٹس نے اس جواب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو تین دن ہو چکے ہیں اور ابھی تک ایک شخص کو بھی گرفتار نہیں کیا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ پولیس افسروں کے چہروں پر شرمندگی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان میں اب وہ جوش اور ولولہ نہیں رہا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر پولیس میں پروفیشنل ازم ہوتا تو ایسا واقعہ نہ ہوتا۔
چیف سیکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ جب یہ واقعہ ہوا تو اس وقت مزید کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے افسران موقع پر موجود تھے، جس پر چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری کو مخاطب کو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس افسر اپنا کام نہیں کرتے تو ان کو تبدیل کر کے کسی ذمہ دار افسران کو تعینات کیا جائے۔
پنجاب پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے افسران اور پولیس کی بھاری نفری اس مندر سے ملحقہ ہندوؤں کے70 گھروں کو بچانے کے لیے تعینات تھے۔ انعام غنی کے بقول پولیس کی بھاری نفری کی وجہ سے مزید کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
بینچ میں موجود جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ تو درج کر لیا ہے لیکن ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا تاہم کچھ عرصے کے بعد پولیس مقدمے کو ختم کروانے اور فریقین کے درمیان صلح کروانے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ واقعہ نو سال کے بچے کی وجہ سے ہوا لیکن اگر پولیس بروقت کارروائی کرتی تو مندر کو نقصان پہنچانے کے واقعہ کو روکا جاسکتا ہے۔
چیف جسٹس نے متاثرہ ہندوؤں کا نام لیے بغیر کہا کہ ان افراد کے دلوں پر کیا گزرتی ہو گی جن کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچایا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ اگر مسجد کو گرا دیا جاتا تو پھر مسلمانوں کے کیا جذبات ہوتے۔
انھوں نے کہا کہ اس واقعہ سے پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ جو افراد گرفتار کیے جائیں، جو اس واقعہ میں ملوث ہیں اور ان پر جرم بھی ثابت ہو تو ان افراد سے مندر کی دوبارہ تعمیر پر آنے والے اخراجات بھی لیے جائیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل خیبر پختونخوا کے علاقے میں بھی ہندوؤں کے مقدس مقامات کو نقصان پہنچانے کے مقدمے میں بھی عدالت نے ذمہ دار افراد سے ان مقدس مقامات کی دوبارہ تعمیر پر اٹھنے والے اخراجات لینے کا حکم دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہ@MashwaniAzhar
’مندر پر حملے سے قبل امام بارگاہ پر بھی حملہ ہوا‘
سماعت کے دوران ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب قاسم چوہان نے عدالت کو بتایا کہ نامعلوم ملزمان نے مندر پر حملہ کرنے سے پہلے اس سے ملحقہ امام بارگاہ کے علم کو جلایا اور اس کے بعد مندر پر حملہ کیا۔
انھوں نے دعوی کیا کہ حملہ آور کچے کے علاقے سے آئے تھے ۔ انھوں نے علاقے کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہا کہ مسجد ، امام بارگاہ اور مندر ایک ہی جگہ پر واقع ہیں اور ہندو جب بھی وہاں سے گزرتے تھے تو وہ احتراما علم کو ہاتھ لگاتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں کبھی بھی ایسے واقعات رونما نہیں ہوئے تھے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے اور سرکاری خزانے سے اس مندر کی دوبارہ تعمیر کرنے کی ہدایت کی ہے جس پر بینچ میں موجود جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم اپنا کام جاری رکھیں عدالت اس معاملے کو قانون کے مطابق دیکھے گی۔
عدالت نے اس واقعے پر پیش کی جانے والی رپورٹ کو مسترد کر دیا اور اس واقعہ کے بارے میں درج مقدمات میں ہونے والی تفتیش کے بارے میں جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے اس از خود نوٹس کی سماعت 13 اگست تک کے لیے ملتوی کر دی۔
دوسری جانب وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ہندو مندر کی بے حرمتی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث افراد کو پکڑنے کے لیے صوبائی حکومت کی معاونت کر رہے ہیں، مذہبی منافرت پھیلانے اور اقلیتوں کے خلاف اکسانے والوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی ہو گی اور تمام مذہبی اقلیتوں کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات دنیا بھر میں اسلام اور پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں اور کسی دوسرے مذہب کی عبادت گاہ کی بے حرمتی اسلام کی تعلیمات کے یکسر منافی ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں مندر کو نقصان پہنچانے کے واقعہ کے بارے میں ایک مذمتی قرارداد بھی پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ یہ قرارداد پارلیمانی امور کے وزیر مملکت علی محمد خان نے پیش کی تھی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
’حملہ آوروں نے ہماری دکانوں پر بھی دھاوا بولنے کی کوشش کی‘
رحیم یار خان کے علاقے بھونگ میں ایک مندر پر حملے اور اس میں توڑ پھوڑ کے بعد پولیس نے مقدمات تو درج کیے ہیں تاہم اطلاعات ہیں کہ علاقے میں موجود بیشتر ہندو خاندانوں نے اپنے گھر بار چھوڑنا شروع کر دیے ہیں۔
