پاکستان میں پست قامت افراد: ’ساتھیوں کے طنزیہ چہروں کو برداشت کیا مگر میں مستقبل کے بارے میں پُرعزم رہا‘

ملک محمد عامر، پست قامت

،تصویر کا ذریعہMalik M Aamir

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

’مشکل تب پیش آتی تھی جب میں عوامی لیٹرین میں کنڈی نہیں لگا سکتا تھا، اس وقت جب کلاس روم میں وائٹ بورڈ اونچا ہونے کی وجہ سے ساتھی مجھ پر ہنستے تھے، جب میں کرسی پر نہیں بیٹھ پاتا تھا۔۔۔ لیکن اب فارمیسی کے شعبے کے ذریعے میں اپنے لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔‘

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کے ایک پست قامت نوجوان ملک محمد عامر نے اپنی سترہ سالہ تعلیمی جدوجہد کے دوران کئی کٹھن لمحات دیکھے۔ تاہم ان میں اپنی زندگی میں کچھ کر دکھانے کا عزم کبھی ماند نہیں پڑا۔

انھوں نے حال ہی میں گومل یونیورسٹی سے ڈاکٹر آف فارمیسی کی تعلیم مکمل کی ہے۔ عامر کی مشکلات کسی عام آدمی جیسے ہرگز نہیں۔ عام زندگی میں اکثر لوگوں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ بعض ایسے کام جنھیں وہ باآسانی کر لیتے ہیں، وہ کچھ لوگوں کے لیے جوئے شیر لانے کے برابر ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

عامر نے بتایا کہ انھیں تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا اور اس راستے میں ان کے لیے مسائل بہت تھے۔ لیکن انھوں نے اس کا مقابلہ کرنا تھا، اس لیے انھوں نے ان مسائل کی پرواہ نہیں کی اور ان حالات سے سمجھوتہ کر کے آگے بڑھنے کو ترجیح دیتے رہے۔

جب وائٹ بورڈ تک ہاتھ ہی نہ پہنچے تو کیا کیا جائے

عامر اپنے تعلیم سفر میں چھوٹے قد کے باعث پیش آنے والی مشکلات پر بات کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’جہاں تعلیمی اداروں میں ساتھی طلبہ کے طنزیہ چہروں کو برداشت کرنا پڑتا تھا وہیں ان پر ایسے جملے بھی کسے جاتے تھے جو ذہن پر نقش رہتے۔‘

’کلاس روم میں ٹیچر جب کام پیش کرنے کے لیے وائٹ بورڈ پر لکھنے کے لیے بلاتے تو میں انکار کر دیتا تھا۔‘

عامر

،تصویر کا ذریعہMalik M Aamir

،تصویر کا کیپشنعامر نے حال ہی میں گومل یونیورسٹی سے ڈاکٹر آف فارمیسی کی تعلیم مکمل کی ہے

آنکھوں میں آنسو لیے عامر اپنی روداد سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’مجھے شرم آتی تھی جب استاد کہتا تھا کہ آؤ اوراپنا ہوم ورک پیش کرو، میں اس وقت لوگوں کی نظروں کا سامنا نہیں کر سکتا تھا کیونکہ میرا ہاتھ تو بورڈ تک نہیں جاتا تھا۔ بس میں پھر انکار کر دیتا تھا۔ اس وقت ایک عجیب صورتحال ہوتی تھی۔‘

عامر نے بتایا کہ وہ ٹیچر سے کہتے تھے کہ وہ کاپی میں سب کچھ لکھ کر دے سکتے ہیں لیکن بورڈ کے پاس نہیں آ سکتے کیونکہ بورڈ کی اونچائی کافی زیادہ تھی اور ان کا ہاتھ وہاں نہیں پہنچتا تھا۔ اس وقت تمام ساتھی طلبہ ان کی طرف دیکھنے لگتے، جس سے بڑی پریشانی لاحق ہو جاتی۔

