ہاتھوں، پیروں سے محروم کرن: ’اچھا نہیں لگتا تھا کہ کوئی ترس کھائے اور یہی احساس تعلیم کی طرف لے آیا‘

کرن
    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

جب وہ پیدا ہوئیں تو کسی کو یقین نہیں تھا کہ وہ زیادہ عرصہ زندہ رہ پائیں گی۔ ڈاکٹروں نے تو ان کے والدین کو بتا دیا تھا کہ اس بچی کے بازو ہیں نہ ٹانگیں ہیں، ’یہ نہیں جی پائے گی۔‘ لیکن ان کے گھر والوں نے انھیں دل سے اپنانے کا فیصلہ کیا۔

اُن کا نام کرن یعنی روشنی رکھا گیا۔ ابتدائی دنوں میں وہ کسی بھی دوسرے بچے کی طرح اپنی والدہ کے سہارے پر تھیں۔ لیکن جب وہ چھ ماہ کی ہوئیں تو ان کی والدہ انھیں چھوڑ کر چلی گئیں کیونکہ والدین میں علیحدگی ہو گئی تھی۔

ان دنوں آس پڑوس کے لوگ اُن کے گھر صرف انھیں دیکھنے آتے تھے کہ ’ٹانگوں اور بازوؤں کے بغیر یہ کیسی بچی پیدا ہوئی ہے۔‘ وہ ان کے والد اور گھر والوں سے سوال بھی کرتے کہ ’یہ بچی کیسے جی پائے گی۔‘

صوبہ پنجاب کے شہر رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والی وہی کرن اشتیاق آج انگلش میں بی ایس آنرز کر رہی ہیں۔ انھوں نے تمام تر تعلیم دوسرے بچوں کے ساتھ روایتی سکولوں میں یا پھر گھر پر پڑھائی کر کے حاصل کی ہے اور میڑک میں فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوئی تھیں۔

’آج بھی میں جب امتحان دینے کے مرکز پر جاتی ہوں تو لوگ مجھے ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ یہ یہاں کیا کرنے آئی ہے۔ میں انھیں بتاتی ہوں کہ میں بھی دوسروں کی طرح لکھ کر پرچہ حل کرنے آئی ہوں۔‘

کرن کے بازو صرف کہنیوں تک ہیں۔ ان کی لکھائی دیکھنے والا کوئی شخص یہ نہیں بتا سکتا کہ یہ منھ میں قلم دبا کر لکھتی ہیں۔ اُن کے پاس بھی پرچہ مکمل کرنے کے لیے اتنا ہی وقت ہوتا ہے جتنا دوسرے طالب علموں کے پاس اور وہ اسی مقررہ وقت میں اپنا کام مکمل کرتی ہیں۔

اپنے چھوٹے سے گھر میں آٹو میٹک ویل چیئر پر بیٹھے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کرن اشتیاق نے انتہائی پُراعتماد لہجے میں بتایا کہ انھیں ’اچھا نہیں لگتا کہ کوئی ان پر ترس کھائے یا ایسی نظروں سے دیکھے کہ انھیں بے بسی کا احساس ہو۔‘

کرن

نہیں معلوم والدہ مجھے کیوں چھوڑ گئیں

کسی کے سہارے پر زندگی نہ گزارنے کا یہی احساس تھا جو انھیں تعلیم کی طرف لے آیا تھا۔ ابتدا ہی سے انھیں جنون کی حد تک تعلیم کا شوق ہو گیا تھا۔ چھ ماہ کی عمر میں وہ والدہ کے سہارے سے محروم ہوئیں تو ان کی دو پھوپھیوں کو اپنی تعلیم ترک کرنا پڑی تا کہ وہ کرن کو سنبھال سکیں۔

’بن ماں کی بچی کو پالنا آسان نہیں تھا۔ مجھے نہیں معلوم میری والدہ مجھے چھوڑ کر کیوں چلی گئیں۔ اب اتنے سالوں بعد جب وہ سعودی عرب سے واپس آئی ہیں تو میں اُن سے ملی ہوں۔ میں نے پہلی بار انھیں اپنے سامنے دیکھا ہے۔‘

ان کے والدین میں علیحدگی کے بعد ان کی والدہ دوسری شادی کر کے سعودی عرب چلی گئیں تھیں۔ حال ہی میں وہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد پاکستان واپس آئی ہیں۔ کرن اب کبھی کبھار انھیں ملنے جاتی ہیں۔

لیکن اب بھی کرن نے ان سے یہ سوال نہیں پوچھا کہ وہ انھیں کیوں چھوڑ گئی تھیں۔ ’میں نے سوچا کہ یہ ان کا فیصلہ تھا تو ٹھیک ہے ان کی مرضی۔ مجھے میرے والد اور باقی گھر والوں نے اتنا پیار دیا ہے کہ مجھے کبھی والدہ کی کمی ہی محسوس نہیں ہوئی۔‘