دوسری جانب رکن قومی اسمبلی اور پارلیمانی سیکریٹری برائے انسانی حقوق لال ملہی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بتایا ہے کہ بھونگ میں موجود بیشتر ہندو گھرانے ہنومن جی کے مندر میں حملے کے بعد خوف سے اپنے گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
لال ملہی نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے پیچھے رہ جانے والی املاک کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔
ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے بھونگ کے ایک رہائشی نے بی بی سی بتایا کہ جب بدھ کے روز احتجاج شروع ہوا تو ہندو برادری کے لوگ خوف سے اپنے گھروں میں بند ہو گئے تھے۔
’حملہ آوروں نے ہماری دکانوں پر بھی دھاوا بولنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے وہاں تو کسی حد تک انھیں روک لیا تھا لیکن پولیس کچھ زیادہ نہیں کر سکتی تھی۔ یہ تو جب رینجرز آئی تو ہم نے کچھ سکون کا سانس کیا۔ ہمارے بچے بھی محفوظ نہیں تھے۔‘
جمعرات کی رات ڈی پی او رحیم یار خان نے مذہبی علما کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ چند مٹھی بھر لوگوں نے امن تباہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو اُکسانے والے، ان کو وہاں پر لانے اور بلوانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا تھا کہ درجنوں افراد ڈنڈوں، پتھروں اور اینٹوں کے ساتھ مندر کی کھڑکیوں، دروازوں اور وہاں موجود مورتیوں کو توڑ رہے ہیں۔
یہ واقعہ جس علاقے میں پیش آیا ہے وہاں ہندو برادری کے 80 مکانات اس مندر کے گرد ہی موجود ہیں۔ علاقے میں اکثریتی آبادی مسلمانوں کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGhulam Hasan Meher
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کا کوئی واقعہ یہاں اس سے پہلے پیش نہیں آیا۔
بھونگ کے ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی آبادی میں زیادہ تر گھر خالی ہو گئے تھے اور لوگ خوف کی وجہ سے اپنے گھروں کو تالے لگا کر علاقے سے نکل گئے تھے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انھیں تحفظ فراہم کیا جائے۔
اس سے قبل وزیراعلی پنجاب نے رحیم یار خان کےعلاقے بھونگ میں مندر میں توڑ پھوڑ کے واقعے پر کمشنر اور آر پی او بہالپور سے رپورٹ طلب کی۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر مندر کی بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے اور رینجرز کی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے۔
بدھ کو کی جانے والی پریس کانفرنس میں موجود مولانا عبدالکبیر آزاد نے کہا کہ ہم نے درخواست کی ہے کہ اپنے خاندانوں کو اپنے گھروں میں رکھیں۔ ’ہماری پولیس انتظامیہ افواج اور رینجرز کے دستے ان کی حفاظت کریں گے۔
انھوں نے وہاں موجود مذہبی رہنماؤں سے کہا کہ وہ اپنی تقاریر میں دہشت پھیلانے والوں کا قلع قمع کرنے کے لیے بات کی جائے اور اگر ایسے لوگ ہماری صفوں میں موجود ہیں تو ان کو پکڑانے کے لیے کردار دا کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا جو بھی شخص ایسے کاموں میں ملوث ہو گا اس کے خلاف کارروائی ہوگی کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
انھوں نے اقلیتی برادریوں پر ماضی میں ہونے والے چند واقعات کو حوالہ دیا اور کہا کہ ’یہاں یوحنا آباد میں مسئلہ ہوا، جوزف کالونی میں مسئلہ ہوا اور گوجرہ میں مسئلہ ہوا۔ یہ جتنے بھی واقعات ہوئے ہم سب سے پہلے وہاں پہنچے اور وہاں جا کر امن کی شمع کو روشن کیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@MashwaniAzhar
مندر پر حملے کی وجہ کیا تھی؟
پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیش نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس واقعے کو علاقے میں 23 جولائی کو پیش آنے والے ایک واقعے سے جوڑا جس میں ایک آٹھ سالہ بچے پر توہین مذہب کا الزام لگا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 24 تاریخ کو ہم نے ایک آٹھ سال کے بچے کے خلاف 295 اے کے تحت مقدمہ درج کیا۔
انھوں نے بتایا کہ مقامی مدرسے کی انتظامیہ نے الزام لگایا تھا کہ لائبریری میں ایک بچے نے آ کر پیشاب کیا ہے۔
پولیس کی جانب سے واقعے کی ایف آئی آر درج ہوئی اور بچے کو گرفتار کیا گیا۔ اے ایس آئی کے مطابق چونکہ بچہ نابالغ تھا اس لیے قانون کے مطابق 295 اے کی سخت سزا اسے دی نہیں جا سکتی تھی۔ مجسٹریٹ صاحب نے ضمانت پر 28 تاریخ کو رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔
ڈاکٹر رمیشں نے بتایا کہ رحیم یار خان کے ڈی پی او نے اس بچے کو اٹھایا اور وہ پوسٹ ڈیلیٹ کروائی اور پھر اسے چھوڑ دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ لڑکے کو چھوڑنے کے بعد علاقے میں دوبارہ سے ایکٹویٹی شروع ہو گئی۔
’شام کو چار بجے سی پیک کا روڈ 25 کے قریب لوگوں نے بلاک کیا۔ میں نے ایڈیشنل آئی جی کو بتایا۔ ساڑھے چھ بجے انھوں کے مندر پر حملہ کیا تھا۔ گھروں میں جانے کی کوشش کی۔ پھررینجرز کو بلایا گیا۔ اور اب صورتحال کنٹرول میں ہے۔‘
جمعے کو سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران پنجاب پولیس کے سربراہ کو اس ایس ایچ او کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا جس نے آٹھ سالہ ہندو بچے کو گرفتار کرکے مقامی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا تھا۔