انھوں نے بتایا کہ ایک دو بار ایسی کوشش کی گئی کہ کلاس روم میں ان کے لیے خصوصی چھوٹے وائٹ بورڈ کا انتظام کیا جائے لیکن اس کے لیے جو سرکاری کارروائی کی گئی اس میں اتنا وقت لگ گیا کہ ’سال گزر جاتے لیکن وائٹ بورڈ کا انتظام نہیں ہوتا۔‘

جلدی جلدی کلاس روم پہنچو، لیکن میں کیسے جلدی پہنچتا؟

عامر خود کو درپیش چیلنجز کے بارے میں بتانے کے لیے منیر نیازی کے یہ شعر کہتے ہیں کہ:

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اتر تو میں نے دیکھا

وہ کہتے ہیں کہ ’آج کے دور میں موبائل فون جہاں ایک سہولت ہے وہیں وہ ان کے لیے ایک زحمت بھی بن جاتا تھا کیونکہ یونیورسٹی میں کسی دن اچانک ٹیچر کا میسج آ جاتا کہ دس منٹ میں کلاس شروع ہونے والی ہے سب جلدی جلدی پہنچو۔‘

ایسے میں وہ ہاسٹل ہوتے اور وہاں سے انھیں کلاس تک پہنچنے میں بیس منٹ درکار ہوتے۔ جبکہ دیگر ساتھی طلبہ دراز قد ہونے کے باعث تیز تیز بڑے قدم اٹھاتے ہوئے کلاس روم پہنچ جاتے۔

لیکن وہ پست قامت ہونے کے باعث تیز نہیں چل سکتے تھے تو وہ تاخیر سے کلاس روم میں پہنچتے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کی شکایت انھوں نے کئی مرتبہ اساتذہ سے کی لیکن ان کی بات کو سنی ان سنی کر دیا جاتا۔

محمد عامر نے بتایا کہ دراز قد آدمی جس رفتار سے چلتے ہیں وہ اس طرح نہیں چل سکتے بلکہ وہ بہت آہستہ چلتے ہیں، وہ بھاگ نہیں سکتے لیکن کچھ اساتذہ اس بات کو سمجھ نہیں سکتے تھے۔

کوئی بچوں سے کہتا اسے مارو

فارمیسی، عامر

،تصویر کا ذریعہMalik M Aamir

،تصویر کا کیپشن’فارمیسی کے شعبے کا انتخاب کیا تاکہ اس شعبے میں اپنا نام پیدا کروں اور لوگوں کی مدد کروں‘

محمد عامر نے بتایا کہ اکثر لوگ ان کے ساتھ اچھے رویے سے پیش آتے ہیں۔ لیکن ایسے لوگ بھی تھے جن کے رویوں سے انھیں بہت تکلیف پہنچتی۔

’کبھی کرسی یا چارپائی پر بیٹھنا ہوتا تو انھیں کوئی گود میں اٹھا کر چارپائی پر بٹھاتا، اس وقت لوگوں کی نظروں کا سامنا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، لیکن میں یہ سب برداشت کرتا تھا کیونکہ اور کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ خدا نے انھیں یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ برداشت کرنا سیکھ گئے اور جتنی بھی مشکل صورتحال ہوں وہ اس کا سامنا کر لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ آج اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں۔

انھوں نے لوگوں کے رویوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ’ایسا بھی ہوا ہے کہ کچھ لوگ بچوں کے سامنے انھیں ایسے پیش کرتے جیسے وہ کوئی کھلونا ہوں اور یہ صورتحال بہت مشکل ہوتی کوئی بچوں سے کہتا اسے مارو کوئی کیا کہتا تھا۔‘

محمد عامر نے بتایا کہ زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی جب کوئی دراز قد بندہ انھیں مارتا اور انھیں اپنی کمی کا احساس ہوتا‘

ان کا کہنا تھا کہ 'میں پست قامت ہوں لیکن میں نے دراز قد لوگوں کا مقابلہ کیا ہے۔'