عام ویل چیئر بھی نہیں تھی

انھوں نے جب ہوش سنبھالا تھا تو پہلی مرتبہ انھیں اپنی جسمانی محرومیوں کا احساس اس وقت ہوا تھا جب وہ خود سے کھانا بھی نہیں کھا پاتی تھیں۔ انھیں غسل خانے تک جانے کے لیے بھی انتظار کرنا پڑتا تھا کہ کوئی دوسرا انھیں اٹھا کر لے کر جائے۔

ایسے میں سکول جا کر تعلیم حاصل کرنے کا تصور خود ان کے لیے بھی مشکل تھا۔ لیکن وہ جانا چاہتی تھیں۔ ان کے والد اور دونوں پھوپھیوں نے اس کا بندوبست کیا۔ وہ خود انھیں سکول لے کر جاتی اور آتی تھیں۔

اپنی سہیلیوں کو سکول آتے جاتے دیکھ کر کرن کو محرومی کا احساس زیادہ ہوتا تھا۔ ’دوسرے بچے اپنے پیروں پر چل کر آتے تھے اور مجھے کوئی دوسرا سہارا دے کر لاتا تھا۔ ان دنوں میرے پاس ایک عام ویل چیئر بھی نہیں تھی۔‘

کرن

کرن نے لکھنا کیسے سیکھا؟

کرن کو اس بات کا ادراک تھا کہ اگر انھیں تعلیم جاری رکھنا تھی تو انھیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ لکھنا بھی تھا۔ یہ تعلیم چھوٹ جانے کا خوف تھا یا ان کی خداداد صلاحیت، انھیں نہیں معلوم لیکن کرن نے قلم منھ میں دبا کر لکھنا شروع کیا۔

’میں دو طریقوں سے لکھتی ہوں۔ میں قلم منھ میں دبا کر بھی لکھتی ہوں اور پھر گردن کا بھی کچھ سہارا لیتی ہوں۔ یہ صلاحیت مجھے میرے اللہ نے دی اور مجھے کبھی اس طرح مشکل نہیں ہوئی۔‘ ان کی پھوپھیوں ہی نے انھیں منھ کی مدد سے لکھنے میں مدد دی تھی۔

پرائمری درجے تک معاملہ آسان تھا۔ سکول ان کے اپنے گاؤں خانوالی میں تھا اور ان کے لیے آنا جانا نسبتاً آسان تھا۔ لیکن پرائمری کے بعد کا سکول دوسرے گاؤں میں تھا۔ وہاں آنا جانا کرن کے لیے مسئلہ تھا۔

کرن

لوگ پوچھتے تھے یہ بچی ایسی کیوں ہے

لیکن اس سے بھی بڑا مسئلہ لوگوں کی نظروں اور سوالوں کا سامنا کرنا ہوتا تھا۔ کرن کوشش کرتی تھیں کہ وہ لوگوں کے سامنے کم سے کم جائیں۔

’خاندان میں اگر کہیں شادی یا خوشی غمی کو بھی کوئی موقع ہوتا تھا تو میں نہیں جاتی تھی کیونکہ وہاں عزیز رشتہ دار مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھتے تھے اور پھر میرے گھر والوں سے سوال پوچھتے تھے کہ یہ بچی ایسی کیوں ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ان دنوں کرن خود میں اتنا حوصلہ پیدا نہیں کر پائیں تھیں کہ وہ ان نظروں کا بھی سامنا کریں اور سوالوں کا بھی۔ دوسرے گاؤں سکول جانے ایک مطلب یہ بھی تھا کہ زیادہ لوگوں سے سامنا ہوتا۔

چھٹی سے آٹھویں جماعت تک انھوں نے سکول میں داخلہ تو کروا لیا لیکن دوسرے گاؤں میں ہونے کی وجہ سے وہ سکول میں پڑھنے کے لیے جا نہیں سکتی تھیں۔ اس کا حل انھوں نے یہ نکالا کہ گھر پر پڑھتی تھیں اور امتحانات کے لیے سکول چلی جاتی تھیں۔

کرن

سب کے داخلے چلے گئے، میرا نہیں گیا

تاہم اس کا نقصان انھیں اس وقت ہوا جب انھوں نے نویں جماعت میں داخلہ لینا چاہا۔ انھیں داخلہ نہیں مل پایا۔ کرن نے تاہم تعلیم کا سلسلہ نہیں چھوڑا۔ وہ گھر پر بیٹھ کر تیاری کرتی تھیں۔ جب امتحانات کا وقت آیا تو ان کے دادا نے ان کا داخلہ پرائیویٹ بھجوا دیا۔