’ہاتھ کنڈی تک پہنچ نہ پاتا‘

ٹوائلٹ میں جا کر کنڈی لگانا کسی کے لیے مشکل کام نہیں ہوتا۔

لیکن ایک پست قد انسان کے لیے یہ ایک بڑا چیلینج ہوتا ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ محمد عامر کے ساتھ پیش آتا کیونکہ ان کا ہاتھ دروازے کی کنڈی تک نہیں پہنچ پاتا اور ایسے حالات میں لیٹرین میں رفع حاجت کے لیے اس نوجوان کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے تھے یہ وہی جانتے ہیں۔

ملک محمد عامر نے بتایا کہ جب وہ کسی ایسی جگہ چلے جاتے جہاں ٹوائلٹ میں کنڈی اونچی لگی ہوتی تھی تو ان کے لیے بڑا مسئلہ ہوتا تھا۔

ایک حل ان کے پاس یہ ہوتا کہ وہ پانی کی بالٹی یا لوٹا بھر کر دروازے کے سامنے رکھ دیتے تاکہ کوئی دوسرا اندر نہ آ سکے، اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ الرٹ بیٹھے رہتے اور ہاتھ سے دروازے کو بند رکھنے کی کوشش کرتے یا وہ ٹوائلٹ میں پانی کی ٹوٹیاں کھول دیتے تاکہ باہر سے آنے والے کو معلوم ہو سکے کہ اندر کوئی ہے۔

’میرا مقصد اپنے لوگوں کی مدد کرنا‘

زندگی کے ابتدائی مرحلے، خاص طور پر دورانِ تعلیم پیش آنے والی عملی مشکلات اور بعض لوگوں کے منفی رویوں نے محمد عامر کو تکلیف تو پہنچائی لیکن مستقبل اور اس کے بارے میں ان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکے۔

عامر

،تصویر کا ذریعہMalik M Aamir

،تصویر کا کیپشنعامر کے والد کی خواہش تھی کہ ان کے بیٹے کی بارات میں دلہن کو ہیلی کاپٹر میں لایا جائے

عامر کے مطابق انھوں نے فارمیسی کے شعبے کا انتخاب کیا ہی اس لیے تھا کہ وہ اس شعبے میں اپنا نام پیدا کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ وہ ڈرگ انسپکٹر بن کر اپنے ہی علاقے میں تعینات ہونا چاہتے ہیں تاکہ اپنے علاقے میں اس شعبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی یہ کوشش بھی ہو گی کہ زندگی کے کسی مرحلے پر وہ اپنا فارمیسی کا کاروبار کر سکیں اور اپنے علاقے کے لوگوں کی مدد کر سکیں۔

’ڈرگ انسپیکٹر بنوں یا ادویات کا کاروبار کروں، مقصد میرا ایک ہی ہے کہ کسی کی محتاجی نہ ہو بلکہ میں اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔‘

اس کے علاوہ بھی محمد عامر کے چند بڑے خواب ہیں۔ وہ اپنے جیسے پست قد افراد کی فلاح کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ایسے افراد کی یونین کو قائم کرنا اور ان کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور پست قامت خواتین کے لیے وظیفہ مقرر کرنے کے خواہش مند ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ضلع کرک سے تعلق رکھنے والے محمد عامر اپنے خاندان میں واحد ایسے پست قامت فرد ہیں لیکن ضلعے میں ایسے افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

ان پست قد افراد کے ایک سابق رہنما رحمت الہی نے بی بی سی کو بتایا کہ ضلع کرک میں ان پست قد افراد کی تعداد لگ بھگ ڈھائی سو تک ہے جس میں خواتین بھی شامل ہیں۔ ان پست قد افراد میں بیشتر کی شادیاں نہیں ہوئیں۔

رحمت الہی نے بتایا کہ ان کی شادی ہو چکی ہے اور ان کی چار بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ ان کی بیوی اور بچے سب نارمل ہیں۔

محمد عامر کے والد گذشتہ برس وفات پاچکے ہیں۔ ان کے والد کی خواہش تھی کہ ان کے بیٹے کی بارات میں دلہن کو ہیلی کاپٹر میں لایا جائے۔