’میں نے اپنی استانی سے بہت کہا کہ میرا داخلہ بھجوا دیں میری پوری تیاری ہے۔ انھوں نے مجھ سے کہا بھی کہ آپ کا داخلہ چلا جائے گا۔ لیکن جب وقت آیا تو باقی سب کے داخلے چلے گئے اور میرا نہیں گیا۔‘

کرن کہتی ہیں انھوں نے ’دوسرے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر امتحان دیا۔ پھر جب رزلٹ آیا اور میں فرسٹ ڈویژن میں پاس ہو گئی تو مجھے خود بھی یقین نہیں آیا۔‘

اس کامیابی نے نہ صرف کرن کو تعلیم آگے بڑھانے کا حوصلہ دیا، اس سے انھیں خود اعتمادی بھی حاصل ہوئی۔ انھیں معلوم ہوا کہ وہ جو چاہیں کر سکتی تھیں۔ اب وہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں۔ لیکن ان کے مسائل جوں کے توں تھے۔ اس لیے وہ نہیں ہو پایا۔

کرن

انھی دنوں جب بغیر ٹانگوں اور بازوؤں کے میڑک کا امتحان پاس کرنے کے حوالے سے وہ خبروں میں آئیں تو اس وقت کے پنجاب کے وزیرِاعلٰی شہباز شریف نے اس کا نوٹس لیا اور حکومت ان کی مدد کو آئی۔ ان کی مالی مدد بھی کی گئی اور کرن کو مصنوعی اعضا بھی لگائے گئے۔

لیکن وہ انھیں استعمال نہیں کر پائیں۔ ’مجھے ٹانگیں بھی لگائی گئیں اور بازو بھی لگائے گئے مگر ان کا وزن بہت زیادہ تھا جو میں اٹھا نہیں سکتی تھی اس لیے میں زیادہ استعمال نہیں کر پائی تھی۔‘

اپنے جیسی دوسری لڑکیوں کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں

کرن اشتیاق ایک مرتبہ پھر اپنی ہمت سے آگے بڑھیں۔ وہ ڈاکٹر تو نہیں بن سکی تھیں لیکن انٹرمیڈیٹ کے درجے تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد کرن نے اپنے لیے ایک نیا ہدف مقرر کر لیا۔ وہ سول سروس کا امتحان دینا چاہتی ہیں۔

’میں صرف اپنے لیے ہی نہیں دنیا میں اپنے جیسی تمام لڑکیوں کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں جن مشکلات کا سامنا مجھے کرنا پڑا، کسی اور کو نہ کرنا پڑے۔‘

انھیں لگا کہ سول سروس کا امتحان دینے کے ضروری تھا کہ ان کی انگریزی اچھی ہو۔ یہی وجہ تھی کہ جب یونیورسٹی میں بی ایس آنرز کرنے کے لیے مضمون کا انتخاب کرنے کا موقع آیا تو انھوں نے انگریزی کا انتخاب کیا۔

کرن

ٹانگیں اور بازو مل جائیں تو کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں

اب وہ بی ایس آنرز کر رہی ہیں۔ میٹرک کی کامیابی کے بعد سے اب تک وہ کئی مرتبہ انٹریوز بھی دے چکی ہیں اور خبروں میں آنے کے بعد سے کئی تعلیمی اداروں نے ان کی محنت کے اعتراف میں انھیں تقاریب میں مدعو کر کے انعامات سے بھی نوازا ہے۔

مزید پڑھیے

اب کرن اشتیاق کے لہجے میں خود اعتمادی اور طبیعت میں ٹھہراؤ واضح جھلکتا ہے۔ وہ کئی ٹی وی پروگراموں میں مہمان کے طور پر جا چکی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ حال ہی میں انھوں نے بی بی سی پر ایک رپورٹ میں دیکھا تھا کہ مصنوعی بازو اور ٹانگیں لگائی جا سکتی تھی۔

انھیں آٹو میٹک ویل چیئر ایک ادارے نے رضاکارانہ طور پر بھی دی تھی۔ ان کی شدید خواہش تھی کہ حکومت قابلِ استعمال مصنوعی بازو اور ٹانگیں حاصل کرنے میں ان کی مدد کرے۔

’اگر میری اچھی قسم کی ٹانگیں لگ جائیں اور بازو بھی مل جائیں تو مجھے زندگی میں کسی سہارے کی ضرورت نہیں رہے گی۔‘

اس کے ساتھ ہی انھیں اپنا سول سروس کا امتحان پاس کرنے کا خواب بھی پورا ہوتا نظر آ رہا تھا۔

گذشتہ برس ان کے والد کی وفات ہو گئی تھی۔ ان کے ایک بھائی کو حال ہی میں حکومت نے نوکری دی تھی تاہم اس سے گھر کا خرچ چلتا تھا۔ اپنے مصنوعی اعضا کے لیے وہ حکومت کی مدد کی منتظر ہیں۔